اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ڈی آئی خان میں ہونے والے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ دہشتگردوں نے ریسکیو اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق امان میلہ چیک پوسٹ پر حملے میں 12 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ حملے کے بعد امدادی ٹیموں کو بھی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ملوث ایک دہشتگرد کی تصویر حاصل ہونے کے بعد اسے شناخت کے لیے متعلقہ نظام اور ریکارڈ سے چیک کیا گیا، تاہم فوری طور پر کوئی شناخت سامنے نہیں آسکی، اوپن سورس معلومات کی مدد سے مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ مذکورہ دہشتگرد افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اکثر جعلی ناموں سے کارروائیاں کرتے ہیں اور حملوں کے بعد اپنے ساتھیوں کی تصاویر یا کارروائیوں کی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں۔
وزیر مملکت داخلہ نے الزام عائد کیا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی تشکیلیں پاکستان آتی ہیں اور ان میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہوتی ہے جو افغانستان کے رہائشی ہیں، پاکستان نے افغان حکام سے ڈوزیئرز، مذاکرات اور دیگر ذرائع سے رابطے کیے، تاہم ان کے بقول سرحد پار موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ دہشتگرد مبینہ طور پر مالی مفادات کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے، افغان سرزمین کے پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے متعلق اسلام آباد اپنے خدشات مسلسل افغان حکام کے سامنے رکھتا رہا ہے۔ اس نوعیت کے الزامات حکومت کی جانب سے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے سوال کیا کہ افغانستان اور سرحد پار سے ہونے والی مبینہ دہشتگردی کے معاملے پر واضح مؤقف کیوں سامنے نہیں آتا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی حملے کے بعد ڈی آئی خان گئے اور پریس کانفرنس بھی کی، تاہم ان کے بقول افغانستان کے کردار کا واضح ذکر نہیں کیا گیا۔
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ وفاقی وزرا اور حکومتی نمائندے دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کے پاس گئے، جبکہ صوبائی حکومت کے نمائندے بھی جائے وقوعہ پر پہنچے، دہشتگردی کے خلاف کارروائی صرف سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ سیاسی قیادت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کی سیکیورٹی پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کو مطلوبہ وسائل، اختیارات اور قیادت فراہم نہیں کی، دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے پولیس، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید سہولیات اور مناسب وسائل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں سیکیورٹی فورسز کو بلٹ پروف گاڑیوں، جدید ہتھیاروں اور دیگر ضروری سہولیات کی کمی کا سامنا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف بیانات سے نہیں بلکہ وسائل، انتظامی اقدامات اور مؤثر قیادت کے ذریعے لڑی جاسکتی ہے۔
طلال چوہدری نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سیکیورٹی فورسز کو فراہم کی گئی بعض بلٹ پروف گاڑیاں واپس کردی گئیں، جبکہ پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے پولیس کے اختیارات سے متعلق بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں، قومی سلامتی اور دہشتگردی سے متعلق اجلاسوں میں صوبائی حکومت کی شرکت اور تعاون ضروری ہے۔
وزیر مملکت داخلہ نے نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کو بھی دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا، وفاق اور صوبوں کے درمیان سیکیورٹی معاملات پر مربوط تعاون کے بغیر دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت سے مالی معاملات پر بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبے سے 800 ارب روپے کے حساب سے متعلق تفصیلات مانگی ہیں۔ طلال چوہدری نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی قیادت اور پی ٹی آئی پر سخت الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے حکومت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ دہشتگردی کے واقعات میں پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت مختلف صورتحال کا سامنا کیوں رہا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی پر دہشتگردوں کی مبینہ مالی معاونت کا الزام بھی عائد کیا، تاہم یہ دعویٰ حکومت کی جانب سے بطور الزام سامنے آیا ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں غیر رجسٹرڈ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے معاملے کو بھی سیکیورٹی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق مؤثر نظام دہشتگردی کی تحقیقات میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور ان کی قانونی رجسٹریشن نہ ہونے سے ریاستی اداروں کو گاڑیوں اور ان کے مالکان کا سراغ لگانے میں
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور ان کی قانونی رجسٹریشن نہ ہونے سے ریاستی اداروں کو گاڑیوں اور ان کے مالکان کا سراغ لگانے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، یہ بھی کہا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے صوبائی حکومت کو اضافی محصولات حاصل ہوسکتے تھے۔
خیال رہے کہ ڈی آئی خان کے امان میلہ چیک پوسٹ پر 26 ستمبر کو ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ حملے میں ایک گاڑی کے ذریعے چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس اور امدادی اداروں کے مطابق دھماکے کے بعد ریسکیو ٹیموں پر بھی فائرنگ ہوئی، جس میں امدادی کارکن جاں بحق ہوئے۔
پاکستانی حکام اس سے قبل بھی افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد افغان حکام سے دہشتگرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کی جانب سے ایسے الزامات کی تردید بھی سامنے آتی رہی ہے، اس لیے سرحد پار دہشتگردی کے معاملے میں دونوں ممالک کے مؤقف الگ ہیں۔
ڈی آئی خان حملے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان سیکیورٹی پالیسی، دہشتگردی سے نمٹنے کے طریقہ کار اور وسائل کی فراہمی پر سیاسی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے ہیں، جبکہ تازہ واقعے نے افغانستان سے مبینہ دہشتگردی، سرحدی سیکیورٹی اور خیبرپختونخوا میں انسداد دہشتگردی کے اقدامات سے متعلق بحث کو بھی مزید اہم بنا دیا ہے







