
بلاگ

محسن صاحب! نظام ٹوٹا ہے تو نقشہ کیوں کاٹا جا رہا ہے؟
جب سے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے فرمایا ہے کہ ملک کا نظام 'کولیپس' کر چکا ہے، تب سے ہر تجزیہ کار اپنی اپنی رسّی لے کر اس ملبے میں سے کچھ نہ کچھ باندھنے کی کوشش میں لگا ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ نئے صوبوں کی نوید ہے، کوئی کہتا ہے یہ محض سندھ کو ڈرانے کی مشق ہے، اور کچھ دانشور فرما رہے ہیں کہ یہ سب اسٹیبلشمنٹ کے 'آئینی و جمہوری' ذوق کی تازہ کروٹ ہے۔ ہم البتہ عرض کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ نیا نہیں، بس پیکنگ بدلی ہے۔

شفقتِ نبوی ﷺ: تلخ رویوں کے دور میں مرہم

زیتون اگاؤ، ڈالر بچاؤ

عمران خان! کاش تم ’خودکشی‘ نہ کرتے

آزاد قیدی

اندھیرا کب ختم ہوتا ہے؟

سنو! حافظ نعیم الرحمان تقریر کر رہے ہیں

خیالی سلطنت کے شہری

کاروبارِ حیات، ہماری نسل اور توازن کی تلاش

پرانا متن نیا ڈرامہ: عمران خان کے لیے ڈیل ہوگئی؟

حافظ کے دھرنے: کیا حکومت گھٹنے ٹیک دے گی؟

17 اگست 1947ء — تقسیم پنجاب اور میرے خاندان کی ہجرت کی داستان

جب باورچی خانہ بجھ جائے

میں پاکستان ہوں

کان پھاڑ حب الوطن

مظفرگڑھ کینال سانحہ: بارہ لاشیں، تین بچے لاپتہ، ضلعی انتظامیہ کی کمزور حکمت عملی ایک بڑا سوال؟

14 اگست: جشن سے فکرِ نَو کے سفر تک

دھرنا یا مارچ: کون کس لیے لڑرہا ہے؟

مکہ معاہدے میں مصر کیوں نہیں؟

ثالث، جس کا کوئی شکریہ ادا نہیں کرتا

پیٹرولیم لیوی، عوامی احتجاج اور معیشت کا مستقل حل

تیل، ترازو اور تماشا

خبر یا تماشا؟ متاثرہ بچوں کی شناخت ظاہر کرنا صحافت نہیں

پاکستان کا نظام کتنی بار ری سیٹ ہوا؟





