اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) ہیڈکوارٹرز میں وفاقی وزرا کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پس پردہ رابطوں میں شامل رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ سے پہلے ہی پی ٹی آئی کے مطالبات پر عمل درآمد کیا جا رہا تھا، تاہم پارٹی کے اپنے لوگوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ مارچ کا اعلان کیوں کیا گیا۔
محسن نقوی کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ دو روز تک مذاکرات ہوئے۔ اس دوران اسد قیصر نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ رات 11 بج کر 45 منٹ تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے میں رہے۔ مذاکراتی مسودے میں حکومت نے پانچ سے چھ تبدیلیاں کیں، لیکن بعد میں ایک اور مسودہ سامنے آگیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز حکومت سارا دن مذاکراتی مسودے کے پیراگراف 4 میں تبدیلیوں سے متعلق پی ٹی آئی کے جواب کی منتظر رہی، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے دوبارہ فون کرکے کہا کہ یہ آخری موقع ہے اور معاملات بہتر کرلیے جائیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں غیر معمولی آئینی اقدامات کی وجوہات سے آگاہ کرے گی۔







