ایڈوائزری کونسل میں شامل شخصیات میں سابق اعلیٰ سرکاری افسران، سابق وزرا، قانون دان، ماہرینِ تعلیم، کاروباری شخصیات اور دیگر شعبوں کے تجربہ کار افراد شامل ہیں۔
کفایت اللہ خان کو داخلہ و قبائلی امور کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، چیئرمین فاٹا ٹریبونل، ڈپٹی سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور اور ڈیرہ اسماعیل خان و مردان کے کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
طارق محمود پاشا کو خزانہ، ریونیو، ایکسائز و ٹیکسیشن کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے ریونیو، سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن اور وزیراعظم سیکرٹریٹ میں جوائنٹ سیکرٹری کے عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔

قانون و پارلیمانی امور کی ذمہ داری امیر جاوید کو سونپی گئی ہے، جو سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔ وہ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل اور پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
تعلیم کے شعبے کے لیے ڈاکٹر سید امیر عبداللہ کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خیبر پختونخوا کے سابق نگران صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت رہ چکے ہیں، جبکہ نیکٹا کی ماہرین کی کمیٹی کے سابق رکن بھی ہیں۔ انہوں نے نیدرلینڈز سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
صحت کے شعبے کی مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان ہیں، جو پاک فوج کی سابق سرجن جنرل اور پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ وہ اسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کے حوالے سے قومی انسٹرکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں اور صحتِ عامہ میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔
معدنیات کے شعبے کے لیے ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل منصوبہ بندی و ترقی اور مواصلات و تعمیرات کے شعبوں میں مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے فرانس سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔
صنعت و تجارت کے مشیر ڈاکٹر محمد ارشاد ہیں، جو پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے بورڈ کے رکن رہ چکے ہیں۔ وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین ہیں اور فنانس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔
مواصلات و تعمیرات کے شعبے کی ذمہ داری آصف رفیق آفریدی کو دی گئی ہے۔ وہ خیبر پختونخوا کے سابق نگران صوبائی وزیر ہیں اور ایک تجربہ کار کاروباری شخصیت کی حیثیت سے تعمیرات و ترقیاتی شعبے سے وابستہ ہیں۔

اوقاف و مذہبی امور کے مشیر مولانا محمد طیب قریشی ہیں، جو خیبر پختونخوا کے چیف خطیب (خطیبِ اعلیٰ) ہیں۔ وہ جامعہ اشرفیہ پشاور کے منتظم اور مسجد مہابت خان کے امام بھی ہیں۔
توانائی، بجلی، منصوبہ بندی و ترقی کے شعبوں کے لیے عثمان سیف اللہ خان کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ سابق سینیٹر ہیں اور غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ آف گورنرز کے رکن رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے بورڈ آف مینجمنٹ کے رکن اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)، خیبر پختونخوا کے سابق چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔
اطلاعات و نشریات کے شعبے کی مشیر ثمر ہارون بلور ہیں، جو رکن قومی اسمبلی ہیں۔ وہ اس سے قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن اور اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے حملوں کے باعث عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جب کہ حالیہ عرصے میں ایسے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں بھی صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق صوبے کی موجودہ صورتِ حال صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے، جو نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے مقرر کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔







