چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق نئے ادارے کا افتتاح صوبہ ہیبی کے ژونگ آن نیو ایریا میں کیا گیا، جو بیجنگ سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ ادارہ ریاستی اثاثوں کی نگرانی اور انتظام سے متعلق کمیشن کی براہِ راست نگرانی میں کام کرے گا، جبکہ اسے سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹرز اور بجلی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔
چین کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جدید AI نظاموں کی تربیت اور انہیں مؤثر انداز میں چلانے کے لیے بڑے پیمانے پر معیاری ڈیٹا درکار ہوتا ہے، اسی لیے ڈیٹا تک رسائی، اس کے محفوظ تبادلے اور بہتر انتظام کو ٹیکنالوجی کی ترقی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
چین نے 2023 میں نیشنل ڈیٹا ایڈمنسٹریشن قائم کیا تھا، جس کا بنیادی کردار ڈیٹا سے متعلق پالیسیوں، قواعد و ضوابط اور قومی حکمتِ عملی کی تیاری ہے۔ اس کے برعکس نئے قومی ڈیٹا گروپ کا کردار زیادہ تر عملی اور تجارتی نوعیت کا ہوگا۔ یہ ادارہ ڈیٹا وسائل کو منظم کرنے، ان کے استعمال کے نئے طریقے متعارف کرانے اور مختلف شعبوں میں ان کی فراہمی کے لیے کام کرے گا۔
چینی حکام کی حکمتِ عملی کے تحت ملک کے مختلف علاقوں اور صنعتی شعبوں میں موجود ڈیٹا کو بہتر انداز میں مربوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے معلومات کے تبادلے میں حائل رکاوٹیں کم کرنے، ڈیٹا کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنانے اور مختلف صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
نیا گروپ ڈیٹا پر مبنی کاروباری ماڈلز کی تیاری اور ڈیجیٹل خدمات کے فروغ کے لیے بھی متعلقہ اداروں اور کاروباری فریقین کے ساتھ تعاون کرے گا۔ اس منصوبے کا ایک اہم مقصد ایسی قومی ڈیٹا مارکیٹ کی تشکیل ہے جہاں مختلف شعبے قواعد کے تحت ڈیٹا وسائل سے استفادہ کرسکیں۔
جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے پھیلاؤ نے اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس کی ضرورت بڑھا دی ہے۔ AI نظاموں کو تربیت دینے، صنعتی عمل کو خودکار بنانے، معلومات کا تجزیہ کرنے اور ڈیجیٹل خدمات بہتر بنانے کے لیے وسیع اور قابلِ اعتماد ڈیٹا اہم سمجھا جاتا ہے۔
چین کا نیا ادارہ اس ڈیٹا کو منظم اور قابلِ استعمال بنانے کے عمل میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف شعبوں میں موجود معلومات کو بہتر انداز میں یکجا کرنے اور ڈیٹا پر مبنی تحقیق و کاروبار کے لیے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اس اقدام سے صنعت، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر شعبوں میں ڈیجیٹل نظاموں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم، اس کے حقیقی نتائج کا انحصار ادارے کی عملی کارکردگی، ڈیٹا کے معیار، رازداری کے تحفظ اور معلومات کے تبادلے کے لیے وضع کیے جانے والے قواعد پر ہوگا۔
چین اور مغربی ممالک، بالخصوص امریکا، کے درمیان جدید ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبے میں مسابقت جاری ہے۔ امریکا کی جانب سے بعض جدید چپس اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی چین کو فراہمی پر عائد پابندیوں نے بیجنگ کو مقامی ٹیکنالوجی، کمپیوٹنگ صلاحیت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی پر زیادہ توجہ دینے کی ترغیب دی ہے۔
قومی ڈیٹا گروپ کا قیام چین کی وسیع تر ڈیجیٹل حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس میں ڈیٹا کے بہتر استعمال، جدید کمپیوٹنگ نظاموں اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کو اہمیت حاصل ہے۔ تاہم، نئے ادارے کے قیام کو صرف مغربی پابندیوں کا ردِعمل قرار دینے کے بجائے اسے چین کی طویل مدتی ڈیجیٹل معیشت کی پالیسی کے حصے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
مجموعی طور پر چین کا یہ اقدام قومی سطح پر ڈیٹا وسائل کو منظم کرنے اور انہیں معاشی و تکنیکی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ اگر یہ ادارہ مختلف شعبوں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کو مؤثر بنا سکا تو اس سے مصنوعی ذہانت، صنعتی جدت اور ڈیجیٹل کاروبار کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ عالمی ٹیکنالوجی مسابقت میں چین کی پوزیشن پر اس کے اثرات وقت کے ساتھ واضح ہوں گے۔







