عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں فرانس اور دیگر مغربی ممالک کے طرزِ عمل کو ’’منافقت‘‘ قرار دیا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون پر دوسروں کو لیکچر دینا بند کردینا چاہیے، کیونکہ ان کی منافقت واضح اور شرمناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات اور ایران کے خلاف جاری جارحیت کی حمایت نے مغربی ممالک کی اس نام نہاد اخلاقی برتری کے تمام دعووں کو ختم کردیا ہے، جس کا وہ طویل عرصے سے اظہار کرتے رہے ہیں۔

عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور 20 دیگر ممالک نے ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا ہے

مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے بامعنی اقدامات کرے، سزائے موت کے استعمال کا خاتمہ کرے اور ان افراد کو رہا کرے جنہیں ان ممالک کے مطابق من مانی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔

مغربی ممالک کی جانب سے جاری بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے ان ممالک کے مؤقف کو دوہرے معیار سے تعبیر کیا اور کہا کہ انسانی حقوق کے معاملے پر مغربی ممالک کا مؤقف اس وقت اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے جب وہ غزہ اور ایران سے متعلق معاملات میں مختلف رویہ اختیار کرتے ہیں۔

عراقچی نے خاص طور پر فرانس سمیت ان ممالک پر تنقید کی جو ایران کے اندرونی معاملات پر تہران کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انسانی حقوق کے اصول آفاقی ہونے چاہئیں اور ان کا اطلاق تمام ممالک اور تمام تنازعات میں یکساں ہونا چاہیے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کی جانب سے یہ سخت ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان انسانی حقوق، علاقائی کشیدگی اور اسرائیل کے اقدامات سمیت مختلف معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

تہران اور مغربی دارالحکومتوں کے درمیان بیان بازی میں شدت کے باعث ایران میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کارروائیوں، سزائے موت اور زیرِ حراست افراد کے معاملے پر بھی عالمی دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ایرانی حکومت مغربی ممالک پر خطے کے تنازعات میں دوہرے معیار اور اسرائیل کی حمایت کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔

عباس عراقچی کے تازہ بیان نے ایک مرتبہ پھر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے معاملے پر جاری شدید اختلاف کو نمایاں کردیا ہے۔