پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالت میں دائر درخواستوں کے ذریعے ایمرجنسی اور گورنر راج کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواستوں میں پارٹی کارکنوں اور اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ مبینہ سلوک کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے، پی ٹی آئی عدالت کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرے گی اور ان اقدامات کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے گی

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کی ہمیشہ مذمت کرتی آئی ہے، تاہم ان کے بقول دہشت گردی کو جواز بنا کر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی گرفتاری کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی قیادت کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا، اگر مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی سنجیدہ کوشش ہوتی تو اب تک پیش رفت ہو چکی ہوتی۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے اور صوبے میں بدامنی کو ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ بنایا گیا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے سوال اٹھایا کہ جب صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ، اسمبلی، عدالتیں اور پولیس سمیت انتظامی ادارے موجود تھے تو گورنر راج نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی سے متعلق ضروری قرارداد منظور نہ کیے جانے کا معاملہ بھی اہم ہے اور اس پر وضاحت ہونی چاہیے۔

انہوں نے 2007ء میں نافذ کی گئی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے اقدامات پر آئینی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے مزید الزام لگایا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں توڑی جا رہی ہیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان کی وزیراعظم سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، تاہم خیبر پختونخوا کے تقریباً چار کروڑ عوام کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کو انتخابات کے بعد سے ہی اس کا مینڈیٹ دینے میں رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔

محمود اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی نشستوں کو مالِ غنیمت سمجھ کر تقسیم کیا گیا اور اب اس کی صوبائی حکومت کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر ان اقدامات کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو آنے والی نسلیں اس خاموشی پر سوال کریں گی۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف قانونی اور سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب ان اقدامات کی آئینی حیثیت کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتی کارروائی اور دستیاب قانونی شواہد کی روشنی میں ہوگا۔