قطر میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑا رہے گا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ عالمی امن کے حوالے سے انتہائی اہم رہے ہیں اور پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حالیہ علاقائی تنازعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کرنے چاہییں، مذاکرات میں اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور پائیدار امن کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی مخلصانہ کوششیں ضروری ہیں۔ پاکستان امن مذاکرات میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔
محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پوری دنیا کی مشترکہ دشمن ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بہتر بنانے، بین الاقوامی تعاون مضبوط کرنے اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خود بھی کئی برسوں سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور اس جنگ میں ہزاروں شہریوں، فوجی اہلکاروں اور پولیس اہلکاروں نے جانیں قربان کی ہیں۔
وزیر داخلہ نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار کئی دہائیوں سے تنازعات سے متاثرہ ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مقصد شہریوں کا تحفظ، مقامی اداروں کی معاونت اور استحکام کی بحالی میں مدد دینا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی خودمختاری ناقابلِ سمجھوتہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
محسن نقوی کے مطابق پاکستان کی کوششیں صرف تنازعات شروع ہونے کے بعد انہیں ختم کرانے تک محدود نہیں، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ اختلافات جنگ کی صورت اختیار کرنے سے پہلے ہی مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کیے جائیں۔
انہوں نے امن کی کوششوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امیرِ قطر کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں نے مذاکرات کے لیے طویل گھنٹوں تک کام کیا۔







