پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے گئے اور پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا۔
ان کے بقول پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط بنانے، سپیشل برانچ کو مستحکم کرنے اور پولیس کو جدید اسلحہ اور دیگر ضروری آلات فراہم کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔
تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف پولیس کو وسائل فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ وفاقی حکومت کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی نہ جا سکتا ہے، نہ افورڈ کر سکتا ہے، اگر کوئی ڈراتا ہے کہ وہ یہاں گورنر راج یا ایمرجنسی لگا دیگا تو میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی کُرسی پر جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹائے۔
مجھے کوئی فکر نہیں کُرسی کی، میرا موقف وہی ہے جو عمران خان کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ گزشتہ 22 برس سے جاری پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔
ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام متعلقہ فریقوں، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن کے اندر خیبر پختونخوا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کے بقول صوبے کے اسٹیک ہولڈرز کی رائے سننے کے لیے آمادگی نہیں دکھائی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی دھمکیوں کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔







