میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے تاکہ سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائے اور لانگ مارچ کی جانب نہ جائے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنوں اور لانگ مارچ کے باعث معمولاتِ زندگی، سیکیورٹی اور انتظامی امور متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، اسی تناظر میں عسکری اور سیاسی قیادت نے یہ طے کیا ہے کہ احتجاجی اجتماعات اور مارچ وفاقی دارالحکومت سے دور ہونے چاہئیں۔
مذاکرات میں مقتدرہ کے کردار سے متعلق سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ مقتدرہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت سے خوش نہیں یا اسے مذاکرات پر کوئی اعتراض ہے، مذاکرات کے عمل سے مقتدرہ کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں، تاہم جب صدر اور وزیراعظم نے سیاسی مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے تو متعلقہ قیادت کو اعتماد میں لیا گیا ہوگا۔
رانا ثناء اللہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بعض اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے، اگر وزیراعلیٰ کے پاس صوبے کے مسائل یا وفاقی حکومت سے متعلق کوئی مؤقف ہے تو انہیں براہِ راست وفاقی حکومت سے بات کرنی چاہیے، تاکہ معاملات کو مناسب فورم پر زیرِ بحث لایا جاسکے۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے آئینی آپشنز مختلف حالات سے نمٹنے کے لیے موجود ہوتے ہیں، اگر کسی صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہو اور صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہ کرے تو وفاقی حکومت کو دستیاب آئینی راستوں پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے تاہم واضح کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا حکومت کے لیے ایک ناپسندیدہ اقدام ہوگا اور ایسا صرف اس صورت میں زیرِ غور آسکتا ہے جب حالات انتہائی سنگین اور ناگزیر ہوجائیں، حکومت کسی سیاسی رہنما کے آنے یا جانے سے متاثر ہونے کے بجائے حالات کے مطابق فیصلے کرے گی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں، احتجاج اور لانگ مارچ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے سے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور اختلافات کے حل کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ جمعے کو حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان سیاسی معاملات پر بات چیت کے لیے اسپیکر چیمبر میں ملاقات ہوئی تھی۔ پہلے دور میں فریقین کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم مذاکرات جاری رکھنے اور اگلے روز دوبارہ بیٹھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مذاکرات کے پہلے دور میں سیاسی اختلافات، احتجاجی سرگرمیوں اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے گئے، جبکہ آئندہ ملاقات میں گفتگو کو آگے بڑھانے کی توقع ظاہر کی گئی۔
رانا ثناء اللہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کے ساتھ اسلام آباد میں بڑے احتجاجی اجتماعات کے انعقاد پر تحفظات رکھتی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ مذاکرات اور لانگ مارچ کی سرگرمیاں بیک وقت جاری رہ سکتی ہیں۔ یوں سیاسی مذاکرات کے ساتھ احتجاجی حکمتِ عملی بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔







