ایکسیٹر میں مقیم جاروز ٹاسکر اس وقت جاروز انڈی انسائٹس کی سربراہی کر رہی ہیں، جو ویڈیو گیمز کی صنعت میں روابط اور مارکیٹنگ کی خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ تدریس کے شعبے میں ہی رہتیں تو موجودہ آمدنی تک پہنچنے میں انہیں غالباً 20 سال لگ جاتے۔

پڑھانے کا پیشہ چھوڑنے کے بعد جاروز نے پلے سٹیشن کے یوٹیوب چینل کے لیے رضاکارانہ کام کا آغاز کیا، جس دوران انہیں احساس ہوا کہ تدریس اور گیمنگ انڈسٹری میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ ان کے بقول کمیونٹی کو سنبھالنا بچوں سے بھری جماعت کو سنبھالنے جیسا ہی تجربہ ہے، اور اسی وجہ سے بہت سی مہارتیں ایک شعبے سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہیں۔

جاروز کے مطابق ویڈیو گیمز وہ صنعت ہے جس میں بہت سے لوگ اپنی زندگی کے نسبتاً بعد کے مرحلے میں شامل ہوتے ہیں، تاہم نوجوانوں کو اس شعبے میں داخلے کے متعدد ذرائع کے بارے میں خاص آگاہی نہیں ہوتی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ گیمنگ کمیونٹی اپنے کام سے محبت کرنے والوں کی بھرپور حمایت کرتی ہے، مگر یہ بھی فوری محسوس کر لیتی ہے کہ کوئی شخص محض پیسے کے لیے اس شعبے میں آیا ہے۔ ان کے نزدیک جذبہ ہی اس انڈسٹری میں کامیابی کی سب سے اہم کنجی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق سوال پر جاروز نے کہا کہ گیمنگ انڈسٹری اسے مسترد کرنے کے حوالے سے بہترین کام کر رہی ہے، کیونکہ کھلاڑی خود اسے پسند نہیں کرتے۔ ان کے خیال میں صنعت کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ وہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا دفاع کر رہی ہے اور عوام بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

جاروز نے گیم اینگلیا کے زیرِ اہتمام ایک تقریب میں شرکت کی، جس کا مقصد مشرقی انگلینڈ میں آزاد ویڈیو گیمز صنعت کو اجاگر کرنا تھا۔ ادارے سے وابستہ مارک بیکلر کے مطابق یہ صنعت اس وقت برطانیہ کی اہم ترین صنعتوں میں شمار ہوتی ہے، اور اگرچہ یہ شعبہ مسابقتی ہے، تاہم آزاد گیمز تیار کرنا اور ریلیز کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ ممکن ہو چکا ہے۔

ڈویلپر سیم ریڈ گریوز نے بتایا کہ گیمنگ کا شعبہ گذشتہ دس برسوں میں نمایاں ترقی کر چکا ہے۔ ان کے مطابق گیم اینگلیا جیسے اقدامات کی بدولت مضبوط ماحولیاتی نظام وجود میں آئے ہیں جن میں طلبہ اور ڈویلپرز کی بڑی تعداد شامل ہے، جس کے نتیجے میں بڑی گیمز تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھنے والے سٹوڈیوز بھی اس خطے کی جانب راغب ہوئے ہیں۔

 ان کے بقول مشرقی انگلینڈ میں فی الحال کال آف ڈیوٹی یا فیفا جیسے بڑے عنوانات تیار کرنے کی صلاحیت موجود نہیں، تاہم آزاد ڈویلپرز کے لیے مالی کامیابی کا دروازہ بہرحال کھلا ہے۔

ایسیکس میں قائم آزاد گیمنگ ڈویلپمنٹ کمپنی آسٹرل فورج کی 22 سالہ بانی ایبیگیل ڈن، جنہوں نے یونیورسٹی سے ویڈیو گیمز ڈیزائن اور پروگرامنگ کی تعلیم حاصل کی، کہتی ہیں کہ آج اس صنعت میں خواتین کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے دوران ان کے کورس میں صرف تین خواتین شامل تھیں، تاہم عملی طور پر یہ شعبہ اتنا مشکل ثابت نہیں ہوا جتنا پہلے محسوس ہوتا تھا۔

اینٹیٹی سے وابستہ گیمنگ ٹیلنٹ سکاؤٹ عمر خلیل کے مطابق برطانیہ میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، تاہم اگلی بڑی کامیاب گیم تخلیق کرنا ایک چیلنج ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں پہلے ہی بے شمار گیمز موجود ہیں اور اصل مسئلہ اچھے گیمز کی کمی نہیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں مناسب پذیرائی اور نمایاں مقام کیسے دلایا جائے۔