پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز اور لیوی کے خلاف تحریک کے فیز ٹو کے آغاز کے موقع پر بونیر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور عام آدمی کی جیب پر مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بڑے لوگ اور بڑے جاگیردار اسی طرح ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آٹا، چینی، آئی پی پیز، پٹرول، ڈرگ اور لینڈ مافیا سمیت مختلف مافیاز کا راج ہے۔ اگر ملک میں مارشل لا ہو تو یہی لوگ اس نظام میں شامل ہوجاتے ہیں، نام نہاد جمہوریت ہو تو بھی یہی عناصر موجود ہوتے ہیں اور ہائبرڈ نظام میں بھی یہی لوگ پورے نظام کا حصہ بنے رہتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، ان مافیاز کے خلاف تحریک اس لیے نہیں چلاتیں کیونکہ وہ انہی کے سہارے پر چل رہی ہوتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں بڑے انقلاب، تبدیلی اور ایمانداری کے دعوے کرتی ہیں، لیکن جب ان کے اردگرد دیکھا جائے تو کہیں ایک مافیا اور کہیں دوسرا مافیا نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے اخراجات، گاڑیاں اور جلسے بھی انہی بااثر عناصر کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، جبکہ عوام کے حقیقی مسائل سیاسی جماعتوں کی ترجیح نہیں بنتے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس، پٹرول اور روزگار عوام کے بنیادی مسائل ہیں، لیکن سیاسی جماعتیں ان مسائل پر آواز نہیں اٹھاتیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو اسے عوام کی آواز بننا اور مافیاز کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ان مافیاز کے خلاف اس لیے آواز اٹھا سکتی ہے کیونکہ وہ مافیاز کے سہارے پر نہیں چلتی۔ بونیر کا جلسہ بھی کسی مافیا نے نہیں کروایا بلکہ جماعت اسلامی کے ارکان کے چندے اور باہمی تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک عوام کے حقوق کے لیے ہے اور یہ کسی پارٹی لیڈر، جماعت یا خاندان کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا مقدمہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات اور حکمرانوں کی مراعات کم کرے، کیونکہ عوام مزید مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔

امیر جماعت اسلامی نے شوگر مافیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسان سے گنا کم قیمت پر خریدا جاتا ہے، پھر چینی کی ذخیرہ اندوزی اور قیمت میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق جب ملک میں چینی زیادہ ہوجاتی ہے تو ایکسپورٹ کی اجازت مانگی جاتی ہے اور برآمد کے بعد ملک میں قلت پیدا ہونے پر دوبارہ درآمد کی اجازت طلب کی جاتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ شوگر مافیا میں بڑے سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں اور یہ عناصر مختلف سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں۔ ان کے بقول حکومت ہو یا اپوزیشن، شوگر مافیا کے خلاف مؤثر آواز نہیں اٹھائی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ گندم کے معاملے میں بھی کسان کو فصل کی پوری قیمت نہیں ملتی، جبکہ بعض کمپنیاں کم قیمت پر گندم خرید کر بعد میں مہنگے داموں آٹا فروخت کرتی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق گندم کی کم قیمت خرید اور مارکیٹ میں مہنگے آٹے کی فروخت کے درمیان جو بڑا فرق پیدا ہوتا ہے، اس سے چند بااثر افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی گندم اور آٹا مافیا عوام کو مہنگی روٹی خریدنے پر مجبور کرتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز کے معاملے پر جماعت اسلامی کی سابقہ احتجاجی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل اسلام آباد میں دھرنے کے دوران حکومت کے وزرا کا مؤقف تھا کہ آئی پی پیز سے بات نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ عالمی عدالت میں جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی پی پیز سے بات کرنا ہوگی، جس کے بعد احتجاج کے نتیجے میں حکومت نے جماعت اسلامی سے معاہدہ کیا اور آئی پی پیز سے مذاکرات ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت خود کہتی ہے کہ آئی پی پیز کے معاملات میں تبدیلیوں سے قومی خزانے کو 4500 ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں میں ایسی شرائط شامل تھیں جن کے تحت پیدا نہ ہونے والی بجلی کی ادائیگیاں بھی عوام سے وصول کی جاتی رہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کسی فرد، خاندان یا پارٹی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے مسائل کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اور عنایت اللہ خان کی کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، یہ قومی ایجنڈا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا اتحاد پاکستان کے نوجوانوں، غریبوں، مظلوموں، عام لوگوں اور مڈل کلاس طبقے کے ساتھ ہے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی کسی ایسے سیاسی بندوبست کا حصہ نہیں بننا چاہتی جس میں کسی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت ملنے کے بعد عوامی مسائل سے دوری اختیار کرلی جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اقتدار کا کھیل اور میوزیکل چیئر بہت ہوچکی، اب جماعت اسلامی اور عوام کا اتحاد ہے اور عوام کے ساتھ مل کر جدوجہد آگے بڑھائی جائے گی۔

انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں، کسی دباؤ یا تنقید سے متاثر نہ ہوں اور عوام کے مسائل کے لیے میدان میں موجود رہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اس تحریک کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور طویل جدوجہد، دھرنے اور اسلام آباد میں طویل قیام کے لیے بھی تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس تحریک کو محض سیاسی ایونٹ نہ سمجھے بلکہ عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت خود عوام کو ریلیف دے دے تو بہتر ہوگا، بصورت دیگر جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے بقول عوام کی یہ جدوجہد، احتجاج اور جلسے پاکستان کے لوگوں کو امید دے رہے ہیں اور یہ تحریک ملک میں بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔