پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بلوچستان کے علاقے شعبان میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی تھی۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ انٹیلی جنس اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر کو زیارت اور گرد و نواح میں کارروائی کی۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے مقابلے کے دوران متعدد ٹھکانے کلیئر کیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 33 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ خوارج مقامی آبادی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
اس کے علاوہ فورسز نے 25 ستمبر کو نوشکی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ آپریشن میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
مند میں بھی سکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک کیے، جبکہ کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران 70 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جس سے بھارتی پشت پناہی میں سرگرم افغان پراکسیز کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی میں افغان طالبان رجیم کا ملوث ہونا امن کے لیے خطرے کا باعث ہے، جبکہ اسے بھارت کی جانب سے پشت پناہی اور مکمل معاونت حاصل ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ عزمِ استحکام وژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رہے گی۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔







