پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو مسلسل گورنر راج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، تاہم صوبے کے حالات کو سیاسی دباؤ کے بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے، بلوچستان میں بھی امن و امان اور حکومتی عمل داری سے متعلق سنجیدہ سوالات موجود ہیں، اس لیے وہاں کی صورتحال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ان کے حلقے سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے ان علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا ہے یا نہیں۔
شاندانہ گلزار نے پولیس لائنز دھماکے کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی انکوائری اب تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی، دہشتگردی کے واقعات کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات کے نتائج سامنے آنا ضروری ہیں۔
انہوں نے ملک کی معاشی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ملک کو سیاسی کشیدگی میں مزید دھکیلنے کے بجائے معاشی اور سیکیورٹی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
شاندانہ گلزار نے موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت محاذ آرائی نہیں چاہتی، فوج اور پولیس ملک کے ادارے ہیں اور تحریک انصاف بھی ان اداروں کو اپنا سمجھتی ہے، ان کی سیاست آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے وفاقی حکومت پر آئین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ موجودہ سیاسی نظام میں آئینی اصولوں کو نظر انداز کرنے سے ملک میں مزید بے یقینی پیدا ہو رہی ہے، تحریک انصاف اپنے سیاسی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور آئینی راستہ اختیار کرے گی۔
اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمیوں اور رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو کنٹینرز لگا کر بند کرنے کے بجائے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف 4 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور جنید اکبر کے ساتھ احتجاج کے لیے نکلے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 4 اکتوبر کی سرگرمی میں پارٹی کارکن بھرپور شرکت کریں گے اور تحریک انصاف اپنے آئینی مؤقف پر قائم رہے گی۔ پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی 4 اکتوبر کے احتجاج کی کال برقرار رکھنے اور گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں مزاحمت کی بات کرچکے ہیں۔
شاندانہ گلزار نے کہا کہ تحریک انصاف اپنی جدوجہد میں آئین کو بنیادی رہنما اصول سمجھتی ہے اور نہ کسی ایک سیاسی سمت میں جائے گی اور نہ دوسری طرف، بلکہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا سیاسی کردار ادا کرے گی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق بحث ایسے وقت میں جاری ہے جب صوبے کی سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کے واقعات اور وفاق و صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کی مخالفت کر رہی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔







