وزیراعظم کی وطن واپسی پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری سمیت دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 81ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح پر امن و سلامتی، علاقائی صورتحال، معاشی تعاون، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشتگردی اور دیگر اہم امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

دورۂ نیویارک کے دوران وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، افغانستان سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خدشات، اسلاموفوبیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی، جس میں پاک ایران تعلقات، علاقائی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے لیے مذاکرات، تحمل اور سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی طرح لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور لبنان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی جانب سے لبنان کے لیے سیاسی و سفارتی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کینیا کے صدر ولیم روٹو، کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الحمد الصباح، شام کے صدر احمد الشرع اور دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان رابطوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم، توانائی اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات زیر بحث آئے۔

دورۂ نیویارک کے دوران وزیراعظم کی عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی اہم رہیں۔ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام، معاشی استحکام اور آئندہ جائزے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے اصلاحاتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ دورے کے دوران اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور پاکستان کی معیشت میں بیرون ملک پاکستانیوں کے کردار پر بھی توجہ مرکوز رہی۔

وزیراعظم کی جانب سے عالمی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں میں علاقائی امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے معاشی اور سفارتی مفادات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ سرکاری بیانات کے مطابق مختلف ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔

وزیراعظم کے دورۂ نیویارک کے دوران پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر فلسطین، کشمیر، دہشتگردی، اسلاموفوبیا، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی اقتصادی چیلنجز سمیت اہم معاملات پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے عالمی برادری پر تنازعات کے پرامن حل اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

دورے کے اختتام پر وزیراعظم نیویارک سے لندن روانہ ہوئے تھے، جہاں سے انہیں اسلام آباد واپس پہنچنا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے نیویارک میں پانچ روزہ قیام کے دوران جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور پاکستانی نژاد کاروباری شخصیات سے رابطے کیے۔

وزیراعظم کی وطن واپسی کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے سفارتی رابطوں اور دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی اختتام پذیر ہوگیا ہے، جبکہ ان ملاقاتوں میں زیر بحث آنے والے معاشی، علاقائی اور عالمی امور پر آئندہ دنوں میں پیش رفت متوقع ہے۔