حکومت کی منظوری کے بعد ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سکول ایجوکیشن، خزانہ، صحت و آبادی، داخلہ اور اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے محکموں کی 5، 5 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ آفس میں سیکشن افسران کی 3 جبکہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی بھی 3 آسامیاں ختم کردی گئی ہیں۔
اسی طرح زراعت، مواصلات و تعمیرات، توانائی، ایکسائز، فوڈ سیفٹی اور ہائر ایجوکیشن کے محکموں کی 2، 2 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔
ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی بھی 2، 2 آسامیاں ختم کردی گئی ہیں۔
انوائرمنٹ پروٹیکشن، انڈسٹریز، انفارمیشن اینڈ کلچر، لٹریسی، لائیوسٹاک، مائنز اینڈ منرلز، پبلک پراسیکیوشن، سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال اور ویمن ڈویلپمنٹ کے محکموں کی ایک، ایک آسامی ختم کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں بھی متعدد سرکاری آسامیاں ختم کردی گئی ہیں۔
ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کی 8، جبکہ فنانس، ہائر ایجوکیشن اور سکول ایجوکیشن کی 4، 4 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔
آبپاشی اور لوکل گورنمنٹ کے محکموں کی 3، 3 جبکہ زراعت، مواصلات و تعمیرات اور جنگلات کی 2، 2 آسامیاں ختم کردی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ لائیوسٹاک، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، ایس اینڈ جی اے ڈی اور اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی بھی 2، 2 آسامیاں ختم کی گئی ہیں۔
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے ہوم اور ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی ایک، ایک آسامی بھی ختم کردی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کے 31 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ متعلقہ محکموں کو فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے مزید ضروری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔







