پاکستان کے قائم مقام سیکریٹری خارجہ نبیل منیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کی بریفنگ کے موقع پر کہا کہ انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات تنازعات کے نتائج کی شدت کم کرسکتے ہیں، لیکن صرف سیاسی حل ہی پائیدار بنیادوں پر نقل مکانی کو روک سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چار دہائیوں سے زائد عرصے سے بڑے معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کے باوجود کروڑوں افغانوں کی میزبانی کرتے ہوئے انہیں تحفظ اور مہمان نوازی فراہم کرتا رہا ہے۔
نبیل منیر کے مطابق پاکستان کا تجربہ عالمی یکجہتی کی اہمیت اور میزبان ممالک سے غیر معینہ مدت تک پناہ گزینوں کی طویل صورت حال کا بوجھ اٹھانے کی توقع رکھنے کی حدود، دونوں کو واضح کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہوگا جبکہ تنازعات کی روک تھام اور ان کا حل سلامتی کونسل کے کام کا مرکز ہونا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بوجھ اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کو عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔ پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کو بروقت، خاطر خواہ اور یقینی بین الاقوامی امداد درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی امداد سے پناہ گزینوں اور میزبان برادریوں، دونوں کے لیے صحت کی سہولیات، تعلیم، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو یکساں طور پر مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
نبیل منیر کے مطابق یہ امداد بنیادی طور پر گرانٹس کی صورت میں فراہم کی جانی چاہیے، نہ کہ ایسے قرضوں کی شکل میں جو میزبان ممالک پر مالی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی اور پائیدار بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باعزت ہونی چاہیے اور اس کی پشت پناہی مناسب فنڈز والے پروگراموں سے کی جانی چاہیے۔
ان کے مطابق آبائی ممالک میں مزید ترقیاتی امداد، رہائش، روزگار، صحت کی سہولیات، تعلیم اور ضروری بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ پناہ گزینوں کی واپسی پائیدار ہو۔







