28 جولائی کو گھر سے صرف دس منٹ کے لیے نکلنے والے میر رضا علی کی لاش اگلے روز گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی۔ اہلخانہ نے ابتدا ہی سے اسے قتل قرار دیا، تاہم پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں خودکشی کا امکان بھی زیرِ غور رہا۔
اب ڈی این اے، گولی، بارود، تیزاب اور جسم پر موجود تشدد کے نشانات سمیت کئی اہم شواہد سامنے آچکے ہیں، لیکن دو ہفتے سے زائد گزرنے کے باوجود پولیس کسی ملزم کو گرفتار نہیں کرسکی۔
28 جولائی کی رات کیا ہوا؟
میر رضا علی کراچی کے معروف کاروبار ’وافلکس‘ کے شریک مالک اور آئی بی اے کے گریجویٹ تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق 28 جولائی کی رات وہ بہادرآباد چورنگی پر واقع اپنی دکان سے گاڑی پر گھر واپس آئے۔ رات تقریباً 4 بجے انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ گھر کے نیچے سے ہو کر صرف دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔ لیکن یہ دس منٹ کبھی ختم نہیں ہوئے۔
کافی دیر گزرنے کے بعد والدہ نے ان کے موبائل فون پر کال کی، مگر فون بند تھا۔ اہلخانہ نے اپنی مدد سے انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی اور پولیس ہیلپ لائن 15 پر بھی اطلاع دی۔ اگلے روز گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش ملی۔
لاش کی حالت ایسی تھی کہ شناخت فوری طور پر ممکن نہیں تھی۔ پولیس کے مطابق جسم کے بعض حصوں پر جلنے کے نشانات بھی موجود تھے۔ بعد میں میر رضا کے والد نے ان کے کپڑوں کی مدد سے لاش کی شناخت کی۔
ابتدا میں خودکشی کا شبہ کیوں پیدا ہوا؟
واقعے کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر اس امکان کو بھی زیرِ غور رکھا کہ میر رضا نے خودکشی کی ہو۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد بھی موت کی مکمل وجہ واضح نہیں ہوسکی۔ تاہم پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے ابتدائی پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور رپورٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی۔
ان کے مطابق لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے، داخلی زخم سے متعلق بارود کے نشانات کا کیمیائی تجزیہ نہیں ہوا، لاش کی تصاویر بھی مطلوبہ فرانزک معیار کے مطابق نہیں تھیں اور ہاتھوں سے گن پاؤڈر یا بارودی ذرات کے نمونے بھی نہیں لیے گئے۔
چہرہ ناقابلِ شناخت ہونے کے باوجود شناخت کی تصدیق کے لیے ابتدائی مرحلے میں ڈی این اے کا نمونہ بھی نہیں لیا گیا تھا۔ یہ سوالات سامنے آنے کے بعد اہلخانہ نے عدالت سے رجوع کیا۔
عدالت سے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم
میر رضا کے والد میر حسین نے عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دائر کی تاکہ نئے سرے سے پوسٹ مارٹم، ایکسرے، ڈی این اے، فرانزک اور کیمیائی تجزیے کے ذریعے موت کی اصل وجہ معلوم کی جاسکے۔
6 اگست کو مقامی عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سندھ کو جلد از جلد میڈیکو لیگل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ تاہم قبر کشائی سے قبل میڈیکل بورڈ کی تشکیل خود ایک تنازع بن گئی۔
اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ پولیس سرجن کی جانب سے تشکیل دیے گئے اصل بورڈ میں راتوں رات تبدیلیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق نئے نوٹیفکیشن میں متعدد ارکان تبدیل کیے گئے، جس سے خاندان کے اعتماد کو نقصان پہنچا۔ اسی اختلاف کے باعث ایک موقع پر قبر کشائی مؤخر بھی ہوئی۔
بعد ازاں تقریباً 24 گھنٹے کی کشمکش کے بعد اصل خصوصی میڈیکل بورڈ بحال کیا گیا اور قبر کشائی کے بعد میر رضا کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
دوسرے پوسٹ مارٹم نے کیا بتایا؟
دوسرے پوسٹ مارٹم نے کیس کا رخ ہی تبدیل کردیا۔ چار صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق میر رضا کی کمر کے بالائی حصے پر گولی لگنے کا نشان موجود تھا، جبکہ گولی جسم کے اندر سے گزر کر سینے کے اگلے حصے سے باہر نکلی۔
رپورٹ کے مطابق گولی سے پسلیاں ٹوٹیں اور دل کو شدید نقصان پہنچا۔ لیکن معاملہ صرف گولی تک محدود نہیں تھا۔
میڈیکل بورڈ کو میر رضا کی پیشانی کے دائیں جانب اور ناک کی ہڈی پر شدید چوٹ کے نشانات ملے۔ اوپری دانتوں اور جبڑے کے قریب خون جما ہوا تھا، جبکہ کھوپڑی کے پچھلے حصے میں بھی فریکچر کی نشاندہی ہوئی۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق یہ تمام چوٹیں موت سے پہلے لگی تھیں۔ ان شواہد کے بعد خودکشی کا امکان شدید متاثر ہوا اور مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کردی گئی۔
قمیض نے بھی گولی چلنے کی تصدیق کردی
بعد کی فرانزک رپورٹ نے بھی کیس میں اہم پیش رفت کی۔ انڈسٹریل اینالیٹیکل سینٹر کی کیمیکل اور ہتھیاروں سے متعلق رپورٹ کے مطابق میر رضا کی قمیض کے پچھلے حصے پر گولی داخل ہونے کا تقریباً 6.99 ملی میٹر کا سوراخ موجود تھا، جب کہ سامنے کی جانب گولی نکلنے کا سوراخ تقریباً 35.37 ملی میٹر تھا۔
جدید الیکٹران مائکروسکوپی ٹیسٹ میں قمیض پر فائرنگ کے بعد باقی رہنے والے بارود کے اجزا، جن میں لیڈ اور بیریم شامل ہیں، بھی پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بارودی ذرات زیادہ مقدار میں قمیض کے پچھلے حصے پر موجود تھے۔
یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ میر رضا کو گولی لگی تھی، تاہم فائرنگ کس فاصلے سے ہوئی، کس ہتھیار سے ہوئی اور گولی چلانے والا کون تھا، یہ سوالات اب بھی تفتیش کا حصہ ہیں۔
خون میں ’بیوپیواکین‘ اور قمیض پر تیزاب کے اثرات
کیمیکل رپورٹ میں ایک اور اہم انکشاف سامنے آیا۔ میر رضا کے خون کے نمونے میں جسم کو سن کرنے والی دوا ’بیوپیواکین‘ کے اثرات پائے گئے۔
اس کے علاوہ ان کی قمیض پر تیزاب کے اثرات کی بھی نشاندہی ہوئی۔تاہم معدے، پھیپھڑوں، جگر، گردے اور تلی کے نمونوں میں کسی دوسرے زہریلے یا نشہ آور مادے کے شواہد نہیں ملے۔
یہ نتائج بھی تفتیش کاروں کے لیے کئی سوالات چھوڑتے ہیں کہ میر رضا کو دوا کیوں دی گئی، تیزاب ان کے کپڑوں تک کیسے پہنچا اور واقعے سے پہلے یا بعد میں ان کے ساتھ کیا ہوا۔
ڈی این اے رپورٹ نے شناخت کی تصدیق کردی
سندھ فورینزک لیبارٹری کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق میر رضا کی ہنسلی کی ہڈی سے حاصل ہونے والا ڈی این اے ان کے والدین کے خون کے نمونوں سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔
جائے وقوعہ سے ملنے والے گملے کے ٹکڑے اور پلاسٹک کی تھیلی سے حاصل انسانی خون کے نمونے بھی ڈی این اے ٹیسٹ میں میر رضا علی کے قرار دیے گئے۔ یوں فرانزک طور پر لاش کی شناخت کی بھی تصدیق ہوگئی ہے۔
پولیس نے قتل کی دفعہ شامل کردی، مگر گرفتاری اب تک نہیں ہو سکی
دوسرے پوسٹ مارٹم اور سامنے آنے والے شواہد کے بعد پولیس نے خودکشی کے ابتدائی امکان کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کردی ہے۔
لیکن ایک اہم سوال اب بھی برقرار ہے کہ اگر میر رضا کو قتل کیا گیا تو قاتل کون ہے؟ اور دو ہفتے سے زائد گزرنے کے باوجود پولیس کسی شخص کو گرفتار نہیں کرسکی۔
اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ ان کے بیٹے کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کیا گیا۔
والد میر حسین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ ان کا بیٹا گھر سے نکل کر اس جگہ کیسے پہنچا جہاں سے اس کی لاش ملی؟ ان کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ قتل کسی اور مقام پر کیا گیا ہو اور لاش بعد میں گلستانِ جوہر میں پھینکی گئی ہو۔
پولیس تفتیش پر اہلخانہ کے سوالات
میر رضا کے والد کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں ہی میں پولیس کی تحقیقات پر ان کا اعتماد کم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ اہلخانہ نے ابتدائی پوسٹ مارٹم، تحقیقاتی ٹیم، جائے وقوعہ کی تفتیش، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔
وکیل جبران ناصر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جائے وقوعہ سے گولی کا خول عدالت کے حکم کے بعد دوبارہ تلاشی کے دوران ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے صرف منتخب حصوں کے بجائے جائے وقوعہ سے گزرنے والے تمام افراد اور گاڑیوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
تحقیقاتی کمیٹی بھی تبدیل کردی گئی
ابتدائی مرحلے میں کراچی پولیس نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی، جس کی سربراہی ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومرو کو دی گئی تھی۔ بعد میں نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اب ڈی آئی جی عامر فاروقی کمیٹی کے سربراہ ہیں جبکہ ایس ایس پی ریپڈ رسپانس فورس علی رضا کو سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی میں ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان، ایس پی سینٹرل انویسٹی گیشن انعم تجمل اور ایس آئی یو زمان ٹاؤن کے ایک افسر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو میر رضا کی موت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے، شواہد اکٹھے کرنے اور ذمہ دار افراد تک پہنچنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
جیو فینسنگ بھی مکمل، اب تفتیش کس طرف جائے گی؟
نئی تحقیقاتی کمیٹی نے اب کیس سے جڑے افراد کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کردیے ہیں۔ پہلی اور دوسری تحقیقاتی کمیٹیوں کے افسران کے بیانات بھی قلمبند کیے جاچکے ہیں جبکہ ایس ایچ او فیروز آباد اور سابق تفتیشی افسر سے بھی تفصیلی انٹرویو کیے گئے ہیں۔
کیس میں تکنیکی شواہد جمع کرنے کے لیے جیو فینسنگ کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے جب کہ تحقیقاتی کمیٹی کا تیسرا اجلاس بھی منعقد ہونا ہے جس میں کیس سے جڑے مزید افراد کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔ اب تک جمع کیے گئے بیانات، جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی، فرانزک رپورٹس اور دیگر شواہد کو ملا کر تفتیش کی سمت طے کیے جانے کی توقع ہے۔
آئی جی سندھ نے بھی پولیس اور میڈیکو لیگل نظام کی کوتاہی تسلیم کرلی
دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے میر رضا کیس میں کوتاہیوں کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے پولیس کو جو میڈیکو لیگل رپورٹ ملی، تحقیقات اسی بنیاد پر آگے بڑھائی گئیں، تاہم بعد میں سامنے آنے والے میڈیکل بورڈ کے نتائج نے صورتحال تبدیل کردی۔
ان کے مطابق میر رضا کیس میں کوتاہیاں سب سے ہوئی ہیں، محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل افسر سے بھی کوتاہی ہوئی۔آئی جی سندھ نے کہا کہ نئی کمیٹی کو کھلے ذہن سے تحقیقات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور تحقیقات پر نہ پہلے کوئی دباؤ تھا، نہ اب ہے۔ان کے مطابق جو شخص بھی ملوث پایا گیا، اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔
شرجیل میمن کا نام سوشل میڈیا پر آنے کے بعد نیا تنازع
میر رضا کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں بھی شروع ہوئیں۔ کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں گلستانِ جوہر کے اس گیسٹ ہاؤس کو، جہاں کے قریب میر رضا کی لاش ملی تھی، سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن سے منسوب کیا گیا۔
ان پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ واقعے کے بعد شرجیل میمن کے بیٹے راول میمن سکیورٹی گارڈ کے ہمراہ لندن چلے گئے۔
شرجیل میمن کے وکلا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر یا ان کے بیٹے کا گیسٹ ہاؤس، میر رضا کی موت یا واقعے میں ملوث کسی شخص سے کوئی تعلق نہیں۔
شرجیل میمن نے ان مبینہ سوشل میڈیا مہم کے خلاف این سی سی آئی اے میں شکایت بھی درج کرائی ہے۔شکایت میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تحقیقات، آئی پی ایڈریسز اور سم کارڈز کی معلومات کا جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے۔
یہ تمام الزامات فی الحال سوشل میڈیا دعووں اور فریقین کے مؤقف تک محدود ہیں، جنہیں میر رضا کے قتل کی تفتیش میں ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
عدالتی کمیشن بنے گا یا نہیں؟
میر رضا کیس میں شفاف تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ابتدا میں کہا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
تاہم بعد میں میر رضا کے اہلخانہ نے نئی پولیس تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فی الحال عدالتی کمیشن کی ضرورت نہ ہونے کی رائے دی۔ اس کے بعد سندھ حکومت نے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ موخر کردیا۔
اب تک کیس میں کیا ثابت ہوا؟
اب تک سامنے آنے والے شواہد سے چند باتیں نسبتاً واضح ہیں کہ میر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے اور اگلے روز ان کی لاش ملی۔ ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق شدہ ہے۔ جسم پر گولی لگنے کے شواہد موجود ہیں۔ گولی کمر سے داخل ہوکر سینے سے نکلی۔ جسم پر متعدد شدید چوٹوں اور فریکچر کے نشانات بھی ملے۔ قمیض پر فائرنگ کے بعد رہ جانے والے بارود کے اجزا پائے گئے۔ خون میں بیوپیواکین کے اثرات ملے۔ قمیض پر تیزاب کے اثرات کی نشاندہی ہوئی۔ دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد قتل کی دفعہ شامل کی گئی۔ جیو فینسنگ اور دیگر تکنیکی شواہد پر کام جاری ہے۔ پولیس نے نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم اب تک کسی ملزم کی گرفتاری نہیں ہوئی۔
اصل سوال اب بھی وہی ہے
میر رضا علی کی موت کا معاملہ اب ابتدائی خودکشی کے شبے سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ فرانزک اور میڈیکل شواہد قتل، فائرنگ اور تشدد کی سمت میں اہم سوالات اٹھا رہے ہیں، لیکن ان شواہد کو کسی مخصوص ملزم سے جوڑنا ابھی باقی ہے۔
تفتیش کاروں کے سامنے اب بنیادی سوالات یہ ہیں کہ میر رضا کو کس نے، کہاں اور کیوں قتل کیا؟ انہیں گھر سے کون لے کر گیا؟ کیا قتل اسی مقام پر ہوا جہاں لاش ملی یا لاش وہاں منتقل کی گئی؟ گولی کس ہتھیار سے چلائی گئی؟ خون، تیزاب اور بیوپیواکین کے شواہد ایک دوسرے سے کیسے جڑتے ہیں؟ اور اس پورے واقعے میں کون کون سے افراد ملوث تھے؟
نئی تحقیقاتی کمیٹی کے اجلاس، جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی، فرانزک رپورٹس اور دیگر شواہد سے اب ان سوالات کے جواب تلاش کیے جا رہے ہیں۔میر رضا کیس میں خودکشی سے قتل تک کا سفر تو طے ہوچکا ہے، لیکن قتل کی اصل کہانی اور قاتل تک پہنچنے کا سفر ابھی باقی ہے۔







