نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کے مطابق حکومتی اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان اجلاس جمعہ کو ہوگا۔ اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے درمیان ملاقات کے شیڈول کو حتمی شکل دینے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ جماعت اسلامی کے مذاکراتی ایجنڈے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ حکومت عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے معاملے پر واضح پیش رفت دکھائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل کے ساتھ احتجاج بھی جاری رہے گا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے 23 اکتوبر کو پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر ملک گیر پُرامن احتجاج کیا جائے گا، جس میں مختلف شہروں اور اضلاع میں کارکنان اور عوام شرکت کریں گے۔

لیاقت بلوچ کے مطابق جماعت اسلامی عوامی ریلیف کے معاملے پر اپنا مؤقف برقرار رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور احتجاج ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، تاہم اصل مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا، مہنگائی میں کمی لانا اور معاشی سرگرمیوں کو بہتر بنانا ہے۔

جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے سے عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی مطالبے کے تحت جماعت اسلامی پہلے ہی احتجاجی سرگرمیوں اور دستخطی مہم کا سلسلہ شروع کر چکی ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں احتجاج کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا 23 اکتوبر کو ہونے والا اجلاس اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں نہ صرف پٹرولیم لیوی کے معاملے پر گفتگو ہوگی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمٰن کی ممکنہ ملاقات کے لیے بھی پیش رفت متوقع ہے۔

تاہم مذاکرات کے نتیجے میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے سے متعلق کوئی فیصلہ ہوگا یا نہیں، اس بارے میں فی الحال حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے پر مذاکراتی کوششیں جاری رہیں گی اور پُرامن احتجاج بھی اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق کیا جائے گا۔