کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی اور ’بھتہ ٹیکس‘ کے خلاف تحریک جاری ہے، اس تحریک کا تیسرا فیز جمعہ سے شروع ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے شور مچانے سے فیول ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا، تاہم ریلیف پیکیج بہت تھوڑا ہے، جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم انتشار اور فساد نہیں پھیلانا چاہتے، وزیر اعظم شہباز شریف نے لیوی ٹیکس کا خاتمہ نہیں کیا تو ہر صورت اسلام آباد جائیں گے، پورے ملک میں بیک وقت مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے۔

تقریب سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ نعمت اللہ خان کے دور میں کراچی کو بہترین طریقے سے ترقی دی گئی، جبکہ ان کے بعد چائنا کٹنگ نے شہر کو تباہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ دیے اور میئر بھی بنانا چاہا، لیکن پیپلز پارٹی نے میئر شپ پر قبضہ کیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ کراچی میں پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ حکومتوں کی نااہلی ہے۔ یہ شہر پورے پاکستان کی معیشت چلاتا ہے، لیکن یہاں پانی نہیں دیا جاتا۔ شہر میں صفائی ستھرائی کا نظام ٹاؤن اور یوسیز کے پاس ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے ٹاؤن اور یوسی چیئرمین نے اختیارات کے بغیر بلا تفریق کام کیا۔ نیو کراچی کے ٹاؤن چیئرمین کو کام سے روکا جاتا ہے، لیکن وہ عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ابو تراب اسکول کا افتتاح کیا گیا، جسے دیکھ کر پتا ہی نہیں چل رہا کہ یہ سرکاری اسکول ہے۔ نیو کراچی ٹاؤن میں 5 ہزار تعلیمی کارڈ فراہم کیے جائیں گے۔