وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ روڈ پہنچے، جہاں راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ روڈ سے رکاوٹیں ہٹا دیں۔

فیکٹری ناکے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایس ایچ او صدر بیرونی سے ملاقات کے حوالے سے صورتحال دریافت کی۔ اس موقع پر انہوں نے سادہ لباس میں موجود ایک شخص کی موجودگی پر بھی سوال کیا اور پوچھا کہ کیا وہ بھی ایس ایچ او ہیں۔ سادہ لباس شخص نے بتایا کہ وہ صحافی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک ملاقات کا مقررہ وقت ہے، وہ انتظار کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی، پارلیمنٹرینز اور عہدیدار آج رات 10 بجے کی تیاری کریں۔

انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ رات 10 بجے پاکستان اور پی ٹی آئی کے پرچم لے کر چوک اور چوراہوں میں نکل آئیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 2022 سے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی جماعت کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ غلط ہے۔ پورے پاکستان کو ضد اور انا کی وجہ سے تباہی کی جانب لے جایا جا رہا ہے اور نظام تباہ ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: 15اکتوبر 2025 کے بعد عمران خان سے ملاقات کی سختی سے تردید کرتا ہوں، بیرسٹر گوہر

سہیل آفریدی نے کہا کہ اس نظام کو لانے والے ہی اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنا فوکس 27 ستمبر کے مارچ پر رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کی کال مخالفین کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے، گزشتہ روز خیبر میں عوام کا سمندر نکلا اور دیگر اضلاع میں بھی جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کو 20 لاکھ افراد اسلام آباد لانے کا اعلان کیا ہے اور اس سے زیادہ لوگ بھی لائے جا سکتے ہیں۔ اگر حالات درست کرنا ہیں تو 28 ستمبر سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔

سہیل آفریدی نے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ باقی سیاسی جماعتیں ملک سے مخلص نہیں، حکومتی وزیر خود کہہ رہا ہے کہ نظام کولیپس کر چکا ہے۔