مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام آئی ایم ایف وفد کو معیشت کی مجموعی صورتحال، مالیاتی اہداف پر پیش رفت اور پروگرام کے تحت کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کریں گے۔ پاکستان کی جانب سے ساورن ویلتھ فنڈ، گردشی قرضے میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو چینی کے شعبے کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جائے گا، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ، پرائمری سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح تبادلہ سے متعلق تازہ صورتحال بھی مذاکرات کا حصہ ہوگی۔ چینی پالیسی میں اصلاحات اور اجناس کی مارکیٹ میں حکومتی مداخلت میں کمی آئی ایم ایف پروگرام کے اصلاحاتی ایجنڈے میں شامل معاملات میں سے ہیں۔
ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے آئی ایم ایف اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان بھی تفصیلی بات چیت ہوگی۔ ایف بی آر حکام ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس وصولی بہتر بنانے اور ادارے میں جاری اصلاحات پر پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ٹیکس بیس بڑھانے، ٹیکس کمپلائنس بہتر بنانے اور ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
توانائی کے شعبے سے متعلق مذاکرات میں گردشی قرضے میں کمی، بجلی کے شعبے کی مالی پائیداری اور اصلاحاتی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے پروگرام میں توانائی کے شعبے کی پائیداری اور گردشی قرضے کے دوبارہ بڑھنے کی روک تھام کو اہم اصلاحاتی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
مذاکرات میں صوبائی مالیات کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان محصولات میں اضافے، ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کی وصولی بہتر بنانے اور مالیاتی ذمہ داریوں سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اسی طرح نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات سے آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کیا جائے گا۔ مالیاتی نظام میں شفافیت، نگرانی اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام بھی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو مختلف قوانین میں تقریباً 174 ترامیم پر کام کرنا ہے۔ ان مجوزہ اصلاحات میں ٹیکس، توانائی، نجکاری، ساورن ویلتھ فنڈ، چینی پالیسی اور مالیاتی شعبے سے متعلق معاملات شامل ہیں، تاہم قانون سازی کی منظوری پارلیمان کا اختیار ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری پروگرام میں مالیاتی استحکام، ٹیکس وصولیوں میں بہتری، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور معاشی ڈھانچے میں بہتری بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے گزشتہ جائزوں میں مالیاتی اور معاشی استحکام کے حوالے سے پیش رفت کی ہے، تاہم اصلاحات پر عملدرآمد کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔
مذاکرات کے دوران پاکستان کی جانب سے حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے اور آئندہ کے اقدامات سے متعلق بھی آئی ایم ایف حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔ دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پروگرام کے اہداف، اصلاحاتی اقدامات اور معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ پیش رفت سے متعلق معاملات طے ہوں گے۔







