پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی مؤقف پر بھی سخت تنقید کی، سہیل آفریدی اور ان کی جماعت کو صوبے میں عوامی حمایت حاصل نہیں رہی، جبکہ صوبائی حکومت کو انتظامی اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مذاکرات سے انکار نہیں کررہی، تاہم بات چیت کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار اور واضح ایجنڈا ضروری ہے، مذاکرات کا مقصد سیاسی اور انتظامی معاملات پر بات چیت ہوسکتی ہے، لیکن کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا۔

امیر مقام نے کہا کہ عمران خان کو عدالتوں نے سزا سنائی ہے، اس لیے وفاقی حکومت کے پاس انہیں رہا کرنے کا اختیار نہیں، اگر قانونی طور پر رہائی بنتی ہے تو وہ متعلقہ عدالتی اور قانونی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد مارچ کی کال مؤخر کرتے ہوئے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ دی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

امیر مقام نے سہیل آفریدی پر صوبے میں کرپشن اور انتظامی ناکامی کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے بجائے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اسپتالوں، اسکولوں اور بلدیاتی اداروں سمیت مختلف شعبوں میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی صوبے کے معاملات پر مطلوبہ توجہ نہیں دے رہے اور سیاسی سرگرمیوں میں زیادہ وقت صرف کررہے ہیں، وزیراعلیٰ کو مستقبل میں کرپشن کے الزامات کے باعث قانونی کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

امیر مقام نے پی ٹی آئی اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان مبینہ روابط کا بھی الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر دہشتگردوں کی آبادکاری میں سہولت کاری کے الزامات ہیں اور پارٹی قیادت کی جانب سے دہشتگردی کے مسئلے سے متعلق مؤقف پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے، جہاں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، صوبائی حکومت کی توجہ دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد مارچ مؤخر کیے جانے پر امیر مقام نے کہا کہ پارٹی نے بڑے پیمانے پر عوام کو جمع کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم مقررہ تاریخ کے قریب آکر مارچ ملتوی کردیا گیا۔ انہوں نے اس فیصلے کو عوامی حمایت سے متعلق اپنے مؤقف کے تناظر میں بیان کیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کے مطالبات میں عمران خان سے ملاقات، ان کے علاج اور رہائی سمیت دیگر سیاسی و آئینی معاملات شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حالیہ گفتگو میں کہا ہے کہ پارٹی نے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے۔

گورنر راج کے سوال پر امیر مقام نے کہا کہ آئین اور قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے اور ان کے مطابق متعلقہ آئینی و قانونی تقاضے بھی پورے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال گورنر راج کے نفاذ سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ یا بات چیت نہیں ہوئی۔

خیبرپختونخوا میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات کے ساتھ ساتھ دہشتگردی، صوبائی حقوق، انتظامی معاملات اور عمران خان کی رہائی کا معاملہ بھی سیاسی کشیدگی کا اہم حصہ بنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے مذاکرات کی بات سامنے آنے کے باوجود مذاکرات کے ایجنڈے اور شرائط پر اختلاف برقرار ہے۔