پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق دونوں جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک ’غیر قانونی گزرگاہ‘ سے گزر رہے تھے، جہاں ایرانی بحریہ کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد ان میں آگ بھڑک اٹھی۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا کہ بارودی سرنگوں سے بھری گزرگاہ سے گزرنا غیر قانونی ہے اور اس کے نتیجے میں خلاف ورزی کرنے والوں کے اثاثے جل سکتے ہیں۔

تاہم برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی سمیت بحری جہازوں کی حفاظت کی نگرانی کرنے والے اداروں نے ان دھماکوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی۔

دوسری جانب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں شدت اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر مسلسل حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کاروبار کے ابتدائی اوقات میں برینٹ خام تیل کی قیمت پانچ ماہ میں پہلی بار 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔