حوثی فوجی ترجمان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کیمپ سعودی فورسز کے زیرِ انتظام تھا۔ یمنی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز اس دوران حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کے قریب اپنی کارروائیاں بھی تیز کر رہی ہیں۔
یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی سعودی عرب کی سلامتی کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی بات کی جاتی رہی ہے، تاہم دونوں فریقوں کے مطالبات میں اختلافات ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
غزہ اور لبنان میں صورتِ حال بھی مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے اہم ہے۔ غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی، جبکہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنا علاقائی سفارت کاری کے اہم معاملات رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار، سعودی عرب پر حملوں اور امریکا، ایران مذاکرات کے تعطل سے خطے میں غیریقینی، اس وقت کیا ہورہا ہے؟
نیوز ڈیسک
19 اکتوبر، 2026مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی، علاقائی سلامتی اور سفارتی کوششیں ایک بار پھر توجہ کا مرکز ہیں۔ یمن میں حوثی فورسز اور حکومت کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے، جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ خطے میں جاری یہ صورتِ حال توانائی کی عالمی ترسیل اور علاقائی استحکام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 19 اکتوبر کو یمن کے صوبے شبوا میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں مقامی حکام کے مطابق 53 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہوئے۔
تازہ اپڈیٹس
ماسکو ایران کے ساتھ اپنا تعاون ترک نہیں کرے گا، روس

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو ایران کے ساتھ اپنا تعاون ترک نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے پر مکمل طور پر قائم ہے۔ انہوں نے ایران کو خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کی پیشکش کا بھی ذکر کیا۔
روسی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان ماسکو میں منعقد ہونے والی گیس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری رہے گا۔
اس موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ روس اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے خطے میں عدم تحفظ کا ذمہ دار امریکا کے ساتھ جاری جنگ اور بحری ناکہ بندی کو قرار دیا۔
عباس عراقچی کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ یہ آبی راستے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ہیں، اس لیے ان سے متعلق کشیدگی کے علاقائی اور عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی مدد کے لیے مصری فوج بھیجنے کا اختیار دینے پر ووٹنگ 26 اکتوبر تک ملتوی
مصر کی پارلیمنٹ میں صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کی درخواست پر حوثی حملوں کے خلاف فوجی مدد فراہم کرنے کا اختیار دینے سے متعلق ووٹنگ ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔ اب اس معاملے پر ووٹنگ 26 اکتوبر کو ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق ووٹنگ ملتوی کرنے کا مقصد پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو معاملے پر اپنی رائے دینے اور مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
صدر السیسی نے ہفتے کے روز پارلیمانی ارکان سے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو مصر کو حوثیوں کے حملوں کے خلاف اس کی مدد کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
مصری صدر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہے، اسی لیے انہوں نے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تاکہ سعودی عرب کی جانب سے مدد طلب کیے جانے کی صورت میں مصر کارروائی کرنے کا اختیار حاصل کرسکے۔
مصر 2015 میں یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا حصہ بنا تھا، تاہم اس کا کردار زیادہ تر بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کی حفاظت تک محدود رہا۔
موجودہ پارلیمانی ووٹنگ اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوگی کہ آیا مصر کو سعودی عرب کی درخواست پر مزید فوجی مدد فراہم کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب حوثی رہنماؤں نے مصر کو سعودی عرب کے ساتھ جاری تنازع میں مداخلت سے خبردار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسی مداخلت اسرائیلی مفادات کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ حوثیوں نے براہِ راست حملے کی دھمکی دینے کے بجائے 1960 کی دہائی میں یمن میں مصر کی فوجی مداخلت کا حوالہ دیا، جس میں مصری فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔






