یہ منظر بہت دردناک ہے، ہر فرد اس پر بول رہا ہے، لکھ رہا ہے، یہ منظر پہلا نہیں، اس سے پہلے بھی ایسے مناظر دیکھنے کو ملے مگر میموری کا حصہ بن گئے۔

ملتان سے ایک خبر آئی ہے، پندرہ برس کا ایک بچہ الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا۔ عمر ایسی کہ کتاب، کھیل اور کسی ایسے خواب کے دن ہوتے ہیں جس میں ابھی ہنر اور جیب کا فرق سمجھ میں نہیں آتا۔ اس بچے کی زندگی چھین لی گئی، وہ خون میں لت پت پڑا رہا، مگر کسی نے اسے ہسپتال پہنچانے کی زحمت نہ کی۔ ظلم کرنے والے کی بات الگ ہے، وہ تحقیقات اور قانون کا معاملہ ہے۔ مگر اس کے بعد کے لمحوں کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں، ہم پر آتی ہے۔

اب ذرا دکھ سے آگے بڑھ کر سوچ لیں کہ ہم یہ کام کرتے کیوں نہیں۔

ہمارے ہاں اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ زخمی کو ہسپتال لے جاؤ تو الٹا خود پولیس اور کاغذی کارروائی کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔ یہ بات کتنی درست ہے اور کتنی خوف کی پیداوار، اس پر الگ بحث ہو سکتی ہے، مگر خوف بذاتِ خود ایک حقیقت ہے۔ جس معاشرے میں مدد کرنے والے کو اپنی جان کے ساتھ اپنے وقت، اپنی عزت اور اپنے دن کی بھی فکر کرنی پڑے، وہاں انسانیت کی بات اکثر نصیحت بن کر رہ جاتی ہے۔ نصیحت سننے والے بہت ہیں، عمل کرنے والے کم، اور جو عمل کرتے ہیں انہیں اکثر ہمت کی داد نہیں ملتی، سوالات ملتے ہیں۔

اور یہاں ریاست کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ہمارے ہاں سڑک پر حادثہ ہو جائے تو ریسکیو کی گاڑی کب پہنچتی ہے، یہ ایک الگ تحقیق کا موضوع ہے۔ جب پہنچنے میں دیر لگے تو وہ قیمتی منٹ، جن میں زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتا ہے، اکثر ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جو پاس کھڑے ہوتے ہیں۔ بنیادی طبی امداد کی تربیت کا ہمارے ہاں کتنا رواج ہے؟ سکولوں میں؟ دفتروں میں؟ گلی محلوں میں؟ ہم بچوں کو جغرافیے کے نقشے رٹوا دیتے ہیں، مگر یہ نہیں سکھاتے کہ زخمی کو کس طرح اٹھانا ہے اور کس حد تک ہاتھ لگانا ہے۔ شاید اس لیے کہ نقشے امتحان میں آتے ہیں، زخمی امتحان میں نہیں آتے۔

انسانیت کہاں دفن ہو گئی؟ انسانیت دفن نہیں ہوئی، وہ مصروف ہو گئی ہے۔ ہمیں کام پر دیر ہو رہی ہوتی ہے، ہمیں جلدی ہوتی ہے، ہمیں خود بھی ایک بیماری یا قرض یا کسی اور مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔ ہر شخص کے پاس اپنی گھبراہٹ کا جواز ہے، اور سب جوازوں کو جمع کر کے ایک اجتماعی بے حسی بن جاتی ہے۔ یہ بے حسی کسی ایک آدمی کا گناہ نہیں، ایک پورے معاشرے کا مزاج ہے۔

آج جو بچہ کسی اور کا ہے، کل وہ ہمارا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ جملہ ہم سب جانتے ہیں، سب مانتے ہیں، اور اکثر اسی وقت بھول جاتے ہیں جب اس پر عمل کا لمحہ آتا ہے۔

بچے کے قاتل کو عدالت میں پیش کیا گیا، گواہ پیش ہوں گے، جرح ہوگی، ہوسکتا ہے کہ ملزم کو چھوڑ دیا جائے، اس مقدمے کا فیصلہ واضح ہے، مجرم سامنے ہے، ہر چیز عیاں ہے تو عدالت فیصلہ سناکر نشان عبرت بنادے۔ ایسی سزادے کہ پھر کوئی ایسا جرم نہ کرسکے۔ مگر سب مشکل ہے۔ دولت انصاف کو کھاجاتی ہے۔ 

آخر میں اتنا ہی کہنا ہے کہ ایک بچے کی موت کو اس کے ہم وطن محض اعداد و شمار نہ بنائیں۔ اس کے نانا نے اسے ہنر سیکھنے بھیجا تھا، قبر میں نہیں۔ اس کا حساب ہم سب پر ہے، ہم پر جو دیکھ کر گزر گئے، اور اس نظام پر جس نے ہمیں اتنا تنہا چھوڑ رکھا ہے کہ ہم مدد کرنے سے پہلے بھی سو بار سوچتے ہیں۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر