امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پر امریکی انتظامیہ انتہائی محتاط اور حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے دستیاب مختلف آپشنز کو حالات کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ واشنگٹن کا مقصد صرف ایران پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ ایسے نتائج حاصل کرنا ہے جن سے امریکا کی قومی سلامتی اور خطے میں استحکام کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی بالآخر امریکا کو ایک زیادہ مضبوط پوزیشن میں چھوڑے گی، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بھی ایسے حالات کی بحالی ضروری ہے جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں

امریکی نائب صدر نے ایران کے سابقہ رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران غیر متوقع طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، ماضی میں ایران کی جانب سے کیے گئے بعض وعدوں اور معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے واشنگٹن کو محتاط رویہ اپنانا پڑ رہا ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی حکام بعض اوقات ایسے وعدے کرتے ہیں جن پر بعد میں عمل نہیں کیا جاتا، ایران معاہدے کرتا ہے لیکن بعد میں ان کی پاسداری کے حوالے سے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے امریکی انتظامیہ ایران کے معاملے میں کسی ایک راستے پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ سفارتی، اقتصادی اور عسکری ذرائع کو حالات کے مطابق بروئے کار لایا جا رہا ہے۔

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن سفارتی کوششوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر دیگر ذرائع استعمال کرنے کے آپشنز بھی موجود ہیں

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے آئندہ ہفتے مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرنا اور تہران کی مالی و معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا کہ ایران کے خلاف امریکی معاشی اقدامات میں مزید سختی کی جاسکتی ہے، واشنگٹن تہران کو اپنے مطلوبہ رویے کی جانب لانے کے لیے اقتصادی دباؤ کو بھی ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے

امریکی نائب صدر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی بات کی اور کہا کہ اس خطے میں امن و استحکام عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہے

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے یہاں کشیدگی میں اضافے کے اثرات عالمی توانائی کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا ایسے حالات چاہتا ہے جن میں توانائی کی قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو روکا جاسکے اور عالمی منڈی میں استحکام برقرار رہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاملے کو اپنی قومی سلامتی کے مفادات کے ساتھ ساتھ عالمی اقتصادی استحکام کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے

امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے متعدد ذرائع موجود ہیں اور ہر آپشن کو حالات کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق امریکی انتظامیہ سفارتی کوششوں کو نظر انداز نہیں کررہی، تاہم تہران کے ساتھ مذاکرات یا کسی بھی ممکنہ معاہدے میں امریکی مفادات اور سکیورٹی ترجیحات کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سفارتی، عسکری اور معاشی ذرائع کو انتہائی محتاط انداز میں استعمال کررہا ہے اور آئندہ بھی حالات کے مطابق حکمتِ عملی میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

امریکی نائب صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے پر دباؤ کی پالیسی کو مختلف محاذوں پر آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں اقتصادی پابندیوں کے ساتھ سفارتی اقدامات اور دیگر ذرائع بھی شامل ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا، خطے میں سلامتی کو برقرار رکھنا اور عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام قائم رکھنا واشنگٹن کی پالیسی کے اہم اہداف ہیں۔