جاپان کے شہر ناگویا میں جاری ایشین گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں پاکستان کے ارشد ندیم اور محمد یاسر نے حصہ لیا، تاہم فائنل میں ارشد ندیم میڈل حاصل نہ کرسکے اور چوتھی پوزیشن پر مقابلہ ختم کیا۔
ارشد ندیم نے فائنل کی پہلی باری میں 76.69 میٹر کی تھرو کی، جبکہ ان کی دوسری تھرو ضائع ہوگئی۔ انہوں نے تیسری باری میں کم بیک کرتے ہوئے 80.29 میٹر کی تھرو کی، جو مقابلے میں ان کی سب سے بڑی تھرو ثابت ہوئی۔
اس کے بعد ارشد ندیم کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی تھروز بھی ضائع ہوگئیں۔ پاکستانی ایتھلیٹ نے فائنل میں 6 تھروز میں سے صرف 2 مکمل کیں، جبکہ ان کی 4 کوششیں ضائع ہوگئیں۔ ان کی بہترین کوشش 80.29 میٹر رہی، جس کے باعث وہ پوڈیم تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔
یوں ارشد ندیم ایونٹ میں میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے اور 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔ اس طرح وہ 2026 کے کامن ویلتھ گیمز کے بعد ایشین گیمز میں بھی جیولن تھرو کا میڈل حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
فائنل میں سری لنکا کے رمیش پتھراگے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ انڈیا کے یشویر سنگھ نے 85.14 میٹر کی تھرو کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کرکے سلور میڈل جیتا، جبکہ انڈیا ہی کے روہت یادیو نے 84.35 میٹر کی تھرو کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کرکے برونز میڈل اپنے نام کیا۔
دوسری جانب پاکستان کے ایک اور ایتھلیٹ محمد یاسر بھی جیولن تھرو کے فائنل میں شریک تھے، تاہم وہ فائنل راؤنڈ کے پہلے مرحلے میں ہی باہر ہوگئے۔ محمد یاسر کی پہلی تھرو ضائع ہوگئی، جبکہ تیسری باری میں انہوں نے 73.47 میٹر کی تھرو کی۔ ان کی بہترین تھرو 73.50 میٹر رہی اور وہ 14 ایتھلیٹس میں نویں نمبر پر رہے۔
ارشد ندیم کے لیے ایشین گیمز کا یہ نتیجہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ اس سے قبل 2026 کے کامن ویلتھ گیمز میں بھی میڈل حاصل نہیں کرسکے تھے۔
گلاسگو میں ہونے والے 2026 کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں ارشد ندیم نے 77.41 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ نویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ ان کی پہلی کوشش فاؤل قرار پائی، دوسری کوشش میں انہوں نے 77.41 میٹر کی تھرو کی، جو ان کی بہترین کارکردگی ثابت ہوئی، جبکہ تیسری اور آخری کوشش میں وہ 75.20 میٹر تک نیزہ پھینک سکے۔ ان کی 77.41 میٹر کی بہترین تھرو انہیں ٹاپ 8 میں پہنچانے کے لیے کافی نہ تھی اور یوں وہ ابتدائی مرحلے میں ہی مقابلے سے باہر ہوگئے۔
کامن ویلتھ گیمز میں سری لنکا کے رمیش پتھراگے نے 89.75 میٹر کی تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل حاصل کیا، انڈیا کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کے ساتھ چاندی جبکہ انڈیا ہی کے یشویر سنگھ نے 85.41 میٹر کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
اس سے قبل پیرس اولمپکس 2024 میں ارشد ندیم نے پاکستان کے لیے 40 سال بعد گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے اولمپکس میں جیولن تھرو کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
ارشد ندیم کی پہلی تھرو فاؤل قرار دی گئی تھی، تاہم دوسری باری میں انہوں نے 92.97 میٹر کی شاندار تھرو کرتے ہوئے اولمپکس کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔







