امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ وہ آئندہ اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی دوبارہ کامیابی کے لیے مکمل اور غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو امن کے لیے ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شدید مخالفت، حتیٰ کہ اسرائیل کے اندر سے ہونے والی مخالفت کے باوجود مضبوطی، بہادری اور ذہانت کا مظاہرہ کیا۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں نیتن یاہو کے کردار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے مشکل ترین حالات میں دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزید مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اسے فوجی اور مالی دونوں اعتبار سے منظم انداز میں شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے تیزی سے اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کیا تو امریکا جلد اس کارروائی کو مکمل کر دے گا۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ نیتن یاہو کے آئندہ انتخابات میں دوبارہ انتخاب کے لیے ان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ کی حمایت کے باوجود نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ کو انتخابات میں واضح کامیابی ملنے کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے واضح برتری حاصل نہیں۔
اسرائیل میں وزیراعظم کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ کے ذریعے نہیں ہوتا بلکہ پارلیمانی انتخابات کے بعد مختلف سیاسی جماعتیں اتحاد تشکیل دے کر حکومت بناتی ہیں۔ اس لیے آئندہ انتخابات کے نتائج کے بعد اتحادی حکومت کی تشکیل فیصلہ کن اہمیت رکھے گی۔
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران سمیت خطے کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے تک کشیدگی برقرار رہی۔
ایران کے ساتھ جاری تنازع نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے، جب کہ مشرق وسطیٰ میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور علاقائی معیشتوں میں عدم استحکام کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اختلافات کے باعث اسرائیلی عوام میں ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں نیتن یاہو کے حامی اور مخالف دونوں دھڑے انتخابی مہم میں سرگرم ہیں، جب کہ ان کے مخالفین ملک میں سیاسی تبدیلی اور نئے دور کے آغاز کا وعدہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم مل کر مشن مکمل کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی امریکا کی دیرینہ روایت سے ہٹ کر دیگر ممالک کے انتخابات میں مخصوص امیدواروں کی حمایت کر چکے ہیں۔ ان ممالک میں ہنگری، کولمبیا، ارجنٹینا، جاپان اور ہونڈوراس شامل ہیں۔
آئندہ اسرائیلی انتخابات نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں اور ان کے نتائج یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ وہ خطے میں جاری طویل کشیدگی اور جنگ کے بعد بھی اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا انہیں اپنے سیاسی مخالفین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔







