’آپریشن ڈان آف یمن‘ کے تحت جاری بیان میں فوجی ترجمان نے کہا کہ کارروائیوں میں لڑاکا طیارے، ڈرونز، فیلڈ آرٹلری اور راکٹ لانچرز استعمال کیے گئے۔

ترجمان کے مطابق حملوں میں حوثیوں کے اجتماعات، کمک، مضبوط مورچوں، فائرنگ کے مقامات، بکتر بند گاڑیوں، جنگی سازوسامان اور ڈرونز کے لانچنگ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں سے حوثیوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی اور انہیں اگلے محاذوں پر کمک بھیجنے اور میدان جنگ میں اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔

فوجی ترجمان نے بتایا کہ مشرقی محاذ پر یمنی فورسز حوثیوں کے ٹھکانوں کا صفایا جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو وسعت دے چکی ہیں۔ ان کے مطابق فورسز نے ایک نئی تزویراتی پوزیشن پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

ترجمان کے مطابق تعز میں مسلح افواج اور عوامی مزاحمت نے حوثیوں کے مسلسل حملے پسپا کردیے۔ جنگی طیاروں نے حوثیوں کے اہداف اور کمک کو نشانہ بنایا، جس سے اہلکاروں اور سازوسامان کو بھاری نقصان پہنچا۔

یمنی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ فوجی کارروائیاں جائز فوجی اہداف تک محدود رہیں اور بین الاقوامی انسانی قانون اور روایتی اصولوں کے مطابق کی گئیں۔

یاد رہے کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے حوثیوں کے زیر کنٹرول باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

العلیمی کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے امن، حقوق اور وقار بحال کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان علاقوں کے عوام فوجی کارروائیوں کا ہدف نہیں ہیں۔

انہوں نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی کہ وہ حوثیوں کے اجتماع کے مقامات سے دور رہیں اور اپنے بچوں کو لڑائی میں جھونکے جانے سے محفوظ رکھیں۔