خبر رساں اداروں کے مطابق مشن کو 20 اکتوبر کو جاپان کے نئے ایچ تھری راکٹ کے ذریعے روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ تقریباً پانچ سال پر محیط اس مشن کے تحت خلائی جہاز اگست 2027 میں مریخ کے علاقے تک پہنچنے اور فوبوس کے گرد تقریباً تین سال تحقیق کرنے کے بعد 2031 میں زمین پر واپس آنے کی توقع ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق فوبوس اور اس کے چھوٹے ساتھی چاند ’ڈیموس‘ کی تشکیل کے بارے میں دو اہم نظریات موجود ہیں۔ ایک نظریے کے مطابق یہ دونوں اجرام ایسے سیارچوں کی باقیات ہیں جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی جانب کھینچ لیا۔
دوسرے نظریے کے مطابق یہ مریخ سے کسی بڑے فلکیاتی جسم کے ٹکرانے کے نتیجے میں بکھرنے والے ملبے سے وجود میں آئے۔ مشن سے حاصل ہونے والے نمونوں کے تجزیے سے ان نظریات کو جانچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مشن کے تحت جاپانی خلائی جہاز فوبوس سے کم از کم 10 گرام مٹی جمع کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس مقصد کے لیے جاپان اور امریکی خلائی ادارے ناسا کے تیار کردہ آلات استعمال کیے جائیں گے۔
مشن میں فرانس اور جرمنی کا مشترکہ تیار کردہ ’ایڈیفکس‘ نامی چھوٹا روور بھی شامل ہے، جو فوبوس کی سطح پر اتر کر اس کی ساخت کا جائزہ لے گا اور نمونے جمع کرنے کے لیے موزوں مقام کے انتخاب میں مدد دے گا۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ فوبوس کی مٹی میں مریخ سے آنے والے مادّے کے آثار بھی مل سکتے ہیں، جو سرخ سیارے کی تاریخ اور ممکنہ قدیم حیاتیاتی سرگرمیوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آپ کے فون سے لی گئی ’بادلوں کی تصاویر‘ کیسے ناسا کی مدد کرسکتی ہیں؟
جاپانی حکام کے مطابق نمونوں کا تجزیہ مستقبل میں مریخ پر انسانی مشن بھیجنے کے لیے فوبوس کو ممکنہ اڈے کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
جاپان اس سے قبل ہایابوسا مشنز کے ذریعے دو سیارچوں سے نمونے زمین پر لا چکا ہے، تاہم اب تک کوئی ملک مریخ کے کسی چاند سے نمونے واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ماضی میں فوبوس تک پہنچنے کی روسی کوششیں بھی ناکام رہی ہیں۔







