اوپن اے آئی نے اپنا سب سے طاقتور اور جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل “جی پی ٹی 4.5” کا تعارف کرایا ہے، جو کہ ہر سطح پر کارکردگی اور ذہانت کے لحاظ سے ایک نئی مثال قائم کرتا ہے۔
یہ ماڈل خاص طور پر ایسے کاموں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جن میں انسانوں کی طرح ذہنی قابلیت کی ضرورت ہو، اور اس میں مزید جذباتی اور سماجی ذہانت کی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔
جی پی ٹی 4.5 کو چیٹ جی پی ٹی پر دستیاب کیا گیا ہے، مگر اسے استعمال کرنے کے لیے پرو سبسکرائبر بننا ضروری ہے، یعنی ماہانہ 200 ڈالرز کی فیس ادا کرنا ہوگی۔
ابھی یہ ماڈل ریسرچ پریویو کے طور پر جاری کیا گیا ہے اور کمپنی کی توقع ہے کہ صارفین اس میں موجود خامیوں کو دریافت کرکے اس کی کارکردگی میں مزید بہتری لائیں گے۔
اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی 4.5 میں سماجی اشاروں کو سمجھنے کی صلاحیت بہت بہتر کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں یہ ماڈل زیادہ حساس اور جذباتی طور پر انسانوں کی طرح رد عمل ظاہر کرتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے ابتدائی صارفین نے اسے اتنا ذہین اور حقیقی محسوس کیا ہے کہ یہ کسی حقیقی فرد سے بات کرنے کا تاثر دیتا ہے۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ “یہ پہلا اے آئی ماڈل ہے جسے استعمال کرتے ہوئے آپ کو لگے گا جیسے آپ کسی پرفکر شخص سے بات کر رہے ہوں۔” حالانکہ کمپنی نے یہ اعتراف کیا ہے کہ جی پی ٹی 4.5 اب بھی خود سے سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لیکن یہ سماجی اشاروں کو بہتر طور پر سمجھنے کی صلاحیت کے ساتھ کافی متاثر کن ہے۔
بہت جلد یہ ماڈل چیٹ جی پی ٹی پلس صارفین کے لیے بھی دستیاب ہوگا، جس سے اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی کی حدود مزید وسیع ہوں گی۔
یہ نیا ماڈل حقیقت میں اے آئی کے مستقبل کی سمت کا تعین کرتا نظر آتا ہے، جہاں انسان اور مشین کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے۔