برطانیہ نے صارفین اور بچوں کی نجی معلومات تک رسائی کے انکشافات کے بعد معروف چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
برطانیہ کے پرائیویسی واچ ڈاگ “دی انفارمیشن کمشنر آفس ” نے پیر کے روز ٹک ٹاک کے حوالے سے تحقیقات شروع کی ہیں کہ کیسے وہ بچوں کی پرائیویسی کے خطرات کو جنم دے رہی ہے۔
ٹک ٹاپ پر صارفین کو ایپ کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ترجیحی کانٹیٹ کو ویڈیوز کا حصہ بنایا جاتا ہے اور پھر وہی کانٹینٹ بچوں کے پلیٹ فارم پر شیئر کیا جاتا ہے جس سے ان کے لیے سیکیورٹی رسک بڑھ جاتے ہیں۔
برطانوی واچ ڈاگ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہم تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیسے چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کی شارٹ ویڈیوز سے 13 سے 17 سال کے بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے۔
معروف سوشل پلیٹ فارم “ریڈ اٹ” پر بھی ٹک ٹاک کی جانب سے بچوں کی پرائیویسی کے حوالے سے خطرات کو زیر بحث لایا گیا تھا جس کے بعد واچ ڈاگ نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
واضح رہے کہ امریکہ میں بھی ٹک ٹاک کے حوالے سے خدشات سامنے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ اس ایپ پر پابندی عائد کی گئی ہے، ٹک ٹاک کے حوالے سے عام طور پر تین خدشات نمایاں رہے ہیں جن میں سب سے پہلا صارفین کا ڈیٹا جمع کرنا ہے۔
ٹِک ٹاک کے ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی بڑے پیمانے پر صارفین کا ڈیٹا جمع کر رہی ہے۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اکثر جولائی 2022 میں آسٹریلیا کی سائبر کمپنی ’انٹرنیٹ 0۔2‘ کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔

ٹِک ٹاک کے سورس کوڈ پر تحقیق کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ایپ ’بڑے پیمانے پر ڈیٹا جمع‘ کرتی ہے۔
سائبر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹِک ٹاک صارفین کی لوکیشن، ڈیوائس کی قسم اور اس ڈیوائس میں مزید کون سی ایپس موجود ہیں اس حوالے سے بھی معلومات جمع کرتا ہے۔
لیکن ’سٹیزن لیب‘ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق ٹِک ٹاک ’دیگر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرز پر ہی اُسی قسم کا ڈیٹا جمع کرتی ہے جس سے صارفین کے موڈ کے متعلق معلومات حاصل کی جا سکے۔
ناقدین کو ٹِک ٹاک سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ بیجنگ میں واقع کمپنی ’بائٹ ڈانس‘ کی ملکیت ہے اور واحد سوشل میڈیا سٹریمنگ ایپ ہے جس کا تعلق امریکہ سے نہیں۔
اس کے علاوہ مثال کے طور پر فیس بُک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب بھی ٹِک ٹاک کی طرح ہی صارفین کا ڈیٹا حاصل کرتی ہیں لیکن یہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔
ٹِک ٹاک کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے لاگو کیے گئے قوانین ’ایسی کسی بھی غلط معلومات پر پابندی عائد کرتے ہیں جن سے کسی بھی کمینوٹی یا لوگوں کو نقصان پہنچے۔
نومبر 2022 میں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے امریکی اراکینِ کانگریس کو بتایا تھا کہ چینی حکومت (ٹِک ٹاک کے) الگوریتھم کو کنٹرول کرسکتی ہے جس کا استعمال ذہن سازی کے آپریشنز میں کیا جا سکتا ہے، اس کے بعد سے اس دعوے کو بار بار دُہرایا جاتا رہا ہے۔