اپریل 5, 2025 1:09 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

موت کے آثار: دو خوفناک نشانیاں جو اکثر اہل خانہ کو پریشان کر دیتی ہیں

مظہر اللہ بشیر
مظہر اللہ بشیر
دوسری جانب ایک خاتون نے لکھا، "میرے شوہر کا انتقال حال ہی میں ہوا، میں کاش پہلے ہی یہ سب جان چکی ہوتی۔"
دوسری جانب ایک خاتون نے لکھا، "میرے شوہر کا انتقال حال ہی میں ہوا، میں کاش پہلے ہی یہ سب جان چکی ہوتی۔"

ایک تجربہ کار امریکی نرس نے انکشاف کیا ہے کہ موت کے قریب مریضوں میں دو انتہائی عام لیکن پریشان کن جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جن کے بارے میں اکثر اہل خانہ پہلے سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی جولی میک فڈن پچھلے 15 سالوں سے انتہائی نگہداشت (ICU) اور ہاسپیس کیئر میں خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ زندگی کے آخری مراحل میں موجود مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔

 

اب وہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو موت اور مرنے کے عمل کے بارے میں آگاہی فراہم کر رہی ہیں تاکہ اس موضوع کو درپیش معاشرتی بدگمانیوں کو ختم کیا جا سکے۔

 

اپنے ایک وائرل ویڈیو کلپ میں، جسے 75 ہزار سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جولی میک فڈن نے وضاحت کی کہ مریضوں میں پائی جانے والی ایک اہم مگر پریشان کن تبدیلی کو “Cheyne–Stokes Respiration” کہا جاتا ہے۔

یہ ایک غیر معمولی سانس لینے کا طریقہ ہے، جس میں مریض تیزی سے سانس لینے کے بعد اچانک طویل وقفہ کر لیتے ہیں۔

 

طبی ماہرین کے مطابق، یہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس کی وجہ سے سانس لینے کا معمول کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔

 

جولی میک فڈن کا کہنا تھا کہ یہ کیفیت بظاہر خوفناک لگتی ہے، مگر حقیقت میں مریض کو کسی قسم کی تکلیف یا گھبراہٹ محسوس نہیں ہوتی کیونکہ اس وقت وہ مکمل بے ہوشی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ دیکھنے میں بے چینی کا سبب بن سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مریض کو کسی بھی قسم کا درد محسوس نہیں ہوتا۔”

 

اگر مریض کا سانس لینے کا انداز بہت زیادہ دشوار نظر آئے یا وہ بے چینی محسوس کر رہا ہو تو طبی ماہرین دوائیوں کی مدد سے انہیں مزید آرام دہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم، جولی کے مطابق، زیادہ تر مریضوں کے لیے کسی اضافی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ کیفیت مرنے کے عمل کا ایک قدرتی حصہ ہے۔

 

موت کی کھڑکھڑاہٹ

میک فڈن نے موت کے قریب مریضوں میں پائی جانے والی دوسری عام مگر چونکا دینے والی تبدیلی کو “Death Rattle” یعنی “موت کی کھڑکھڑاہٹ” قرار دیا۔

 

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ وہ آواز ہوتی ہے جو کسی مرنے والے شخص کے سانس لینے کے دوران سنائی دیتی ہے، جو عام طور پر ‘گیلی، غرغراہٹ جیسی’ ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ آواز سننے والوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو سکتی ہے، لیکن یہ مریض کے لیے کسی قسم کی تکلیف یا گھبراہٹ کا سبب نہیں بنتی۔

 

یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مرنے والے فرد کا دماغ لعاب نگلنے کے سگنلز دینا بند کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے لعاب دہن (Saliva) منہ میں جمع ہو جاتا ہے اور سانس لینے کے دوران اس سے مخصوص آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔

 

جولی میک فڈن نے مزید کہا، “یہ موت کا ایک عام اور فطری عمل ہے، لیکن جو لوگ پہلی بار اسے سنتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک خوفناک تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔”

 

سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے جولی میک فڈن کی اس آگاہی مہم کو سراہا اور کہا کہ کاش انہیں پہلے سے اس بارے میں معلوم ہوتا تو ان کے لیے اپنے پیاروں کی موت کے لمحات کو سمجھنا اور برداشت کرنا آسان ہوتا۔

 

ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، “میں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، کاش میں پہلے ہی ان ویڈیوز کو دیکھ لیتا۔ یہ جاننا ضروری ہے تاکہ ہم جذباتی طور پر بہتر طریقے سے سنبھل سکیں۔”

 

دوسری جانب ایک خاتون نے لکھا، “میرے شوہر کا انتقال حال ہی میں ہوا، میں کاش پہلے ہی یہ سب جان چکی ہوتی۔”

ایک اور صارف نے کہا، “میرا بھائی حال ہی میں اس مرحلے سے گزرا، یہ ویڈیو دیکھ کر وہ لمحے یاد آ گئے۔ لیکن اب کم از کم میں یہ سمجھ پایا ہوں کہ یہ ایک فطری عمل تھا۔”

مظہر اللہ بشیر ملٹی میڈیا جرنلسٹ کی حیثیت میں پاکستان میٹرز کی ٹیم کا حصہ ہیں۔

مظہر اللہ بشیر

مظہر اللہ بشیر

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس