تبت کے علاقے میں آنے والے حالیہ زلزلے میں تقریباً 126 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس زلزلے کے جھٹکے ہمسایہ ممالک نیپال اور بھارت کے بعض حصوں تک بھی پہنچے ہیں۔ سوشل میڈیا پر زلزلے کو لے کر کئی ویڈیوز زیرِگردش ہیں جن میں دیکھایا گیا ہے کہ کس طرح زلزلے نے تباہ کاریاں مچائی ہیں۔
7 جنوری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ڈرامائی ویڈیو وائرل ہوئی جو ایک مصروف چوک کو نقصان پہنچانے والے زلزلے کے حوالے سے آن لائن پھیلی اور تھائی ٹیلی ویژن رپورٹ میں بھی دکھائی گئی، اس ویڈیو کو تبت زلزلے کی قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ یہ ویڈیو حالیہ سانحے کی نہیں ہے بلکہ یہ ویڈیو اپریل 2015 میں نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں آنے والے زلزلے کی ہے۔
7 جنوری کو سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر تھائی زبان میں ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس پر کیپشن لکھا ہوا تھا کہ تبت زلزلے سے متاثرین کی تعداد 32 تک پہنچ چکی ہےجب کے 38 افراد زخمی ہیں۔ اس ایک منٹ کی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک مصروف چوک کے درمیان واقع عمارت زلزلے کے دوران گر رہی ہے۔
جیولوجیکل سروےکی رپورٹ کے مطابق زلزلے کا مرکز 163 کلو میٹر دور شہر شگاتسے تھا، جس کی آبادی تقریباً 80,000 ہے۔ مسلسل جھٹکوں کے امکان کے پیشِ نظرآبادی کی انخلا کی کارروائی جاری ہے۔
یہ پوسٹ 7 جنوری کو صبح کے وقت آنے والے ایک زلزلے کے بعد منظر عام پر آئی، جس میں کم از کم 126 افراد ہلاک اور 188 زخمی ہو گئے تھے۔ زلزلہ چین میں نیپال کی سرحد کے قریب ایورسٹ پہاڑ سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) شمال میں واقع ٹنگری ضلع کے دیہی اور بلند مقام پر آیا تھا۔
چائنہ زلزلہ نیٹ ورکس سینٹرسی ای این سی نے اس زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی، جب کےامریکی جیولوجیکل سروے نے اس کی شدت 7.1 بتائی۔ جھٹکے ہمسایہ ممالک نیپال اور بھارت میں بھی محسوس ہوئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تھائی نیوز چینل ون نیوز نے اس ویڈیو کو اپنے رپورٹ میں شامل کیا ہے۔ اسی طرح کی پوسٹس جس میں ویڈیو کا جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا وہ بھی حالیہ زلزلے کے نام پر انگریزی، ہندی، تامل اور ہسپانوی زبانوں میں شیئر کی گئی ہیں۔
فیکٹ چیک ایجنسی فرانس پریس اے ایف پی نے جب ویڈیو کے اہم فریموں کی سرچ کے لیے ریورس امیج کا استعمال کیا تو اسے برطانوی اخبار دی گارڈین میں 30 اپریل 2015 کو شائع پایا۔اس ویڈیو کا عنوان تھا کہ نیپال کے زلزلے نے ایک عمارت کو مصروف چوک پر گرا دیا۔
ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہوا تھا کہ یہ ویڈیو دارالحکومت کھٹمنڈو کے تریپورشور ضلع میں بنائی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی نیچے جھوٹی پوسٹ (بائیں) اور دی گارڈین کی شیئر کردہ ویڈیو (دائیں) کا اسکرین شاٹ موازنہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے اوپر دائیں کونے میں 25-04-2015 کا ٹائم اسٹیمپ بھی موجودہے۔
یاد رہے کہ 2015میں نیپال زلزلے کی شدت 7.8 تھی، اس زلزلے میں تقریباً 9,000 افراد ہلاک اور 22,000 سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ آٹھ لاکھ سے زائد گھر تباہ ہو گئے۔اگر اسکولوں کی بات کی جائے تو اس زلزلے نے قریباً 8,000 اسکولوں کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث تقریباً ایک ملین بچے کلاس رومز سے محروم ہو گئے۔
اس کے علاوہ سینکڑوں یادگاریں اور شاہی محل جن میں کٹھمنڈو وادی کی یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹس بھی شامل ہے تباہ ہوکررہ گئے۔ یہ قابلِ دید مقامات دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے، جس کی وجہ سے سیاحت کو شدید نقصان پہنچا۔
فیکٹ چیک ایجنسی فرانس پریس اے ایف پی نے ویڈیو کی لوکیشن کی تصدیق گوگل میپس پر جیو ٹیگ کی گئی کاٹھمنڈو کے چوک کی تصویر کے ساتھ ایک اہم فریم کا موازنہ کر کے دیکھائی۔نیچے جھوٹ کی بنا پر شیئر کی گئی ویڈیو (بائیں) اور گوگل میپس پر جیو ٹیگ کی گئی تصویر (دائیں) کا اسکرین شاٹ موازنہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ غیر ملکی چینل یورونیو ز نے بھی یہی ویڈیو 30 اپریل 2015 کو اپنے یوٹیوب چینل پر شیئر کی تھی۔ تبت زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر غلط طریقے سے پیش کی گئی تصاویر کا سیلاب دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سے یقین تک کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ اصل میں ہوا کیا ہے، مگر اے ایف پی فیکٹ چیک ایجنسی فرانس پریس نے تمام تر جھوٹی خبروں اور ویڈیوز کو بے نقاب کیا۔