اپریل 6, 2025 11:34 شام

English / Urdu

Follw Us on:

امریکی امداد کی بندش: دنیا بھر میں ہیلتھ کرائسز بڑھنے لگے

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
دنیا بھر میں ہیلتھ کرائسز میں اضافہ ہونے لگا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 جنوری کو دیے گئے حکم کے بعد دنیا بھر میں انسانی امداد کی فراہمی روک دی ہے جس نے دنیا کے مختلف حصوں میں افرا تفری کی لہر دوڑادی ہے۔

اس فیصلے کے اثرات غریب اور متاثرہ ملکوں میں فوری طور پر نظر آنے لگے ہیں جہاں زندگیاں بچانے والے پروگراموں کی بندش سے لاکھوں افراد کی تقدیر داؤ پر لگ چکی ہے۔

گھانا اور کینیا میں ملیریا کے خلاف ہونے والی مہم رک گئی ہے کیونکہ کیڑے مار ادویات اور مچھر دانیاں گوداموں میں پڑی ہیں۔

ان ممالک میں، جہاں ملیریا ایک خطرناک بیماری ہے اور ہر برس ہزاروں افراد اس کا شکار ہوتے ہیں، امداد کے بغیر لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ امریکی حکام نے ان مہمات کے دوبارہ آغاز کی اجازت دینے میں تاخیر کی ہے، جس سے ان کی افادیت ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ ہیٹی میں ایچ آئی وی کے مریضوں کو علاج فراہم کرنے والے گروہ بھی اس بندش کے شکار ہیں۔

لازمی پڑھیں:امریکی ریاست الاسکا سے لاپتہ طیارے کا ملبہ مل گیا، تمام مسافر ہلاک

خاص طور پر وہ ادویات جو ماؤں کو اپنے بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی سے بچاتی ہیں، وہ گوداموں میں پھنس چکی ہیں۔ اس بحران کے باعث سینکڑوں افراد کا علاج رک چکا ہے۔

دوسری جانب میانمار میں صورتحال اور بھی سنگین ہے جہاں امداد کی فراہمی کا انحصار امریکا پر ہے۔ وہاں کے انسان دوست کارکنوں نے صورتحال کو ‘تباہی’ قرار دیا ہے۔

میانمار میں قحط اور خانہ جنگی کے درمیان لاکھوں افراد کی زندگیاں بچانے والے پروگراموں کی بندش سے لوگوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 20 جنوری کو ‘زندگی بچانے والی امداد’ کے لیے استثنیٰ کا اعلان کیا تھا جس میں طبی خدمات، خوراک، پناہ گزینی اور دیگر اہم امدادی سرگرمیاں شامل ہیں، مگر اس استثنیٰ کے باوجود امدادی کارکنوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ کون سی سرگرمیاں اس کی زد میں آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی میکسیکو میں بس حادثہ: 41 افراد جاں بحق، بس مکمل جل گئی

اس افراتفری کا ایک اور سبب امریکی حکام سے رابطے کا فقدان ہے۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی طرف سے دی جانے والی معلومات بہت کم اور متضاد ہیں۔

کئی امدادی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ امدادی پروگراموں کے کون سے حصے جاری رہ سکتے ہیں اور جب تک انہیں درست معلومات نہیں ملیں گی، وہ دوبارہ کام شروع نہیں کر سکتے۔

یو ایس ایڈ، جو دنیا کے مختلف حصوں میں انسانیت کی خدمت کرنے والی سب سے بڑی امریکی ایجنسی ہے، اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔

ایجنسی کے عملے کے اندر بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے سے ایجنسی کے ملازمین میں سے 611 افراد کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔

خصوصاً افریقہ میں، جہاں ملیریا اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے لاکھوں افراد کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں، اس بندش کا انتہائی سنگین اثر پڑا ہے۔

امریکا کی امدادی سرگرمیوں کے بغیر افریقی ممالک میں صحت کے پروگراموں میں شدید خلل آیا ہے۔

ضرور پڑھیں:ایلون مسک کے “ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی” پر فیڈرل جج کا بڑا فیصلہ، امریکی ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کے حساس ریکارڈ تک رسائی روک دی گئی

امریکا کی جانب سے فراہم کردہ امداد سے ملیریا کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں، مگر اب یہ خطرہ پیدا ہو چکا ہے کہ اس امداد کی بندش سے پوری دنیا میں بیماریوں کے پھیلنے کا امکان ہے۔

بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کی حالت انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں امریکی امداد کا 55 فیصد حصہ فراہم کیا جاتا ہے۔

ان پناہ گزینوں میں سے اکثر روہنگیا ہیں جو میانمار میں بدترین تشدد کا شکار ہو کر بنگلہ دیش پناہ گزین ہوئے تھے۔ اس امداد کی بندش نے ان کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حکومت کی ‘امریکا فرسٹ’ پالیسی کے تحت، یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ غیر ملکی امداد امریکی مفادات کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہے۔

تاہم، امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور امریکی حکومت کو فوری طور پر امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنی چاہئیں۔

اس صورتحال میں ایک بات صاف ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا بھر میں نہ صرف صحت کی ہنگامی صورتحال مزید بگڑ جائے گی، بلکہ بے شمار افراد کی زندگیوں کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔

انسانی ہمدردی کے کارکن اس بحران کو ایک سنگین آزمائش کے طور پر دیکھتے ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ اس وقت امریکا کے فیصلے نے عالمی امدادی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: “یوکرین میں جاری اس تباہ کن جنگ کو ختم کرنا چاہتا ہوں” ٹرمپ کا پیوٹن سے رابطہ

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس