اپریل 4, 2025 4:27 شام

English / Urdu

📢 تازہ ترین اپ ڈیٹس

ابھی کوئی تازہ اپ ڈیٹ موجود نہیں


مکمل تفصیلات:

یورپی یونین کے رہنماؤں نے ایک ایمرجنسی سمٹ طلب کر لیا ہے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بلاک اس اہم مذاکراتی عمل سے باہر رہ سکتا ہے۔

یورپی رہنماؤں کی یہ پریشانی اس بات سے بڑھ گئی ہے کہ امریکا اور روس کے درمیان کسی بھی امن معاہدے پر ان کی رائے کو خاطر میں نہ لایا جائے گا۔

ادھر، برطانیہ کے وزیر اعظم ‘کیئر اسٹارمر’ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک یوکرین میں کسی بھی امن معاہدے کو نافذ کرنے کے لیے فورسز بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

دوسیر جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں وہ روسی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہ بات چیت دو سال سے زائد عرصے کے بعد روس اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہونے والی پہلی ملاقات ہے جو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

ان سب کا مقصد امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات سے قبل ایک سمجھوتے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

دریں اثنا، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں اور انہوں نے سعودی عرب میں ہونے والی ملاقات میں مدعو نہ کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین کے بارے میں امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے کسی بھی فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

ان کا موقف ہے کہ یوکرین کی تقدیر کا فیصلہ یوکرین کے لوگوں کو ہی کرنا ہے نہ کہ عالمی طاقتوں کو۔

یوکرینی فوج کے مطابق روسی افواج مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہیں اور وہ اس وقت اہم اسٹریٹجک مرکز پولوکروک کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

روسی افواج کی یہ پیش قدمی یوکرین کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے جس سے جنگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس کت ے علاوہ ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیزجارٹو نے اپنے ایک فیس بک لائیو سٹریم میں کہا کہ پیرس میں ہونے والی اس ایمرجنسی سمٹ میں ‘جنگ کے حق میں’ یورپی رہنما موجود ہوں گے، جو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک اس بات کا حامی ہے کہ امریکا اور روس کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج کو پذیرائی ملنی چاہیے تاکہ اس تباہ کن جنگ کا اختتام ممکن ہو سکے۔

دنیا کی طاقتور طاقتوں کے بیچ بڑھتی ہوئی کشیدگی، یوکرین کی تقدیر کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے اور اب سب کی نظریں اس سمٹ اور اس کے بعد ہونے والی ملاقاتوں پر ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘ہم ایک مضبوط اور خوشحال افغانستان کے لیے تعلقات کے خواہشمند ہیں’ افغان طالبان