اپریل 4, 2025 7:34 صبح

English / Urdu

📢 تازہ ترین اپ ڈیٹس

سعودی عرب ہی کیوں؟ ٹرمپ اور پوتن اس سے قبل جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی اور جاپان کے شہر اوساکا میں روبرو ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل چین اور متحدہ عرب امارات سمیت دوسرے کئی ممالک نے خود کو ٹرمپ اور پوتن کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ مقامات کے طور پر پیش کیا ہے۔ سنہ 2023 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے یوکرین میں جنگ کے سلسلے میں پوتن کے لیے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا اور انھیں جنگی جرائم کا ملزم ٹھہرایا تھا۔


مکمل تفصیلات:

امریکی وزیر خارجہ کے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے دوران سعودی عرب اور روسی حکام سے ملاقاتیں جاری ہیں۔

روسی وزیر خارجہ لاوروف اور پیوٹن کے خارجہ امور کے مشیر یوری اوشاکوف یوکرین پر امریکی حکام سے بات چیت کے لیے ریاض پہنچ گئے ہیں۔

وہ امریکی وزیر خارجہ روبیو، امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور مشرق وسطیٰ کے سفیر سٹیو وٹ کوف سے ملاقات کریں گے۔

کریملن کے ترجمان پیسکوف نے کہا کہ “ریاض میں جاری مذاکرات پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ممکنہ ملاقات کو واضح کر سکتے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے”۔

واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے لیے ماسکو کے اقتصادی مذاکرات کار نے کہا کہ “روس آنے والے مہینوں میں امریکہ کے ساتھ اقتصادی بات چیت میں پیش رفت کی توقع رکھتا ہے”۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹمی بروس نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز ملاقات کے دوران غزہ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

روبیو مشرق وسطیٰ کا دورہ اس وقت کر رہے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ زدہ غزہ کے فلسطینیوں کو دیگر عرب ممالک میں آباد کرنے کی تجویز کے ساتھ عرب دنیا کو مشتعل کردیا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ٹیمی بروس نے روبیو اور سعودی ولی عہد کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے بعد کہا “امریکی سیکرٹری نے غزہ کے لیے ایک ایسے انتظام کی اہمیت پر زور دیا جو علاقائی سلامتی میں معاون ہو”۔

بروس نے کہا کہ “دونوں ممالک  نے اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والی جنگ بندی کے لیے اپنے عزم کا اظہار  کیا اور انہوں نے شام، لبنان اور بحیرہ احمر پر تبادلہ خیال کیا”۔

روبیو اپنے دورے کے دوران روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے۔ (فوٹو: رائٹرز)

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے کہا کہ “ملاقات میں علاقائی اور عالمی پیش رفت اور سلامتی اور استحکام کے حصول کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا”۔

روبیو اسرائیل سے سعودی عرب پہنچے تھے جہاں انہوں نے اعلیٰ امریکی سفارت کار کے طور پر خطے کا اپنا پہلا دورہ شروع کیا تھا۔

کسی بھی فریق کے بیان میں یوکرین کے بارے میں بات چیت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

روبیو اپنے دورے کے دوران روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ بھی ملاقات کر رہے ہیں۔

جس میں یوکرین میں جنگ کے خاتمے اور روس امریکا کے تعلقات کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ہونے والی امریکا اور روسی حکام کی ملاقات میں شرکت نہیں کریں گے کیوں کہ انہیں بلایا نہیں گیا۔

ایف ایم لاوروف کا کہنا ہے کہ “ماسکو جنگ کے خاتمے کے لیے طے شدہ مذاکرات میں یوکرین کو علاقائی رعایتیں دینے پر غور نہیں کر رہا ہے”۔

پیسکوف نے مزید کہا کہ “روس ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مسائل کے حل میں مدد کے لیے تیار ہے”۔ (فوٹو: رائٹرز)

خبر رساں ایجنسی ٹاس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روس اور  امریکا کے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ “مذاکرات کا تہران کے ساتھ ماسکو کے تعاون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا”۔

پیسکوف نے مزید کہا کہ “روس ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مسائل کے حل میں مدد کے لیے تیار ہے”۔

چین کی جانب سے روس اور امریکا کے درمیان ملاقات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ کہا گیا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا چاہیے۔

یوکرینی صدر آج ترکی کے ہم منصب سے ملاقات کریں گے جس میں کیف اور ماسکو کے درمیان معاملات پر بات چیت ہوگی۔