
اگر آپ اب بھی ان خیالوں میں گم ہیں کہ ہمارے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہیں تو لوگ کچھ کہیں یا نہ کہیں، مگر آپ کی زندگی عذاب ضرور بن جائے گی، تو ضروری ہے کہ خود اعتمادی پیدا کریں۔ یہ کہاوت آپ نے بار بار سنی ہو گی
چولستان میں قلعہ دراوڑ کے ساتھ صحابہ کرام کی سینکڑوں سال سے قبریں موجود ہیں جن میں حضرت طاہر رضی ، حضرت جواد رضی ، حضرت جوار رضی ، حضرت طیب رضی شامل ہیں۔ ان صحابہ اکرام کے حوالے سے کتابوں میں تو معلومات نہیں ملتی لیکن یہاں کہ
قلعہ دراوڑ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے صحرائی علاقے چولستان میں واقع ایک تاریخی قلعہ ہے، جو بہاولپور سے تقریباً 130 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قلعہ اپنی مضبوط فصیلوں، شاندار تعمیرات اور وسیع رقبے کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مشہور قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔
عیدالفطر کی خوشیاں ہر کسی کے لیے مسرت اور محبت کا پیغام لاتی ہیں، لیکن بعض افراد کے لیے یہ دن تنہائی اور ماضی کی یادوں میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے اولڈ ایج ہوم میں مقیم بزرگ شہریوں کی عید بھی
صوبت، جو خیبر پختونخوا کا ایک روایتی پکوان ہے مگر اب پنجاب میں بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور کھانے کے شوقین افراد کو اپنی منفرد لذت اور ثقافتی اہمیت سے محظوظ کر رہا ہے۔ پشتون cuisine سے تعلق رکھنے والا یہ پکوان ایک اجتماعی طور پر پیش کیا
پاکستان میں عید ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب تمام مسلمان اپنے دکھ درد بھلا کر سنت نبوی (ﷺ) کے مطابق عید کے دن خوشی مناتے ہیں۔ پاکستان مختلف علاقوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک ہی ایک ہی دن عید مناتے ہیں جو کہ قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی
جیسے ہی عید کی آمد آمد ہوتی ہے، ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے، لیکن وہ افراد جو اپنے گھروں کو لوٹنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج سفری مشکلات بن جاتی ہیں۔ ٹکٹوں کی عدم دستیابی اور کرایوں میں بے تحاشہ
رمضان رخصت ہو چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقتاً الوداع ہے؟ وہی مہینہ جس میں ہم نے اللہ سے قربت کا سفر طے کیا، وہی راتیں جب آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے گناہوں کی معافی مانگی، وہی دن جب کسی بھوکے کا پیٹ بھرا۔ مگر اب
عید مسلمانوں کے لیے خوشیوں، محبتوں اور خاندانی ملاپ کا تہوار ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کے لیے بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ عید کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفر کی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ بسوں، ٹرینوں
فرض کریں آپ جو کھانا کھاتے ہیں وہ ختم ہوجائے، جس پیٹرول کی مدد سے آپ کی گاڑی چلتی ہے، وہ پیٹرول ختم ہوجائے اور سب سے بڑھ کر دنیا کی سب سے عظیم ترین نعمت پانی بھی آپ کی رسائی میں نہ رہے تو آپ کیا کریں گے۔ ہماری