کیریئر کی پہلی سیڑھی، انٹرنشپ اب چند کلکس کی دوری پر

پاکستان میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ دس سالوں کی نسبت ڈیڑھ فیصد سے بڑھ کر سات فیصد پر پہنچ گئی ہے جو بھارت اور بنگلہ دیشن سے بھی زیادہ ہے ۔بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے سالانہ 15 لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہے لیکن ملک کی آبادی میں سالانہ 50 لاکھ افراد کا اضافہ اس میں رکاوٹ ہے جس پر قابو پائے بغیر تعلیم،روزگار اور صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو رواں سال پلانگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں شامل ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اب روزگار کے حوالے سے بہتر مواقع فراہم کرنا جو کہ حکومت کی اولین ذمے داریوں میں شامل ہے کیا وہ اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے؟ اس بات کا جواب کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ ترقی پاتی ہوئی صنعت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ہے جس کا حال اور مستقبل دونوں ہی تابناک ہے۔ پاکستان میں بھی آئی ٹی سیکٹر میں ہنر مند افراد کےلیے روزگار کے بہت سے مواقع موجود ہیں کیونکہ گذشتہ سال آئی ٹی سیکٹر میں پاکستان نےتین ارب ڈالرسے زائد کی ایکسپورٹ کی تھی جو کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں وسیع کاروبار کے فروغ اور ہنرمند نوجوانو کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے کراچی کے دو گریجویٹ نوجوان ریان اور حمادنہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں چند سال قبل ہی ایک نجی جامعہ سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن مکمل کرنے کےبعد ان دونوں نے انٹرنی ڈاٹ پی کےکی بنیاد رکھی۔ یہ انٹرنشپ حاصل کرنے کے لیے تیار کیاگیا ایک آن لائن پورٹل ہے جس میں آئی ٹی سیکٹر کی تعلیم حاصل کر نے والا کوئی بھی فرد اپنے تعلیمی سفر کے دوران باآسانی کسی بھی کمپنی میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے انٹرنشپ حاصل کرسکتا ہے اور اس ضمن میں مکمل طور پر یہ پورٹل ان کی معانت کرتا ہے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےفاؤنڈر انٹرنی ڈاٹ پی کے حماد شیخ کا کہنا تھا مارکیٹ میں بہترین انداز کے ساتھ سوفٹ ویئر ڈیلوپمنٹ ،کوڈنگ اور سوفٹ ویئر کے مسائل کو تکنیکی طور پر بہتر جاننے والے افراد کی کمی ہے جبکہ کہ ہر سال تقریباً 25 ہزار آئی ٹی گریجوٹس نوکریوں کا خواب سجائے مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں مگر نوکری حاصل نہیں کرپاتے یہی اس کی بنیادی وجہ ہے ۔ ہمیں بھی یونیورسٹی میں دوران تعلیم اس بات کا خوف تھا کہ کیا ہمیں نوکری مل پائے گی؟ اور کیا ہم انڈسٹری کے جدید تقاضوں کے مطابق کام کر پائیں گے؟ یہی وہ سوالات تھے جو بعد میں انٹرنی ڈاٹ پی کو بنانے کی وجہ بنے ۔ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر میں نوکریاں تو موجود ہیں مگرکسی بھی پوزیشن پر ہائر ہونے والے افراد کمپنی کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتےمثلاً عام طور پرایک ڈیولپر کو 40 ہزارکی تنخواہ میں نوکری پر رکھا جاتا ہے اور ادارے کی توقعات یہ ہوتی ہیں کہ وہ انہیں کم از کم دولاکھ روپے کما کر دے مگر اکثر ایسا نہیں ہوپاتا۔ اس کی بنیادی وجہ معیاری اسکلز کا نا ہونا ہے۔ ہم نے اسی لیے انڈسٹری اور یونیورسٹی کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پروجیکٹ میں شریک ریان کا کہنا ہے کہ اس پورٹل کو ہم نےصرف انٹرنشپ تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اس کو ہم لرنگ مینجمنٹ سسٹم کے طور پر بھی چلارہے ہیں ۔ ہم نے مصنوعی ذہانت آے آئی کے کئی ٹولز کواس میں شامل کیا ہے جن کی مدد سے انٹرنشپ کے لیے انٹرویو کی تیاری بھی کی جاسکتی ہے۔ ہم نے ویب ڈولپمنٹ اور سوفٹ ویئر مینجمنٹ کے کئی کورسز کو بھی اس کاحصہ بنایا ہے کہ سیکھنے اور تجربے کے بعد کسی کو اچھی نوکری مل سکے اور اس کی اسکلز میں بھی اضافہ ہو۔ فی الحال تو یہ پورٹل صرف پاکستان تک محدور ہے مگر مستقبل میں ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں آئی ٹی سیکٹر کی کئی کمپنیز سے ہمارا رابطہ موجود ہے۔پاکستان میں نوکری حاصل کرنے کے کئی پلیٹ فارمز موجود ہیں جو بہتر کام بھی کر رہے ہیں مگر ہمارا کام اور انداز سب سے مختلف ہے ہم اس کو ایک مکمل کرئیر پلٹ فارم کہتے ہیں جس میں سیکھنے کے بعد انٹرنشپ اور پھر جاب کا مرحلہ طے کیا جاتا ہے۔ ہم خود سب سے پہلے کسی بھی جاب آفر کے لیے جاری ہونے والے اشتہار اور کمپنی کے معیار کا جائزہ لیتے ہیں پھراسے اپنے پورٹل پر اپلوڈ کرتے ہیں ،ہمارے پاس اس وقت لنکڈن پر صرف50 ہزار سے زائد فالورز موجود ہیں۔ ہم فری لانسنگ کو بھی اپنے مختلف سوشل پلیٹ فارمز سے فروغ دیتے ہیں کیونکہ کہ لوگ اب نوکری کے علاوہ فری لانسنگ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جوکہ خوش آئند پیش رفت ہے ۔ حماد شیخ نے اس اقدام کے بارے میں مزید بتایا کہ کام شروع کرنے سے پہلے یہی خدشات ہوتے ہیں کہ یہ کامیاب ہوگا یا نہیں ؟ کام کے دوران اکثر مورال ڈاؤن بھی ہوجاتا ہے مگر جب ہمیں نوجوان اپنی کالز اور میسجز کے ذریعے بتاتے ہیں کہ آپ کی وجہ سے ہم کسی کمپنی میں انٹرنشپ کر رہے ہیں اور اس کے بعد ہمیں ملازمت کی آفر ہے تو یہ سب سن کر ہمارا دل مزیدچاہتا ہے کہ ہم بہتر انداز میں کام کریں۔ ہمارے پاس کامیابی انٹرنشپ پروگرام کی کئی داستانیں ہیں سسٹمز جیسی بڑی آئی کمپنی میں بھی ہمارے توسط سے لوگوں نے انٹرنشپ مکمل کی اور اب وہ باقاعدہ وہاں مختلف پوزیشن پر ملازمت کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں حکومت کی کوئی خاطر خواہ سرپرستی تو حاصل نہیں ہے مگر ہم پھر بھی ہم قومی سطح پر ہونے والے بہت سے مقابلوں میں تین بار نیشنل چیمپئن رہے ہیں۔ جہاں تک سوال ہے کہ یہ بزنس ماڈل کام کس طرح کرتا ہے؟ تو ہم نے اس پورٹل کی سبسکرپشن فیس رکھی ہے جبکہ پورٹل پر آن لائن ٹیچر بھی موجود ہیں اس کے ذریعے سے
کراچی کے ’آدم خور‘ ڈمپرز ڈراؤنا خواب بن گئے

سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ دو لاشیں، بکھرے ہوئے انسانی اعضاء اور شہری کے ہاتھ میں دم توڑتا نومولود، یہ مناظر کسی جنگ زدہ علاقے کے نہیں تھے، بلکہ عروس البلاد کراچی کی مصروف شاہراہ ملیر ہالٹ پر پیش آنے والے اندوہناک ٹریفک حادثے کے تھے ، جس میں عبدالقیوم اس کی اہلیہ اور نومولود کو آدم خور واٹر ٹینکر نے تیز رفتاری کے باعث کچل دیا تھا۔ موٹر سائیکل سوار شاہ فیصل کالونی کے علاقے ناتھا خان کا 26 سالہ رہائشی عبدالقیوم اپنی حاملہ اہلیہ کے ہمراہ ہسپتال سے واپس گھر جارہا تھا، جہاں ملیر ہالٹ بریج کے سامنے انہیں رانگ سائڈ سے آتے ہوئے تیز رفتار واٹر ٹینکر نے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ 24 سالہ زینب نے زخمی حالت میں بچے کو جنم دیا، جس کے بعد شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نومولود کو قریبی ہسپتال میں فوری طبی امداد کے لیے بھیجا۔ زخمی والدین کو فوری طور پر جناح ہسپتال روانہ کیا گیا، مگر بدقسمتی کے ساتھ وہ دونوں دم توڑ گئے۔ پولیس نے موقع پر ہی ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کو ڈرائیور کے پاس سے لائسنس نہیں مل سکا، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ لوگوں کو ڈمپر اور ٹینکر کی تیز رفتاری کے باعث موت کے گھاٹ اتارنے والے ڈرائیوروں کے پاس گاڑی چلانے کا لائسنس بھی موجود نہیں ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے لواحقین کا کہنا ہے کہ ’ڈرائیور اور ٹینکر مالکان کو سخت سزا دی جائے، یہ ہماری خوشیوں کے قاتل ہیں، عید سے قبل گھر میں صف ماتم بچھ گئی ہے‘۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ویڈیو نے دل دہلا دیے ہیں، سوشل میڈیا پر ہیوی ٹریفک اور ڈمپر مافیا کے خلاف منظم مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پولیس اور صوبائی انتظامیہ کو ان حادثات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس دلخراش حادثے کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا تھا کہ ’ڈمپر موت بانٹ رہے ہیں اور حکومت سو رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اس حوالے سے سارے دروازے کھٹکھٹائے ہیں، ہم نے اس پر سفارشات بھی پیش کی ہیں، مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ناردرن بائی پاس پر ہیوی ٹریفک کیوں نہیں جاتی؟ حکومت بے حس ہے ان میں حس موجود نہیں ہے، حکومت زخمیوں کے علاج کے لیے کوئی میکینزم بنائے۔ سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس ٹینکرز و ڈمپرز کے ڈرائیوروں کو لگام دینے اور شہریوں کے تحفظ میں بُری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑے گی، منگل کی شام ملیر ہالٹ پر ڈمپر مافیا کے خلاف احتجاج کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریں گے۔ پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی شارق جمال کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹریفک قوانین کے حوالے سے ترمیم بھی جمع کروائی ہے، مگر صوبائی حکومت صرف دلاسے دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ڈمپر اور ٹینکر کی وجہ سے انسانی جانوں کی ہلاکت لسانی نہیں انسانی مسئلہ ہے، جسے کچھ لوگ تعصب کی ہوا دے رہے ہیں جو کہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ شارق جمال نے کہا ہے کہ اصل ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، وہ قانون پر عمل کروائے، شہر میں واٹر ٹینکر دن دیہاڑے دندناتے پھر رہے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ پولیس رشوت لے کر ہیوی ٹریفک کو سڑکوں پر چھوڑ دیتی ہے اور یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شارق جمال نے مزید کہا کہ عوام میں ان حادثات کو لے کر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جو کہ جائز بھی ہے۔ شہر میں ہونے والے ہر پر امن احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں انتشار نہ ہو کیونکہ پولیس قانون توڑنے والوں کے خلاف توکارروائی نہیں کرتی مگر احتجاج کرنے والوں کو فوری گرفتار کرلیتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اس حوالے سے اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر راجہ اظہر نے اس المناک حادثے کا ذمہ دار ڈی آئی جی ٹریفک اور صوبائی حکومت کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے ان قاتل ٹینکروں اور ڈمپروں کو بھاری بھتوں کے عوض کراچی جیسے ہیوی ٹریفک والے شہر میں دن دہاڑے آزاد گھومنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس کے پاس اس ہیوی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی پلان نہیں، ٹریفک پولیس کا کام صرف رشوت لینا رہ گیا ہے۔ دن کے اوقات میں ڈمپرز، ٹینکرز اور بڑی گاڑیوں کا شہر میں داخلہ بند کیا جائے، ورنہ پھر عوام کو لے کر سڑکوں پر آئیں گے۔ سندھ حکومت نے عوام کو مرنے کے لیے چھوڑدیا ہے، ٹیکس کے پیسوں سے آپ عیاشیاں کرتے ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ ٹریفک قوانین اور بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر سزاؤں کے حوالے سے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عثمان فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ ٹریفک قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کروانا ضروری ہے۔ ایڈووکیٹ عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے مختلف سیکشن کے تحت گاڑیوں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ اگر ڈرائیور کے پاس لائسنس موجود ہے اور کسی بداحتیاطی کے سبب کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو آرٹیکل 320 قتل خطا کے تحت دس سال قید اور دیت کی سزا دی جائے گی، جب کہ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں 322 قتل بالسبب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا، جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے متعین کردہ دیت کی رقم دینا لازم ہوگی۔ رواں سال میں ہیوی ٹریفک کی وجہ ہلاک ہونے کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی ملینیم مال گلستان جوہر کے علاقے میں تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے میاں اور بیوی سمیت دو افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے تھے، جب کہ ملیر ہالٹ کے مقام پر تیز رفتار ڈمپر
ڈبہ اسکیم : ایک فون کال اور سب کچھ ختم

ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی دنیا میں کئی ایسی فلمیں اور سیریز تیار کی گئی ہیں، جن میں آن لائن فراڈ اور کال سینٹر کے ذریعے سے لوگوں کے بینک اکاؤنٹ اور دیگر معلومات اسپوف کالز کے ذریعے حاصل کر کے ان کے اکاؤنٹ خالی کیے جاتے ہیں، کمال بات یہ ہے کہ وہاں یہ سب فلمایا جاتا تھا، جب کہ کراچی میں یہ کام حقیقت میں کیا جارہا ہے۔ کراچی میں منظم طور پر غیر قانونی کال سینٹرز کا پورا نیٹ ورک موجود ہے، شہر میں کئی رہائشی اور کمرشل عمارتوں میں کال سینٹرز کے نام پر جعل ساز کسی فلیٹ کو کرائے پر لے کر وہاں اس کام کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ فراڈ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کیا جاتا ہے، جب کہ کراچی میں زیادہ تر یہ فراڈ بین الاقوامی صارفین کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ کال سینٹر چلانے والے افراد اپنے آپ کو کسی بھی انٹرنیشنل بینک یا انشورنس کمپنی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح صارفین سے ان کی بینک اکاؤنٹ اور دیگر معلومات کا حصول ممکن بناتے ہیں، اس فراڈ کو ڈبہ اسکیم کہا جاتا ہے۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی معلومات کے مطابق ہائی پروفائل مصطفیٰ قتل کیس میں گرفتار مبینہ ملزم ارمغان بھی اسی ڈبہ اسکیم میں ملوث پایا گیا ہے، جہاں سافٹ ویئر ہاؤس اور کال سینٹر کے نام پر غیر ملکی صارفین کے اکاؤنٹ خالی کیے جاتے تھے۔ بنیادی طور پر ڈبہ اسکیم چلانے والوں کا یہ نیٹ ورک عموماً منظم گروہوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مختلف سطحوں پر کام کرتے ہیں۔ اس میں شامل افراد میں کال سینٹر ایجنٹس، جو لوگوں کو دھوکہ دینے کا کام کرتے ہیں۔ ٹیکنیکل ماہرین جو جعلی ویب سائٹس اور سافٹ ویئر تیار کرتے ہیں، منی لانڈرنگ نیٹ ورکس جو چوری شدہ رقم کو مختلف اکاؤنٹس میں تقسیم کر کے نکالتے ہیں۔ اکثر یہ نیٹ ورکس بین الاقوامی سطح پر کام کرتے ہیں اور کئی مواقع پر ایسے گروہوں کے بھارت، چین، نائیجیریا، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے تعلقات سامنے آ چکے ہیں، کچھ دھوکہ دہی کی وارداتوں میں مقامی سہولت کاروں کا بھی کردار ہوتا ہے، جو بیرونی گروہوں کو مقامی بینک اکاؤنٹس، سم کارڈز اور شناختی دستاویزات فراہم کرتے ہیں۔ اب تک کراچی میں چلنے والے ان کال سینٹرز کی مکمل تعداد کسی کے پاس موجود نہیں ہے، کیونکہ اکثر یہ کام ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے رہائشی فلیٹس میں بھی کیا جارہا ہے۔ دوران تعلیم اکثر نوجوان پڑھائی کے اخراجات کو اٹھانے کے لیے ان کال سینٹر میں پارٹ ٹائم ملازمت اختیار کرتے ہیں، جن کو سروس دینے کے لیے بطور سیلیز مین ہائر کیا جاتا ہے، قانونی کال سینٹرز، جو واقعی اپنا کام ایمانداری سے کر رہے ہیں، وہ ملک میں ترسیلات ذر کا بڑا ذریعہ ہیں۔ گذشتہ دنوں کراچی میں ایک نجی بینک کی صارف کے ساتھ کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا، جنہیں ایک نامعلوم نمبر سے کال کی گئی اور ان کو کہا گیا کہ یہ کال آپ کو بینک سے موصول ہوئی ہے اور اکاؤنٹ میں کچھ تکنیکی تبدیلی کے باعث آپ سے معلومات درکار ہے۔ ‘پاکستان میٹرز’ کو ایک صارف نے بتایا ہے کہ انہیں بینک اکاؤنٹ نمبر اور بینک برانچ تک بالکل ٹھیک بتائی گئی تھیں، جس کے بعد موبائل پر موصول ہونے والا کوڈ مانگا گیا، جیسے ہی انہوں نے وہ کوڈ نمبر اس فراڈ کرنے والے شخص کو بتایا اگلے ہی لمحے تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے کی رقم ان کے اکاؤنٹ سے کسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کا میسج موصول ہوا اور رقم جس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی گئی، وہ اکاؤنٹ نمبر بھی نامکمل تھا، تاکہ فراڈ کرنے والوں کا پتہ نہ لگایا جاسکے۔ واقعے کے فوری بعد صارف نے متعلقہ بینک سے رابطہ کیا، جس کے جواب میں بینک انتظامیہ نے اس واقعے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا۔ صارف نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بات وہ کافی حد تک سہم گئی ہیں اور اب وہ آن لائن بیکنگ اور کسی بھی کیش والٹ کا استعمال نہیں کر رہی، جس کی بنیادی وجہ ڈیٹا کا غیر محفوظ ہونا ہے۔ ڈبہ اسکیم کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو پاتی؟ عبید شاہ ایک صحافی ہیں جو کہ گذشتہ کئی برس سے کرائم رپورٹنگ کر رہے ہیں، انہوں نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا ہے کہ یہ جعلساز زیادہ تر بین الاقوامی نیٹ ورکس سے جڑے ہوتے ہیں، جنہیں ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، مقامی سطح پر بھی کئی وجوہات کی بنا پر کارروائی میں تاخیر ہوتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اکثر وہ جدید ٹولز اور مہارتیں نہیں ہوتیں، جو ایسے سائبر کرائمز کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر جعلساز کسی دوسرے ملک میں بیٹھے ہیں، تو ان کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی تعاون درکار ہوتا ہے، جو ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ بعض صورتوں میں مقامی بینک ملازمین، ٹیلی کام ورکرز یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد خود ان گروہوں سے ملی بھگت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے کارروائی میں رکاوٹ آتی ہے۔ عبید شاہ نے مزید بتایا ہے کہ ڈبہ اسکیم کا شکار ہونے والے بعض افراد کی رقم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے نتیجے میں بازیاب بھی ہوئی، مگر یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اگر کسی متاثرہ شخص کی شکایت فوراً درج ہو، بینک اور حکام فوری کارروائی کریں، تو ٹرانزیکشن کو ریورس کیا جا سکتا ہے یا جعلسازوں کے اکاؤنٹس کو منجمد کر کے رقم واپس حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، زیادہ تر کیسز میں جعلساز فوری طور پر رقم دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیتے ہیں، جس سے بازیابی مشکل ہو جاتی ہے۔ ڈبہ اسکیم، جعلسازوں سے بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟ سائبر سکیورٹی میں 20 سال کا تجربہ رکھنے والے سید فراز جاوید نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا ہے کہ بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات ہیک ہونے کے امکانات اکثر مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کرنے سے بڑھ جاتے ہیں، عام طور پر لوگ آن لائن شاپنگ کے لیے اپنے ڈیبٹ کارڈ کو ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیتے ییں، جس کے نیتجے میں اس ویب سائٹ اور سوشل میڈیا
کراچی برنس روڈ کی فوڈ اسٹریٹ: افطار کے ذائقے، روایات اور رونقیں برقرار

کراچی کے تاریخی برنس روڈ پر واقع سب سے بڑی فوڈ اسٹریٹ رمضان میں اپنی پوری رونق پر ہے۔ افطار کے وقت یہاں کا منظر دیدنی ہوتا ہے، جہاں دیسی اور روایتی پکوانوں کی خوشبو ہر جانب پھیلی ہوتی ہے۔ نہ یہاں کے لوگ بدلے، نہ کھانوں کا ذائقہ۔ فریسکو اور دہلی کے روایتی دہی بڑے آج بھی روزہ داروں کی اولین پسند ہیں، جب کہ پکوڑے، اندرسے، بن کباب، رول سموسہ اور دودھ سوڈا بھی ہر میز پر نظر آتے ہیں۔ مزیدار آلو کے سموسے اور کچوریاں اپنی مخصوص چٹنی کے ساتھ لطف دیتے ہیں، جب کہ تکے اور کبابوں کی مہک پورے بازار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جلیبیاں اور گول گپے شوقین افراد کو اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں، جب کہ تلی ہوئی مچھلی کی خریداری بھی ایک منفرد روایت بن چکی ہے۔ یہاں نہ صرف دوستوں اور خاندانوں کے لیے شاندار افطاری کا بندوبست ہے، بلکہ حلیم اور بریانی کی دکانیں بھی گاہکوں کی من پسند ہیں۔ فوڈ اسٹریٹ میں فیمیلیز کے لیے فری وائی فائی کی سہولت بھی موجود ہے، جو نوجوانوں کے لیے مزید کشش کا باعث ہے۔ رمضان کی یہ خصوصی رونقیں اس تاریخی بازار کی پہچان بن چکی ہیں۔
رمضان المبارک کی آمد، کراچی میں بھکاریوں نے ڈیرے جمالیے

عروس البلاد شہر کراچی میں رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر بڑی تعداد میں بھکاریوں نے ڈیرے جما لیے ہیں۔ مرکزی شاہراہوں، مساجد، شاپنگ مالز، فوڈ اسٹریٹ اور دیگر عوامی مقامات پر بھکاریوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اندرون ملک سے بذریعہ ٹرین اور ٹرانسپورٹ بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر والوں کے ہمراہ کراچی کا رخ کر رہے ہیں، جن کا واحد مقصد رمضان المبارک کے موقع پر صدقات، زکوٰۃ اور خیرات کا حصول ہے۔ دن اور رات کے اوقات میں شہر کی فٹ پاتھ اور پیڈسٹیرین بریج کو بھکاریوں نے اپنا مسکن بنا لیا ہے اور اکثر کے ہمراہ خواتین اور بچے بھی موجود ہوتے ہیں۔ عام طور پر شہر کے مختلف علاقوں میں یہ لوگ گروہوں میں تقسیم ہو کر بھیک مانگتے ہیں، جب کہ بچوں کو الگ سے سگنلز یا مساجد کے سامنے بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ معصوم بچے اپنے والدین کے کہنے پر دن بھر سڑکوں پر لوگوں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ‘پاکستان میٹرز’ کی تحقیق کے مطابق مصروف شاہراہوں اور سگنلز پر بھیک مانگنے والے بچے یومیہ 400 سے 500 روپے اکٹھا کر لیتے ہیں۔ یہ زبردستی سگنلز پر رکی ہوئی گاڑیوں کے شیشوں کو صاف کرنے لگتے ہیں، جس کے بعد لوگوں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہر فرد کم سے کم انہیں 20 روپے، جب کہ زیادہ سے زیادہ 100 روپے دیتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ان بچوں کی اوسط تعداد 4 ہے اور یہ اپنے والدین کو روزانہ کی بنیاد پر دن بھر کی جمع پونجی لاکر دیتے ہیں۔ شہر کی مرکزی سڑکوں میں شامل طارق روڈ، بہادر آباد، گلشن چورنگی، جوہر موڑ، کشمیر روڈ، حسن اسکوائر، فائیو اسٹار چورنگی اور دیگر مقامات پر بھکاریوں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔ مزید پڑھیں: رمضان کے پہلے روز قیمتوں کے گراں فروشوں پر کریک ڈاؤن، 1.59 ملین روپے جرمانہ، 14 افراد گرفتار عابد بیلی کراچی کے ایک بزنس مین اور سماجی کاموں کے لیے معروف ہیں۔ گذشتہ برسوں میں انہوں نے بھیک بند کرو مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس مہم کے نتیجے میں انہوں نے شہر بھر میں پروفیشنل بھکاریوں کی مدد بند کرنے اور اس حوالے سے شعور کو اجاگر کرنے کے لئے بینرز اور اسٹیکرز گاڑیوں پر چسپاں کیے تھے، جب کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ویڈیوز بھی اپلوڈ کی تھی جو آج تک لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عابد بیلی کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ہمیں پیسہ خرچ کرنا نہیں آتا نرم دلی اور رحمدلی کے جذبات میں آ کر ہم چند روپے بھکاری کو دے دیتے ہیں۔ ان پیسوں سے مستحق محروم رہ جاتا ہے اور غیرمحسوس انداز میں بھکاری مافیا کو تقویت مل جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا ایک نیٹ ورک ہے، ان کے بھیک مانگنے کا طریقہ کار بھی حیران کن ہے، مثلاً ریسٹورینٹ کے باہر کوئی آدمی صرف روٹی ہاتھ میں لے کر آپ سے سالن کا مطالبہ کرے گا، میڈیکل اسٹور کے بعد کوئی خاتون بیمار بچے کو گود میں لیے دوائی کے پیسے مانگے گی یا کسی کپڑے کی دکان کے سامنے پرانے اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس بچے آپ سے پیسوں کا مطالبہ کریں گے۔ عابد بیلی کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے ارد گرد موجود مستحق اور سفید پوش افراد تلاش کر کے ان کی امداد کریں، تاکہ حقیقی معنوں میں زکوٰۃ اور صدقات حقدار تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ آگاہی مہم کے دوران سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک بھکاری یومیہ ہزار روپے سے لے کر آٹھ ہزار روپے تک بھیک اکٹھی کر لیتا ہے، جب کہ بعض بزرگ بھکاری یومیہ 14 ہزار روپے بھی جمع کر لیتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: اس بار رمضان واقعی مختلف ہو! اس ضمن میں اصل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے، روزگار اور خوارک فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز موجود ہیں، بڑی تعداد میں فنڈز بھی جمع ہورہے ہیں، مگر پھر بھی ملک سے غربت کا خاتمہ نہیں، بلکہ اضافہ ہورہا ہے۔ عابد بیلی کے مطابق دنیا بھر میں این جی اوز حکومت کے ساتھ مل کر بہترین کام کرتی ہیں اور ان کا ڈیٹا بھی تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے نادارا کے ساتھ مل کر یہ کام کیا جاسکتا ہے تاکہ ریکارڈ پر ہے کہ پیسہ کہاں خرچ ہوا اور اس سے کتنے لوگ مستفید ہوسکے۔ رمضان المبارک میں سماجی تنظیموں کی جانب سے سحر و افطار میں لگائے گئے دستر خوان پر بھی بیرون شہر سے آئے ہوئے افراد کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، کیونکہ زیادہ وسائل نہ رکھنے والے افراد سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے زیادہ تر محدود وسائل میں گزارہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ کراچی میں لگائے گئے افطار کے دسترخوان پر عمومی طور پر نچلے طبقے کے ملازمین یا پھر دفتر سے گھر جاتے ہوئے کسی سبب تاخیر کا شکار ہونے والے افراد روزہ کھولتے ہیں۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی بھکاریوں کی تعداد کے سبب شہر میں جرائم کی وارداتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ گذشتہ سال میئر کراچی نے بھی کہا تھا کہ کراچی میں یومیہ 10 سے 15 ہزار تک اندرون ملک سے نئے افراد روزگار کی تلاش میں آتے ہیں۔ انہوں نے بھی اس معاملے کو اہم مسئلہ قرار دیا تھا، مگر تاحال اس حوالے سے کوئی بھی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔
کراچی میں’درختوں‘ کی منفرد نمائش، مقاصد کیا ہیں؟

ماحول کو بہتر بنانے میں پودے اہم کردار ادا کرتے ہیں،کراچی میں ایک ایسی سوسائٹی کام کررہی ہے جو ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہی ہے اور شجرکاری کو فروغ دے رہی ہے۔ 50 سے 60 سال پرانے درختوں کو دوبارہ اگانا ایک جاپانی طریقہ ہے، جس کو ’بون سائی‘ کہا جاتا ہے، بون مطلب درخت اورسائی مطلب ٹرے تو جو درخت ہے اس کو بنیاد طور پہ ٹرے میں اگایا جاتا ہے۔ کراچی میں کام کرنے والی سوسائٹی کے منتظمین کا بتانا ہے کہ ہم درختوں کو ٹرے میں اگاتے ہیں، اس کا آسان مقصد ہے کہ لوگ گھروں میں پودے لگائیں اور ماحول بچائیں۔ بون سائی ایک آرٹ ہے جو دنیا بھرکی طرح پاکستان میں بھی مقبولیت حاصل کررہا ہے ۔ لوگوں کو شجر کاری کی طرف راغب کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے، گھروں میں اس طریقے سے پودے اگا کر ماحول کو بہتر رکھا جاسکتا ہے۔
کراچی میں ڈمپر موت کی علامت بن گئے، انتظامیہ ہیوی ٹریفک کو روکنے میں ناکام

شہر قائد کے شہریوں کی جانیں اسڑیٹ کرمنلز اور ڈکیتوں کے ہاتھوں پہلے ہی غیر محفوظ تھی کہ اب ہیوی ٹریفک نے بھی شہریوں کی جانیں نگلنا شروع کردی ہیں۔ شہر میں دن اور شام کے اوقات میں تمام مرکزی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک موجود ہوتا ہے جو کہ شہریوں کی زندگیوں کےلیے موت کی علامت ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں تیز رفتار ڈمپر نے پانچ لوگوں کو زندگی سے محروم کردیا۔ یوں ہنستے بستے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ پہلا حادثہ بدھ کے روز ملیر ہالٹ پر پیش آیا جہاں تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار باپ اور بیٹے کو کچل دیا جس کے نتیجے میں دونوں شہری ہلاک ہوگئے۔ ورثا کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کا تعلق ہجرت کالونی سے تھا جو کہ اپنے گھر سے واپس آرہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جاں بحق ہونے والا سلیم نجی کمپنی میں چوکیدداراور چھے بچوں کا والد تھا۔ ہم غریب لوگ ہیں مزید قانونی کارروائی نہیں چاہتے۔ دوسرا المناک واقعہ ملینیم مال گلستان جوہر پر پیش آیا جہاں تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے میاں اور بیوی سمیت دو افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے ۔ جاں بحق ہونے والے مرد کانام کامران رضوی جبکہ خاتون کا نام بسمہ ہے۔ پولیس نے دو نوں واقعات میں ملوث افراداور ان کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔ کراچی میں سیاسی رہنماؤں نے بھی حالیہ دنوں میں تیز رفتار ڈمپر کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور حکومت سے ہیوی ٹریفک کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے جاں بحق ہونے والے شہریوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر منعم ظفر کا کہنا تھا کہ کورٹ کی جانب سے ڈمپرز کے شہر میں رات گیارہ بجے سے پہلے نقل و حرکت پر پابندی کے باوجود یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ پابندی کے باجوود یہ واقعہ شام 5بجے ہوا، حکومت،انتظامیہ اور پولیس کہاں ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں گزشتہ 35 دن میں 85 سے زائد واقعات ہوچکے ہیں، جس میں ڈمپرز، ٹینکرز،ٹرالر زاور دیگر حادثات میں لوگ اپنی جان سے چلے گئے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے، اہل کراچی کے ساتھ ظلم ہے،لوگ کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ حکومت فوری طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی ڈمپر مافیا کے خلاف سندھ حکومت کو ایک ہفتے میں لائحہ عمل بنانے کا حکم دے دیا۔ کامران ٹیسوری نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ ہیوی ٹریفک کی وجہ سے بڑے حادثات صرف کراچی میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ سندھ حکومت ان کے خلاف فوری کارروائی کرے ورنہ میں خود ان کے خلاف کارروائی کروں گا۔ دوسری جانب صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ نے شہر میں ڈمپرز کی ٹکر سے پے در پے ہلاکتوں کا نوٹس لیتے ہوئے تمام غیرقانونی و غیر رجسٹرڈ ڈمپرز کے خلاف سخت ایکشن لینے اور انھیں فوری ضبط کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ میئر کراچی مرتضی وہاب نے بھی ایڈشنل آئی جی کراچی کو دن اور رات کے موقع پر ہیوی ٹریفک کی وجہ سے حالیہ ہلاکتوں پر خط بھی جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ یسکیو اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں رواں سال مختلف ٹریفک حادثات میں اب تک 71 افراد جاں بحق اور 1044 زخمی ہو چکے ہیں۔
موبائل میں گم بچپن، کیا بچے ٹیکنالوجی کے غلام بن رہے ہیں؟

کیا واقعی اسکرین اور گیجٹس کا زیادہ استعمال بچوں کے لیے نقصان دہ ہے؟ اور اگر ہے تو عام والدین اپنے بچوں کو اس ڈیجیٹل دنیا سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت تمام ہی والدین کے سامنے ایک چیلنج کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ سلیکون ویلی جہاں دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی تخلیق ہوتی ہے، وہاں کے بڑے ٹیک لیڈر اپنے بچوں کو اسکرین سے دور رکھنے کے لیے خصوصی اسکولوں میں داخل کراتے ہیں۔ گوگل، ایپل اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے ایگزیکٹوز اپنے بچوں کو ایسے والڈورف اور دیگر روایتی تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں جہاں اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور کمپیوٹرز کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ حیرت انگیز حقیقت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اس ضمن میں گیجٹس کے بچوں کی نفسیاتی صحت پر اثرات کو جاننا بھی ضروری ہے۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہرِ نفسیات طوبیٰ اشرف نے کہا ہے کہ اکثر والدین کہتے ہیں کہ اگر بچوں کو موبائل فون نہ دیا جائے تو ان کا رویہ خراب ہوجاتا ہے، وہ اسکول کا کام نہیں کرتے،کھانا نہیں کھاتے یا پھر اپنی ناراضگی کا اظہار بات چیت بند کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ بچوں کا تو ہر کام ہی اسکرین کے ساتھ نتھی ہے، یعنی وہ کھانا کھاتے اور ہوم ورک کرتے ہوئے بھی اسکرین پر کارٹون یا پھر میوزک سننے کی عادی ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں والدین بالکل بے بس ہوجاتے ہیں اور وہ ماہر نفسیات سے اس مسئلے کا حل مانگتے ہیں۔ طوبی اشرف نے ہمیں مزید بتایا کہ گیجٹس کا زیادہ استعمال بچوں کی نفسیات پر بہت برے اثرات مرتب کر رہا ہے، کیونکہ انفارمیشن صرف ایک کلک پر موجود ہوتی ہے۔ بچوں میں اس کے سبب عدم برداشت کی صورتِ حال جنم لے رہی ہے، وہ ہر کام کو جلدی کرنا چاہتے ہیں، ان کا رویہ اور مزاج بہت جلدی تبدیل ہونے لگتا ہے،عجلت پسندی ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ ایک غیر متوازن انسان کی صورت میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ ابتدائی عمر میں بچوں کو گیجٹس سے دور رکھنا نہایت ضروری ہے ورنہ ان کی حرکت کرنے اور چیزوں کو تھامنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے، یعنی ان کو جن چیزوں کو چھو کر دیکھنا چاہے، وہ اسکرین پر صرف اسے محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک خلا ہے جو کہ ڈیجیٹل اسکرین کی وجہ سے پیدا ہوگیا ہے۔ طوبی اشرف ٹیکنالوجی کو انسانوں کا متبادل نہیں سمجھتی انہوں نے حالیہ دنوں میں مغرب میں ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصے کے لیے بچوں کو کلاس ٹیچر کے بجائے گیجٹس سے تعلیم دینے کا تجربہ کیاگیا، نتیجہ یہ نکلا کہ بچے چیزیں تو سیکھ گئے، مگر ان میں تمیز سے رہنے، بول چال کے آداب اور مزاج کی خرابی کے مسائل سامنے آئے۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اتالیق فاؤنڈیشن کے سی ای او شہزاد قمر نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی ایک طاقتور آلہ ہے، جس کے فوائد اور نقصانات دونوں ہیں۔ اس کا استعمال غیر متوازن یا زیادہ ہونے سے بچوں کی صحت، دماغی صلاحیت، تعلیم اور معاشرتی رویے پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اخلاقیات کے حوالے سے بھی خطرات ہوسکتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آپ بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور نہیں رکھ سکتے۔ بچے اس کا استعمال کر رہے ہیں اور اس میں مزید اضافہ ہوگا، لہذا اس کے محفوظ اور مفید استعمال پر بات ہونی چاہیے، تاکہ اس کا فائدہ حاصل کیا جا سکے اور کسی بھی منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے شعبہ تدریس سے منسلک عبدالولی نے کہا ہے کہ گیجیٹس کا استعمال بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابتدا ہی میں روک دیتا ہے۔ انسان عمومی طور پر سہل پسند واقع ہوا ہے، لہذا اگر ٹیکنالوجی سارے مسائل حل کرنے لگے گی توانسان خود کیا کرے گا،؟ بچے پہلے انٹرنیٹ سے ڈھونڈ کر اسائنمنٹ بناتے تھے، اب مصنوعی ذہانت سے پوچھتے ہیں اور کام ہو جاتا ہے۔ گیجیٹس استعمال کیے جائیں لیکن اس سے قبل آپ کو وہی کام خود کرنا آنا چاہیے۔ اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم نے حساب کتاب زبانی شروع کیا اور اس کے بعد کیلکولیٹر سے چیک کر لیا، لیکن اب تو بچے دماغ میں چھوٹا سا حساب نہیں کر سکتے، یعنی ذہنی صلاحیتوں و تخلیقی مزاج کو پنپنے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔ کلاس روم میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عبدالولی نے کہا ہے کہ ہمارے کلاس رومز سادہ ہوں اور وہ روایتی تعلیم سے بچوں کو آشنا کر دیں، تو یہ ہی غنیمت ہے۔ ٹیکنالوجی کے نام پر اسکولوں میں واٹس ایپ گروپ بن گئے ہیں اور بھی دیگر آن لائن کلاسز وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے سب ہی آگاہ ہیں۔ قدیم طریقہ تعلیم ہی رائج رہے تو بہتر ہے، ٹیکنالوجی نے ہم سے اچھے اور برے کی تمیز چھین لی ہے، ہم معاشرتی طور پر تنہا ہو گئے ہیں۔ عبدالولی نے کہا ہے کہ صرف امریکا یا سلیکون ویلی کی بات نہیں بلکہ ایپل کے بانی آسٹیو جابز، جس کا آئی فون دنیا بھر میں مقبول ہے، نے اپنے بچوں کے استعمال پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے اے آئی کنسلٹنٹ عثمان صدیقی نے کہا ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی کا بزنس کرنے والا فرد عام افراد کی نسبت دور اندیش ہوتا ہے اور وہ اس کے مہلک اثرات سے باخبر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی انسانیت کے لیے جہاں مفید ہے، وہیں اس کے نقصانات بھی موجود ہیں، جن کے اثرات بہت دیر پا ہیں۔ چین نے امریکی اے آئی ٹول چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں ایک تہائی کی قمیت میں ڈیپ سیک تیار کرکے سب کو جہاں حیران کردیا ہے، وہیں یہ بات لمحہ فکری ہے کہ اے آئی کے بدلتے ہوئے فیچرز کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے، کیونکہ کسی بھی قسم کی بداحتیاطی کسی بڑے نقصان کا سبب
چیمپئنز ٹرافی کا بخار سر چڑھ کر بولنے لگا، چند ہی لمحوں میں تمام ٹکٹیں فروخت

پاکستان میں کرکٹ کے دیوانوں کا جوش عروج پر ہے چیمپئن ٹرافی 2025 کا بخار اب شائقین کے سر چڑھ کر بولنے لگا ہے اور خاص طور پر کراچی میں یہ بخار ایک نئی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ 19 فروری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان چیمپئن ٹرافی 2025 کا پہلا میچ کھیلا جائے گا جس کے لیے ٹکٹوں کی طلب بے پناہ بڑھ چکی ہے۔ چیمپئن ٹرافی کا ایونٹ پاکستان میں ہونے کے بعد شائقین کا جوش کسی حد تک بے قابو ہو چکا ہے۔ کراچی میں ہونے والے اس میچ کے ٹکٹوں کی فروخت نے اس شہر کو مچل کر رکھ دیا ہے۔ سب سے پہلے آن لائن ٹکٹوں کی فروخت شروع ہوئی تھی اور چند ہی گھنٹوں میں 40 فیصد ٹکٹ فروخت ہو گئے تھے۔ خصوصاً پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کے مہنگے ترین ٹکٹ سب سے پہلے ہاتھوں ہاتھ بک گئے، جس سے لوگوں میں شدید بے چینی اور افراتفری دیکھنے کو ملی۔ اس کے بعد کل شام 4 بجے سے فزیکل ٹکٹوں کی فروخت شروع ہوئی۔ صرف 2 گھنٹوں کے اندر اندر، بیشتر ٹکٹ فروخت ہو گئے۔ ایک طرف شائقین ٹکٹوں کے حصول کے لیے لائینوں میں کھڑے ہوئے تو دوسری طرف کرکٹ بورڈ نے کمپنیز کو یہ ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ٹکٹوں کی ترسیل کریں۔ جیسے ہی ٹکٹوں کی ترسیل شروع ہوئی، شائقین کی بے تابی اور بڑھ گئی۔ ذرائع کے مطابق نجی کورئیر کمپنی نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ 10 سے 15 منٹ کے اندر ٹکٹیں پہنچا دیں گے، جس سے شائقین کی امیدوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آخرکار فیصلہ کیا کہ وہ 1500 اضافی ٹکٹس فینز کے لیے مختص کریں گے جوکہ کچھ ہی دیر میں فروخت ہو جائیں گے۔ ایسے میں میچ کی دلچسپی اور اس کے حوالے سے آنے والی خبریں شائقین میں مزید جوش پیدا کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ 2025 کی چیمپئن ٹرافی کی میزبانی پاکستان کو حاصل ہوئی ہے اور یہ ایونٹ پاکستان کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ اس سے پہلے چیمپئن ٹرافی کی میزبانی انگلینڈ نے کی تھی، جب پاکستان نے ہندوستان کو شکست دے کر چیمپئن ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ اب 19 فروری کو کراچی میں ایک نیا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملے گا، جس میں شائقین کا جوش و جذبہ کسی سے بھی کم نہیں۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والا یہ میچ کرکٹ کے مداحوں کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوگا۔ مزید پڑھیں: سہ ملکی کرکٹ سیریز کے لیے سخت سکیورٹی: محکمہ داخلہ نے منظوری دے دی
’حکمران کشمیر پر سودے بازی سے باز رہیں ‘ کراچی کشمیر کانفرنس کے شرکا کا مطالبہ

یوم کشمیر کی مناسبت سے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں ، وکلا اور تاجر رہنماؤں نے شرکت کی،کانفرنس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف اور اہل کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت میں پوری قوم ایک ہےاور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور کسی بھی قسم کی سودے بازی اور کمزوری کا مظاہرہ کرنے سے باز رہیں۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے، ہماری حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، آزادی کشمیر کی جدو جہد کی نہ صرف سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر بلکہ عملی محاذ پر بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کا اپنی قراردادوں کے مطابق اہل کشمیر کو حق ِ خود ارادیت اور رائے شماری کا حق نہ دلوانا اس عالمی فورم کی ناکامی اور مسلمانوں کے حوالے سے دہرے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے- منعم ظفر نے کہا کہ قائد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور یہ شہ رگ آج بھارتی تسلط میں ہے، پاکستان کے عوام کے دل اہل ِ کشمیر کے ساتھ دھڑکتے ہیں، شہ رگ کی آزادی کے لیے پوری قوم یکجان اور یک زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اور اہل ِ غزہ کی کامیابیوں اور قربانیوں نے اہل کشمیر کو بھی نیا عزم اور حوصلہ دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ جذبہ جہاد اور شوقِ شہادت کو کوئی طاقت اور ٹیکنالوجی شکست نہیں دے سکتی،کشمیریوں کی جدو جہد، قربانیاں اور شہداء کا لہو رنگ لائے گا۔ کشمیر آزاد ہوگا اور سید علی گیلانی کے قول کے مطابق ”ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے“ کشمیر پاکستان کا حصہ ضروربنے گا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت خود 1948ء میں کشمیر کے حوالے سے اقوام ِ متحدہ میں گیا تھا اور اقوام ِ متحدہ کی فیصلے کو بھارت نے بھی تسلیم کیا تھا کہ اہل ِ کشمیر کو ان کی آزاد مرضی اور رائے شماری کا حق دیا جائے گا لیکن افسوس کہ بھارت نے فوجی طاقت اور قوت کے بل پر مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط قائم کیا ہے۔ منعم ظفر نے کہا کہ 78سال سے کشمیری اپنے حقِ خودارادیت سے محروم ہیں اور کشمیریوں نے ایک دن کے لیے بھی بھارت کا قبضہ اور غلامی قبول نہیں کی اور مسلسل بھارت کی غلامی سے آزادی کی جدو جہد میں مصروف ہیں، ہزاروں شہداء کے خون سے اس جدو جہدِ آزادی کو جاری رکھا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے، نوجوانوں کو شہید اور اسیر کیا جاتا ہے لیکن کشمیر کے عوام کا آج بھی ایک ہی نعرہ ہے کہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“، کشمیری عوام اپنے شہداء کے جنازے پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں، 1990ء میں تحریک ِ آزاد کشمیر نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنی زندگی کے آخری 12سال اسیری میں گزارے، برہان مظفر وانی کی شہادت سے بھی آزادی کی جدو جہد کو نیا عزم اور حوصلہ ملا، 5اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ 370/35-A کے برعکس کشمیر کی مخصوص حیثیت کو ختم کر دیا، بد قسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے آزادی کشمیر کی جدو جہد میں جو کردار ادا کرنا چاہیئے تھا وہ نہیں کیا یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہے۔ کانفرنس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں ، وکلا اور تاجر رہنماؤں نے شرکت کی ۔ شرکاء نے مسئلہ کشمیر پر‘بھارتی تسلط کے خلاف اور اہل ِ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی اور پوری قوم کے ایک مؤقف پر ہونے کا اعلان بھی کیا۔ پورے ملک کے عوام بلا تفریق اہل ِ کشمیر کے ساتھ ہیں اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور کسی بھی قسم کی سودے بازی اور کمزوری کا مظاہرہ کرنے سے باز رہیں۔