مستقبل کی دنیا کا دروازہ: فائیو جی ٹیکنالوجی پاکستان کو بدلنے کے لیے تیار

5جی ٹیکنالوجی جدید دنیا کی ضرورت پوری کرتے ہوئے تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کررہی ہے۔ 5 جی نے 2019 کے بعد ٹیلی کمیونیکیشن کی دنیا میں 4 جی کو پچھاڑ کر اپنی جگہ بنائی۔ یہ انٹر نیٹ کی رفتار کو اس حد تک بڑھاتی ہے کہ ڈیٹا ملٹی گیگا بٹ کی رفتار سے ٹریول کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف رابطے بہتر ہو رہے ہیں بلکہ سمارٹ شہروں، خودکار گاڑیوں اور صحت کے شعبے میں ریموٹ سرجری جیسے انقلابی اقدامات کو بھی ممکن بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ٹیکنالوجی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لئے نئی راہیں بھی ہموار کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی معیشت صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں کو کس طرح بدل رہی ہے؟5جی ٹیکنالوجی ریموٹ لرننگ اور انٹرایکٹو کلاس رومز تک آسان رسائی کی مدد سے تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا کر رہی ہے، ٹیلی میڈیسن اور ریموٹ سرجری کو حقیقت میں بدل کر صحت کے شعبے میں مزید جدت لائی جارہی ہے، اسمارٹ انڈسٹریز اور ڈیجیٹل مارکیٹ کو فروغ دے کر نئے معاشی مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح سمارٹ سینسرز اور ڈرونز کے ذریعے فصلوں کی بہتر نگرانی اور پانی کے کم استعمال کو یقینی بنا کر زراعت میں بھی جدیدیت لائی جارہی ہے۔ ورچوئل ریئلٹی اور الٹرا ایچ ڈی اسٹریمنگ کو زیادہ تیز اور ہموار بنا کر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو نئی بلندیاں لے جایا جا رہا ہے۔ اسی طرح میڈیا اور کنزیومر ایپلی کیشنز میں 254 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا، جس نے مواد کی ترسیل اور تفریح کو نیا رخ دیا۔ انڈسٹریل مینوفیکچرنگ میں 5جی نے 134 بلین ڈالر کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ پروڈکشن کو تیز اور بہتر بنایا۔ مزید براں فنانشل سروسز ایپلی کیشنز کے شعبے کو 85 بلین ڈالر کا فائدہ ہوا، ساتھ ہی ڈیجیٹل لین دین محفوظ اور تیز ہوا۔5G صرف ایک تیز انٹرنیٹ نہیں بلکہ ایک مستقبل کی دنیا کا دروازہ ہے جہاں ہر کاروبار زیادہ مؤثر، تیز اور جدید ہوتا جا رہا ہے۔
گھنٹوں کا سفر منٹوں میں بدلنے والا بی آر ٹی منصوبہ تاخیر کا شکار

ملیر ہالٹ سے لے کر نمائش چورنگی تک بننے والے اس پروجیکٹ کا ابتدائی طور پر لاگت کا تخمینہ 79 ارب روپے تھا جو موجودہ ایکسچینج ریٹ کے مطابق 139 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ اس پروجیکٹ کو ایک پرائیوٹ کمپنی ماس ٹرانزٹ بنا رہی ہے۔ دنیا بھر میں جب بھی کسی منصوبے کا آغاز کیا جاتا ہے تو اس کےمتبادل روٹس فرایم کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو کسی پریشانی کا سامنہ نہ کرنا پڑے مگر اس پروجیکٹ کی وجہ سے لوگ منٹوں کا فاصلہ گھنٹوں میں طے کرنے پر مجبور ہیں، یونیورسٹی روڈ پر کراچی کی دو سرکاری جامعات کراچی یونیورسٹی اور جامعہ اردو بھی موجود ہیں جبکہ گلشن اقبال ، گلستان جوہر اور اسکیم 33 میں رہنے والے شہریوں کا گزر بھی اسی روڈ سے ہوتا ہے جو لاکھوں کی تعداد میں روزانہ سفر کرتے ہیں۔ کراچی کے انفراسکٹریکچر کو بہتر طور پر جاننے والے ڈیموگرافر اور اربن پلینر عارف حسن کو بے آر ٹی ریڈلائن پروجیکٹ میں پلینگ کا شدید فقدان نظر آتا ہے ان کی رائے میں بی آر ٹیز بڑی تعداد میں لوگوں کو فائدہ نہیں دے سکیں گی جبکہ ہر روٹ پر بڑی بسوں کو لاکر سفر کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکتی تھی۔ 2001 سے 2005 پرشہری ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ رہنے والے قاضی صدر الدین سمجھتے ہیں کہ بی آر ٹی گرین لائن کا منصوبہ بھی نامکمل ہے اس ٹریک پر اب بھی ٹریفک کے مسائل موجود ہیں جبکہ اسی دوران خطیر رقم سے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر شروع کردی اور لوگوں کو متبادل راستہ فراہم نہیں کیا گیا کچھ سوچے سمجھے بغیر یہ پروجیکٹ بنایا جارہا ہے جو کہ کسی طور بھی وائبل نہیں ہے۔ اس پروجیکٹ کی تعمیر کا بڑاحصہ گلشن اقبال میں ہے ٹاؤن چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد کہتے ہیں کہ گلشن اقبال کے رہائشی بالخصوص اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں مین یونیورسٹی روڈ اس وقت ایک پتلی گلی میں تبدیل ہوگئی ہے تعمیرات کے دوران کئی دفعہ پانی کی لائن بھی ڈیمج ہوئی جس کے سبب رہائشی کئی دنوں تک پا نی کی فراہمی سے محروم رہے۔ عارف حسن سمجھتے ہیں کہ حکومت کی ترجیح عوام نہیں ہے جبھی اس پروجیکٹ کو اب تک مکمل نہیں گیا ہے۔ قاضی صدرالدین کی رائے میں ماضی میں شہریوں کو گرین لائن کا تحفہ دیا گیا تھا جو کہ ایک مؤثر پلاننگ کا نتیجہ تھا اس وقت سارا مسئلہ عدم حکمت عملی کا ہےجو کہ کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ میئر کراچی پہلے ہی کچھ تکنیکی مسائل کو وجہ بنا کر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ یہ پروجیکٹ مزید دو سال تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق ایک طرف ڈالر ریٹ کا بڑھ جانا اس پروجیکٹ میں تاخیر کی وجہ ہے جبکہ دوسرا اہم مسئلہ شہری اداروں اور ماس ٹرانسزرٹ کے درمیان ورکنگ ریلیشن نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے کراچی کے لاکھوں شہری اذیت کا شکار ہورہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے دور میں اب آپ کو کئی بار اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل فون استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہےپاور بینک اس کا حل ہے مگر بجلی نہ ہو توپاور بینک بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ کراچی کے نوجوان غلام مصطفی نے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے آئیے انہیں کی زبانی جانتے ہیں۔
سوشل میڈیا عوام کی آواز یا سیاسی پروپیگنڈے کا ذریعہ؟

آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر خبر اور بیان صرف ایک کلک کی دوری پر ہے، سوشل میڈیا نے سیاسی جماعتوں کو عوام تک اپنے پیغامات پہنچانے کا ایک طاقتور اور مؤثر طریقہ فراہم کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم نہ صرف عوام سے براہ راست جڑنے کا ذریعہ بن چکا ہے، بلکہ سیاسی نظریات کو پھیلانے اور عوامی شعور کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا واقعی عوام کی آواز بن رہا ہے؟ یا یہ محض سیاسی پروپیگنڈے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے؟ سیاسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مہمات اور سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی ایک اہم پہلو ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا سائنسز کی پروفیسر ڈاکٹر یاسمین فاروقی کے مطابق، سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے دوران اخلاقی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ انہیں اپنے کارکنوں کو تربیت دینی چاہیے تاکہ وہ درست اور ذمہ دارانہ طریقے سے معلومات پھیلائیں اور سماج میں سیاسی شعور کو بہتر انداز میں فروغ دیں۔ تاہم، سوشل میڈیا کی مہمات بعض اوقات معاشرتی نفرت اور سیاسی اختلافات کو بڑھا دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کا استعمال مثبت، تعمیری اور تعلیمی انداز میں کریں تاکہ ایک صحت مند جمہوری معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ تو سوال یہ ہے: کیا سوشل میڈیا کی طاقت عوام کے فائدے میں استعمال ہو گی؟ یا اس کا غلط استعمال معاشرتی تفرقے اور نفرت کو بڑھا دے گا؟
کینسر سے لڑنے والا کم عمر اویس ‘چائلڈ اسٹار رپورٹر’ کیسے بنا؟

ننھے صحافی اویس شہزاد کے تابڑ توڑ سوالات سے بڑے بڑے سیاستدان، کھلاڑی، اداکار، اور کاروباری شخصیات مشکلات کا شکار کھائی دیتے ہیں۔ شاہ زیب خانزادہ اور حامد میر سے متاثر چائلڈ سٹار رپورٹر کا حقیقت میں آئیڈیل کون؟ والد بھی اپنے بیٹے کی خداداد صلاحیتوں کے معترف ہیں، کیا اویس بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح کرکٹ کا دیوانہ ہے؟، اویس کا پسندیدہ کھلاڑی کون؟ انٹرویو دوران شاہد آفریدی کو مقابلے کے لیے کھلا چیلنج دے دیا۔ ننھے صحافی کے کینسر جیسے خطرناک مرض سے لڑنے کے لیے حوصلے بلند ہیں۔ اویس روزانہ کی بنیاد پر کینسر کا مقابلہ کرنے والے بچوں اور ان کے والدین کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ اویس کی کہانی عزم، امید اور ناقابل تسخیر حوصلے کی مثال ہیں۔
سندھ میں وائس چانسلرز کی تقرری کا نیا طریقہ، ‘جامعات کی خودمختاری پر حملہ’ کیسے؟

سندھ حکومت جامعات ایکٹ میں ترمیم کر رہی ہے جس کے تحت اب کوئی بھی 20 یا 21 گریڈ کا آفیسر یونیورسٹی کا وائس چانسلر بن سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جامعات کی خودمختاری اور تعلیمی معیار پر ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔ سندھ حکومت کا جامعات کے ایکٹ میں ترمیم پر فیصلہ ایک بڑا تنازعہ بن چکا ہے، یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے خلاف اساتذہ اور ماہرین تعلیم سراپا احتجاج ہیں۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے بھی اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے احتجاج کی حمایت کر دی ہے۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جامعات کا وقار مجروح ہوگا اور تعلیمی معیار متاثر ہوگا۔ اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ وائس چانسلر کا انتخاب صرف ماہرین تعلیم میں سے ہی کیا جائے، اس کے لیے شفاف اور غیر جانبدار نظام بھی متعارف کروایا جائے۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) کے عہدیدران کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی ایکٹ میں ترامیم تعلیمی آزادی کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ بیوروکریٹس کے پاس تدریسی یا تحقیقی تجربہ نہیں ہوتا جو یونیورسٹی کی قیادت کے لیے لازمی ہے۔ اس ترمیم سے تعلیمی معیار اور تحقیقی سرگرمیاں متاثر ہوں گی کیونکہ تعلیمی ادارے بیوروکریسی کے زیرِ اثر آجائیں گے۔ دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے خودمختاری کی بنیاد پر کامیاب ہیں، یہ اقدام اس اصول کی خلاف ورزی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر معروف بن رؤف نے اس ایکٹ میں ترمیم کو جامعات کی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بیوروکریٹ کی بطور وائس چانسلر تعیناتی کسی صورت قابل قبول نہیں، ہم اس ترمیم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، ہم سندھ کی جامعات میں کلاسز کا بائکاٹ کر رہے ہیں، پیر کے روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ سندھ کی 6 جامعات بشمول بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری، شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور، لاڑکانہ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ، شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کراچی، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں وائس چانسلر مقرر نہیں ہیں، ان میں سے بعض جامعہ میں وائس چانسلر کی مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود کوئی نیا وائس چانسلر تعینات نہیں کیا گیا، بعض میں تو عرصہ دراز سے وائس چانسلر کی نشست خالی ہونے کے باوجود ابھی تک تعیناتی نہیں ہوئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے فیصلے پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم خان کا کہنا ہے کہ بیوروکریٹس کو وائس چانسلر مقرر کرنا جامعات کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ یہ تعلیم دشمن فیصلہ ناقابل قبول ہے، اس ظالمانہ فیصلے کو فوری واپس لیا جانا چاہیے، وائس چانسلر کا عہدہ تعلیمی میدان کے ماہرین کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔ امیرجماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ وائس چانسلر کا انتخاب تعلیمی ماہرین میں سے ہونا چاہیے۔ جامعات کی خودمختاری اور تعلیمی معیار کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے شفاف نظام بھی واضع کیا جائے۔ یہ فیصلہ تعلیم دشمن اور ناقابل قبول ہے۔