اپریل 3, 2025 12:41 شام

English / Urdu

مہنگائی کے کاغذی اعدادوشمار اور زمینی حقیقت میں تضاد کیوں؟

پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں حالیہ کمی کے سرکاری دعوے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، مگر عام شہریوں کو اب بھی بنیادی ضروریات کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کے مطابق معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن عوامی سطح پر اس کا اثر کم ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق جنوری 2025 میں صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ (CPI) 2.41 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 2024 میں 24 فیصد تھا۔ فروری 2025 میں یہ شرح مزید کم ہوکر 1.5 فیصد تک آ گئی، جو گزشتہ کئی سالوں کی کم ترین سطح ہے۔ مہنگائی کی کمی کے بنیادی عوامل میں عالمی منڈی میں پیٹرول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی، اسٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی، جس نے افراط زر کو کم کرنے میں مدد دی، حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات اور اخراجات میں کمی اور درآمدی اشیاء پر پابندیوں کے باعث روپے کی قدر میں استحکام ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پالیسی ریٹ 12 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے تاکہ مہنگائی کو مزید قابو میں رکھا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی امید ہے۔ اگرچہ سرکاری اعدادوشمار مہنگائی میں کمی ظاہر کر رہے ہیں، لیکن بازاروں میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کیے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عوام کو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہو رہی۔ لاہور کی ایک گھریلو خاتون نے شکایت کی ہے کہ اگر مہنگائی کم ہوگئی ہے تو چینی، آٹا اور دالیں کیوں مہنگی مل رہی ہیں؟ گزشتہ سال جو 150 روپے کا تھا، وہ اب 250 روپے میں مل رہا ہے۔ کراچی کے ایک دکاندار نے کہا کہ حکومت کہتی ہے مہنگائی کم ہو گئی، مگر لوگ پہلے کی طرح خریداری نہیں کر رہے۔ عام آدمی کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک سرکاری ملازم نے کہا ہے کہ تنخواہ تو وہی ہے، مگر بجلی، گیس، بچوں کی اسکول فیس اور دیگر اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ جب آمدنی نہیں بڑھے گی تو عام آدمی کیسے محسوس کرے گا کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے؟” بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟ گزشتہ چھ ماہ میں بجلی کے نرخوں میں کئی مرتبہ اضافہ کیا گیا، جس سے عام گھریلو صارفین کے ماہانہ بل بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا، مگر عوام کے لیے یہ ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے۔ جنوری 2025 میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا۔ تجارتی اور صنعتی صارفین کو بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر اس کا فائدہ عام شہریوں تک نہیں پہنچا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی کے باوجود، ٹیکسز اور دیگر عوامل کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن نہیں۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز سستی ہو گئی ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی ہے۔ نجی اور سرکاری شعبے میں تنخواہیں کئی سالوں سے تقریباً جمود کا شکار ہیں۔ کاروباری طبقہ بھی معاشی سست روی کی وجہ سے زیادہ ملازمتیں پیدا نہیں کر رہا۔ افراط زر میں کمی اور مہنگائی میں کمی الگ چیزیں ہیں۔ حکومت جو مہنگائی میں کمی کی بات کر رہی ہے، وہ افراط زر (Inflation Rate) کی شرح میں کمی ہے، جب کہ عوام جو مہنگائی محسوس کرتے ہیں، وہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف تب مل سکتا ہے، جب حکومت اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر سخت کنٹرول، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ تنخواہوں اور آمدنی میں اضافہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرے، بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخ کم کر کے عوام کو ریلیف دے۔ حکومت مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن عوام کو ریلیف محسوس نہیں ہو رہا۔ عالیہ حمزہ نے کہا ہے کہ حکومت جو مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، وہ صرف کاغذی اور سرکاری رپورٹس تک محدود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام آج بھی آٹے، چینی، گھی اور دیگر روزمرہ اشیاء کے لیے پریشان ہیں۔ جب عام آدمی کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہو، بجلی اور گیس کے بل آسمان کو چھو رہے ہوں اور تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہ ہو تو ایسی ‘مہنگائی میں کمی’ کا کیا فائدہ؟ حکومت چاہے جتنے بھی دعوے کرے، زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران بھی مہنگائی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا تھا۔ ایثار رانا نے کہا ہے کہ حکومت کاغذی دعوے کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہوئی بلکہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ افراطِ زر میں کمی صرف اعدادوشمار کا کھیل ہے، جب کہ بازار میں اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور پیٹرول بدستور مہنگے ہیں۔ ایثار رانا کا کہنا ہے کہ ہمارا میڈیا بھی دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ کچھ ادارے حکومتی بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جب کہ کچھ صحافی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مہنگائی پر میڈیا کا دباؤ وہ نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔ ایثار رانا نے تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو سب سے پہلے بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر سخت کنٹرول کرنا ہوگا، بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی لانی ہوگی اور روپے کی قدر مستحکم کرنی

لاہوری بوائے یا کیوی میچ ونر، محمد عباس کون ہیں؟

پاکستان اور کیویز کے دوران میچ میں جہاں قومی ٹیم کی کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا، وہیں ایک کیوی کھلاڑی نے وہ یادگار لمحہ دیا جس نے سب کے دل جیت لیے۔ لاہور میں پیدا ہونے والے محمد عباس نے نیوزی لینڈ کی طرف سے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا، اور یہ لمحہ پاکستانیوں کے لیے بھی فخر کا باعث بن گیا۔ 2003 میں پیدا ہونے والے محمد عباس نے آج نیپیئر کے میک لین گراؤنڈ میں اپنے ڈیبیو میچ میں نہ صرف تیز ترین نصف سنچری اسکور کر کے سب کو حیران کر دیا بلکہ بولنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ بائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ بولر ہیں اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 12 وکٹیں لے چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی کپتان محمد رضوان کی قیمتی وکٹ حاصل کر کے نیوزی لینڈ کرکٹ میں اپنی جگہ پکی کر لی۔ واضح رہے کہ محمد عباس کی فورڈ ٹرافی کے میچوں میں شاندار کارکردگی نے سلیکٹرز کو متاثر کیا، جب نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کھیلنے میں مصروف تھے، تو پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے کوچ گیری سٹیڈ نے انہیں ٹیم میں شامل کر لیا۔ محمد عباس نے نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جب مجھے گیری سٹیڈ کا فون آیا اور ٹیم میں شمولیت کی اطلاع ملی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ میرے لیے خواب کے پورا ہونے جیسا تھا۔ یہ لمحہ عباس کے والدین کے لیے بھی جذباتی تھا، جو اس تاریخی موقع پر اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ ان کے والد اظہر عباس کا کہنا تھا کہ “اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ میرے بیٹے کو آج محنت کا صلہ مل رہا ہے۔ یاد رہے کہ محمد عباس کے والد اظہر عباس ہراج کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال سے ہے۔ وہ خود بھی ایک باصلاحیت کرکٹر تھے اور پشاور، ریلویز اور زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ تاہم قومی ٹیم میں منتخب نہ ہونے کے باعث وہ انگلینڈ چلے گئے، جہاں سے انہیں نیوزی لینڈ منتقل ہونے کا موقع ملا۔

پیکا ایکٹ کے اثرات اور صحافت کا مستقبل: ’گلا دبانے سے آواز نہیں دبے گی‘

پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثرات نے جہاں معلومات کی رسائی کو آسان بنایا، وہیں حکومت کو سائبر کرائمز اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان ہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 2016 میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) متعارف کرایا گیا۔ اس قانون کا مقصد آن لائن جرائم، سائبر ہراسمنٹ، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کی روک تھام تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا استعمال ایک متنازع معاملہ بن گیا، خصوصاً صحافیوں اور حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کے خلاف۔ 2025 میں حکومتِ پاکستان نے پیکا ایکٹ میں مزید سخت ترامیم متعارف کروائیں، جن کا مقصد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غلط معلومات، نفرت انگیز بیانات اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا روکنا تھا۔ ان ترامیم کے مطابق تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو پاکستان میں رجسٹر ہونا لازمی قرار دیا گیا اور انہیں حکومت کے وضع کردہ ضوابط پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی گئی۔ مزید یہ کہ غلط معلومات پھیلانے پر تین سال تک قید یا 20 لاکھ روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو ختم کر کے ایک نئی ایجنسی قائم کی گئی جو ڈیجیٹل جرائم کی تحقیقات کرے گی۔ کسی بھی صحافی، یوٹیوبر یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی طرف سے ریاستی اداروں، عدلیہ یا حکومت کے خلاف “جھوٹی خبریں” چلانے پر فوری کارروائی اور گرفتاری ممکن ہوگی۔ ان ترامیم کے بعد سے صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان قوانین کا مقصد سوشل میڈیا پر آزادیٔ اظہار کو دبانا اور صحافیوں کو ہراساں کرنا ہے۔ حالیہ دنوں میں متعدد صحافیوں کی پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاریاں ہوئیں، جس کی وجہ سے آزادی اظہار اور صحافت کی آزادی پر کئی سوالات اٹھے ہیں۔ 20 مارچ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل نے کراچی میں سینئر صحافی اور یوٹیوب چینل “رفتار” کے بانی فرحان ملک کو گرفتار کیا۔ ان پر ریاست مخالف پروپیگنڈا اور پیکا ایکٹ کی نئی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔ 26 مارچ 2025 کو ایف آئی اے نے صحافی وحید مراد کو پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا۔ ایف آئی اے نے عدالت سے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، تاہم عدالت نے دو روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے وحید مراد کو ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔ ایف آئی اے کے مطابق وحید مراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے تفتیش کرنی ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے حوالے سے کالعدم تنظیم کی پوسٹ شیئر کی تھی۔ ۔پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اے پی این ایس کے عہدیدار نوید چوہدری کا کہنا تھا کہ حلال روزی کمانے والے صحافی فیک نیوز کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔ ان کے مطابق فیک نیوز صحافت کا قتل ہےاور اگر بیرون ملک بیٹھے کسی شخص کے ذریعے کوئی چیز ریاستی اداروں اور قومی مفادات کے خلاف چلائی جائے تو یہ شر انگیزی اور ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کے مترادف ہے۔ نوید چودھری نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ جن کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے ان کے مشکوک رابطے تھے۔ اگر کسی کو محض خبر شائع کرنے پر گرفتار کیا جا رہا ہے تو یہ غلط ہے، لیکن خبر کے نام پر ٹرولنگ کرنا بھی درست نہیں۔ غلط خبر کے نام پر ‘ٹرولنگ’ کی جا رہی ہے تو یہ صحافت نہیں ہے۔ ممبر لاہور پریس کلب مدثر شیخ کا پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتےہوئے کہنا تھا کہ  صحافیوں کا یوں گرفتار ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔  ایک صحافی کو اس لیے اغوا کیا گیا کہ اس نے ایک صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کے الفاظ کو ہوبہو نقل کر کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پبلش کیا۔ جب شور مچا پھر اسے عدالت میں پیش کیا گیا اور یہ صرف اتنا نہیں بلکہ ایک شخص کو راولپنڈی میں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ اس نے ٹریفک وارڈن کی زیادتی کی  ویڈیوبنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔ مدثر شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایسے وزرا رہے ہیں جنہوں نے حکومتی اداروں پر کھلی تنقید کی لیکن ان پر کوئی کیس نہیں بنایا گیا، جب کہ جب ایک صحافی نے کسی کی بات نقل کی تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ صحافیوں کے گلا دبانے سے آواز دب نہیں جائے گی ۔ مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔ صدر پریس کلب کراچی فاضل جمیلی کا اس سوال کے جوا ب میں کہ ایک صحافی جب کوئی ٹویٹ شیئر، ریپوسٹ اور ویڈیو بنانے پر دھڑ لیا جائے تو وہ کیا کرے کہنا تھا کہ  جب صدر زرداری نے اس پیکا امنڈمنٹ پر جلدبازی میں سائن کیے تھے ہم نے اسی وقت کہا تھا کہ یہ کالا قانون ہے اورانتہائی تشویشانک ہے اور اس سے نہ صرف صحافت بلکہ آزادی اظہار، سماجی اظہار پر بھی اثر ہوگا۔ پیکا ایکٹ اور اس میں کی گئی ترامیم نے پاکستانی صحافت کو ایک نازک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان قوانین کا مقصد جعلی خبروں اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کو روکنا ہے، لیکن صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس کا استعمال آزادی اظہارِ رائے کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔  

خرطوم کی جنگ: سوڈانی فوج کی فتح یا ایک نئی جنگ کا آغاز؟

سوڈانی فوج نے دارالحکومت خرطوم کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا، روس چین یو اے ای شکست کھا گئے۔ سوڈانی فوج کے سربراہ نےاعلان کیا ہے کہ اس نے دارالحکومت خرطوم پر مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے، جو ایک ہفتے سے جاری شدید لڑائی کا اختتام ہوا ہے۔ فوج نے صدارتی محل، ائیر پورٹ اور دیگر اہم مقامات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے، جو ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ سوڈان کی صورتحال اس وقت ایک پراکسی وار بنی ہوئی ہے۔ میں اس کو پراکسی وار ہی کہوں گا کیونکہ یہاں کئی عالمی طاقتیں زور آزمائی کرر ہی ہیں۔ سوڈان میں ایسا کیا ہے، جس میں عالمی طاقتیں زور آزمائی کر رہی ہیں۔ اس کی صورتحال کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ سوڈانی فوج کی حمایت کا سب سے بڑا اتحادی مصر ہے، متحدہ عرب امارات پہلے سوڈانی افواج کی حمایت کرتی تھی لیکن بعد میں انٹرنسٹ کی بنیاد پر اس نے آر ایس ایف کی حمایت کی۔ تیسرے نمبر پر موجود سعودی عرب بھی سوڈانی افواج کے حق میں بہت زیادہ متحرک ہے، وہ اس کو مالی و سفارتی امداد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ و مغرب بھی سوڈانی افواج کی حمایت کرتے ہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو روس کے واگنز گروپ کی جانب سے اسلحہ و امداد دی جارہی ہے، متحدہ عرب امارات پہلے ان کے حق میں نہیں تھا، بعد میں ہر قسمی تعاون فراہم کرنا شروع کردیا۔ چین سوفٹ ڈپلومیسی کی بنیاد پرغیر جانبدار ہے، لیکن ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)کے کنٹرول دارفور میں معدنیات کی کان کنی میں دلچسپی رکھتا ہے، اسی وجہ سے چین کا جھکاؤ RSF کی طرف ہے، چین ویسے اپنا مفاد دیکھتا ہے، اس کو اس چیز سے فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ و یورپ کس گروپ کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ افغانستان کے طالبان کے ساتھ سب سے پہلے معاملات چین نے طے کرنا شروع کیے تھے۔ اپریل 2023 سے جاری جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 12 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 3.5 ملین سے زیادہ لوگ دارالحکومت سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کئی علاقے مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد جو خرطوم چھوڑنے سے قاصر یا انکار کر چکے ہیں، انہیں شدید بھوک، حقوق کی پامالی اور دونوں جانب سے اندھا دھند گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوڈان میں خانہ جنگی کا آغاز 15 اپریل 2023 کو ہوا، سوڈانی فوج (SAF) اور نیم ریپڈ سپورٹ فورسز(RSF) کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوئیں، سوڈانی فوج کی قیادت جنرل عبدالفتاح البرہان کر رہے ہیں، جب کہ RSF کی قیادت محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کر رہا ہے، دونوں 18دسمبر 2018 کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہر میں ایک تھے۔ 11 اپریل 2019 کو عمر البشیر کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد اقتدار میں آئے، لیکن پھر آپس میں لڑنا شروع ہوگئے، پھر انھوں نے 2023 میں ایک معاہدہ کیا کہ RSF کو سوڈانی فوج میں شامل ہو جائے گی، لیکن آپسی اختلاف نے ان کو پھر ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا۔

’ترقی ہوتی تو حالات ایسے نہ ہوتے‘ بلوچستان سونے کی چڑیا یا دہکتا انگارہ؟

2015 میں جب چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کا معاہدہ ہوا تو اسے پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر قرار دیا گیا۔ یہ منصوبہ 62 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل تھا، جس کے تحت انفراسٹرکچر، توانائی، اور تجارتی ترقی کو فروغ دینے کے دعوے کیے گئے تھے۔ گوادر کو سی پیک کا دل کہا گیا اور حکومت نے بارہا یقین دلایا کہ یہ منصوبہ بلوچستان کے عوام کے لیے خوشحالی لے کر آئے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت مستحکم ہوگی۔ مگر آج ایک دہائی گزرنے کے باوجود گوادر کے مقامی ماہی گیر روزگار کے لیے پریشان ہیں، بلوچستان میں بے روزگاری اپنی انتہا کو چھو رہی ہے اور ترقی کے وعدے صرف کاغذات تک محدود نظر آتے ہیں۔ یہی صورتحال ریکوڈک منصوبے کی بھی ہے، جہاں بیرک گولڈ کارپوریشن اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ بلوچستان جو معدنیات کے بے شمار خزانوں کا مالک ہے، وہاں کے عوام ان وسائل کے ثمرات سے کیوں محروم ہیں؟ بلوچستان کے مقامی صحافی ببرک کارمل جمالی اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کا فائدہ مقامی معیشت کو نہیں ہو رہا اور یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوگا۔ بلوچستان کے وسائل پر قابض عناصر جن میں سردار، جاگیردار اور کچھ بین الاقوامی کمپنیاں شامل ہیں، ان وسائل کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ نتیجتاً بلوچستان کی معیشت ترقی کے بجائے مزید زوال کا شکار ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے اہم منصوبوں میں ریکوڈک اور سینڈک شامل ہیں، جہاں تانبہ، سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں نکالی جا رہی ہیں۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں سے نکلنے والے اربوں ڈالر کے معدنی ذخائر کے باوجود بلوچستان کے عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کے مطابق اگر بلوچستان میں واقعی ترقی ہو رہی ہوتی تو مقامی آبادی کے حالات بہتر ہوتے، صحت اور تعلیم کے شعبے مستحکم ہوتے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملتے۔ مگر یہاں حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان سے نکلنے والے وسائل کا فائدہ زیادہ تر غیر ملکی کمپنیوں اور وفاقی حکومت کو ہو رہا ہے، جب کہ مقامی افراد کو ان کا جائز حق بھی نہیں دیا جا رہا۔ ریکوڈک جہاں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تانبے اور سونے کا ذخیرہ موجود ہے، ایک بار پھر خبروں کی زینت بنا جب 2022 میں بیرک گولڈ کارپوریشن اور حکومتِ پاکستان کے درمیان نیا معاہدہ طے پایا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ بلوچستان کو اس منصوبے سے 25 فیصد حصہ ملے گا، مگر بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں اس معاہدے پر سخت اعتراض کر رہی ہیں۔ ببرک کارمل جمالی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ 25 فیصد حصہ ایک دکھاوا ہے۔ اصل منافع تو بیرونی کمپنیوں اور وفاقی حکومت کی تجوری میں جائے گا۔ اگر واقعی بلوچستان کو اس کا جائز حصہ دیا گیا ہے، تو اس کا اثر مقامی ترقی پر کیوں نظر نہیں آتا؟ ریکوڈک سے نکلنے والے وسائل مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیوں نہیں ہو رہے؟” اس حوالے سے ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کیے جانے والے معاہدے شفاف نہیں ہوتے۔ اگر ریکوڈک میں بلوچستان کا 25 فیصد حصہ تسلیم کر بھی لیا جائے، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ رقم کس طرح خرچ کی جا رہی ہے۔ کیا یہ مقامی لوگوں کی فلاح پر خرچ ہو رہی ہے؟ کیا بلوچستان کے اسکولوں، اسپتالوں اور انفراسٹرکچر پر کوئی فرق پڑا ہے؟ اگر نہیں، تو یہ صرف ایک سیاسی بیان ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بلوچستان کے وسائل کا استحصال صرف معدنیات کی حد تک محدود نہیں، بلکہ یہاں کے مقامی افراد کو اعلیٰ ملازمتوں سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ ببرک کارمل جمالی کے مطابق بلوچوں کو اعلیٰ ملازمتیں نہ دینے کا سوال ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ ماضی میں ترقیاتی منصوبوں میں بلوچوں کو ترجیح دی جاتی تھی، مگر آج ایسا نہیں ہے۔ سرداری نظام اور جاگیردارانہ سوچ کی وجہ سے مقامی لوگ خود بھی مزدوری کو حقیر سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف حکومتی پالیسیوں اور ادارہ جاتی ناانصافی کی وجہ سے بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں برابری کے مواقع نہیں دیے جاتے۔ ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالتے ہیں کہ بلوچ نوجوانوں کے لیے اعلیٰ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے، انہیں صرف نچلے درجے کی ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔ بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر زیادہ تر افراد دوسرے صوبوں سے آتے ہیں۔ اگر بلوچستان کی ترقی کا خواب حقیقت بنانا ہے، تو مقامی افراد کو ان کے وسائل پر خود مختاری دینی ہوگی اور انہیں ان منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دینا ہوگا۔ بلوچستان میں تعلیمی شعبہ بھی شدید زوال کا شکار ہے۔ تعلیمی ادارے جاگیرداروں اور بااثر طبقات کے زیر اثر ہیں، جس کی وجہ سے عام بلوچ طالب علموں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ ببرک کارمل جمالی کہتے ہیں کہ بلوچستان میں اسکالرشپ حاصل کرنا بھی ایک مشکل کام بن چکا ہے۔ زیادہ تر تعلیمی وظائف (اسکالرشپ) سرداروں، جاگیرداروں اور بااثر خاندانوں کے افراد کو دیے جاتے ہیں، جب کہ عام بلوچ طلبہ کو محروم رکھا جاتا ہے۔ اس سفارش کلچر نے بلوچستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے جو آمدنی حاصل ہو رہی ہے، اسے تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ بلوچستان کے نوجوان اگر تعلیم یافتہ ہوں گے، تو وہ خود ان وسائل سے استفادہ کر سکیں گے اور پھر باہر سے کمپنیوں کو بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بلوچستان کے معدنی وسائل، سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے اس وقت تک مقامی لوگوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتے، جب تک کہ ان میں شفافیت، مقامی افراد کی شرکت اور وسائل کی منصفانہ

یومِ پاکستان: کیا ہم مملکت کے قیام کا اصل مقصد حاصل کرچکے ہیں؟

پاکستان بھر میں ہر سال  23 مارچ کو یومِ پاکستان منایا جاتا ہے اور اس سال بھی یہ ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد قوم کو قیامِ پاکستان کی یاد دلانا، تحریکِ پاکستان کے مقاصد کو یاد دلانا اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کی ملک بھر میں خصوصی تقریبات، فوجی پریڈز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں، جب کہ تعلیمی اداروں میں تقریری مقابلے اور ملی نغموں کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ سیاسی رہنما جلسے جلوسوں میں ملکی سلامتی اور ترقی کے بھاشن دیتے نظر آتے ہیں۔ صدرِ مملکت، وزیرِاعظم اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے قوم کو پیغام دیا جاتا ہے۔ فوجی پریڈز منعقد کی جاتی ہیں، جہاں عسکری حکام سمیت سیاسی رہنما شرکت کرتے ہیں۔ یومِ پاکستان 23 مارچ 1940 کی یاد دلاتا ہے، جب آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ لاہور منظور کی گئی تھی۔ اس قرارداد میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو بعد میں قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا۔ اسی دن کو یادگار بنانے کے لیے ہر سال پورے ملک میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس قرارداد کو شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کیا تھا، مگر بدقسمتی سے ان کا مشرقی پاکستان آج پاکستان کا حصہ نہیں اور یہ وطنِ عزیز پر ایک ایسی چوٹ ہے جو مٹائے نہیں مٹنی۔ نصیر ترابی نے کہا تھا کہ ‘عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر۔۔۔ بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی۔’ اس وطنِ عزیز کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دیں، شدھی اور سنگٹھن جیسی تحریکوں کا سامنا کیا، نسلی پرستی کو چھوڑ کر ایک ہوئے اور ایک علیحدہ ملک حاصل کیا۔ اگر پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ دہشتگردی اور نسل کشی عروج پر پہنچ چکی ہے، غریب پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔   تو کیا اسی لیے اس ملک کے قیام کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں؟ کیا آج کا پاکستان واقعی قرار دادِ مقصد کی تکمیل کرچکا ہے؟ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر اشرف سہیل نے کہا ہے کہ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کو جن عظیم مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا، ہم بحثیت قوم ان سے ابھی تک بہت دور ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل ہندؤں کی تنگ نظری انتہا پر تھی، انگریز مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے، مسلمان کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ سرسید احمد خان نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور کہا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں، یہ اپنی روایات، رسم و رواج اور عقائد میں اس قدر مختلف ہیں کہ صدیوں  اکٹھے رہنے کے باوجود ایک دوسرے میں  گھل مل نہ سکیں۔ علامہ محمد اقبال نے ایک علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا، جسے قائدِاعظم محمد علی جناح نے شرمندہ تعبیر کیا۔ 8 مارچ 1944 کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائدِاعظم نے کہا کہ: پاکستان تو اسی دن وجود میں آگیا تھا، جب ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا، مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے، وطن اور نسل نہیں۔ اشرف سہیل نے کہا ہے کہ قیامِ پاکستان دراصل ہندو اکثریت کی تنگ نظری کا ردِعمل تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ تنگ نظری مسلمان اکثریت پر مسلط کرنے کی سازش کی گئی جس کے بہت سے نقصانات ہوئے نظریہ پاکستان کے نام پر آج بھی ایسے تصورات کو مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جن کا پاکستان کی تحریک کے حقیقی مقاصد سے کوئی تعلق نہیں۔ نوجوان  نسل اس دن کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ منا رہی ہے، لاہور کی سڑکوں پر لوگوں کے کپڑوں پر قومی جھنڈا لگا ہوا دیکھا جاسکتاہے، مگر کیا یہ کافی ہے؟ کیا اس دن کو منانے کا اصل مقصد یہی ملی نغمے گانہ، تقاریریں کرنا اور کپڑوں پر جھنڈا لگانا ہے؟ وہ قائدِاعظم ملّت کا پاسباں، مدبر، اصول پرست، صاحب بصیرت، اس نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ وہ پاکستان کہاں ہے؟ قائد اعظم جس معاشرے کو تحمل برداشت، یگانگت والی سوسائٹی بنانا چاہتے تھے۔ وہ کہاں ہے؟ روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر نے کہا ہے کہ آج کی نسل کو اسلام ، پاکستان اور اقابرین پاکستان کی تعلیمات سے متعارف اور ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ تنگ نظری ، شدت پسندی اور تعصب کے ناسور سے جان چھڑائی جا سکے ۔ پاکستان اس وقت بہت سے بنیادی مسائل کا شکار ہے، ملک بھر میں انتشار پروان چڑھ رہا ہے، نوجوان نسل  کو ملک دشمن عناصر اپنا شکار بنا رہے ہیں۔ نسل کشی کے نام پر آئے روز قتل ہورہے ہیں، وہ لوگ جو کبھی ایک قوم تھے مسلم قوم آج سندھی، پنجابی، پٹھان اور بلوچ بن کے رہ گئے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا کہ ‘قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں۔۔۔۔ جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں۔’ اشرف سہیل کے مطابق پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں  سب سے بڑا چیلنج قانون کی بالادستی ، نظام عدل کا استحکام اور نظام تعلیم کا فرسودہ ہونا ہے ۔ دوسری جانب یومِ پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، حساس مقامات پر اضافی پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی ہے۔ بڑے شہروں میں ٹریفک پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ گھروں اور دفاتر میں سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں نے  قومی لباس زیب تن کیا ہوا ہے، جب کہ بازاروں اور سڑکوں پر ملی نغمے بجائے جارہے ہیں۔ مختلف مقامات پر آتش بازی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اشرف سہیل نے کہا ہے کہ ملک میں قوم یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ،سماجی انصاف ، تعلیمی نظام کی درستگی اور اسلام کے نام پر تعصب کی سوچ کے خاتمہ ضروری ہے ۔ یومِ پاکستان کے موقع پر وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے

کیا پیسوں سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں؟

نامور شاعر کامل شطاری نے کہا تھا کہ ‘کیا پوچھتے ہو مجھ سے میرے دل کی آرزو۔۔ اب میری ہر خوشی ہے تمھاری خوشی کے ساتھ’۔ خوشی انسانی زندگی کا ایک بنیادی جذباتی پہلو ہے، جو ہر فرد کے تجربات اور حالات کے مطابق مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی خوشی کا دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد لوگوں میں خوشی کے جذبات کو فروغ دینا اور انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ خوشی صرف ایک ذاتی تجربہ نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی رویہ بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 جولائی 2012 کو 20 مارچ کو خوشی کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا اور 2013 میں پہلی بار اس دن کو باضابطہ طور پر منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں خوشی کی اہمیت کو اجاگر کرنا، افراد کی خواہشات کو تسلیم کرنا، وقتی رنجشوں کو بھلانا، اور ذہنی سکون کو فروغ دینا ہے۔ یہ سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دیرپا خوشی ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنے، جڑے رہنے اور کسی بڑی چیز کا حصہ بننے سے حاصل ہوتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ خوشی درحقیقت ہے کیا؟ کیا اس کا حصول ممکن ہے؟ اور کیا محض ایک دن منانے سے خوشی حاصل کی جا سکتی ہے؟ ماہرینِ نفسیات کے مطابق خوشی ایک پیچیدہ اور ذاتی تجربہ ہے، جو ہر فرد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ افراد کے لیے خوشی کا مطلب ذہنی سکون ہے، جب کہ کچھ کے لیے یہ دولت، کامیابی، یا پسندیدہ افراد کے ساتھ وقت گزارنے سے جڑی ہوتی ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فار ویمن کی کلینیکل سائیکالوجسٹ اور پروفیسر شمائلہ مہناز نے ‘پاکستان میٹرز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کا براہِ راست تعلق دماغ سے ہے۔ جب کوئی خوش ہوتا ہے، تو اس کے دماغ کو سکون اور جسم کو راحت ملتی ہے۔ خوشی نہ صرف ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے، بلکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی نکھارتی ہے۔ اگر انسان مثبت سوچ رکھے اور ان کاموں میں خود کو مصروف رکھے جو اسے خوشی دیتے ہیں، تو وہ زیادہ پُرسکون اور صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ مگر اس سے سوال نے جنم لیا ہے کیا خوشی کا مطلب صرف ذہنی سکون ہے؟ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ نفسیات کی طالبہ زینب اقبال کے مطابق خوشی کا اصل مطلب ذہنی سکون ہے اور یہ ہر فرد کے لیے مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں کے لیے خوشی ان کے پیاروں سے جڑے رہنے میں ہے، جبکہ بعض کے لیے خوشی کا دارومدار دولت اور مادی سہولیات پر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہ کہ ٹیکنالوجی اور جدید طرزِ زندگی نے جہاں سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں اس نے انسان کو ایک مشین بھی بنا دیا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت۔۔۔ احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات انسان نے خود کو ایسی ذہنی الجھنوں اور اداسی میں مبتلا کر لیا ہے جس کی بظاہر کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ ڈیجیٹل ترقی نے ہمارے سوشل نیٹ ورکس کو وسیع کر دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ذہنی دباؤ اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات نے خوشی کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے۔ یہ بحث طویل عرصے سے جاری ہے کہ آیا دولت خوشی لا سکتی ہے یا نہیں۔ ماہرین کی رائے اس بارے میں تقسیم ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ بنیادی ضروریات اور مالی استحکام خوشی کے لیے ناگزیر ہیں، جبکہ دیگر ماہرین کا ماننا ہے کہ حقیقی خوشی معاشرتی تعلقات، ذہنی سکون اور اندرونی اطمینان میں ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ کے مطابق پیسہ خود خوشی نہیں لا سکتا، مگر یہ زندگی میں آسانیاں پیدا کر سکتا ہے۔ جب زندگی میں آسانی ہو، تو ذہنی سکون حاصل کرنا ممکن ہوتا ہےاور ذہنی سکون ہی اصل خوشی ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ان کی بہتر تعلیمی سہولیات، معیاری طرزِ زندگی، اور آخرت کی فکر سے آزاد رویہ بتایا جاتا ہے۔ پروفیسر شمائلہ مہناز کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور دوسروں کے معاملات میں بے جا مداخلت نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، ترقی پذیر ممالک میں خوشی زیادہ تر خاندانی اور سماجی روابط پر منحصر ہوتی ہے۔” ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق، وہ ممالک جہاں سماجی انصاف، صحت کی سہولیات اور معاشی استحکام موجود ہیں، وہاں خوشی کی سطح بلند ہوتی ہے۔ تاہم، ترقی پذیر ممالک میں خاندانی اور سماجی تعلقات کی مضبوطی کی وجہ سے لوگ زیادہ مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ زینب اقبال کے مطابق ہم نے سوشل میڈیا پر دوست بنا لیے ہیں، مگر اپنے حقیقی رشتوں سے دور ہو گئے ہیں۔ ہمارا قیمتی وقت، جو ہمارے خاندان کا حق ہے، ہم سوشل میڈیا کو دے رہے ہیں۔ آج ہماری خوشی ایک میسج یا ایک ریپلائی پر منحصر ہو گئی ہے۔ ہم جتنا سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہیں، اتنا ہی ذہنی سکون کھوتے جا رہے ہیں۔” ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشی کوئی مستقل چیز نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ خوشی کو بڑھانے کے لیے مثبت سوچ اپناناچھوٹی چھوٹی خوشیوں کو سراہناشکرگزاری کی عادت اپناناعبادات میں وقت گزارنا اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا ضروری ہے۔ پروفیسر شمائلہ مہناز کے مطابق انسان تب تک خوش نہیں رہ سکتا، جب تک وہ یہ تہیہ نہ کر لے کہ اس نے خوش رہنا ہے۔ خوشی کا راز دوسروں کی خوشی میں خوشی محسوس کرنا اور مثبت طرزِ فکر اپنانا ہے۔ عالمی یومِ خوشی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل خوشی دولت یا مادی سہولیات میں نہیں، بلکہ ذہنی سکون اور اچھے تعلقات میں ہے۔ ہمیں اپنی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہیے، کیونکہ ‘شیئرنگ از کیئرنگ’ یعنی خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ مزید یہ کہ دوسروں کے کام آنا ہے۔

اپوزیشن کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے، مذاکرات کے ذریعے مل بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں، مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، مذاکرات ذاتی ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملکی مفاد میں ہونے چاہیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی  نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں مینگنولیا گرینڈی فلورہ کا پودہ لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پودے لگانا ضروری ہے، موسمیاتی تبدیلی موجودہ وقت میں سب سے بڑا چیلنج ہے، سردار ایاز صادق نے سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد میں 10 لاکھ پودے لگانے کے ٹارگٹ کو سراہا۔ اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن نے ایک گھنٹا 21 منٹس کی تقریر کی، وہ باہر جا کر میڈیا سے کہتے ہیں کہ مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں مینگنولیا گرینڈی فلورہ کا پودہ لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے زیادہ سے زیادہ پودے لگانا ضروری ہے، سردار ایاز صادق موسمیاتی تبدیلی موجودہ وقت میں سب سے بڑا چیلنج ہے، سردار ایاز… pic.twitter.com/aiVZxCJgN1 — National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) March 14, 2025 سردار ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن دس منٹ کے لیے ایوان میں آتی ہے، اس کے بعد احتجاج کر کے چلی جاتی ہے۔ اپوزیشن کو عوامی مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، اپوزیشن کے جانب سے ایوان میں عوامی اہمیت کے حامل جتنے سوالات، توجہ دلاؤ نوٹس دیے گئے ہیں، ان کا ریکارڈ دیا جائے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے جانب سے عوامی مسائل سے متعلق تمام تر ریکارڈ عوام کے سامنے رکھیں گے، ایوان کو قانون اور پارلیمانی روایت کے مطابق چلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی کوئی فکر نہیں ہے۔ سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کو جعلی کہتی ہے، کیا جعلی پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن، چیئرمین پی اے سی، قائمہ کمیٹیوں کے چیئر پرسنز کے عہدے، تنخواہیں اور دیگر مراعات لینا جائز ہیں؟ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہرمسئلے کا حل مذاکرات میں ہے، مذاکرات کے ذریعے مل بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں، مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، مذاکرات ذاتی ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملکی مفاد میں ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی قائم رہے گی، مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے۔

پاکستان کا ایسا علاقہ جہاں انسان بادلوں پر چلتے ہیں

چلچلاتی دھوپ میں پسینہ رکنے کا نام نہ لے اور درجہ حرارت 50 ڈگری کو چھو رہا ہو ایسے میں 18 سے 25 ڈگری کا معتدل موسم انجوائے کرنے کو ملے تو  کون انکار کرے گا؟  سوال مگر یہ ہے کہ ایسے موسم کے لیے بھاری بھرکم ایئرکنڈیشنر اور بجلی کے مہنگے بل کون بھگتے؟ پاکستانی صوبہ پنجاب کے جنوب میں ایک ایسا مقام ہے جہاں کے رہنے والے بغیر کسی ایئرکنڈیشنر اور مہنگی بجلی کے یہ سہولت استعمال کرتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا گرم علاقہ اور ایسا ٹھنڈ پروگرام، یقین نہیں آتا نا؟  لیکن ماننا تو پڑے گا کیوں کہ “جنوبی پنجاب کا مری” کہلانے والا فورٹ منرو ایسا ہی ہے۔ جنوبی پنجاب کا نام سن کر ایک گرم ریتیلے میدان کا تاثر ذہن میں آتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ خطہ صرف تاریخی مقامات ہی نہیں بلکہ، صحرا، پہاڑ، جھیل، دریاؤں، جنگلات اور ہل اسٹیشن کا ایسا گلدستہ ہے جو کم کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس گلدستے کے خوبصورت ترین پھولوں میں سے ایک تسلیم کیا جانے والا فورٹ منرو منفرد بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ پنجاب کے گرم ترین شہر ملتان سے 185 اور ڈیرہ غازی خان سے 85 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فورٹ منرو کوہِ سلیمان کے بلند پہاڑوں میں گھِرا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انگریزوں نے صرف امریکا ہی نہیں بلکہ فورٹ منرو بھی دریافت کیا تھا۔ سرد علاقوں کے رہنے والے انگریز برصغیر کے وسائل پر قابو پانے کے لیے یہاں قابض ہوئے تو ان سے مقامی گرمی برداشت نہ ہو سکی۔ موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے برصغیر کے کونے کونے میں ایسے مقامات کی کھوج کی جو ٹھنڈے ہوں۔ ان مقامات تک پہنچنے کے لیے سڑکیں بنوائیں۔ انتظامیہ کے لیے گھر، دفاتر، بیمار فوجیوں کے لیے سینی ٹوریم، لانڈری جیسی سہولیات اور مقامی لوگوں کے لیے سرونٹ کوارٹر بنوائے۔ نتھیاگلی، زیارت، مری، ایبٹ آباد، سکیسر، سیلانگ، سری نگر، اوٹی، لہہ، پہلگام، مسوری اور فورٹ منرو جیسے ہل اسٹیشنز اس دور سے نمایاں ہوئے۔ فورٹ منرو ضلع ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے۔ بلوچی زبان میں ”تْمن لغاری” کے نام سے معروف علاقہ سطحِ سمندر سے 6470 فٹ (1970 میٹر) بلندی رکھتا ہے۔ مقامی روایت کے مطابق یہ جگہ انیسویں صدی کے آخر میں انگریز فوجی افسر سر رابرٹ گرووز سنڈیمن نے دریافت کی، البتہ اس کا نام اس وقت کے ڈیرہ جات ڈویژن کے کمشنر، کرنل اے اے منرو کے نام پر رکھا گیا۔ جنوبی پنجاب کا یہ معروف ہل اسٹیشن لغاری خانہ بدوشوں کے لیے جنت ہے۔ موسمِ گرما میں نزدیکی اضلاع ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفرگڑھ کے مقامی لوگ ہر ہفتہ یہاں کا رخ کرتے اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ محمد تقویم کا کہنا تھا کہ وہ  فورٹ منرو کی سیر کے لیے عام طور پر گرمیوں میں جانا پسند کرتے ہیں کیونکہ جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں کی نسبت یہاں موسم خوشگوار ہوتا ہے، جب  گرمی شدت اختیار کر جاتی ہے، تو وہ دوستوں کے ہمراہ ہفتہ وار جاتے ہیں۔ فورٹ منرو تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ ملتان یا راجن پور سے ڈیرہ غازی خان، سخی سرور اور فورٹ منرو زیادہ استعمال ہونے والا روٹ ہے۔ بلوچستان میں ژوب اور کوئٹہ سے آنے والے افراد لورالائی اور پھر میختر اور رکھنی کے راستے فورٹ منرو پہنچتے ہیں۔ دماس جھیل فورٹ منرو کا سب سے خوبصورت مقام کہلاتا ہے جس کی رعنائی، دلکشی اور حسن سیاحوں کو اپنا گرویدہ بنالیتا ہے۔سردیوں میں یہ جھیل سکڑ کر اپنی خوب صورتی میں اضافہ کرتی ہے تو گرمیوں میں برساتی پانی اور خوشگوار موسم کی بدولت اس کا حسن اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ دماس یہاں کی اکلوتی جھیل نہیں، تریموں اور لال خان جھیلیں بھی دیکھنے کے قابل ہیں۔ دماس جھیل سے مختصر فاصلے پر ایک قلعہ موجود ہے جسے عرفِ عام میں فورٹ منرو کہا جاتا ہے۔ قلعے کے اوپر ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے ساتھ موجود برجی ظاہر کرتی ہے کہ یہاں کبھی عالیشان قلعہ ہوا کرتا تھا۔ محمد تقویم کا کہنا تھا کہ محض گرمیوں میں ہی نہیں بلکہ سردیوں میں بھی یہاں کا دلچسپ اور قابلِ دید ہوتا ہے۔ مظفرگڑھ سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد سردیوں میں بھی برفباری دیکھنے کے لیے فورٹ منرو کا رخ کرتی ہے، جو جنوبی پنجاب کے علاوہ اور کہیں نہیں ملتا۔ فورٹ منرو کی قدرتی خوبصورتی، پہاڑی راستے اور وہاں کا پرسکون ماحول ہر بار جانے پر ایک نئی تازگی بخشتا ہے۔ فورٹ منرو میں موجود گورا قبرستان ایک ایسی جگہ ہے جو اپنے اندر کئی راز سموئے ہوئے ہے، جس کے بارے میں مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ راجن پور سے تعلق رکھنے والے شہری محمد جہانزیب ریاض نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا ہے کہ گورا قبرستان کے بارےمیں  کہا جاتا ہے کہ انگریز دور میں یہاں جب سڑکیں اور گھر بنے تو علاقے پر قابض گورے اہل و عیال کے ساتھ یہاں رہنے لگے، ان میں سے کچھ فوت ہوئے تو انہیں یہیں دفن کیا گیا۔ گورا قبرستان میں موجود پانچ قبریں ایسی ہیں جو ایک جنگلے میں بند ہیں اور ان پر لگے مخصوص کتبے پڑھے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک قبر جنوبی افریقہ کے 30 سالہ ایچ اسمتھ کی ہے جو نہاتے ہوئے ڈوب کر مرے تو یہاں دفن ہوئے۔ ایڈووکیٹ محمد تقویم کا کہنا ہے کہ فورٹ منرو ایک پرفضا اور دلچسپ مقام ہے اور وہ باقیوں کو بھی مشورہ دیں گے کہ وہاں جائیں اور جنت نظیر وادی کے حسن سے لطف اندوز ہوں۔ یہ  ایک سکونت بخش مقام ہے جہاں آپ قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ فورٹ منرو سے چند کلومیٹر دور اناری مقام سیاحوں کے لیے ایک دلچسپ جگہ ہے کیوں کہ یہاں بادل نیچے اور لوگ اوپر ہوتے ہیں ۔ یوں لوگ بادلوں میں سے گزرتے ہوئے محظوظ ہوتے ہیں۔ فورٹ منرو کے ذائقے ہر علاقہ اپنے منفرد کھانوں کی وجہ سے خاص انفرادیت کا حامل ہوتا ہے۔ بلوچ قبائل کی سرزمین کہلانے والا یہ علاقہ بھی روایتی بلوچی کھانوں کا اہم مرکز ہے۔

درختوں کی موت، ماحول کی تباہی، چند سال بعد سانس لینا مشکل ہوجائے گا

علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ “ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت۔۔۔۔۔۔۔احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات”۔ اقبال کے کہے اس شعر کو ایک صدی ہونے کو آئی ہے اور آج یہ شعر پہلے کی نسبت زیادہ موزوں ہے۔ وقت کے ساتھ انسان تقریباً ایک سانس لیتی مشین بن چکا ہے، جو بنا کسی دوسرے کی فکر کیے خود غرضی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ پہلے پہل ترقی کے نام پر انسان نے زمین کا سینہ چیرا، معدنیات ڈھونڈیں، جانوروں اور پرندوں کا شکار کیا، مگر اب پیسے کی لالچ نے اس قدر اندھا کیا ہے کہ آئے دن سوسائٹیز کے نام پر درختوں کا قتلِ عام شروع کر دیا گیا ہے۔ ریاستِ پاکستان بھی ترقی کی منازل طے کرنے کے نام پہ رنگینیوں کے قتلِ عام میں پیش پیش ہے، جہاں ایک طرف گرین انیٹیٹو پاکستان اور شجرکاری مہمات جیسے منصوبے بنائے جارہے ہیں، وہیں دوسری طرف درختوں کو کاٹ کر ہاؤسنگ  سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں اور حکومت خاموش تماشی بنی ہوئی ہے۔ ملک میں درختوں کی بے دریغ کٹائی ماحولیاتی بحران کو سنگین تر بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور عوامی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسپیس سائنسس کے پروفیسر ڈاکٹر جہانزیب نے کہا کہ “ملک میں درختوں کی کٹائی ماحولیاتی بحران کو سنگین کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب جب کہ آکسیجن کو خارج کرتے ہیں، مگر درختوں کے کٹاؤ سے فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار زیادہ جبکہ آکسیجن کی کم ہو رہی ہے، جو کہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔” انہوں نے مزید کہا ہے کہ “درختوں کے قتلِ عام سے ٹمپریچر تبدیل ہو رہا ہے، ہوا میں نمی کی مقدار میں کمی ہو رہی ہے اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ بارشوں کا پیٹرن بدل گیا ہے۔ آج سے کچھ سال قبل لاہور شہر میں موسمِ برسات میں کئی کئی دنوں تک بارشیں ہوتی رہتی تھیں، مگر اب تو ان کا نام و نشان  تک نہیں ملتا۔” یہ بھی پڑھیں: آپ کی ایک گوگل سرچ بھی ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ مگر کیسے؟ 2022 میں بلوچستان کے ضلع شیرانی کے قدیم جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریباً 10 ہزار 700 ایکڑ رقبے کو متاثر کیا، جس سے چلغوزے اور زیتون کے درختوں کے علاوہ جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں غیر قانونی درختوں کی کٹائی سے جنگلات کو نقصان پہنچا، جس سے مقامی ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے شدید موسمی واقعات کا سامنا کیا ہے جیسے ہیٹ ویو، خشک سالی اور سیلاب، جس سے بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصان ہوا ہے۔ یہ واقعات جنگلات کی کٹائی سے بڑھتے ہیں، جو ماحولیاتی نظام کی قدرتی لچک کو کم کر دیتا ہے اور آب و ہوا کے خطرات کے لیے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے اور ہر سال ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر موجود جنگلات اور درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ یہ کٹائی جلانے کے لیے لکڑی حاصل کرنے، نئی آبادیاں تعمیر کرنے اور صنعتوں میں استعمال کے لیے کی جاتی ہے۔  شہری ترقی کے لیے جنگلات کی قربانی ماحولیاتی توازن کو بگاڑ رہی ہے، جس سے قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فورم کے مطابق پاکستان ایشیا میں سب سے زیادہ درخت کاٹنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، محکومتی شجرکاری مہمات کے باوجود جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے، جو مستقبل میں مزید سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر جہانزیب کے مطابق “درختوں کے کٹائی سے سیلاب اور خشک سالی جیسی قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے، درخت جو قدرتی ایک بیریر ہوتے ہیں لینڈ سلائٹز اور سیلاب کو روکنے کے لیے وہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔” گزشتہ دنوں پنجاب میں ‘چیف منسٹر پلانٹ فار پاکستان’ انیشیٹو کے تحت وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت پنجاب میں 48 ہزار 368 ایکڑ رقبے پر درخت لگائے جائیں گے۔ مزید یہ کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ لیکن دوسری جانب درختوں کی بے دریخ کٹائی کا سلسلہ جوں کا توں ہے۔ پاکستان میں جنگلات کے تحفظ کے لیے موجودہ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے۔ ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر مہرین عطر نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا کہ “پاکستان میں جنگلاتی پالیسی میں بہتری آئی ہے لیکن اس پر عمل درآمد میں شدید مسائل ہیں۔ غیر قانونی کٹائی، زمین پر قبضہ اور کمزور حکومتی نگرانی کی وجہ سے جنگلات تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ حکومتوں کی جانب سے شجرکاری مہم اور بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے شروع کیے گئے، لیکن پائیدار جنگلاتی تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔” موسم بہار کے دوران 6 ہزار 637 ایکڑ زمین پر 59 لاکھ 66 ہزار درخت لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت لاہور، قصور، گوجرانوالہ، گجرات، مری، راولپنڈی، سرگودھا اور مظفر گڑھ سمیت 300 سے زائد مقامات پر شجرکاری کی جا رہی ہے۔ مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی خواتین کی زندگیوں پر ہی کیوں گہرے اثرات مرتب کرتی ہے؟ ڈاکٹر جہانزیب کا کہنا ہے کہ “حکومت کو چاہیے کہ شجرکاری مہمات میں اضافہ کرے، موجودہ مہمات درختوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ نئے مہمات متعارف کرانے کی ضرورت ہے، جیساکہ ایک سلوگن ہے کہ ‘درخت لگائیں اپنے آنے والی جنریشن کو محفوظ بنائیں’۔” درختوں کی بے دریغ کٹائی پاکستان میں ماحولیاتی بحران کو بڑھا رہی ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور عوامی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین کا نفاذ اور عوامی شعور بیدار کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور صحت مند ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر مہرین عطر کے مطابق “عام شہریوں کو درختوں کے تحفظ کے لیے آگاہی مہمات میں