ٹرمپ کی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بھی تجارتی جنگ، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد

ڈونلڈ ٹرمپ نےامریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی 29 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کرکے تجارتی جنگ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکا کو درآمد کی جانے والی زیادہ تر اشیا پر 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ ساتھ حریفوں سے لے کر اتحادیوں تک درجنوں ممالک پر زیادہ ڈیوٹی لگانے کے ٹرمپ کے فیصلے نے عالمی تجارتی جنگ کو تیز کر دیا ہے جس سے افراط زر کو روکنے خدشہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا تمام درآمدات پر 10 فیصد اور غیرملکی ساختہ گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ یورپی یونین پر 20 فیصد، چین پر 34 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بھارت پر 26 فیصد اسرائیل پر 17 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ امریکی صدر کا کہنا تھاکہ پاکستان ہم سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بنگلا دیش پر 37 فیصد ٹیرف عائدہوگا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ باہمی محصولات امریکی اشیا پر عائد ڈیوٹیوں اور دیگر نان ٹیرف رکاوٹوں کا جواب ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ نئے لیویز سے گھر پر مینوفیکچرنگ کی ملازمتوں کو فروغ ملے گا۔ بیرونی ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ محصولات عالمی معیشت کو سست کر سکتے ہیں، کساد بازاری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں اور اوسط امریکی خاندان کے لیے زندگی کے اخراجات ہزاروں ڈالر تک بڑھ سکتے ہیں۔ کینیڈا اور میکسیکو، امریکہ کے دو سب سے بڑے تجارتی شراکت دار، پہلے ہی بہت سے سامان پر 25فیصد محصولات کا سامنا کر رہے ہیں اور گزشتہ روز کے اعلان سے انہیں اضافی محصولات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،حتیٰ کہ کچھ ساتھی ریپبلکنز نے بھی ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کا احتجاجی تحریک کو نئے مرحلےِ میں داخل کرنے کا اعلان

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ اپنی احتجاجی تحریک کے نئے مرحلے کا اعلان کریں گے، کیونکہ ان کے احتجاج کو چھ دن مکمل ہو چکے ہیں اور حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی۔ بی این پی (مینگل) نے گزشتہ جمعہ کو بلوچستان یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں، بشمول ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ کی گرفتاریوں اور کوئٹہ میں ان کے دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ یہ دھرنا اس وقت لکپاس میں جاری ہے، جہاں صوبائی حکومت کے وفد نے مذاکرات کے لیے سردار اختر مینگل سے ملاقات کی، تاہم وہ انہیں احتجاج ختم کرنے پر قائل نہ کر سکے۔ مذاکراتی وفد میں ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ اور سردار نور احمد بنگلزئی شامل تھے۔ بدھ کے روز سردار اختر مینگل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اعلان کیا کہ وہ 3 اپریل کو شام 5 بجے احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے بھیجے گئے وفد کو آزادانہ طور پر فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا، بلکہ وہ محض پیغام رساں تھے، جبکہ اصل طاقت ان کے پاس ہے جو حقیقت میں بلوچستان کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مینگل نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں بے اختیار مذاکرات کے ذریعے گمراہ کر سکتے ہیں، تو انہیں اپنی غلط فہمی کا جلد احساس ہو جائے گا۔ ایک اور بیان میں انہوں نے بلوچستان میں انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے پورے بلوچستان میں موبائل نیٹ ورکس اور گھریلو وائی فائی سروسز بند کر دی گئی ہیں، جس کا واحد مقصد مظلوموں کی آواز کو دبانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کو، جو دھرنے میں شرکت کے لیے آرہے تھے، راستے میں ہی روک لیا گیا۔ مینگل کے مطابق حکومت کی جانب سے دھرنے کو محدود کرنے کے لیے مزید خندقیں کھودی گئی ہیں، اضافی کنٹینر لگا دیے گئے ہیں اور مزید سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت جتنا دباؤ بڑھائے گی، اتنا ہی وہ مزید بدنام ہو گی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور قافلے جمعہ کی صبح 9 بجے وڈھ سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ 26 مارچ کو، جب بی این پی (مینگل) نے دعویٰ کیا کہ مستونگ کے قریب پولیس کارروائی میں اس کے 250 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تو اسی دن سردار اختر مینگل اور ان کے ساتھی ایک خودکش حملے میں بال بال بچ گئے۔
پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن کا ترانہ “ایکس دیکھو” ریلیز کر دیا گیا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بدھ کے روز پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن کا آفیشل ترانہ ’ایکس دیکھو‘ جاری کر دیا۔ معروف پنجابی گلوکار ابرارالحق پہلی بار پی ایس ایل کے ترانے میں اپنی آواز کا جادو جگا رہے ہیں، ان کے ساتھ علی ظفر اور نتاشا بیگ نے بھی ترانے میں اپنی آواز کا رنگ بھرا ہے۔ اس کے علاوہ معروف ریپر طلحق انجُم بھی اس ترانے کا حصہ ہیں۔ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے ترانے کی ریلیز سے قبل کہا تھا کہ یہ گانا پی ایس ایل کی کامیابیوں کے دس سال مکمل ہونے کی خوشی میں تیار کیا گیا ہے۔ اسی لیے اس کا نام ’ایکس دیکھو‘ رکھا گیا، جو اس لیگ کے دوران عبور کی گئی مشکلات اور حاصل کی گئی کامیابیوں کی علامت ہے۔ View this post on Instagram A post shared by Pakistan Super League (@thepsl) انہوں نے کہا کہ ترانے میں چار مختلف پس منظر اور میوزیکل انداز رکھنے والے فنکاروں کو شامل کرنا پاکستان کے ٹیلنٹ کی وسعت اور تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ اس بار ایک ایسا گانا بنانے کی کوشش کی گئی جو نیا ہونے کے ساتھ ساتھ مانوس بھی محسوس ہو اور عالمی سطح پر شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ پاکستان سپر لیگ کے دسویں ایڈیشن کا آغاز 11 اپریل کو ہونے جا رہا ہے، جس کا پہلا میچ دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور دو مرتبہ کی فاتح ٹیم لاہور قلندرز کے درمیان راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ پی سی بی کے مطابق، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 11 میچوں کی میزبانی کرے گا، جس میں 13 مئی کو پہلا کوالیفائر بھی شامل ہوگا۔ کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم اور ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں پانچ، پانچ میچز کھیلے جائیں گے۔ کراچی کنگز اپنی مہم کا آغاز 12 اپریل کو اپنے ہوم گراؤنڈ میں ملتان سلطانز کے خلاف کرے گی۔ گزشتہ ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا تھا کہ پی ایس ایل 10 کے میچز کے لیے ٹکٹس 3 اپریل سے آن لائن فروخت کے لیے دستیاب ہوں گی۔ پی سی بی کے مطابق، 7 اپریل سے ٹکٹس مخصوص ٹی سی ایس ایکسپریس سینٹرز پر دستیاب ہوں گی، جبکہ آن لائن بک کیے گئے ٹکٹس بھی ٹی سی ایس کے مقررہ پوائنٹس سے حاصل کیے جا سکتے ہیں یا پھر صارفین انہیں ہوم ڈلیوری کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔ پی ایس ایل 10 کے میچز کے لیے جنرل ٹکٹ کی قیمت چاروں وینیوز پر 650 روپے مقرر کی گئی ہے۔
صدر آصف علی زرداری کورونا میں مبتلا ،ڈاکٹرز کی اکیلے رہنے کی ہدایت

صدر آصف علی زرداری کا کووڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔ بدھ کے روز صدر ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ بیان میں تصدیق کی گئی کہ صدر زرداری کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے مختلف ٹیسٹ کیے، جن میں کووڈ-19 کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹر حسین نے بتایا کہ صدر زرداری کو آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر حسین کے مطابق “طبی ٹیم صدر زرداری کی حالت کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے لیے 24 گھنٹے نگرانی کر رہی ہے۔” صدر زرداری کو صحت کی شکایات کے بعد نوابشاہ سے کراچی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری 4 اپریل کو ہونے والے جلسے میں شرکت نہیں کریں گے۔ڈاکٹرز کی جانب سے صدر زرداری کو صحت کی وجوہات کی بنا پر مسلسل آرام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے اس خبر کی تردید کی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر زرداری کو علاج کے لیے دبئی منتقل کیا جا رہا ہے۔ میمن نے کہا کہ صدر کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور وہ جلد مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فون کے ذریعے صدر زرداری سے بات کی، ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں دیں۔ سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے بھی ڈاکٹر حسین سے رابطہ کیا، اپنی تشویش کا اظہار کیا اور صدر کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
افغان شہریوں کے انخلا کا عمل تیز، خفیہ اطلاعات پر 60 افغانی گرفتار

ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، خصوصاً افغان شہریوں کی واپسی کے حکومتی منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس مرحلے میں افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے تحویل میں لینے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران مجموعی طور پر 60 افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والے افغان شہریوں کو جلد ہی افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔ دوسری جانب حکومت نے پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کو 30 جون تک ملک میں قیام کی مہلت دی ہے، جس کے بعد ان کے مستقبل کے حوالے سے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، جن میں ترنول، بھارہ کہو، غوری ٹاؤن اور میرا آبادی شامل ہیں۔ ان علاقوں سے مجموعی طور پر 22 افغان شہریوں کو تحویل میں لیا گیا۔ اسی طرح راولپنڈی میں بھی فوجی کالونی اور ملحقہ علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، جہاں سے 38 افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو گرفتار کیا گیا۔ ان تمام افراد کو ابتدائی طور پر پرانے حاجی کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد انہیں خیبرپختونخوا کے لنڈی کوتل کیمپ منتقل کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کا یہ مرحلہ مزید وسیع کیا جائے گا اور مختلف شہروں میں بھی مشتبہ افراد کی شناخت اور گرفتاری کا عمل جاری رہے گا۔ فارن ایکٹ کے تحت مختلف جیلوں میں قید افغان شہریوں کو بھی آج لنڈی کوتل منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جہاں بائیومیٹرک تصدیق کے بعد انہیں واپس ان کے ملک روانہ کر دیا جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ افغان باشندے خیبرپختونخوا میں مقیم ہیں، جہاں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف مہم مزید تیز کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی شناخت اور ان کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ ملکی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کارروائی کے دوران مختلف ایجنسیوں کی جانب سے افغان مہاجرین کے کوائف کی تصدیق کا عمل بھی جاری رکھا جا رہا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی مستحق مہاجر کو نقصان نہ پہنچے اور صرف وہ افراد واپس بھیجے جائیں جو غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید علاقوں میں آپریشنز کیے جائیں گے اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تمام غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کا عمل جاری رہے گا۔
زرعی مصنوعات پر ٹیرف: امریکا نے انڈیا پر دھوکادہی کا الزام لگا دیا

امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے انڈیا کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے تجارتی اصولوں کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق انڈیا نے امریکی زرعی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کر کے امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا ہے اور 100 فیصد ٹیرف عائد کر کے امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قدر زیادہ محصولات امریکی برآمدات کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں اور اس سے امریکی کسانوں اور کاروباری برادری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کیرولائن لیوٹ کا کہنا تھا کہ اگرچہ انڈیا نے امریکی زرعی مصنوعات پر غیر معمولی طور پر زیادہ ٹیرف عائد کیا ہے، لیکن یہ مسئلہ صرف انڈیا تک محدود نہیں۔ دیگر بڑے تجارتی شراکت دار بھی امریکی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یورپی یونین نے امریکی دودھ کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کر رکھا ہے، جاپان نے امریکی چاول پر 700 فیصد جبکہ کینیڈا نے امریکی مکھن اور پنیر پر 300 فیصد ٹیرف عائد کیا ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکی حکومت ان غیر منصفانہ تجارتی اقدامات پر خاموش نہیں بیٹھے گی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر سخت موقف اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ دو اپریل سے نافذ کیے جانے والے نئے تجارتی محصولات بڑے پیمانے پر ہوں گے اور ان سے امریکی معیشت میں ایک نیا موڑ آئے گا۔ صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ امریکا کسی بھی ایسے تجارتی معاہدے یا نظام کو تسلیم نہیں کرے گا جو امریکی معیشت کو نقصان پہنچائے۔ ان کے مطابق امریکا اپنے کسانوں، تاجروں اور برآمد کنندگان کے مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور کسی ملک کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے فیصلے کرے۔ انڈیا کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ امریکی حکومت پہلے ہی اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے اور امکان ہے کہ جلد ہی بھارت کے خلاف جوابی تجارتی اقدامات کیے جائیں گے۔ عالمی تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازعہ مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ دونوں ممالک بڑے تجارتی شراکت دار ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا کی جانب سے انڈیا کے خلاف مزید سخت تجارتی اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ میں یورپی مسافروں کے لیے ای ٹی اے لازمی قرار، یہ کیا ہے اور پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟

برطانوی حکومت نے یورپی شہریوں کے لیے ای ٹی اے کے حصول کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام 2023 میں متعارف کرائی گئی سکیم کی توسیع کا حصہ ہے، جس کا مقصد امیگریشن سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور ویزا فری سفر کرنے والے افراد کے لیے انٹری کا طریقہ کار آسان بنانا ہے۔ ای ٹی اے ایک ڈیجیٹل سفری اجازت نامہ ہے جو برطانیہ میں مختصر قیام کے لیے ضروری ہوگا۔ یہ ویزا نہیں بلکہ مسافر کے پاسپورٹ سے ڈیجیٹل طور پر منسلک ہوگا، جس کے بعد انہیں برطانیہ جانے والی پرواز یا دیگر سفری ذرائع میں سوار ہونے کی اجازت ملے گی۔ تاہم، برطانیہ میں داخلے کی حتمی منظوری بارڈر کنٹرول حکام دیں گے۔ یہ قانون ان تمام مسافروں پر لاگو ہوگا جو قلیل مدتی قیام کے لیے ویزا کے بغیر برطانیہ جا سکتے ہیں اور جن کے پاس پہلے سے کوئی برطانوی امیگریشن اسٹیٹس نہیں ہے۔ اس سے قبل یہ نظام امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر غیر یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، لیکن اب یورپی شہریوں کو بھی اس کی پابندی کرنی ہوگی۔ وہ افراد جن کے پاس پہلے سے برطانیہ کا مستقل ویزا ہے، جو برطانیہ میں رہائش، ملازمت یا تعلیم کی اجازت رکھتے ہیں، برطانوی یا آئرش شہری ہیں یا برٹش اوورسیز ٹیریٹریز کے پاسپورٹ کے حامل ہیں، انہیں ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ، جو مسافر برطانوی ہوائی اڈے پر صرف ٹرانزٹ میں ہیں اور بارڈر کنٹرول سے نہیں گزرتے، انہیں بھی اس اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ای ٹی اے کے لیے درخواست دینے کی فیس فی الحال دس پاؤنڈ ہے، تاہم برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نو اپریل سے یہ فیس سولہ پاؤنڈ ہو جائے گی۔ درخواست یو کے ای ٹی اے موبائل ایپ یا برطانوی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر دی جا سکتی ہے۔ زیادہ تر درخواستیں چند منٹوں میں منظور ہو جاتی ہیں، لیکن حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم از کم تین ورکنگ دن پہلے درخواست جمع کرائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانچ کے لیے وقت میسر ہو۔ درخواست گزاروں کو فیس کی ادائیگی، پاسپورٹ اور رابطے کی تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک درست تصویر اپ لوڈ کرنا ہوگی اور مختصر سوالنامے کے جوابات دینے ہوں گے۔ یہ ضروری ہے کہ مسافر وہی پاسپورٹ استعمال کریں جو ای ٹی اے کی درخواست میں درج کیا گیا ہو۔ اگر کسی کی ای ٹی اے درخواست مسترد ہو جاتی ہے، تو درخواست گزار کو انکار کی وجہ بتائی جائے گی اور وہ دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے خلاف اپیل کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص ای ٹی اے حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو اسے برطانیہ کے لیے ویزا لینا ہوگا۔ ای ٹی اے کی معیاد دو سال یا پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے تک، جو بھی پہلے ہو، برقرار رہے گی۔ اس کے تحت مسافر متعدد بار برطانیہ جا سکیں گے، لیکن ہر بار قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ ہوگی۔ برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ یہ نظام بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنائے گا، کیونکہ درخواست گزاروں کو بایومیٹرک اور ذاتی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی، جن میں پس منظر کی جانچ اور مجرمانہ ریکارڈ سے متعلق سوالات شامل ہوں گے۔ ان تفصیلات کا مقصد پیشگی اسکریننگ کو بہتر بنانا اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات رکھنے والے افراد کو برطانیہ میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد ای ٹی اے کے زمرے میں شامل نہیں ہیں، کیونکہ برطانیہ میں داخلے کے لیے انہیں پہلے سے ویزا درکار ہوتا ہے۔ تاہم، وہ پاکستانی شہری جو برطانوی یا آئرش پاسپورٹ رکھتے ہیں، انہیں ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یورپ میں رہنے والے پاکستانی نژاد افراد، خاص طور پر وہ جو کاروباری مقاصد یا خاندانی روابط کے سبب برطانیہ کا سفر کرتے ہیں، اس نئی پالیسی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ کی حکومت کا یہ فیصلہ اس کے سخت امیگریشن اقدامات کا حصہ ہے، جو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سفری سیکیورٹی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
میانمار میں زلزلہ فوجی حکومت کے لیے سود مند، عالمی شراکت داریوں کے دروازے کھل گئے

میانمار کی حالیہ تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز قدرتی آفت نے حکمران جنرل مِن آنگ ہلائنگ کی پوزیشن کو مضبوط کر دیا ہے۔ اس تباہی نے سفارتی دروازے کھول دیے ہیں جو چار سال قبل اس وقت بند ہو گئے تھے جب ان کی فوجی حکومت نے ایک منتخب حکومت کو برطرف کر کے خانہ جنگی کو ہوا دی تھی۔ جمعہ کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 2,900 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے چند دن قبل ہی جنرل مِن آنگ ہلائنگ تھائی لینڈ میں ایک علاقائی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نایاب غیر ملکی دورے کی تیاری کر رہے تھے، جبکہ ان کے معاونین دیگر رہنماؤں سے ملاقاتوں کا انتظام کرنے میں مصروف تھے۔ یہ واضح نہیں کہ وہ اس ہفتے بینکاک میں ہونے والے “بمسٹیک” اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں، لیکن یہ قدرتی آفت انہیں عالمی تنہائی سے نکالنے کا سبب بنی ہے۔ بیشتر عالمی رہنماؤں نے 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار کی حکومت سے تعلقات محدود کر رکھے تھے، کیونکہ اس بغاوت نے 35 لاکھ افراد کو بے گھر کر دیا اور ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا تھا۔ سنگاپور میں مقیم تجزیہ کار انگشومن چودھری کا کہنا ہے کہ “جنتا (فوجی حکومت) جانتی ہے کہ بھارت، چین اور روس جیسے خطے کے بااثر ممالک میانمار میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اس موقعے کا فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔” انہوں نے کہا کہ “علاقائی دارالحکومتوں سے براہ راست اور عوامی سطح پر روابط قائم کر کے فوجی حکومت خود کو میانمار کے مرکزی حکومتی ادارے کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔” جنتا کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے کی گئی فون کالز کا جواب نہیں دیا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران، مِن آنگ ہلائنگ نے چینی صدر شی جن پنگ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے بات چیت کی، جس کے نتیجے میں عالمی امداد کی ایک نئی لہر میانمار پہنچی۔ چند ہفتے قبل، فوجی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ دسمبر میں عام انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن اب اس شدید زلزلے نے ان کے لیے ایک نیا موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں۔ 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں فوجی حکومت کو کئی محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے مِن آنگ ہلائنگ پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ چین جیسے اہم اتحادیوں نے ان کی حکومت کی حمایت جاری رکھی، حتیٰ کہ بیجنگ نے مخالف مسلح گروہوں پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بھی ڈالا۔ تاہم، چین نے انہیں مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ نومبر میں جب وہ بغاوت کے بعد پہلی بار چین کے دورے پر گئے، تو انہیں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا موقع نہیں ملا۔ اس کے برعکس، پچھلے ماہ روس کے سرکاری دورے کے دوران، انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے تفصیلی ملاقات کی، جو 2021 کی بغاوت کے بعد ان کے اولین عالمی حامیوں میں شامل تھے۔ ینگون میں تعینات ایک سفارتی ذرائع نے کہا کہ “مجھے لگتا ہے کہ وہ اس وقت اپنی خواہش سے بھی زیادہ کچھ حاصل کر چکے ہیں۔” ذرائع کے مطابق “وہ دوبارہ سفارتی دائرے میں واپس آ گئے ہیں اور انہیں ایک نشست مل گئی ہے۔” تاہم، ایک دوسرے سفارتی ذرائع نے کہا کہ فوجی حکومت اس بحران سے جتنا ہو سکے فائدہ اٹھا رہی ہے اور عام شہریوں اور حزب اختلاف کے گروہوں کو امداد سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
قلعہ دراوڑ: وقت کے نشیب و فراز سے گزرتا ہوا عظمت کا منبع

قلعہ دراوڑ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے صحرائی علاقے چولستان میں واقع ایک تاریخی قلعہ ہے، جو بہاولپور سے تقریباً 130 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قلعہ اپنی مضبوط فصیلوں، شاندار تعمیرات اور وسیع رقبے کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مشہور قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ قلعہ دراوڑ کی بنیاد راجپوت بھٹی حکمران رائے ججہ نے نویں صدی میں رکھی تھی، لیکن بعد میں یہ قلعہ عباسی حکمرانوں کے قبضے میں آگیا۔ 1733 میں نواب محمد مبارک خان عباسی نے اسے فتح کرکے اپنے خاندان کی حکمرانی کا حصہ بنا لیا۔ عباسی خاندان نے اسے اپنی ریاست بہاولپور کے دفاع کے لیے ایک مضبوط قلعے کے طور پر استعمال کیا۔ یہ قلعہ 40 بلند میناروں اور تقریباً 1500 میٹر طویل دیواروں پر مشتمل ہے، جن کی بلندی 30 میٹر تک ہے۔ یہ قلعہ نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے بلکہ چولستان کے ثقافتی ورثے کی علامت بھی ہے۔ ہر سال یہاں چولستان جیپ ریلی سمیت مختلف ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں، جو ملک بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ قلعہ دراوڑ کی حالت خستہ ہو چکی ہے، لیکن یہ آج بھی بہاولپور کے تاریخی ورثے کا ایک شاندار نشان ہے، جو ماضی کی عظمت کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی سینیٹر نے دنیا کی طویل ترین تقریر کا ریکارڈ بنا دیا، کوری بُوکر 24 گھنٹے سے زائد بولتے رہے

امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر اور صدارتی امیدوار بننے کے سابق خواہش مند کوری بُوکر کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف جارحانہ میراتھون تقریر سینیٹ میں 24 گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے 4 بجے اس تقریر کو 24 گھنٹے سے زائد وقت ہوچکا ہے، کوری بوکر نے امریکا کے ایسٹرن وقت کے مطابق 31 مارچ کی شام 7 بجے اپنی تقریر شروع کی تھی جو وہ پوری توانائی کے ساتھ تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل امریکی سینیٹ میں طویل ترین تقریر کا ریکارڈ جنوبی کیرولائنا کے سینیٹر اسٹرام تھرمنڈ نے قائم کیا تھا۔ سینیٹر اسٹرام تھرمنڈ نے 1957 میں سول رائٹس ایکٹ پر 24 گھنٹے 18 منٹ تقریر کی تھی۔ ریاست نیوجرسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کوری بُوکر نے تقریر کے آغاز پر کہا کہ وہ جب تک جسمانی طورپر قابل ہیں، یہ تقریر جاری رکھیں گے۔ کوری بوکر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کوایک ایک کرکے نشانہ بنارہےہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ ہماری قوم کے لیے عام حالات نہیں، امریکی عوام اورامریکی جمہوریت کوسنگین اورفوری خطرات لاحق ہیں، جمہوریت کےتحفظ کے لیے ہم سب کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ سینیٹر کوری بُوکر کے پاس صفحات کا پلندہ ہے جو سینیٹر کے مطابق ان کے حلقے کے عوام کے خطوط ہیں جنہیں وہ پڑھ کر عوام کے تحفظات اور خدشات سے امریکا کو آگاہ کررہے ہیں۔ سینیٹر کوری بُوکر میراتھون تقریر کے دوران سینیٹرز کے سوالات کے جوابات بھی دے رہےہیں، کئی ڈیموکریٹک سینیٹرز نے طویل سوالات کرکے سینیٹر کوری بُوکر کو سانس لینے کا موقع دیا تاہم سوالات کا موقع دیتے ہوئے سینیٹر کوری بُوکر واضح کرتے رہے کہ وہ فلور نہیں چھوڑیں گے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شُومر نے ساتھی سینیٹر بُوکر سے سوال پوچھنے سے پہلے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی قوت، استقامت اور وضاحت حیران کن ہے، پورا امریکا آپ کو توجہ سے سن رہا ہے۔ کوری بُوکر نے سوشل سکیورٹی دفاتر کے بجٹ میں کٹوتیوں پر کڑی تنقید کی، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ فنڈز میں مزید کٹوتیاں کرے گی۔ سینیٹر کوری بُوکر نے اپنی تقریر کے دوران کئی بار اس بات کا ذکر کیا کہ ان کی تقریر کتنی دیر سے جاری ہے اور یہ بھی کہ وہ کن معاملات کا احاطہ کرچکے ہیں جن میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، ملازمتوں، غربت، زراعت اور خارجہ پالیسی کے امور بھی شامل تھے۔ وہ چشمہ اتار کر بولتے اور چشمہ پہن کر صفحات پڑھتے رہے، تقریر کےدوران وہ مختصر چہل قدمی بھی کرتے رہے، کئی بار ان کی آواز بھرا گئی، نزلے کے بھی آثار واضح ہوئے مگر ان کی پرجوش تقریر کا مومینٹم نہ ٹوٹا۔ سینیٹر کوری بُوکر نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں اسٹرام تھرمنڈ کی وجہ سے ہمیں سول رائٹس ایک روز میں ملے؟ آپ سمجھتے ہیں ہمیں سول رائٹس اس لیے ملےکہ تھرمنڈ نےفلور پر24 گھنٹے تقریرکی؟ آپ سمجھتے ہیں ہمیں سول رائٹس اس لیےملے کہ تھرمنڈ نے کہا میں نےروشنی دیکھ لی؟ سینیٹر کوری بُوکر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ نہیں، ہمیں سول رائٹس اس لیے ملے کہ لوگوں نےمارچ کیا، پسینہ بہایا، ہمیں شہری حقوق اس لیے بھی ملے کیونکہ جان لوئز نے اس کے لیےاپنے خون کانذرانہ دیا۔ سینیٹر کوری بُکر کون ہیں؟ سینیٹر کوری بوکر دوسری بار سینیٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ 2020 میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار نامزد ہونے میں ناکام رہے تھے تاہم سینیٹر کوری بُوکر کی طویل تقریر نے انہیں ایک بارپھر صدارتی امیدوار بننےکے لیے نمایاں کردیا ہے۔ کوری بُوکر نیوجرسی کے سب سے بڑے شہر نیوارک کے 2006 سے 2013 تک مئیر رہ چکے ہیں، وہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ییل لا اسکول کے گریجویٹ ہیں اور اٹارنی بھی رہے ہیں۔