سینیٹ کمیٹی نے پیکا ترمیمی بل کی منظوری دے دی : کیا اس بل سے صحافیوں کی آزادی متاثر ہوگی؟

Cars 33

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ترمیمی بل کو شدید بحث و مباحثے کے بعد منظور کر لیا، تاہم اس بل پر صحافتی تنظیموں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بل صحافتی آزادی اور عوامی مفاد کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین فیصل سلیم کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف ارکان اور صحافتی تنظیموں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران صحافتی تنظیموں نے فیک نیوز کی وضاحت نہ ہونے کو اس بل کی سب سے بڑی خامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں فیک نیوز کے بارے میں کسی معیار کی وضاحت نہیں کی گئی ہے، جس سے یہ امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ بل غیرضروری طور پر صحافیوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہےکہ فیک نیوز کے حوالے سے فیصلہ کرنے کے معیار اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، اور اس کے بارے میں کوئی ٹھوس رہنمائی نہیں فراہم کی گئی۔ ان تنظیموں نے اس بل میں فیک نیوز کی تعریف کو بھی مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیاد پر کسی بھی خبر یا مواد کو فیک نیوز کے طور پر قرار دینا ممکن ہو سکتا ہے، جس سے صحافیوں کی آزادی متاثر ہو گی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی اس بل کی جلدی منظوری پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ کم وقت میں اس قانون کا بغور مطالعہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی تفصیل کو سمجھنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے تاکہ اس کی تمام پہلوؤں کو گہرائی سے جانچا جا سکے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی میں جلدبازی سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے اثرات کو درست طور پر سمجھا جا سکے۔ چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے صحافتی تنظیموں سے سوال کیا کہ وہ اپنے تحریری تحفظات کیوں پیش نہیں کر رہے اور ان سے درخواست کی کہ وہ کمیٹی کے سامنے اپنے اعتراضات پیش کریں۔ اس موقع پر صحافیوں کی تنظیموں نے اپنے تحفظات کو واضح کرتے ہوئے اس بل کی بعض شقوں پر سوالات اٹھائے۔ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس بل کے نفاذ سے صحافیوں کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتائج نہ صرف صحافت بلکہ عوامی مفاد کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اس بل کے جواز کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیکا بل میں ترامیم کی گئی ہیں تاکہ اس کا اطلاق بہتر طریقے سے ہو سکے اور فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی مدد سے حکومت فیک نیوز کے خطرات کو کم کر سکے گی اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کا عمل مزید موثر بنے گا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی فیک نیوز کے مسئلے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس حوالے سے قانون سازی ضروری ہے تاکہ عوام کو گمراہ کن معلومات سے بچایا جا سکے۔ تاہم، انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس بل کی تیاری کے دوران صحافیوں اور میڈیا تنظیموں سے مشاورت کی کمی محسوس ہوئی ہے، جو کہ قانون سازی کے عمل کو مزید شفاف اور موثر بنانے کے لئے ضروری تھی۔ کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ بل اگر صحافیوں کی آزادی پر اثر انداز ہو گا تو اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ مختلف ارکان نے کہا کہ اگر اس بل کے ذریعے صحافیوں کے حقوق پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔ آخرکار، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ترمیمی بل کی منظوری دے دی، تاہم کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ اس بل پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ صحافتی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقین کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بل میں مزید بہتری کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے پیکا ترمیمی بل کی منظوری کے باوجود اس بل کے مستقبل پر اب بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، اور اس کی حتمی شکل میں صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

ملک میں امن و امان کے لیے وفاق،صوبوں اور سیکیورٹی فورسز کو ایک پیج پر ہونا ہو گا: لیاقت بلوچ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس قوم اتحادکےعنوان سے منعقد کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ملی یکجہتی کونسل کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا ۔پاکستان تحریک انصاف کا اس کانفرنس کا مقصد اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے سب کو اکٹھا کرنا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں اتفاق کیا گیا کہ ملک میں امن و امان ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے سب کی باتیں سنی،ہم سب نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وفاق، صوبوں اور سیکیورٹی فورسز کو ایک پیج پر ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جو معائدے طے پاجاتے ہیں ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا؟ جو معاہدے طے پائیں ان پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیے ۔ نائب امیر لیاقت بلوچ نے بلوچستان میں مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کہ بلوچستان کے حالات بہت خراب ہیں،وفاق اور سیکورٹی فورسز سمیت تمام جماعتوں کی قیادت کو بلوچستان پر بھی خاص توجہ دینی چاہیے، بلوچستان کے لوگوں کے مسائل اور دکھ درد دور کرنے کے لیے وہاں بھی کانفرنس ہونی چاہیے۔ انھوں نے کانفرنس کا اگلا لائحہ عمل بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کے پیش نظر یہی طے پایا ہے کہ اسی طرض کی وسیع کانفرنس پشاور میں ہوگی اور پھر بلوچستان میں بھی ہوگی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں کمی کردی

Governer state bank

اسٹیٹ بینک نے نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا۔ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد کمی کی گئی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ “اسٹیٹ بنک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ” تمام اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں ایک فیصد کی کمی کی۔ اب شرح سود  13سے کم ہو کر 12 پر آگئی۔ معیشت بہتر  رہی ہے لیکن چیلنجز موجود ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل 6 ماہ سے سرپلس میں رہا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ”گزشتہ چند ماہ میں مہنگائی کم ہوئی ہے۔ ملک میں مجموعی زر مبادلہ ذخائر 16 ایشاریہ 19 ارب ڈالر ہیں۔ مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 11 ایشاریہ 44 ارب ڈالر ہوگئے۔دسمبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 58 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے سرپلس رہا۔ امید ہے اس ماہ مہنگائی کی شرح میں مزید کمی ہو جائے گی”۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ” مال سال 2025 میں جی ڈی پی نمودو ایشاریہ 5 سے 3ایشاریہ فیصد رہے گی”۔ جمیل احمد نے کہا ہے کہ  پاکستان کے معاشی اعشاریے مثبت ہیں، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ خاطر خواہ کم ہوئے، مہنگائی مئی 2023 میں 38 فیصد تھی جو کم ہوکر 4.1 فیصد رہی، جبکہ جنوری میں مہنگائی مزید کم ہوگی۔ اب شرح سود میں کمی ہونے سے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور کاروبار میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جس سے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ نوجوانوں کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے اور کاروبار کے لیے ان کی حوصلہ افزائی میں یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی ۔لیکن شرحِ سود میں مسلسل کمی کے ساتھ امید کی جاسکتی ہے کہ نوجوان کاروباری افراد بھی قسمت آزمائی کے لیے متحرک ہوں گے۔ اگر علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت بھی خطے کے تمام ممالک میں شرح سود کے لحاذ سے اوپر ہے۔ بھارت اور نیپال میں شرح سود 6.5 فیصد ہے۔ سری لنکا میں 8.25 فیصد اور بنگلہ دیش میں 10 فیصد ملک میں افراطِ زر کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آنے کے بعد شرح سود کو بھی سنگل ڈیجٹ میں آنا چاہیے اس طرح پاکستان علاقائی ممالک کے قریب آ جائے گا ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمیل احمد کا کہنا ہے کہ 2025 میں پاکستان کا پہلا نیا نوٹ جاری ہو جائے گا۔جمیل احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ رواں سال نئے کرنسی نوٹوں کا اجرا شروع ہو جائے گا، اس سال کرنسی نوٹ کے نئے ڈیزائن والے نوٹ مارکیٹ کر دیں گےگورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ نئے ڈیزائن مرحلہ وار پرنٹ کیے جائیں گے، سٹیٹ بینک نئے نوٹ کی تکنیکی ویلیوایشن کر رہا ہے، نئے نوٹ کو جلد منظوری کیلیے کابینہ کے سامنے پیش کریں گے۔

نیوزی لینڈ نے’ ڈیجیٹل خانہ بدوشوں‘ کے لیے نئے ویزا قوانین متعارف کرادیے

New zeland 1

نیوزی لینڈ نے اپنے ویزا قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے ‘ڈیجیٹل خانہ بدوشوں‘  کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں،جس سے غیر ملکی پیشہ ور افراد کو ملک میں قیام کے دوران کہیں بھی کام کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اقتصادی ترقی کی وزیر نکولا ولیس نے یہ تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی کمپنیاں جیسے آئی ٹی ماہرین اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد یعنی انفلوئنسرز اب قانونی طور پر نیوزی لینڈ سے کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مقامی طور پر آمدنی حاصل نہ کریں۔ یہ پالیسی سیاحوں اور اہل خانہ سمیت تمام وزیٹر ویزوں پر لاگو ہوتی ہے، مسافر اپنے قیام کو نو ماہ تک بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم، جو غیر ملکی افراد 90 دن سے زیادہ کام کریں گے، انہیں نیوزی لینڈ کے رہائشی ٹیکس کے طور پر خود کو رجسٹر کرنا پڑ سکتا ہے۔ ولیس نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد خاص طور پر امریکا اور ایشیا سے زیادہ مہنگےسیاحوں کو ملک میں لانا ہے تاکہ وہ عالمی مہارت کو ان کے ملک میں لاتے ہوئے نیوزی لینڈ کی معیشت کو مضبوط کریں۔   یہ تبدیلی نیشنل پارٹی کے 2023 کے انتخابی وعدے پر مبنی ہے جس میں ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کے لیے 12 ماہ کا ویزا متعارف کرانے کی بات کی گئی تھی۔  امیگریشن کی وزیر ایریکا اسٹینفورڈ نے کہا کہ یہ تبدیلی پرانی پالیسیوں کو جدید بناتی ہے، جس سے پیشہ ور افراد کو اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کے دوران کام کرنے کی اجازت ملے گی۔ وزیر سیاحت لوئس اپسٹن نے مزید کہا کہ دور دراز کے کارکن عام طور پر زیادہ دیر تک رہتے ہیں اور زیادہ خرچ کرتے ہیں ، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم ہر قسم کے سیاحوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، خاص طور پر وہ جو ہمارے ملک کا تجربہ کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ اس اقدام سے زیادہ خرچ کرنے والے سیاحوں کو ملک میں لانے کی امید ہے، لیکن کوئنز ٹاؤن کے میئر گلین لیورز نے خبردار کیا کہ سیاحت میں اضافے سے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی خدمات میں مزید سرمایہ کاری کرے تاکہ لوگوں پر بوجھ نہ پڑے۔ وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے طویل مدتی اقتصادی حکمت عملی کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعلیمی پالیسیوں میں تبدیلی کا بھی ذکر کیا ہے۔  یہ ویزا اصلاحات ایسے وقت  سامنے آئی ہیں جب نیوزی لینڈ کی معیشت نے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کم کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اور حکام کو امید ہے کہ اس اقدام سے سیاحت اور معاشی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔  

برطانیہ میں سڑکوں پر رش سے بڑھتے حادثات: ایسا کیوں؟

Uk rush

برطانیہ کے شہر مانچسٹر کےمضافاتی علاقے ویگن کے دیہاتی  سڑکوں پر رش، بہت زیادہ نئی تعمیر شدہ گھر اور ایک جی پی سرجری نئے مریضوں کی آمد کو سنبھالنے کے لیے پریشانی کا شکار ہیں۔  ۔ یہ اسٹینڈش کے لوگوں کا فیصلہ تھا کیونکہ لوکل ڈیموکریسی رپورٹنگ سروس نے اسکول میں گھر جانے کے وقت پر گاؤں کے مرکز میں سڑکوں کو بھرتے دیکھا۔ ایسے رہائشی جن کی پرورش اسٹینڈش میں ہوئی ہے، کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے 30 سال کے عرصے میں ایک خوشگوار، مسحور کن چھوٹے گاؤں سے ایک ایسی جگہ میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے جو اب اس کے مرکزی چوک پر افراتفری کے لیے مشہور ہے جہاں پریسٹن روڈ، ہائی اسٹریٹ، سکول لین، اور مارکیٹ سٹریٹ ملتے ہیں۔ جنکشن کے قریب کاروبار بھی، معمول کے چھوٹے حادثات، ڈرائیوروں کے خراب گاڑی چلانے، ہارن بجانے، روڈ ریج کے واقعات اور بازار سے ہائی سٹریٹ کی طرف بائیں مڑنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اس ہفتے افراتفری اس وقت مزید خراب ہو گئی جب اسٹینڈش کی طرف جانے والی سڑکوں میں سے ایک ریکٹری لین پر ٹریفک بند ہو گئی، اس کے نتیجے میں کویکر پیلیس کے ساتھ قریبی سکول لین پر عارضی ٹریفک لائٹس لگ گئیں۔ ایان ہارٹ کے مطابق، جو اسٹینڈش کے قلب میں ونارڈ پراپرٹی گروپ کا دفتر چلاتے ہیں، اکتوبر 2023 سے گاؤں کے مرکز کے ایک میل کے دائرے میں مسلسل سڑک کے کام ہو رہے ہیں۔ ایان نے کہا “یہ ایک طویل عرصے سے خوفناک رہا ہے”۔ “لیکن یہ پچھلے 18 مہینوں کے دوران خاص طور پر خراب رہا ہے۔ ہم نے حادثات، لوگوں کو لائٹس جمپ ​​کرتے ہوئے، اور لوگوں کو اپنی کاروں سے باہر نکلتے اور دوسرے ڈرائیوروں کو دھمکیاں دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ ایک پاگل پن ہے۔” قریبی گیلو ویز بیکرز شاپ کی منیجر 43 سالہ سٹیفنی اینڈریوز نے  کہا “لوگ اپنے گاڑیوں کے ہارن بجا رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں اور گر رہے ہیں” انہوں نے کہا “ہم نے بہت سے چھوٹے حادثات دیکھے ہیں”۔ سڑک کے کام جو اس ہفتے ہوئے ہیں وہ اسکول لین پر ہیں – اس جنکشن پر مستقل ٹریفک لائٹس کی جگہ عارضی ٹریفک لائٹس تھیں جنہیں الیکٹرسٹی نارتھ ویسٹ نے ہنگامی کاموں کے لیے لگایا تھا۔ کام بدھ (22 جنوری) کو دوپہر سے پہلے مکمل کر لیا گیا تھا۔ چورلے روڈ پر، یونائیٹڈ یوٹیلٹیز کی جانب سے عارضی ٹریفک سگنلز کے ساتھ ہنگامی کام شروع کیے گئے ہیں۔ جمعرات (23 جنوری) تک کام مکمل ہونے کی توقع تھی۔ روڈ ورکس پرمٹ کو کہا گیا ہے تاکہ تاخیر کو کم سے کم کرنے کے لیے ٹریفک لائٹس کا انتظام کیا جائے۔ فی الحال پیپر لین میں بجلی کے نارتھ ویسٹ کے منصوبہ بند کام کے لیے پیر (27 جنوری) تک عارضی ٹریفک سگنل موجود ہیں۔ روڈ ورکس پرمٹ مشروط ہے تاکہ تاخیر کو کم سے کم کرنے میں ٹریفک لائٹس کا عملہ رکھا جائے۔

اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں کے لیے جزوی نقل و حرکت کی اجازت

اسرائیلی فوج نے غزہ میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت کے لیے جزوی رعایت کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ فیصلہ جنگ کی شدت میں اضافہ اور انسانی بحران کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان آیا ہے۔ مقامی وقت کے مطابق اسرائیلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ الرشید اسٹریٹ پر صبح 7 بجے سے فلسطینیوں کو پیدل گزرنے کی اجازت ملے گی جبکہ صلاح الدین اسٹریٹ مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے سے گاڑیوں کے لیے کھول دی جائے گی۔ تاہم، یہ فیصلہ غزہ میں جاری شدید لڑائی کے بیچ آیا ہے جہاں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں اور خوراک، پانی، اور دیگر بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے نقل و حرکت پر عائد کی گئی پابندیاں گزشتہ کچھ ہفتوں سے غزہ میں نافذ ہیں، اور ان پابندیوں کی مدت کے بارے میں کوئی وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔ فلسطینی شہری اور امدادی ادارے اس صورتحال میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوراً مطالبہ کیا ہے کہ محفوظ راستے فراہم کیے جائیں تاکہ لوگوں تک خوراک، پانی اور طبی امداد پہنچائی جا سکے۔ غزہ کے مقامی رہائشی محمد الخطیب نے اپنے درد بھری کہانی سناتے ہوئے کہا: “ہم یہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کہیں بھی محفوظ نہیں ہے،ہمارے گھروں کو نقصان پہنچا ہے، اور ہمارے پاس کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو چکی ہیں۔”  ان کے جیسے ہزاروں فلسطینی اس وقت غزہ کی گلیوں میں اپنے خاندانوں کے ساتھ پناہ گزینی کی حالت میں ہیں، اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ جزوی رعایت اور کھلے راستے غزہ کے مقامی رہائشیوں کے لیے عارضی طور پر امید کا باعث بنے ہیں لیکن انسانی امدادی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صرف جنگ بندی اور امداد تک بلا روک ٹوک رسائی ہی اس بحران کو حل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی گروپوں نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ جنگ زدہ علاقے میں شہریوں کے لیے محفوظ اور پائیدار راستے فراہم کرے۔ غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی بحران نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس بحران کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، اور یہ صورتحال اس وقت ایک سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، اور غزہ کے رہائشیوں کے لیے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ ان کے لیے مشکلات کا خاتمہ کب ممکن ہوگا۔ یاد رہے کے حالیہ دنوں میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان شدید لڑائی کے بعد، کچھ ممالک کی ثالثی سے سیز فائر ہوگیا۔ اس کے بعد، اسرائیل نے پناہ گزینوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے راستے کھولے ہیں تاکہ ان کی حالت بہتر ہو سکے۔ یہ تنازعہ بہت زیادہ نقصان اور جانی نقصانات کا سبب بناتھا  اور  بین الاقوامی کمیونٹی نے اس سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہاربھی  کیا ہے۔

برطانیہ میں چاقو کے بڑھتے واقعات، چاقو خریدنے کے قوانین میں سختی

Uk crime

برطانوی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ دکانداروں  کومجبور  کرے گا کہ وہ چاقو خریدنے والے بچوںکی عمر کی تصدیق کرے اور پھر چاقو بیچے ، ایک ٹیلر سوئفٹ کے ڈانس ایونٹ میں ایک نوجوان کی جانب سے تین کمسن لڑکیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کے بعد پالیسی میں سختی آئی۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز کے مطابق ایک ہفتے کے دوران پولیس نے 74 لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور ان سے 123 چاقو ضبط کیے ہیں۔ جولائی میں ایکسل روڈاکوبانا کے چاقو کے حملے کو وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے گزشتہ ہفتے برطانیہ کی تاریخ کے سب سے خطرناک لمحات میں سے ایک قرار دیا تھا اور اس نے ان ناکامیوں کے بارے میں عوامی انکوائری شروع کر دی تھی جس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ اگرچہ اس انکوائری میں اس بات پر توجہ رکھنے کی توقع کی جاتی ہے کہ ریاستی ادارے قاتل کے حملے سے پہلے اس کے بارے میں پتا لگانے میں کیوں ناکام رہے، وہیں پر چاقو خریدنے سے متعلق قوانین پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ موجودہ برطانوی قوانین کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کو چاقو خریدنے سے روکنے کے لیے دکانداروں سے عمر کی تصدیق کا انتظام ہونا ضروری ہے، لیکن ان کے لائحہ عمل کی واضح طور پر وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ یوویٹ کوپر نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں کہا کہ یہ ایک شرمناک بات ہے کہ روداکوبانا، جس کی عمر حملے کے صرف وقت 17 سال تھی، آن لائن چاقو خریدنے میں کامیاب رہی تھی۔ اتوار کے روز حکومی عہدیداران نے کہا کہ اب سے یہ ضروری ہے کہ چاقو خریدنے والی کی تصویر ،خریداری اور ڈیلیوری کے وقت تصدیق کی جائے گی اور ڈیلیوری بھی وہ ہی لوگ حاصل کریں گے جنہوں نے آرڈر کیا ہوگا۔ اتواز کے روز کوپر نے کہا کہ ” یہ شرم ناک ہے کہ ابھی تک بچوں کے لیے آن لائن ہتھیار خریدنا کتنا آسان ہے۔ اپنی غلط معلومات لکھ کر پارسل آسانی سے ھاصل کیے جا سکتے ہیں جب کہ کوئی بھی آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھے گا۔”

سڑکوں پر’کش‘ لگانے پر پابندی، جاپان ایسا کیوں کررہا ہے؟

Ban ciggrette

جاپان کے شہر اوساکا میں 2025 کی ورلڈ ایکسپو کی تیاریاں جاری ہیں، عالمی ایونٹ سے قبل ہی سڑکوں پر تمباکو نوشی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ ایکسپو اپریل میں شروع ہوگی، جس میں تقریباً 160 ممالک اور علاقے حصہ لیں گے۔  سیگریٹ نوشی پر پابندی لگانے کا مقصد شہر کو صاف اور دھوئیں سے پاک بنانا ہے۔ پابندی پیر27 جنوری سے نافذ کردی گئی ہے۔  جب کہ اوساکا اسٹیشن کے قریب پہلے سے کچھ علاقوں میں پابندیاں تھیں۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 1,000 ین (6.40 ڈالر) جرمانہ ہوگا۔ اوساکا کے میئر ہیڈی یوکی یوکویاما نے کہا کہ پابندی کا مقصد شہر کو دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کے لیے خوشگوار اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔  اگرچہ جاپان کے دوسرے علاقوں میں سڑکوں پر تمباکو نوشی پہلے ہی ممنوع ہے، کچھ قانون سازوں کی مزاحمت کی وجہ سے ملک بھر میں مزید سخت قوانین نافذ نہیں ہو سکے۔  اوساکا میں اب بھی کچھ ریستورانوں میں مخصوص کمروں میں تمباکو نوشی کی اجازت ہے، مگر اپریل سے 30 مربع میٹر سے زیادہ جگہ والے کھانے پینے کے مقامات کے اندر تمباکو نوشی پر پابندی ہوگی۔ اوساکا کے لیے 2025 کا ایکسپو ایک بہت اہم ایونٹ ہے، لیکن ٹکٹوں کی فروخت میں سستی کی وجہ سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔  جنوری کے اوائل تک 7.5 ملین ٹکٹ فروخت ہو چکے تھے، جو 15 ملین کے ہدف سے کم ہیں۔ اس کے علاوہ، ایونٹ کے لیے تعمیراتی بجٹ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔  2018 میں ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے دوران، ٹوکیو نے بھی تمام ریستورانوں میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کی تھی، مگر کچھ علاقوں میں باہر تمباکو نوشی کی اجازت اب بھی ہے۔ جاپان کی معیشت میں تمباکو کی فروخت اہم کردارادا کرتی ہے، کیونکہ حکومت سگریٹ ٹیکس سے تقریباً دو ٹریلین ین (13 بلین امریکی ڈالر) کماتی ہے اور جاپان ٹوبیکو کمپنی میں حکومت کا ایک تہائی حصہ ہے۔  تاہم، حالیہ برسوں میں جاپان میں تمباکو نوشی کی شرح کم ہو رہی ہے، اور 2023 میں صرف 15.7 فیصد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں، جو عالمی رجحان کی عکاسی ہے۔  

روس یوکرین جنگ: روسی توپوں کی گھن گرج میں شدت آگئی

(فائل فوٹو)

یوکرین اور روس کے درمیان جاری اس تصادم میں بے گناہ افراد کی جانیں جا رہی ہیں، جبکہ عالمی معیشت اور سیاست بھی اس بحران سے متاثر ہو رہی ہے۔ اس جنگ کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں ایک نیا اور تشویشناک موڑ آ چکا ہے جب روس کی فوج نے یوکرین کے مشرقی علاقوں میں حملے تیز کر دیے ہیں۔ روسی توپوں کی گھن گرج سے یوکرین کے شہر پوکروفک میں ایک خاتون کی ہلاکت اور کئی افراد کے زخمی ہونے کی خبریں آئی ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ روسی افواج نے یوکرین کے دفاعی مورچوں کو مسلسل 38 مرتبہ توپ خانے سے نشانہ بنایا ہےجو کہ یوکرین کی سلامتی کے لیے ایک شدید خطرہ بن چکا ہے۔ یورپی اور عالمی میڈیا میں ایک اور سنسنی خیز خبر نے ہلچل مچادی جب یوکرین کی فوج نے روس کی ریاضان آئل ریفائنری پر اپنے حملے کا دوسرا راؤنڈ شروع کیا۔ یہ ریفائنری روس کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک ہے اور اس پر یوکرین کی جانب سے مسلسل حملے روس کے معاشی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ اسی دوران یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مشرقی یوکرین کے دفاع کے لیے اپنے کمانڈر کا تیسری بار تبادلہ کیا ہے۔ پوکروفک کے دفاع کے ذمہ دار کمانڈر میجر جنرل میخائیلو ڈراپاتی کو نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے کیونکہ شہر روسی افواج کے حملے کے لیے ایک اہم ہدف بن چکا ہے۔ اسی دوران عالمی سیاست میں بھی اہم موڑ آیا ہے جب یوکرین کے صدر زیلنسکی نے مولڈووا کے صدر مایا سانڈو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرانسنیسٹریا یوکرین کو بجلی فراہم کرے تو یوکرین اس علاقے کو سستے یا مفت نرخوں پر کوئلہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک نیا سیاسی اقدام ہے جس سے یوکرین اور مولڈووا کے تعلقات میں گہرائی آ سکتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی روس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق روسی ٹیلی گرام چینل “ریبار” کے ارکان نے حالیہ دنوں میں عراق کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عراقی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ یہ اقدام روس کے عالمی اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس دوران پولینڈ کے صدر آندریج دودا نے عالمی سطح پر ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے نیٹو کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں کم از کم 3 فیصد اضافہ کریں تاکہ ‘روس کی سامراجی خواہشات’ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ بیان روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف عالمی سطح پر ایک مضبوط ردعمل کا غماز ہے۔ دوسری جنانب بلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکو نے اپنے ملک کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی ہےجس کے نتیجے میں وہ اپنی حکمرانی کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ صدر لوکاشنکو نے کہا کہ انہیں روس کو اپنے علاقے سے یوکرین پر حملہ کرنے کی اجازت دینے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے جو کہ ایک اور سنگین عالمی پیغام ہے۔ اس کے علاوہ ایک دل دہلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ یوکرین کی سرزمین پر ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگ کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اور روسی افواج یوکرین کے دفاعی مورچوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔ ایسے میں یوکرین کی طرف سے جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں جو عالمی سیاست اور جنگی حکمت عملی کے حوالے سے ایک نئے باب کا آغاز کر رہی ہیں۔ اس بحران کو روکنے کے لیے عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ کو اپنے کردار کو فعال کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے موثر حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ اقوام متحدہ کو یوکرین میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سدباب کرنے اور جنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا تاکہ اس تنازعہ کو کسی منصفانہ حل کی طرف لے جایا جا سکے۔

ٹرمپ کی تجویز: فلسطینیوں کی شناخت اور آزادی کو خطرہ

Palestine

دنیا بھر میں فلسطینیوں کے بارے میں ایک نیا تنازعہ شروع ہو گیا ہے، جب امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن تجویز دی کہ مصر اور اردن کو غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اس تجویز پر مشرق وسطیٰ میں خاص طور پر فلسطینیوں، مصر اور اردن کے حکام کی جانب سے شدید ردعمل آیا ہے۔ یہ تجویز ایک دن قبل، ہفتے کے روز سامنے آئی تھی جب ٹرمپ نے کہا، “میں اردن اور مصر کے حکام سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ غزہ کے 2.3 ملین فلسطینیوں کو اپنی سرحدوں میں پناہ دیں۔ ہمیں غزہ کی مکمل صفائی کرنی ہے۔” یہ تبصرہ ایک ایسا چیلنج تھا جسے سیاسی مبصرین نے ایک نیا قدم اور شاید ایک سنگین تباہی کے طور پر دیکھا۔ ٹرمپ نے غزہ کو “تخریب کا منظر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت غزہ کی حالت اتنی بدترین ہو چکی ہے کہ وہاں کے رہائشیوں کے لیے نئے مقامات پر پناہ لینا ضروری ہو سکتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ اقدام فلسطینیوں کو اس بدترین جنگ کی حالت سے بچا سکتا ہے اور انہیں ایک بہتر زندگی کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔ مگر یہ تجویز مصر اور اردن کے لیے ایک لمحہ فکریہ ثابت ہوئی۔ دونوں ممالک نے فوری طور پر اس کی سختی سے مخالفت کی۔ اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کہا، “یہ تجویز ہماری پالیسی کے خلاف ہے اور ہم اسے سختی سے مسترد کرتے ہیں۔” مصر نے بھی اس تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس سے علاقے میں مزید بحران پیدا ہو سکتا ہے اور امن کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔ حماس اور فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس تجویز کی شدید مذمت کی۔ ان کے مطابق، یہ ایک نیا “نسل کشی” کا منصوبہ ہو سکتا ہے جو فلسطینیوں کی شناخت اور ان کی موجودگی کو خطرے میں ڈالے گا۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی اس تجویز کو “نسل کشی” قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ فلسطینیوں کے حقوق کی سنگین پامالی ہوگی۔ مصر اور اردن کے حکام نے اس تجویز کے اثرات پر بھی بات کی۔ مصر نے خبردار کیا کہ اگر فلسطینیوں کی بڑی تعداد کو اس کی سرحدوں میں پناہ دی گئی تو اس سے نہ صرف اسرائیل کے ساتھ اس کے امن معاہدے کو خطرہ لاحق ہو گا بلکہ پورے علاقے میں استحکام کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اردن بھی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ اس کا ملک پہلے ہی لاکھوں فلسطینی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، اور کسی مزید فلسطینیوں کو اپنے علاقے میں بسانا اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس تجویز کی حقیقت میں تبدیلی اور اس کے اثرات پر تمام نگاہیں مرکوز ہیں۔ فلسطینیوں کا موقف یہ ہے کہ اگر انہیں اس طریقے سے بے گھر کیا گیا، تو وہ کبھی اپنے وطن واپس نہیں جا پائیں گے، اور یہ ان کی آزادی اور شناخت کے لیے ایک سنگین دھچکا ہوگا۔ فلسطینی معاشرت میں اپنی زمین سے جڑے رہنے کی گہری روایت ہے، جو غزہ کی ان ویران گلیوں میں دکھائی دیتی ہے جہاں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں کی تباہی کے باوجود واپسی کے لیے مصر و اردن کی سرحدوں پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں اسرائیل کی خاموشی اہمیت رکھتی ہے، جو ابھی تک اس تجویز پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم، اسرائیل کے وزیر مالیات بزیلیل اسمتریچ نے اس تجویز کو “عظیم خیال” قرار دیا ہے، جو کہ غزہ میں فلسطینیوں کے مستقل یا عارضی اخراج کو ایک عملی حقیقت بنا سکتا ہے۔ اس بات نے اس تجویز کے پیچیدہ سیاسی کردار کو مزید واضح کر دیا ہے، جس میں ایک طرف فلسطینیوں کا مستقبل، دوسری طرف اسرائیل کا مفاد اور تیسرے نمبر پر عرب دنیا کا استحکام داؤ پر لگا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ عالمی برادری اور خطے کے ممالک اس تجویز کے ردعمل میں کس طرح کی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ یہ کہانی ختم ہونے سے بہت دور ہے، اور اس کے کئی سیاسی، سماجی، اور انسانی اثرات مرتب ہوں گے۔