
بلاگ

لیوی، لانگ مارچ اور ایک حافظ جو تھکنے کا نام نہیں لے رہا
سات اگست کو جب امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا تو حسبِ روایت تجزیہ کاروں کی اکثریت کا خیال تھا کہ یہ بھی دیگر سیاسی ’تاریخی دن‘ کی طرح ایک دن کا تماشا ہو گا۔ نعرے لگیں گے، ٹی وی چینلز بریکنگ نیوز چلائیں گے، اگلے دن تجزیہ کار کسی نئے تنازعے پر منتقل ہو جائیں گے، اور پیٹرولیم لیوی وہیں کی وہیں رہے گی جہاں تھی۔ ستمبر کا تیسرا ہفتہ گواہ ہے کہ یہ اندازہ، ہمیشہ کی طرح، غلط نکلا۔

جہاز، جہازی اور ہم زمین والے

خواب یا حق؟

پٹرول، احتجاج اور سیاسی تماشا

نئے صوبوں کی بحث، کیا سندھ کی تقسیم ممکن ہے؟

پیٹرول مہنگا ہوتا رہا، ہم چپ چاپ سہتے رہے

بلال کی ’اذاں‘ طاقتور ہے!

محسن صاحب! نظام ٹوٹا ہے تو نقشہ کیوں کاٹا جا رہا ہے؟

پانی کا بحران؛ خطرہ دہلیز پر، مگر ہم اب بھی بے خبر

ایک چالان، ایک جان اور پنجاب کی ماں

ریاستی سَرکَس اور عوامی ضروریات

معاہدہ برائے مفاد

سول جھگڑا، فوجداری کیس کیوں؟

شفقتِ نبوی ﷺ: تلخ رویوں کے دور میں مرہم

زیتون اگاؤ، ڈالر بچاؤ

عمران خان! کاش تم ’خودکشی‘ نہ کرتے

آزاد قیدی

اندھیرا کب ختم ہوتا ہے؟

سنو! حافظ نعیم الرحمان تقریر کر رہے ہیں

خیالی سلطنت کے شہری

کاروبارِ حیات، ہماری نسل اور توازن کی تلاش

پرانا متن نیا ڈرامہ: عمران خان کے لیے ڈیل ہوگئی؟

حافظ کے دھرنے: کیا حکومت گھٹنے ٹیک دے گی؟

17 اگست 1947ء — تقسیم پنجاب اور میرے خاندان کی ہجرت کی داستان





