اپریل 4, 2025 7:19 صبح

English / Urdu

ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کا تحفظ : حکومت پنجاب کا سرسبز مستقبل کی جانب سفر

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کے تحت محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے عالمی یوم جنگلات ہرسال 21مارچ کو منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 21 دسمبر 2012 کو ایک قرارداد منظور ہوئی۔جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہرسال 21 مارچ کو انٹرنیشنل فاریسٹ ڈے منایا جائے گا۔ قرارداد کے ذریعے تمام رکن ممالک کو پابند کیا گیا کہ وہ جنگلات اور خالی میدانوں میں پودے لگانے کی منظم مہم چلائیں ۔ اس دن کو منانے کا مقصد جنگلات کی اہمیت اجاگر کرنا اور ان کی حفاظت کے لیے عالمی سطح عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے ۔ رواں سال یہ دن خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے جنگلات کے اہم کردار کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 5ارب سے زائد افراد خوراک، ادویات اور روزگار کے لیے جنگلات اوراس کی مصنوعات استعمال کررہےہیں۔۔لیکن ہر سال 70 ملین ہیکٹر جنگلات جل کر راکھ جبکہ 10 ملین ہیکٹر جنگلات کو غیر قانونی کٹاو کا سامنا ہے۔ محکمہ جنگلات پنجاب کی شجر کاری مہم کو اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (UNFAO) نے باضابطہ تسلیم کر لیا،  پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ UNFAO نے جنگلات کے عالمی دن کی مہم میں محکمہ جنگلات پنجاب کو آفیشل لوگو اور بینرز استعمال کرنے کی اجازت دی، جبکہ اپنی ویب سائٹ پر 14 مقامات پر جاری شجر کاری مہم کی تفصیلات بھی شائع کر دی ہیں۔ محکمہ جنگلات پنجاب، پاکستان کے قدرتی وسائل کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور عوام سے اپیل کی کہ جنگلات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی بقا کے لیے اپنی آواز بلند کریں محکمہ جنگلات پنجاب 1.6 ملین ایکڑ پر پھیلے جنگلات کی نگرانی کرتاآ رہا ہے ۔1864سے محکمہ روایتی طریقوں سے سرگرمیاں سرانجام دے رہا تھا جس میں کئی سالوں تک کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ تاہم محکمے نے جی آئی ایس پر مبنی ٹیکنالوجی یعنی ریموٹ سینسنگ ، لائیڈار اورہائی ریزولوشن میپنگ کی مددسے عملی اقدامات اٹھائے۔ جن کی مدد سے جنگلات کی حفاظت کیلئے شب و روز کام ہورہا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کے تحت محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جو انقلاب کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ سیٹلائیٹ اور ڈرون ٹیکنالوجی سے فاریسٹ چینج ڈیٹیکشن یعنی فاریسٹ کور میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ٹیکنالوجی  کو بروئے کارلاتے ہوئےبطور پائلٹ اسٹڈی  مری کے پچاس ہزار ایکڑ جنگلات کی سات سینٹی میٹر ریزولوشن پرڈرون میپنگ اور تھری ڈی ماڈلنگ سمیت دنیا کے سب سے بڑے انسانی ہاتھ سےلگائے گئے جنگل چھانگا مانگا کی ہائی ریزولوشن تھری ڈی میپنگ مکمل کرلی گئی ہے۔ جس سے چھانگا مانگا کی ریگولر مانیٹرنگ کامیابی سے جاری ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی ناجائزتجاوزات کی نشاندہی اور نیچرل ریسورس مینجمنٹ کیلئے بھی استعمال ہورہی ہے۔ پائلٹ اسٹدی کی کامیابی کے بعد ؂ اسکا دائرہ کار پنجاب بھرکے جنگلات تک پھیلایا جا رہا ہے تاکہ  قومی قیمتی ورثے کی حفاظت اور درختوں کی ہیلتھ مانیٹرنگ پرنظر رکھی جاسکے ۔ جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کیلئے ملٹی سپیکٹرل ، ہائیپر سپیکٹرل اور تھرمل سینسرکی مدد سےدور دراز علاقوں سے ایسی اہم معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں جنہیں عام انسانی آنکھ سے دیکھنا مشکل ہے۔ محکمہ جنگلات نے ایک صدی پرانے ریکارڈ کی ڈیجیٹل فاریسٹ انوینٹری بنانے کی جانب بھی قدم بڑھایا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے ہائی ریزولوشن امیجز کے ذریعے کمپارٹمنٹ لیول فاریسٹ میپنگ کی جارہی ہے۔ جس سے جنگلات کی حدود کا تعین کیاجارہا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کی مددسے ڈینسٹی میئرمنٹ کی جارہی ہے اور درختوں کی اسپیشز کا ڈیجیٹل ریکارڈ اکٹھا کیا جارہاہے انسپیکشن ریجیم سسٹم کےتحت ایک موبائل ایپلیکیشن لانچ کی گئی ہےجس سے روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ میں ڈیوٹی پر موجود سٹاف کی انسپیکشن ہورہی ہے۔اس اپلیکشین کو ہرآفیسر کی پرفارمنس ایویلوئیشن رپورٹ کے ساتھ لنک کردیا گیا ہے ۔ محکمہ جنگلات جلد ہی ایک ڈیجیٹل سینٹرلائزڈ سسٹم لانچ کرنے جارہا ہے ۔ جس کے ذریعے ڈویلپمنٹ اور نان ڈویلپمنٹ بجٹ کی یوٹیلائزیشن اور مانیٹرنگ ہوگی دنیا بھر میں کاربن کریڈٹ اور کاربن مارکیٹنگ پرانویسٹمنٹ جاری ہےجس کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لائیڈار ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کے ذریعےدرختوں کا تنا کاٹے بغیربائیو ماس ایسٹی میشن  کی جا رہی ہے ۔اس سلسلے میں محکمہ جنگلات نے چھانگا مانگا جنگل کی پائلٹ اسٹڈی مکمل کرلی ہے جس کےنتائج اطمینان بخش ہیں ہرسال پنجاب کے جنگلات میں لگنے والی آگ، جنگلات میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی ، جنگلات کی زمین پر غیر قانونی قبضہ جنگلات اور جنگلی حیات کے مسکن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ راولپنڈی اور مری میں جنگلات کی آگ تباہی کا سبب ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ایک ارلی وارننگ اینڈ ڈی ٹیکشن سسٹم پر کام جاری ہے اور جلد ہی اس کو لانچ کیا جائے گا ۔اس وارننگ سسٹم سےجنگلات کی آگ کی بروقت نشاندہی ہوسکے گی ۔ وائلڈ فائر ٹریک کرنے، آگ پر بروقت قابو پانے اور اس کا پھیلاؤروکنے میں مدد ملے گی ۔ سینٹلائزڈ کنٹرول روم وائلڈ فائر کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ اور ارلی ڈیٹیکشن وارننگ الرٹ جاری کرے گا ۔جس سے جنگلات میں لگنے والی آگ کی شرح میں کمی لائی جائے گی۔ جنگلات سے متعلقہ  کسی بھی ہنگامی اور ناگہانی صورتحال سے بروقت نمٹنے کیلئے محکمہ جنگلات پنجاب نے ہیلپ لائن نمبر 1084 کا آغاز کردیا ہے ۔ ہیلپ لائن  پر غیرقانونی تجاوزات ،قبضےاور درختوں کی کٹائی کی نشاندہی یا کسی بھی شکایت کی صورت میں بروقت اطلاع دی جاسکتی ہے ۔ایمرجنسی کالزموصول ہونے پر محکمہ جنگلات شکایت پر فوری کارروائی کرے گا حکومت پنجاب کا یقین ہے کہ  جنگلات سموگ کے خلاف حفاظتی حصارہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازصاحبہ کے مشن کےتحت اورسینئر وزیرمریم اورنگزیب کی سرپرستی میں محکمہ جنگلات صوبہ بھر میں منظم شجرکاری کیلئے سرگرم ہے۔ شجرکاری کے میگاپراجیکٹس  کے ذریعے سموگ اور ماحولیاتی تبدیلی کو کنٹرول کرنے

کمپنی تو یہی چلے گی 

’ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں بیان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں‘ شاہ جی نے ملتان روڈ کے ڈھابے پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے سوال کیا، میں نے ادھر ادھر دیکھا اور جواب دیا کہ یہ تو ٹرمپ کا معمول ہے، میڈیا میں رہنے کا ٹرک ہے، جیسے ’کپتان‘ کا تھا، صبح بات کی شام کو’یوٹرن‘ لے لیا ۔ نہیں۔ چائے کی دوسری چسکی لیتے ہوئے شاہ جی بولے’یہ کوئی روٹین بات نہیں، آپ کو چند دن بات اندازہ ہوجائے گا کہ کیا ہونے والا ہے‘۔ میں بھی ٹھہرا ایک ضدی ایڈیٹراورشاہ جی ایک صحافت کے ’کیڑے‘۔ جھنجلا کے بولے کہ ’پاکستان کی قوم ایک بار پھربکے گی، حکومت اور ادارے ایک بار پھر سہولت کاری کریں گے، یہ کمپنی یوں ہی چلتی رہے گی‘۔ میں اٹھا اور سیدھا دفتر پہنچا توپتا چلا کہ’ جعفر ایکسپریس کو درہ بولان پریرغمال بنالیا گیا ہے‘۔ ٹی وی چینلز پر دیکھا تو مین سٹریم میڈیا پر’سب اچھا ہے‘ کی خبریں چل رہی تھیں۔ مگر ہمارے ذرائع پل پل کی خبر دے رہے تھے جن کو روکا جارہا تھا۔ مین سٹریم میڈیا تو قابو میں تھا سوشل میڈیا پر کچھ ٹھیک تو کچھ فیک خبریں بھی چل رہی تھیں ۔ کچھ خبریں تو’بی ایل اے‘ کے پیجز اور واٹس ایپ نمبرزسے بھی پھیلائی جارہی تھیں۔ ذرا پیچھے گئے تو ایک خبر ایسی بھی تھی جس کا پاکستانی میڈیا کو علم نہیں تھا مگرڈونلڈ ٹرمپ نے کانگرس ارکان کے ساتھ ایک خوشخبری کے طور پر شیئر کیا اور ساتھ ہی پاکستان کا ’شکریہ‘ بھی ادا کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ سب کنٹرول میں ہے سوائے ان کے جن کو کنٹرول کرنا چاہیے۔ تم یہ نہیں بول سکتے، تم یہ نہیں کہہ سکتے،تم یہ لکھوگے تو غدار کہلائے جاؤ گے، یہ بولو گے تو ماردئیے جاؤ گے،فلاں فلاں تمھاری حد ہے اسے عبور کرو گے تو اٹھا لئے جاؤ گے، یہ اپنی مرضی سے بولتا ہے، یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے ، یہ بے ادب مقدس لوگوں پر حرف اٹھاتا ہے، یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے جن کے بارے میں سوال کرنا گناہ ہے، یہ وہ پابندیاں ہیں جن میں پاکستانی معاشرہ جکڑا ہوا ہے۔  مقرر اپنی مرضی سے تقریر نہیں کرسکتا، لکھاری آزادی سے لکھ نہیں سکتا۔ صحافی کے پاس خبر ہوتی ہے لیکن وہ اسے من و عن اپنے قارئین یا ناظرین تک پہنچانے سے قاصر ہے۔ کتنی افسوسناک بات ہے کہ پاکستان بھر میں 17 فروری 2024 سے بند ہونے والی ’ایکس‘ کی سروس تاحال بلا تعطل بحال نہیں ہوسکی ہے، شرمندگی کی بات یہ ہے کہ حکومت کے اہم عہدیدار بھی جواب دینے سے قاصر ہیں اور لاعلم نظر آتے ہیں کہ اسے کیوں بند کیا گیا؟بلکہ اقتدار پارٹی کے رہنماء بھی اس کو کھولنے کے حق میں آواز اٹھاتے  نظر آتے ہیں۔ وہی ایکس کی سروس حکومت وی پی این لگا کے دھڑلے سے استعمال کرتی نظرآتی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو ’ففتھ جنریشن‘اور باجوہ ڈاکٹرائن کے بڑے چرچے تھے۔ایک منصوبے کے تحت اس مخصوص نظریے کو نوآموز ذہنوں میں انڈیلا گیا ،اس وقت نوجوانوں کو ’وارئیرز‘قراردیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ جو برتری پاکستان اور اس کے ادارے کو حاصل ہے وہ انڈیا کو بھی نہیں، پھر وقت بدلا،حالات بدلے اور جذبات بھی بدل دئیے گئے۔ جو محب وطن تھے وہ غدار ٹھہرے اور جو کرپٹ تھے وہ’صادق اورامین‘ بن گئے۔ زبان وبیان کل بھی کنٹرول کیا جارہا تھا اور آج بھی ۔ قلم ،مائیک ،کی بورڈ کو کنٹرول میں رکھنے والے چاہتے کیا ہیں؟ ان کی چاہت ہے کہ یہ ان کے قصیدہ خواں بنے رہیں،جو ہم کہیں وہی سنیں،جو ہم بولیں وہی لکھیں، یہ چاہتے ہیں کہ کوئی سوال اٹھانے کے قابل نہ رہے، یہ چاہتے ہیں کہ کوئی دانش کی بات نہ کرسکے، یہ چاہتے ہیں کہ جو ہم کہیں اسی کو سچ سمجھ کر قبول کیا جائے، یہ بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں، عہد حاضر کے بچے دس سال سے پیچھے نہیں سوچتے ،یہ بچے ’’لانگ ٹرم میموری لاس‘‘ کا شکار ہوچکے ہیں، 10 سال سے پیچھے ان کے دماغ بند ہوجاتے ہیں۔ پہلے کیا سے کیا ہوتا رہا؟ کچھ بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ یہ ایک  سوچ اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ۔ اداروں کو بانجھ کرنے ،ذہنوں کو قید کرنے کا کام تین دہائیاں پہلے شروع کیا گیا اب اس کا پھل اٹھا رہے ہیں ۔ایک ایک کرکے عقل وشعور کی بات کرنے والے ادارے بانجھ بنادیے گئے،اب وہ انقلابی شاعر نہیں ملیں گے جن کے ایک ایک مصرعے پرشرکاء میں زلزلہ پیدا ہوجاتا ،اب وہ لکھاری نہیں رہے جن کے جملے دستور بن جاتے،اب وہ طلباءنہیں جن کے نعروں سے ایوان کانپتے تھے،اب تو تعلیمی ادارے برائلر پالنے والے مرغی فارم بن چکے ہیں جن کے تیار کردہ بچے خود اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ ہم ایک ہجوم بن گئے ایک قوم نہ بن سکے۔ کچھ چیدہ چیدہ پرانے لوگ رہ گئے ہیں ان کو بھی بزور طاقت جھکانا چاہتے ہیں، ان کو ڈرایا جارہا ہے، دھمکایا جارہا ہے، پھر بھی باز نہیں آئے تو سوشل میڈیا پر رلایا جارہا ہے۔ سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے یہی کام انڈیا کا مودی کرتا ہے تو ہم اسے فسطائی کہتے ہیں۔ یہی کام امریکا کا ٹرمپ کرتا ہے تو ہم ’گالیاں‘ دیتے، یہی کام اسرائیلی نیتن یاہو کرتا تو اسے ہم کیا سے کیا کہتے۔ ہمیں اپنا سچ سچ کیوں لگتا ہے؟ کسی دوسرے کا سچ سننے کا بھی دل گردہ ہونا چاہئے۔ شاہ جی کی باتوں میں کمال تھا، چائے میں جتنی کڑواہٹ تھی اس سے کہیں زیادہ شاہ جی کی باتوں میں تھی، وہ کہتے گئے ہم سنتے گئے، وہ فرما رہے تھے’امریکا نے موجودہ بندوبست کو قبول کرلیا ہے، یہ بندوبست افغانستان کے خلاف ’اسلحہ وصولی‘ کے لیے استعمال ہوگا۔ یعنی’کمپنی تو یہی چلے گی‘۔ کیا آپ کوبھی یہی لگتا ہے؟۔  

ظالموں نے مظلوموں کو مارا

صوبہ بلوچستان گذشتہ کچھ دہائیوں سے دہشتگردی کے لپیٹ میں ہے۔ پہلے یہ دہشت گرد بلوچستان میں عوامی مقامات کو نشانہ بناتے تھے جن میں بسوں کے اڈے، ریلوے اسٹیشنوں بازار وشاپنگ سینٹر ہدف ہوتے تھےلیکن بعد میں ان دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور زیادہ سے زیادہ بے قصور ملازم پیشہ افراد اور معصوم مزدورں کو بے خبری میں نشانہ بنانے لگے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک بلوچستان میں ہزاروں افراد دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوچکے ہیں۔ ایک دل دہلانے والا واقعہ جو کل پیش آیا یہ واقع سب سے پہلے سوشل میڈیا پہ منظر عام پہ آ یا، ٹارگیٹ کلنگ کرنے والوں نے بلوچستان کے ‏جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا ،یہ وہی جعفر ایکسپریس جس کی افتتاحی تقریب سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کی تھی جعفر خان جمالی قائد اعظم محمد علی جناح کے دوستوں میں ایک بہترین دوست تھے ۔ یہ درست ہے کہ اس خوفناک حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس طرح کا واقع چند سال پہلے تربت میں بھی پیش آیاتھا تربت شہر سے پندرہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جن کا تعلق پنجاب سے تھا ۔ کچھ ایجنٹ حضرات غیر قانونی طریقے سے ان نوجوانوں کو ایران کے راستے ان کو یورپ تک بھجوانا چاہتے تھے یہ ایجنٹ ہمیشہ بلوچستان کے دشوار گزار راستوں  سے ہی غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کراتے ہیں پھر ترکی اور ایران بارڈر بھی بہت دشوار گزار علاقوں سے ہوتا ہے حتیٰ کہ یہ پورا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مختلف اداروں کی چیکنگ اور ویزاہ سسٹم سے بچنے کیلئے کیاجاتا ہے۔ بلیدہ تربت ایجنٹوں کا پسندیدہ راستہ ہے اور اس راستے پہ کم خرچہ میں نوجوانوں کو یورپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ شاید ان نوجوانوں کی منزل یورپ کے بجائے بلوچستان کی سر زمین پہ کچھ اور ہی لکھی ہوئی تھی۔ابھی اس واقعے کے زخم ٹھنڈے ہی نہیں ہوئے تھے کہ پھر میرا پیارا بلوچستان لہو لہان ہوگیا ہے ، پھر قربانیاں بلوچستان کے حصے میں آئی ہیں وہ بھی میرے پیارے مسلمان بھائیوں کی۔ بلوچستان میں محنت کشوں کے قتل پہ سب کو سخت مذمت کرنی چاہیے ،میڈیا اب تک بلوچستان کی درست تصویر پہنچنے ہی نہیں دیتا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا بلوچستان کے متعلق کم جانتی ہے کیونکہ بلوچستان کے دشوار گزار راستوں پہ کوئی میڈیا گروپ زیادہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ بلوچوں نے پنجابیوں کو نہیں مارا بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو مارا ہے، بلکہ ظالموں نے مظلوموں کو مارا ہے ان محنت کشوں کا قتل بالکل درست نہیں ہے۔ اس وقت پنجابیوں کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا قتل ہوا ہے بلوچستان میں جو اس سے قبل مرے وہ بھی بلوچی نہیں پاکستانی تھے۔ ہم سب ایک ہیں ، ہمارا دشمن بھی ایک ہے ۔ بلوچستان کی بنجر پہاڑیوں میں جہاں کوئی جاندار زندہ رہنے کا تصور نہیں کر سکتا وہاں جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود کیسے پہنچتا ہو گا یہ بات ہم سب کو سوچنی چاہیئے آخر ہمارا دشمن کون ہے؟ ‏ جعفر ایکسپریس میں مرنے والے سب مظلوم اور مارنے والے سب ظالم اور دہشت گرد تھے ان دہشت گردوں کا تعلق کسی مذہب ، زبان ،علاقے یا قبیلے سے نہیں ہوتا ہے پنجاب کےلوگ بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر آواز اٹھا رہے ہیں بلوچ قاتل ہے بلوچستان کے لوگ قاتل ہےجو قابل تحسین بات نہیں ہے۔ کاش بلوچوں کے قتل اور بم دھماکوں میں شہید ہونے پر بھی یونہی شور اٹھا کرے تاکہ ظلم بند ہو ۔ آج سارا پاکستان اس بہیمانہ قتل کی مذمت کررہا ہے اور بالکل درست کررہا ہے میرا سوال یہ ہے کہ حالات اس نہج تک کیوں پہنچے؟  ہم گذشتہ سات دہائیوں میں بحیثیتِ قوم ٹکڑیوں اور قومیتوں میں بکھرنے کے کافی اثرات دیکھ چکے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم لسانیت چھوڑ کر ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں آپکا اصل دشمن آپکو سندھی, بلوچ, پنجابی یا پٹھان سمجھ کے نہیں مار رہا ہے وہ آپکو پاکستانی سمجھ کر مروا رہا ہے۔ ‏یہ حملہ صرف ایک دہشت گرد کارروائی نہیں لگتی بلکہ اس میں منظم منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔ اگر ٹرین میں واقعی 100 سے زائد سیکیورٹی اہلکار موجود تھے، تو اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردوں کو پہلے سے اطلاع تھی کہ جعفر ایکسپریس ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حملے کا خطرہ موجود تھا تو حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ جعفر ایکسپریس حملہ صرف ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے سیکیورٹی اور اطلاعاتی نظام کی ایک بڑی آزمائش ہے۔ بلوچستان میں رہنے والے لوگ مقامی ہوں یا غیر مقامی ان کے بے بنیاد قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ہم اس ظلم کے شکار تمام افراد کے خاندانوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں صبرِ جمیل عطا کرے اور حکومتی اداروں سے اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپیل کرتے ہیں یہ میری نہیں بلکہ بلوچستان کی آواز ہے

ہم پرانی نوکری پر بحال ہو گئے

ڈاکٹر عافیہ صدیقی (یہ ایک پاکستانی نیورو سائنٹسٹ ہیں، جو اس وقت افغانستان میں امریکی فوجی اہلکاروں کے قتل کی سازش کے الزام میں امریکا میں پابند سلاسل ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ دوران تفتیش انہوں نے ایک فوجی افسر کی رائفل چھین ان پر فائرنگ کی تھی، امریکی عدالت نے ان کو 86 سال کی سزا سنائی ہے، جس میں سے صرف 16 سال گزر چکے ہیں) کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی گئی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ حکومت پاکستان سے عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرے۔ اس کیس میں ایک مثبت پیش رفت تب سامنے آئی جب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اس وقت کے امریکی صدر، جو بائیڈن کو خط لکھا اور درخواست کی کہ عافیہ صدیقی کی سزا معاف اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کیا جائے۔ اس خط میں وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ عافیہ صدیقی کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی، لہذا ان کو رہا کیا جائے۔ بعد ازاں، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کے مطابق، حکومت پاکستان کے ایک اعلی سطح وفد نے امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قانون سازوں سے ملاقاتیں کیں اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے سے متعلق تمام قانونی پہلووں پر تفصیلی بات چیت کی۔ وفد نے وائٹ ہاوس میں عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے رحم کی اپیل بھی جمع کرا دی۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل، کلائیو اسمتھ نے عدالت میں ایک اعلامیہ جمع کرایا جس میں تجویز دی گئی کہ حکومت پاکستان عافیہ صدیقی کے بدلے پاکستان میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی (یہ ایک پاکستانی ڈاکٹر ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کے بارے میں سی آئی آے کو معلومات فراہم کی تھیں۔ یہ ایک کالعدم عسکری تنظیم کی حمایت کے الزام میں پاکستان میں قید ہیں) کو امریکا کے حوالے کر دے۔ اس تجویز کو قابل غور مانتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا۔ اگلی سماعت پر وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔ حکومت نے یہ بھی دعوی کیا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین قیدیوں کے تبادلہ سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اس کیس میں ایک مایوس کن مرحلہ تب آیا جب وزارت خارجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعظم شہباز شریف کے صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔ تاہم، اس کیس کی مزید سماعتیں جاری رہیں لیکن حالیہ دنوں میں عوام کی جانب سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ ایک بار پھر اٹھایا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کئے گئے افغان دہشتگرد، شریف اللہ عرف جعفر (یہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ شام و عراق کی ذیلی خراسان شاخ کا کمانڈر تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2021 میں افغانستان سے فوجی انخلاء کے وقت کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ پر 13 امریکی فوجیوں کو قتل کیا تھا۔ یہ ایک خود کش حملے میں ملوث تھے جس میں 13 امریکی فوجیوں کے علاوہ 170 افغان شہری بھی ہلاک ہوئے تھے) کو امریکا کے حوالے کیا۔ تب سے سوشل میڈیا صارفین غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت پاکستان سے یہ گلہ کر رہے ہیں کہ اگر امریکا عافیہ صدیقی کو رہا نہیں کر رہا تو آپ نے شریف اللہ کو ان کے حوالے کیوں کیا؟ اس پر حکومت پاکستان کا موقف سامنے آیا جس میں بتایا گیا کہ دہشتگرد شریف اللہ کو اقوام متحدہ کی قرارداوں کے تحت گرفتار اور امریکا کے حوالے کیا گیا۔ حکومت کا یہ اقدام اس لئے بھی تنقید کی زد میں ہے کیونکہ جب عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل نے عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے کی تجویذ دی تو حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل عمل نہیں اور نہ ہی پاکستان کا امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود ہے۔ اس غبارے سے ہوا تب نکلی جب اسلام ہائیکورٹ میں عافیہ صدیق کیس میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، منور اقبال دوگل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دئے کہ آپ کہتے ہیں، امریکا سے قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، لیکن کل آپ نے ایک بندے (شریف اللہ) کو پکڑ کر بغیر کسی معاہدے کے امریکا کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہم نے شکیل آفریدی حوالگی سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب مانگا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا۔ دوران سماعت وفاقی حکومت نے عدالت میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق درخواست فوری نمٹانے کیلئے متفرق درخواست دائر کر دی۔ اس پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ حکومت اب کیس فوری نمٹانے کی درخواست کر رہی ہے، سادہ الفاظ میں کیوں نہیں کہتے کہ آپ کیس سے چٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو خط لکھنا تھا، لکھ دیا، ان کو ویزہ چاہیئے تھا دے دیا، آپ نے جو کرنا تھا، کر لیا۔ ایسا کرنے سے پوری دنیا کو معلوم پڑ جائے گا کہ پاکستان نے کیا کیا، آپ نے کون سے تیر مارے! دوسری جانب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان دہشتگرد کی گرفتاری اور حوالگی پر حکومت پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ جواب میں پاکستان نے بھی شکریہ ادا کیا۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ عوام خوش ہو جاتے لیکن وہ اس پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کی تنقید شاید بجا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ پاکستان نے یہ سب آئی ایم ایف کی ڈیل بچانے اور

کیا بھارت حقیقی چیمپئن قرار پائے گا؟

بھارتی ٹیم ممکن ہے چیمپئن ٹرافی تو جیت جائے مگر جینٹلمین کے کھیل کرکٹ میں دن بدن بطور چیٹر رجسٹرڈ ہوتے جارہے ہیں۔ مرد میدان اور اکھاڑے میں حقیقی پہلوان وہی ہوتا ہے جو اپنے زور بازو سے فتح سمیٹے۔ اپنے لیے سازگار ماحول بنانا ، بیرونی و اندرونی سپورٹ کے ساتھ آپ اگر جیت بھی جائیں تو محض ایک ٹرافی ہی اٹھاتے ہیں اگر آپ کی جیت کو سب قبول نہ کریں آپ کو داد نہ دیں تو پھر آپ کی جیت کا مزا کرکرا ہوکر رہ جاتا ہے اور آپ کا ضمیر آپ کو ملامت کرتا رہتا ہے۔ پہلے پہل آسٹریلین اس سے ملتی جلتی حرکتیں کرتے تھے تو اب بھارت سر فہرست ہے۔ حالیہ چیمپئنز ٹرافی میں جس طرح پاکستان کے میزبان ہونے کے باوجود بھارت نے یہاں کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے لیے ہائبرڈ ماڈل چنا اور پھر تمام ٹیموں کو اپنے پاس دبئی بلاکر میچز کھیلتے ہوئے فائنل تک اپنی رسائی حاصل کی اس پر اب ہر طرف سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ساؤتھ آفریقن بلے باز ملر نے آئی سی سی اور بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان سے فلائٹ لے کر 4 بجے دبئی پہنچے پھر اگلے ہی روز صبح 7:30 بجے واپس پاکستان پہنچ کر 1 بجے میچ کھیل رہے تھے یہ کسی صورت بھی ہمارے لیے آئیڈیل نہیں تھا۔ انہوں مزید کہا ہے کہ ہم اگر ایمانداری سے بات کریں تو نیوزی لینڈ کو سپورٹ کریں گے۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ بھارت نے اس معاملے میں چیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک اور افریقی کھلاڑی ڈوسن نے بھی بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب آپ ایک ہی میدان میں تمام میچز کھلتے ہیں ایک ہی پچ پر بار بار کھیل کر کامیاب ہوتے ہیں اور اپنے حق میں ماحول بناتے ہیں تو اس لیے آپ کو یہ سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ کامیاب کیوں ہورہے ہیں۔ برطانوی اخبار نے بھی بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جملہ کسا ہے کہ فائنل کے لیے ٹاس کرانے کی کیا ضرورت ہے بلکہ سیدھا سیدھا بھارت سے ہی پوچھ لیا جائے وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی سٹار شاہد آفریدی بھی اس معاملے میں خاموش نہیں رہے انہوں نے تو بھارتی ٹیم کو گلی محلے کی اس ٹیم سے تشبیح دے دی ہے کہ جو اپنی ہی گلی میں شیر ہوتی ہے اور تمام میچز جیت جاتی ہے ۔ انہوں نے بھارتی ٹیم کو کہا ہے اگر وہ شیر کے بچے ہیں تو پاکستان میں آکر کھیلیں تب حقیقی کرکٹ سب کو دیکھنے کو ملے گی انہوں نے مزید کہا مگر یہ بھارتی تو گیدڑ ہیں۔ فوکس نیوز نے اس معاملے پر لکھا ہے نیوزی لینڈ نے 7048 کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے اس چیمپیئنز ٹرافی میں جبکہ بھارت نے دبئی میں رہ کر سفر کلومیٹر کے فاصلے کے ساتھ اپنے تمام میچز کھلیے ہیں۔ یہ ایک مذاحیہ صورت حال ہے کہ جس میں پاکستان کے بطور میزبان ہاتھ مضبوطی سے باندھے گئے تھے۔صورت حال تمام کی تمام واضح ہے جو کھلواڑ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سابق آسٹریلوی کپتان مائیکل وا نے بھی بھارت کو اس ساری کیفیت میں آڑے ہاتھوں لیاہے، اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ بھارتی فاسٹ باؤلر محمد شامی نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ یقیناََ ایک ہی پچ پر کھیلنے کا ہمیں بہت زیادہ ایڈوانٹیج مل رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر بھارت اس چیمپئنز ٹرافی کی ٹرافی اٹھا بھی لیتا ہے تو کیا اس کی جیت کو دنیا تسیلم کرے گی؟ اور دوسری طرف یہ تمام گورے جو اب چیخ و پکار کر رہے ہیں یہ اس وقت کیوں چپ سادھے بیٹھے تھے جب جینٹیلمین کے کھیل کرکٹ کے ساتھ جے شاہ کھلواڑ کررہا تھا۔ ایسے میں یہ محاورہ بالکل سچ ثابت آتا ہے کہ ” اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت”

فرق کہاں سے پڑتا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس پر میں اکثر غور کرتارہتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے، کیا ایکس فیکٹر ہے جو ایک شخص،تنظیم یا ادارے کو ٹاپ پر لے جاتا ہے۔ اسے دوسروں سے مختلف اور منفرد بنا دیتا ہے۔ ہم بہت بار دیکھتے ہیں کہ ایک ساتھ سٹارٹ لیا جاتا ہے اور پھر چند برسوں کے اندر ایک جیسی صلاحیت اور ٹیلنٹ رکھنے والے بعض لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں، ان میں سے ہی کوئی ایک یا دو تین لوگ آگے نکل جاتے ہیں، بہت آگے۔ یہ معاملہ کاروبار کا بھی ہے۔ ایک ساتھ کمپنی بنانے والے، دکان شروع کرنے یا کوئی اور کاروبار کرنے والے لوگوں میں سے بھی بعض آگے دوڑے چلے جاتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ لوگ ٹھوکر کھا کر گر جاتے اور کبھی تو کاروبار تک سے باہر ہوجاتے ہیں، چند ایک البتہ درمیانی رفتار سے لگے رہتے ہیں اور اوسط درجے کی کامیابیاں لے لیتے ہیں۔ سوال پھر وہی ہے کہ کیا چیز ہے جو ان میں فرق ڈالتی ہے، کسی ایک کو آگے اور دوسروں کو پیچھے رہ جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس اہم سوال کے کئی جواب ہوسکتے ہیں۔ ہر ایک کا معاملہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، بعض شعبے بھی دوسروں سے الگ اور منفرد ہوتے ہیں۔ سیلف ہیلپ لٹریچر میں بہت سی کامیابیوں اور ناکامیوں کی کہانیاں ملتی ہیں۔ ماہرین نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لے کر اپنے نوٹس بنائے اور پھر انہیں کتابی شکل میں شائع کئے۔ ان سب کی افادیت ہے، مگر میں اس وقت ان تفصیلات میں نہیں جاناچاہتا، مختصر سپیس میں نمایاں اور اہم ترین نکات پر رہوں گا۔ مجھے لگتا ہے کہ فطری ٹیلنٹ یعنی ذہانت ضروری ہے، یہ آدمی کو دوسروں سے مختلف اور ممتاز بناتی ہے۔ طبعی رجحان کی بھی اہمیت ہے۔ آدمی اگر اپنی مرضی اور پسند کے پروفیشن میں ہو تو وہاں محنت کرنے کا جی بھی چاہتا ہے ۔ مواقع ملنا بھی بہت زیادہ اہم ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ظالمانہ، استحصالی سسٹم ہے ، جو ٹیلنٹ کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے۔ وہاں پر مواقع ملنا، بریک تھرو مل جانا بھی بہت اہم ہے۔ یہ ایک طرح سے خوش قسمتی کا عنصر ہے۔ آپ کا ہاتھ کوئی پکڑ لیتا ہے، کہیں سے ایسی رہنمائی، مدد مل جاتی ہے کہ راستہ نکل آئے، سفر آسان ہوجائے۔ ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے۔ بعض لوگ اپنے وقت سے دس بیس سال پہلے یا بعد میں پیدا ہوجاتے ہیں، وہ اگر کچھ پہلے آتے یا کچھ بعد میں تو شائد بہتر رہتا۔ یہ مگر قسمت کا عنصر ہے جس کا اپنا ایک خاص کردار ہے۔ ایک بڑا فیکٹر ویژن کا بھی ہے، آپ مستقبل پر کتنی نظر رکھتے ہیں، آنے والے حالات، واقعات کا کس قدر اندازہ لگا پائیں گے ؟ یہ بھی بہت اہم ہے۔ ہم نے وہ کہانیاں پڑھ رکھی ہیں، جب بڑی اور کامیاب کمپینوں نے مستقبل پر نظر نہ رکھی، بدلتے ٹرینڈز کا ادراک نہیں کیا اور پھر وہ مٹ گئیں، مارکیٹ ہی سے آوٹ ہوگئیں۔ کوڈک فلم کمپنی ہو یا نوکیا فون اور پھر بلیک بیری، یہ سب ایسی مثالیں ہیں جن سے عبرت سیکھنی چاہیے۔ خود مائیکرو سافٹ بھی کئی حوالے سے گوگل وغیرہ سے پیچھے رہ گیا۔ اس کا فون بیکار رہا، سرچ انجن بھی ۔ یہ سب اپنی جگہ مگر کامیابی اور ایکسٹرا آرڈنری کامیابی صرف ان سے نہیں ملتی۔ مجھے سینئر صحافی ،اینکر حسن نثار صاحب کی بات یاد آئی۔ چار پانچ سال قبل ان کے گھر بیٹھے تھے، باتوں میں حسن نثار کہنے لگے کہ میرا بیٹا ایک روز میرے پاس آ کر بیٹھا اور پوچھنے لگا، بابا ایکسٹرا آرڈنری بننے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ حسن نثار کہتےہیں، میں نے اسے مسکرا کر کہا تمہارے سوال ہی میں جواب ہے۔ ایکسٹرا آرڈنری بننے کے لئے ایکسٹرا کوشش کرنا پڑتی ہے۔ عام ، روٹین کی کوشش کریں گے تو آرڈنری ہوں گے، جبکہ اگر ایکسٹرا آرڈنری کوشش ہوگی تو آدمی ایکسٹرا آرڈنری (غیر معمولی )کامیابی حاصل کر لےگا۔ یہی ایکسٹرا آرڈنری کوشش ہی آخری تجزیے میں فرق ڈالنے والی چیز ہے۔ اپنی ذات، کام اور کاروبار وغیرہ میں ڈسپلن کے ساتھ درست سمت میں کی گئی بے پناہ محنت۔ آخر کار یہی رنگ لاتی ہے۔ خاص کر لمبا کھیلنے کے لئے، اپنی کامیابیوں کا سلسلہ دراز کرنے کے لئے تو یہ بہت ضروری ہے۔ آپ اپنے ٹیلنٹ، موقعہ محل کی مناسبت، حالات وغیرہ کی بنا پر کامیابی کا ایک فیز تو نکال سکتے ہیں، زیادہ نہیں۔ آج کل کھیلوں کا سیزن ہے، ہر طرف کرکٹ چل رہی ہے، اسے لے لیتے ہیں ۔مجھے لگتا ہے کہ کامیابی کے لئے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں۔ ہم نے بہت سے ٹیلنٹیڈ کھلاڑی دیکھے، جن میں غیر معمولی صلاحیت تھی، وہ بطور بلے باز گیند کو جلد دیکھ سکتے تھے، ان کی ٹائمنگ اچھی تھی، سٹروکس کھیلنے کی صلاحیت کمال تھی ۔ بطور باولر بھی ان کے پاس ٹیلنٹ تھا،تیز رفتار ، لمبا قد، سوئنگ کرانے کی نیچرل صلاحیت، سمجھ بوجھ وغیرہ۔ سپنرز میں بھی کئی گاڈ گفٹڈ قسم کے سپنر ہوتے ہیں، ان میں فطری صلاحیت ہوتی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود ہم نے ان میں سے بہت سوں کو ناکام ہوتے، ٹیموں سے ڈراپ ہوتے دیکھا ہے۔ وہ بعد میں اپنی نالائقی، کمزوریوں کا تجزیہ کرنے کےبجائے سسٹم سے شاکی رہتے اور دوسروں پر الزام تھوپتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کے پچھلے پندرہ برسوں کو دیکھا جائے تو عمر اکمل، احمد شہزاد ایسے کھلاڑی نظر آتے ہیں۔ عمر اکمل میں بہت ٹیلنٹ تھا، اچھا سٹروک پلیئر تھا، اس کی خوش قسمتی کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ شروع ہوگئی تھی جو اسے سوٹ کرتی تھی، مگر اپنی سستی، فٹنیس پر توجہ نہ دینے، فوکس کم کرنے اور اپنے ٹمپرامنٹ کے ایشوز کے باعث یہ ٹیم سے باہر ہوگیا۔ یہی حال احمد شہزاد کا ہے۔ اب وہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر سب پر تند وتیز گھٹیا ذاتی حملے کر کے بھڑاس نکال رہا ہے۔ حسن علی کی مثال بھی لے سکتے ہیں، حیدر علی بھی ایک نمایاں مثال ہے۔ جادوگر سپنر عبدالقادر کا بیٹا عثمان قادر اب پاکستانی سسٹم کا شاکی ہوگا، وہ آسٹریلیا شفٹ ہو

کتنا بدل گیا ہے وہ!

آپ کا بھی تجربہ ہوگا کہ کبھی کبھی کوئی قریبی فرد آپ کو بدلا ہوا لگنے لگتا ہے۔ خصوصاً شادی کے بعد خواتین کا مردوں کے حوالے سے اور مردوں کا خواتین کے حوالے سے یہ تاثر بہت عام پایا جاتا ہے۔ آپ یہ کہنے لگتے ہیں کہ کتنا بدل گیا ہے وہ! یا کتنی بدل گئی ہے وہ! لیکن کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟ دراصل کسی فرد سے تعلق کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کے اہم کام اور آپ کی زندگی کے اہم کام ملتے جلتے ہوتے ہیں یا زندگی انہیں ملا دیتی ہے۔ یوں یہ مشترکہ اہم کام آپ کو قریب لے آتے ہیں۔ اسی طرح کچھ رشتے ایسے بنتے ہیں کہ دو لوگ تیزی سے ایک دوسرے کی ترجیح میں اوپر آتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ جو کام پہلے فرد کے نزدیک اہم تھے، وہ حالات و واقعات کی وجہ سے غیراہم ہونا شروع  ہوجاتے ہیں، جبکہ دوسرے فرد کے نزدیک وہ ویسے ہی اہم رہتے ہیں۔ اب پہلے فرد کے نزدیک حالات و ترجیحات کی بنا پر کچھ اور کام اہم ہوجاتے ہیں۔ یوں وہ وجوہات جو گرمجوشی کی مشترکہ بنیاد ہوتی ہیں بدلنا شروع ہوتی ہے تو تعلق کی گرمجوشی بھی کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اب پہلے فرد کے نزدیک دوسرے فرد کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کی توانائی اور وقت کچھ اور اہم کاموں کے لیے وقف ہوجاتا ہے۔ لیکن دوسرا فرد جو اپنے پرسیپشن کے مطابق اپنے پرانے تعلق میں ویسا ہی ہے، اسے لگنے لگتا ہے کہ پہلا فرد “کتنا بدل گیا ہے۔” اور اس کا پرسیپشن بتدریج اس کی سوچ، احساسات اور تعلقات پر غالب آتا چلا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں پہلا فرد بدلا نہیں ہوتا بلکہ اس کی ترجیحات تبدیل ہوچکی ہوتی ہیں جو اس کی زندگی اور کاموں کے لیے ضروری ہیں۔ تعلق دلی طور پر ویسا ہی گرمجوش اور محبت سے بھرپور ہوتا ہے۔ تاہم اس کا اظہار ترجیح نہیں رہتا۔ ایسا شادیوں کے بعد بھی ہوتا ہے۔ اسکول کے دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسی فیلڈ میں ساتھ کام کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسی اچھے دوست کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ یوں اکثر و بیشتر اوقات “فرد نہیں بدلا ہوتا ہے” بلکہ آپ کا پرسیپشن ایک جگہ پر “اسٹک” ہوجاتا ہے۔ آپ کسی فرد کو ایک جگہ اسٹک نہیں رکھ سکتے، ہاں اپنے تعلقات، اپنے پرسیپشن کی وجہ سے ضرور خراب کر لیتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں کہ “کتنا بدل گیا ہے وہ!”

پاکستان میں 2024 میں خواتین پر تشدد: ایک سنگین مسئلہ

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کا مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کرچکا ہے، اور 2024 کے دوران اس میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ تشدد صرف ایک یا دو نوعیت تک محدود نہیں ہے بلکہ مختلف طریقوں سے خواتین کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، جس میں جنسی زیادتی، اغواء، گھریلو تشدد، اور غیرت کے نام پر قتل شامل ہیں۔ اس سال ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے 32ہزار 617 واقعات رپورٹ ہوئے، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔ تشویشناک اعدادوشمار 2024 میں خواتین کے خلاف تشدد کی کچھ خاص نوعیتیں جو رپورٹ ہوئیں، ان میں جنسی زیادتی کے 5ہزار 339 واقعات، اغواء کے 24ہزار 439 کیسز، گھریلو تشدد کے 2ہزار 238 واقعات، اور غیرت کے نام پر 547 خواتین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان میں خواتین کی حالت بہتر ہونے کے بجائے دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے۔ جنسی زیادتی پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 2024 میں 5ہزار 339 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ واقعات اکثر خاندانوں میں بھی پوشیدہ رکھے جاتے ہیں، اور متاثرہ خواتین کو معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اغواء پاکستان میں خواتین کے اغواء کے واقعات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ 24ہزار 439 خواتین کا اغواء کیا گیا، جس میں مختلف وجوہات جیسے جبری شادی، غیرت کے نام پر اغواء، یا پھر جسمانی استحصال کے لیے۔ اغواء کا یہ رجحان ایک اور سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گھریلو تشدد گھریلو تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے سال 2024 میں 2ہزار 238 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ واقعات خاندانوں کے اندر خواتین کی آزادی، ان کے جسمانی اور ذہنی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ گھریلو تشدد کی یہ نوعیت معاشرتی اور ثقافتی سطح پر بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے خواتین کی زندگیوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں، لیکن اس سال 547 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جو کہ ایک سنگین صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل ایک ایسی روایتی اور جاہلانہ سوچ کا حصہ ہے جو عورتوں کے انسانی حقوق کی شدید پامالی کرتی ہے۔ پاکستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، لیکن ان کے نفاذ میں کمی ہے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان کے خلاف ہونے والے تشدد کو روکا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے اور قانون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی آگاہی پیدا کرے تاکہ خواتین کو ان کے حقوق اور تحفظ کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

اس بار رمضان واقعی مختلف ہو!

ہر سال رمضان آتا ہے، ہم روزے رکھتے ہیں، عبادات میں اضافہ کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں۔ مگر کیا کبھی سوچا کہ کیا ہم واقعی بدلے؟ کیا ہماری نیکیاں، ہماری عبادتیں، ہمارے آنسو، یہ سب کسی حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ بنے؟ یا سب کچھ ایک رسمی عمل تھا، جو رمضان کے بعد ویسا ہی ختم ہوگیا جیسے چاند رات کو دعاؤں کے بعد موبائل میں مصروفیت شروع ہو جاتی ہے؟ اگر رمضان بس اتنا ہی ہے تو ہم نے اس کے اصل مقصد کو نہیں پایا۔ اللہ نے رمضان کو “لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”(البقرہ: 183) یعنی تقویٰ حاصل کرنے* کا ذریعہ بنایا ہے، نہ کہ صرف بھوک اور پیاس سہنے کا۔ اللہ کا قرب، مگر کیسے؟ ہم سب چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اپنے قریب کر لے، مگر ہم اس کے لیے محنت کم کرتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں خود طریقہ بتایا ہے: “يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا ٱتَّقُوا ٱللَّهَ وَٱبْتَغُوا إِلَيْهِ ٱلْوَسِيلَةَ وَجَـٰهِدُوا فِى سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ” (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔) (المائدہ: 35) یعنی اللہ کا قرب محض زبانی دعوؤں سے نہیں ملتا، اس کے لیے ہمیں محنت کرنی ہوگی، اپنی نیتوں کو خالص کرنا ہوگا، اپنی زندگی کو قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ یہ رمضان واقعی مختلف کیوں نہ ہو؟ قرآن کو سمجھیں، عمل کریں، ہم رمضان میں قرآن ختم کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں، مگر کیا کبھی رک کر سوچا کہ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ کیوں نہ اس بار قرآن کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں؟ روز ایک آیت پر غور کریں، اس پر عمل کرنے کی نیت کریں۔ نماز میں اللہ سے بات کریں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں مگر اکثر دل کہیں اور ہوتا ہے۔ کیوں نہ اس بار نماز کو فرض سمجھ کر نہیں، بلکہ اللہ سے ملاقات سمجھ کر ادا کریں؟ دعا کرتے وقت موبائل نہ دیکھیں، آنسو نہ روکیں، دعا کو رسمی عمل نہ بنائیں بلکہ حقیقت میں اللہ سے مانگیں۔ اپنی زبان اور نیتوں کی حفاظت کریں۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ آنکھوں، زبان، اور دل کو بھی گناہوں سے بچانے کا نام ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ”  (جو شخص جھوٹ اور برے عمل کو نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔) (بخاری: 1903) لوگوں کو معاف کریں، رشتے جوڑیں۔ ہم عبادتیں تو کرتے ہیں، مگر کیا ہمارے دل صاف ہیں؟ اس بار صرف نمازوں کی تعداد نہ بڑھائیں، بلکہ دل کی میل بھی صاف کریں۔ جس سے ناراض ہیں، اسے معاف کریں۔ جس نے زیادتی کی، اس کے لیے دعا کریں۔ حقیقی نیکی کریں۔ صدقہ دینا آسان ہے، مگر حقیقی نیکی وہ ہے جو کسی کی زندگی بدل دے۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھیں، کسی پریشان شخص کی مدد کریں، کسی دکھی دل کو دلاسہ دیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ” (اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شخص وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے۔) (صحیح الجامع: 176) یہ رمضان ضائع نہ ہو! اللہ ہمیں ایک اور موقع دے رہا ہے، ہمیں بلارہا ہے، ہمیں اپنی طرف آنے کا وقت دے رہا ہے۔ “إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ” (بے شک، اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔) (الرعد: 11) اگر اس رمضان میں بھی ہم نہ بدلے، تو پھر کب بدلیں گے؟ اگر اس بار بھی ہمارا دل ویسا ہی سخت رہا، اگر ہمارے گناہ ویسے ہی برقرار رہے، اگر ہمارے اعمال میں وہی لاپرواہی رہی، تو کیا یہ رمضان واقعی قبول ہوگا؟ آئیے اس بار سچے دل سے اللہ کی طرف پلٹ آئیں۔ ایسا رمضان گزاریں کہ جب شوال کا چاند طلوع ہو، تو ہم صرف نئے کپڑوں میں نہیں، بلکہ نئی روح کے ساتھ، نئے ارادوں کے ساتھ، اور ایک بدلے ہوئے دل کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اللّٰہ ہمیں ایسا رمضان عطا کرے جو ہمارے دلوں کو بدل دے، ہمیں اس کے قریب کر دے، اور ہمارے اعمال کو ہمارے لیے جنت کا ذریعہ بنا دے۔ آمین!

آپریشن سوئفٹ ریٹوٹ کے چھ سال

آپریشن سوئفٹ ریٹوٹ پاکستان کی وہ تاریخ ہے جو ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ پاکستان کے معروف صحافی ارشد شریف مرحوم تو اس جگہ کوریج کرنے پہنچ گئے جہاں ہندوستان نے رات کی تاریکی میں چھپ کر حملہ کیا تھا۔ یہ بالا کوٹ کا علاقہ جابہ تھا اس وقت درجہ حرارت منفی میں تھا لیکن ارشد شریف ہندوستان کے اس ناکام حملے کے تمام تر شواہد سامنے لے کر آئے۔ یہ ایک فیک سرجیکل سٹرائک تھی یہاں تک کے ان خلاف ہندوستان میں مقدمے درج کرنے کی درخواست دی گئی اور انکے ٹویٹراکاونٹ کو بھی بند کرانے کی کوشش کی گئی۔ میں بھی اس حوالے سے حقائق سامنے لا رہی تھی، ہندوستانی ٹرول آرمی نے مجھے سوشل میڈیا پر اٹیک کرنا شروع کر دیا۔ پر ہم دونوں ڈٹے رہے اور اپنا اپنا کام کرتے رہے۔ ۲۷ فروری ۲۰۱۹ کا سورج اپنے ساتھ ایک نئی تاریخ رقم کرگیا۔ پاکستانی ائیرفورس نے ہندوستان کو ان کے گھر میں گھس کر مارا۔ ہندوستان یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستان کی طرف سے جواب اتنا شدید ہوگا۔ وہ آہستہ آہستہ سازش بن رہے تھے خود اپنے ملک میں فالس فلیگ آپریشن کروایا اور الزام پاکستان پر لگا کر حملہ کرنے کی ٹھان لی۔ پلوامہ ایک فالس فیلگ آپریشن تھا تاکہ حملہ کر کے مودی سرکار انتخابات میں جیت حاصل کر لے اگر اس بات پر غور کریں کہ جس فوجی قافلے پر حملہ ہوا اس حملے میں نچلی ذات کے فوجی زیادہ مارے گئے جس کشمیری نوجوان عادل ڈار پر اس حملے کا الزام لگا وہ کچھ ماہ سے لاپتہ تھا اور وہ اتنا گولہ بارود کیسے مقبوضہ کشمیر میں لے کر جا سکتا تھا جہاں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج تعینات ہے۔ ہندوستان کو کبھی مجرم ڈھوںڈنے بنانے میں مشکل ہو رہی تھی تو کبھی سہولت کاری کا الزام لگانے کے لئے کسی کو ڈھونڈ رہے تھے۔اچانک ہندوستان نے شور کرنا شروع کر دیا کہ عبدالرشید غازی مرحوم اس کے منصوبہ ساز ہیں حالانکہ وہ لال مسجد آپریشن میں جان کی بازی ہار گئے تھے تو وہ کیسے ۲۰۱۹ میں کسی حملے کی منصوبہ بندی کرسکتے تھے۔ ۱۴ فروری کو مقبوضہ کشمیر میں حملہ ہوتا ہے سی آر پی ایف کے چالیس اہلکار مارے جاتے ہیں اور ۸ زخمی ہوتے ہیں۔ پندرہ فروری کو مودی سرکار پاکستان پر الزام لگا دیتی ہے۔ اس ہی روز پاکستانی وزارت خارجہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اس ہی وقت خطرے کو بھانپ کر سب کے سامنے اعلان کر دیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ ۲۰ فروری کو اقوام متحدہ نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔ ہندوستان نے یہ کہا کہ عادل ڈار کا تعلق جیش سے اور جیش کو مولانا مسعود اظہر نے ۲۰۰۰ کی دہائی میں بنایا تھا جس پر اس وقت کی مشرف حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔ اس لئے یہ بات ایک مفروضہ ہی لگ رہی تھی کہ ایک غیر فعال تنظیم ہندوستان میں کئی کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے حملہ کر دے۔ دوسری طرف ہندوستان نے پاکستان کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا اور اسکو آپریشن بندر کا نام دیا۔ آپریشن بندر کے تحت ہندوستان کی ائیرفورس نے بالا کوٹ میں جیش کا ہیڈ کوارٹر تباہ کرنا تھاْ۔ ہندوستان نے بہاولپور، لاہور اور سیالکوٹ سیکٹرز کی طرف پیش قدمی کی جس کو پاکستان کی ائیر فورس نے روک دیا تاہم ہندوستان لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالاکوٹ میں داخل ہوا انکی جہازوں کی فارمیشن فائیو ناٹیکل مائل تک اندر آئی۔ جیسے ہی پاک فضائیہ ان کے مدمقابل آئی تو ہندوستانی طیارے جابہ کے مقام پر پے لوڈ گراکر بھاگ گئے۔ مرحوم ارشد شریف جابہ پہنچنے والے سب سے پہلے صحافی تھے انہوں دیکھا کہ وہاں درختوں اور جنگل کو جزوی نقصان ہوا اور وہاں کوئی ہیڈ کوارٹر موجود نہیں ہے۔ ۲۷ فروری کو پاکستان نے دن کی روشنی میں منہ توڑ جواب دیا۔ پاک فضائیہ نے ملٹری ٹارگٹ لئے اور انکی فوجی تنصیبات کے پاس بم گرائے۔ پاکستان کی فارمیشن میں ایف سولہ جے ایف ۱۷ تھنڈر شامل تھے۔ جب دونوں ممالک کے طیارے مدمقابل آئے تو پاکستان نے ہندوستان کے دو طیارے تباہ کیے جس میں سو تھرٹی کا ملبہ ہندوستان میں گرا اور ابھی نندن کا جہاز مگ ۲۱ آزاد کشمیر میں کریش کرگیا اوراس کو جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ پاک فضائیہ نے ٹارگٹ لاک کرنے اور حملے کی ویڈیو بھی جاری کی جبکہ ہندوستان آج تک ایسا کوئی ثبوت نہیں دے سکا۔ پاکستان کے تمام پائلٹس اور ان گراونڈ عملے نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان، ونگ کمانڈر فہیم احمد اور سکواڈرن لیڈر حسن صدیقی کو تمغوں سے نوازا گیا۔ ہندوستان شکست فاش کے بعد بھی باز نہیں آیا اور یہ دعویٰ کر دیا کہ ابھی نندن نے جہاز تباہ ہونے سے پہلے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ گرایا۔ اسلام آباد ائیر ہیڈ کوارٹرز میں ابھی نندن کے جہاز کا ملبہ دیکھایا گیا تو اس کے جہاز کے میزائل جزوی جلے ہوئے سالم حالت میں موجود تھے۔ میں نے ارشد نے بھی اس روز جنگ لڑی تھی۔ ارشد جابہ گئے، ٹی وی شوز کیے اور ٹویٹر کا محاذ سنبھالا جبکہ میں نے جنگ سوشل میڈیا پر لڑی جوکہ فیک نیوز کے خلاف تھی۔  بھارتی حکومت اور میڈیا وار ہسٹیریا بڑھا رہے تھے اور پاکستانی حکومت مسلح افواج اور میڈیا نے بہت احتیاط ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ آج چھ سال ہوگئے اور ہم فخر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم پاکستان کے دفاع کا حصہ بنے اور اپنے سامنے پاکستان کی کامیابی دیکھی۔