اپریل 3, 2025 12:53 شام

English / Urdu

مہنگائی کے کاغذی اعدادوشمار اور زمینی حقیقت میں تضاد کیوں؟

پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں حالیہ کمی کے سرکاری دعوے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، مگر عام شہریوں کو اب بھی بنیادی ضروریات کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کے مطابق معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن عوامی سطح پر اس کا اثر کم ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق جنوری 2025 میں صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ (CPI) 2.41 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 2024 میں 24 فیصد تھا۔ فروری 2025 میں یہ شرح مزید کم ہوکر 1.5 فیصد تک آ گئی، جو گزشتہ کئی سالوں کی کم ترین سطح ہے۔ مہنگائی کی کمی کے بنیادی عوامل میں عالمی منڈی میں پیٹرول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی، اسٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی، جس نے افراط زر کو کم کرنے میں مدد دی، حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات اور اخراجات میں کمی اور درآمدی اشیاء پر پابندیوں کے باعث روپے کی قدر میں استحکام ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پالیسی ریٹ 12 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے تاکہ مہنگائی کو مزید قابو میں رکھا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی امید ہے۔ اگرچہ سرکاری اعدادوشمار مہنگائی میں کمی ظاہر کر رہے ہیں، لیکن بازاروں میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کیے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عوام کو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہو رہی۔ لاہور کی ایک گھریلو خاتون نے شکایت کی ہے کہ اگر مہنگائی کم ہوگئی ہے تو چینی، آٹا اور دالیں کیوں مہنگی مل رہی ہیں؟ گزشتہ سال جو 150 روپے کا تھا، وہ اب 250 روپے میں مل رہا ہے۔ کراچی کے ایک دکاندار نے کہا کہ حکومت کہتی ہے مہنگائی کم ہو گئی، مگر لوگ پہلے کی طرح خریداری نہیں کر رہے۔ عام آدمی کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک سرکاری ملازم نے کہا ہے کہ تنخواہ تو وہی ہے، مگر بجلی، گیس، بچوں کی اسکول فیس اور دیگر اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ جب آمدنی نہیں بڑھے گی تو عام آدمی کیسے محسوس کرے گا کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے؟” بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟ گزشتہ چھ ماہ میں بجلی کے نرخوں میں کئی مرتبہ اضافہ کیا گیا، جس سے عام گھریلو صارفین کے ماہانہ بل بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا، مگر عوام کے لیے یہ ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے۔ جنوری 2025 میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا۔ تجارتی اور صنعتی صارفین کو بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر اس کا فائدہ عام شہریوں تک نہیں پہنچا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی کے باوجود، ٹیکسز اور دیگر عوامل کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن نہیں۔ ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز سستی ہو گئی ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی ہے۔ نجی اور سرکاری شعبے میں تنخواہیں کئی سالوں سے تقریباً جمود کا شکار ہیں۔ کاروباری طبقہ بھی معاشی سست روی کی وجہ سے زیادہ ملازمتیں پیدا نہیں کر رہا۔ افراط زر میں کمی اور مہنگائی میں کمی الگ چیزیں ہیں۔ حکومت جو مہنگائی میں کمی کی بات کر رہی ہے، وہ افراط زر (Inflation Rate) کی شرح میں کمی ہے، جب کہ عوام جو مہنگائی محسوس کرتے ہیں، وہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف تب مل سکتا ہے، جب حکومت اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر سخت کنٹرول، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ تنخواہوں اور آمدنی میں اضافہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرے، بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخ کم کر کے عوام کو ریلیف دے۔ حکومت مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن عوام کو ریلیف محسوس نہیں ہو رہا۔ عالیہ حمزہ نے کہا ہے کہ حکومت جو مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، وہ صرف کاغذی اور سرکاری رپورٹس تک محدود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام آج بھی آٹے، چینی، گھی اور دیگر روزمرہ اشیاء کے لیے پریشان ہیں۔ جب عام آدمی کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہو، بجلی اور گیس کے بل آسمان کو چھو رہے ہوں اور تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہ ہو تو ایسی ‘مہنگائی میں کمی’ کا کیا فائدہ؟ حکومت چاہے جتنے بھی دعوے کرے، زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران بھی مہنگائی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا تھا۔ ایثار رانا نے کہا ہے کہ حکومت کاغذی دعوے کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہوئی بلکہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ افراطِ زر میں کمی صرف اعدادوشمار کا کھیل ہے، جب کہ بازار میں اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور پیٹرول بدستور مہنگے ہیں۔ ایثار رانا کا کہنا ہے کہ ہمارا میڈیا بھی دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ کچھ ادارے حکومتی بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جب کہ کچھ صحافی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مہنگائی پر میڈیا کا دباؤ وہ نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔ ایثار رانا نے تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو سب سے پہلے بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر سخت کنٹرول کرنا ہوگا، بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی لانی ہوگی اور روپے کی قدر مستحکم کرنی

عید سے پہلے مہنگائی کا طوفان، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

عید الفطر کی آمد پر لاہور، راولپنڈی اور کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔ نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق لاہور کی مارکیٹوں میں مرغی کے گوشت کی قیمت 1200 روپے فی کلو تک جا پہنچی، جب کہ ٹماٹر 60 روپے سے بڑھ کر 180 روپے فی کلو میں فروخت ہونے لگا۔ پیاز 40 سے 60، لیموں 150 سے 250 اور سبز مرچ 110 سے 200 روپے فی کلو ہو گئی۔ شہری پھل بھی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں، جب کہ چینی کی قیمت سرکاری نرخ 164 روپے کے بجائے 170 سے 180 روپے فی کلو وصول کی جا رہی ہے۔ راولپنڈی میں بکرے اور گائے کے گوشت کی قیمتوں میں بھی خودساختہ اضافہ ہوگیا ہے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں، صدر کے علاقے میں 35 دکاندار گرفتار، جب کہ گراں فروشی پر متعدد دکانوں کو جرمانے ہوگئے۔ کوئٹہ میں بھی مہنگائی کا زور برقرار ہے، مرغی کے گوشت کی قیمت 750 سے بڑھ کر 840 روپے فی کلو تک جا پہنچی، جب کہ بکرے کے گوشت میں 100 اور بیف میں 50 روپے کا اضافہ ہو گیا۔

سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت 1620 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 25 ہزار روپے ہوگئی۔ 10 گرام سونے کی قیمت 1389 روپے اضافے سے 2 لاکھ 78 ہزار 635 روپے ہے۔ مزید پڑھیں: پٹرول کی نئی قیمتوں کا اعلان، کیا ردوبدل ہوا؟ دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کی قیمت 10 ڈالر اضافے سے 3084 ڈالر فی اونس ہے۔ واضح رہے کہ سونا خریدنا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جس کی قیمت افراط زر، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے۔ اسے صدیوں سے کرنسی اور دولت کی شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جب سرمایہ کار دوسرے اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں، تو وہ اکثر سونا خریدتے ہیں۔

پٹرول کی نئی قیمتوں کا اعلان، کیا ردوبدل ہوا؟

پاکستان میں آئندہ 15 اپریل تک کیلئے پیٹرول کی قیمت میں کمی کردی گئی ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ نے نوٹفیکشن جاری کردیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 254 روپے 63 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ مزید پڑھیں: ’ترقی ہوتی تو حالات ایسے نہ ہوتے‘ بلوچستان سونے کی چڑیا یا دہکتا انگارہ؟ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 258.64 پر برقرار  رہے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی کا طلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔ واضح رہے کہ ہرماہ کی یکم اور 16 تاریخ کو تیل کی نئی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔

عالمی منڈی میں سونے کی بڑھتی قیمتیں، پاکستان میں فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونا 2,380 روپے مہنگا ہو کر 3,23,380 روپے کا ہو گیا۔ اسی طرح 10 گرام 24 قیراط سونا 2,041 روپے اضافے کے بعد 2,77,246 روپے کا ہو گیا۔ 22 قیراط سونے کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد 10 گرام کی نئی قیمت 2,54,151 روپے ہو گئی ہے، جس میں 1,871 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں فی اونس سونا $22 اضافے کے بعد $3,074 پر پہنچ گیا ہے۔ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 24 قیراط چاندی فی تولہ 30 روپے اضافے کے ساتھ 3,610 روپے پر پہنچ گئی، جب کہ 10 گرام چاندی 2,096 روپے اضافے کے بعد 3,096 روپے کی ہو گئی۔ مزید یہ کہ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت $0.30 اضافے کے ساتھ $34.40 فی اونس ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور انٹربینک ایکسچینج ریٹس میں تبدیلی کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار اور تاجر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ عالمی معاشی رجحانات قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2.3 ارب ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 2.3 ارب ڈالر تک کی رسائی حاصل ہوگی۔ اس حوالے سے سٹاف لیول معاہدے طے پا چکے ہیں۔ نجی خبررساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کے ممطابق آئی ایم ایف کی کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر جولی کوزیک نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا کہ 25 ستمبر 2024 کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی منظوری دی تھی، جو 37 ماہ پر محیط ہوگا۔ آئی ایم ایف کے مطابق ای ایف ایف کے تحت 1 ارب ڈالر کی قسط پاکستان کو دی جائے گی، جو ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ آر ایس ایف کے تحت 1.3 ارب ڈالر مختلف اقساط میں جاری کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 24 فروری سے 14 مارچ تک پاکستان میں موجود رہی اور ناتھن پورٹر کی سربراہی میں پاکستانی حکام کے ساتھ ای ایف ایف کے پہلے جائزے اور آر ایس ایف کے تحت نئے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ 25 مارچ 2025 کو سٹاف لیول معاہدہ طے پایا۔ 25 مارچ کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایم ایف نے کہا کہ اس نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کے نئے قرضے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، جب کہ سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے پہلے ششماہی جائزے کی منظوری سے پاکستان کے لیے اضافی ایک ارب ڈالر کی رقم جاری ہو سکتی ہے۔ یہ رقم پاکستان کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی، جس کے لیے باضابطہ شیڈول جلد طے کیا جائے گا۔ مزید پڑھیں: حکومت نے بجلی سستی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کروا دی یاد رہے کہ 2023 میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج نے معیشت کو سہارا دیا، جس کے بعد مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری دیکھی گئی۔ دوسری جانب اس معاہدے کے تحت پاکستان کو کئی سخت معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کرنا پڑا، جن میں آمدنی پر ٹیکس میں اضافہ، توانائی پر سبسڈی میں کمی، حکومتی اخراجات میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔

پاکستان نے چین کا ایک ارب ڈالر قرض واپس کر دیا

پاکستان نے چین کے بینک (ICBC) کو ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 10.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ حکومت امید کر رہی ہے کہ چین اس قرض کو دوبارہ فنانس کرے گا، لیکن ابھی تک شرح سود طے نہیں ہوئی۔ پاکستان نے یہ قرض دو قسطوں میں ادا کیا۔ پہلی قسط مارچ کے شروع میں اور دوسری قسط مارچ کے تیسرے ہفتے میں دی گئی۔ مزید 2.7 بلین ڈالر کے چینی قرضے اپریل سے جون 2024 کے درمیان واپس کرنے ہیں، جن میں 2.1 بلین ڈالر کے تین مختلف چینی کمرشل بینکوں کے قرض شامل ہیں۔ مرکزی بینک کے ذخائر میں کمی کے بعد حکومت نے مارکیٹ سے ڈالر خریدے اور کچھ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے اس کمی کو پورا کیا۔ اس سے قبل مرکزی بینک کے گورنر نے کہا تھا کہ 2024 میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے 9 بلین ڈالر خریدے گئے تھے، ورنہ ذخائر دو بلین ڈالر سے بھی کم ہو سکتے تھے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس ہفتے معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت پاکستان کو ایک بلین ڈالر کی قسط مل سکتی ہے، لیکن اس کی منظوری مئی یا جون میں متوقع ہے۔ اگر یہ اجلاس جون میں ہوا تو آئی ایم ایف پہلے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا جائزہ لینا چاہے گا۔ پاکستان نے چین سے 3.4 بلین ڈالر کے قرض کو دو سال کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست بھی کر رکھی ہے تاکہ مالیاتی فرق کو پورا کیا جا سکے، لیکن ابھی تک اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف پروگرام کے تین سالہ عرصے کے دوران 5 بلین ڈالر کے بیرونی فنانسنگ ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی شعبہ کچھ حد تک مستحکم ہوا ہے، لیکن اس میں اب بھی کمزوریاں موجود ہیں۔ ان مسائل کو سخت مالیاتی پالیسیوں اور شرح مبادلہ میں لچک کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر حالیہ دنوں میں کم ہوئی ہے، اور ڈالر کے مقابلے میں 280.2 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ حکومت جائیداد، مشروبات اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کرے تاکہ سرمایہ کاری کو پیداواری شعبے کی طرف منتقل کیا جا سکے۔ پاکستان ابھی بھی نئے غیر ملکی قرضوں اور پرانے قرضوں کی ری فنانسنگ پر انحصار کر رہا ہے۔ اگر حکومت بروقت مالی مدد حاصل نہ کر سکی تو زرمبادلہ کے ذخائر مزید کم ہو سکتے ہیں، جس سے معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی آٹو ٹیرف کے باعث انڈین روپے کی قدر میں کمی کا امکان

عالمی مارکیٹ میں امریکا کی جانب سے نئی گاڑیوں پر ٹارفز عائد کرنے کی خبر کے اثرات بھارتی کرنسی پر بھی نظر آئیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے اس فیصلے نے نہ صرف ایشیائی شئیر مارکیٹ کو متاثر کیا بلکہ امریکی اسٹاکس بھی شدید مندی کا شکار ہو گئے ہیں۔ چند گھنٹوں میں انڈین روپیہ 85.70 کے قریب تھا اور آج متوقع ہے کہ یہ 85.80 سے 85.88 کے درمیان کھلے گا۔ پچھلے سیشن میں روپے کی قیمت 85.7050 تھی اور اب عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی طاقت میں اضافے کی وجہ سے انڈین روپے کی حالت خاصی کمزور نظر آ رہی ہے۔ امریکی صدر کے ٹارفز کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کافی حد تک فروخت ہوئی اور اس کے بعد عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال نے سر اُٹھایا ہے۔ ان تمام حالات میں ڈالر انڈیکس تین ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ  گیا حالانکہ بعد میں اس میں کچھ کمی آئی۔ لیکن انڈین روپیہ صرف تجارتی تناؤ کی وجہ سے ہی کمزور نہیں ہو رہا بلکہ مارچ کے آخری دن اور اپریل کے آغاز میں ہونے والی مقامی تعطیلات بھی اس کے اثرات کو بڑھا رہی ہیں۔ انڈیا کے مالیاتی بازار مارچ 31 اور اپریل 1 کو بند رہیں گے جس کی وجہ سے 2 اپریل کو یہ تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں گی۔ اس “اسپاٹ ڈیٹ” کی تبدیلی کے باعث روپے کو ایک اضافی بوجھ جھیلنا پڑے گا جس کا اثر روپے کی قیمت پر پڑے گا اور یہ 10 سے 12 پیسے تک نیچے آنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر نے کہا ہے کہ اپریل 2 کو ہونے والی ٹارفز میں نرمی کی جائے گی لیکن تب تک امریکی کرنسی کی قوت اور عالمی مارکیٹ میں حساسیت کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈین روپیہ مزید دباؤ کا شکار رہے گا۔ این زیڈ بینک کے تجزیہ کار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ “ٹارِفز کے اس معاملے کی وضاحت آنے تک خطرے کی گنجائش کم ہوتی محسوس نہیں ہوتی” اس تمام تر تناؤ کے باوجود ایک اچھی خبر یہ بھی آئی ہے کہ انڈین کی شیئر مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے 25 مارچ کو 664.7 ملین ڈالر کی خریداری کی گئی جس سے انڈین اسٹاکس کو کچھ تقویت ملی۔ تاہم، انڈین بانڈز کی خریداری میں کمی آئی ہے اور 25 مارچ کو غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 56 ملین ڈالر کی فروخت کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی ٹارفز کے حوالے سے مزید واضح معلومات ملتی ہیں تو انڈین روپیہ اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی کرنسیوں کو استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔ مزید پڑھیں: چینی اے آئی انڈسٹری سے خوفزدہ امریکا نے پاکستان سمیت مختلف ممالک کی 70 کمپنیوں پر پابندی لگادی

ریکوڈک میں کتنا سونا اور تانبا ہے، مالیت کیا ہے؟

بلوچستان میں ریکوڈک پراجیکٹ کے حوالے سے کی گئی تازہ ترین فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق یہاں موجود سونے اور تانبے کے ذخائر کی مالیت 60 بلین ڈالر سے زائد ہے۔ اس منصوبے میں تین سرکاری توانائی کمپنیوں نے اپنی فنڈنگ کو بڑھا کر تقریباً 1.9 بلین ڈالر کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ نے پہلے اس منصوبے میں 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، جسے اب بڑھا کر 627 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس طرح تینوں کمپنیوں کی مجموعی فنڈنگ 900 ملین ڈالر سے بڑھ کر 1.88 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق ریکوڈک پروجیکٹ سے 13.1 ملین ٹن تانبا اور 17.9 ملین اونس سونا نکالنے کی توقع ہے۔ عالمی منڈی میں موجودہ قیمتوں کے حساب سے ان ذخائر کی مالیت میں 54 بلین ڈالر سونے اور 6 بلین ڈالر تانبے پر مشتمل ہے۔ اس منصوبے کے لیے سرمایہ کاری پر منافع کی شرح 25 فیصد بتائی گئی ہے۔ منصوبے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کی تمام تر توانائی سولر پاور پر مبنی ہوگی، جو اسے دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا گرین پروجیکٹ بناتی ہے۔ فی اونس سونے کی قیمت 3016 ڈالر اور تانبے کی قیمت 9815 ڈالر فی ٹن کے حساب سے اس منصوبے کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 60 بلین ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ تازہ ترین فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق پہلے مرحلے میں 2028 تک سالانہ 45 ملین ٹن مل فیڈ پر کارروائی کا منصوبہ ہے جبکہ 2034 تک دوسرے مرحلے میں اس صلاحیت کو بڑھا کر 90 ملین ٹن سالانہ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ منصوبے کی مجموعی مدت 37 سال بتائی گئی ہے جو دو مراحل پر مشتمل ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 5.6 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور یہ 2028 میں کام شروع کرے گا۔ اس منصوبے کے لیے 3 بلین ڈالر تک کی ایک محدود مالی سہولت پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ بقیہ رقم شیئر ہولڈرز کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ ریکوڈک پروجیکٹ موجودہ مائننگ لیز کے تحت پانچ بڑے ذخائر سے استفادہ کرے گا جبکہ مستقبل میں مزید ترقی کی بھی گنجائش موجود ہے۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی سرمایہ کاری پراجیکٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی اور شیئر ہولڈرز کی شراکت سے کی جائے گی۔ او جی ڈی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس منصوبے کے لیے کمپنی کی فنڈنگ 627 ملین ڈالر تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے جو پراجیکٹ فنانسنگ کے اخراجات بھی پورے کرے گی۔ کمپنی کے مطابق اس کی کل سرمایہ کاری اس کے متناسب شیئر کے مطابق ہوگی۔ اسی طرح پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی اس منصوبے کے لیے اپنے فنڈز میں اضافہ کیا ہے اور اس کی کل سرمایہ کاری 627 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پراجیکٹ فنانسنگ کے حصول کے لیے بھی منظوری دی ہے جبکہ اس کا متوقع شیئر ہولڈر ایکویٹی تعاون 349 ملین ڈالر ہوگا۔ اسی طرح کا فیصلہ گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ نے بھی کیا ہے اور تینوں کمپنیوں کے اجتماعی شیئرز 25 فیصد ہوں گے۔ ریکوڈک پروجیکٹ پاکستان کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے وسائل کو بروئے کار لانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے ان کمپنیوں کے شیئرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے بقیہ 25 فیصد شیئرز حکومت بلوچستان کے پاس ہیں، جن میں سے 15 فیصد بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ کے ذریعے مکمل فنڈڈ بنیاد پر اور 10 فیصد فری کیری کی بنیاد پر رکھے گئے ہیں۔ 50 فیصد شیئرز بیرک گولڈ کارپوریشن کے پاس ہیں جو اس منصوبے کو چلا رہی ہے۔

چینی اے آئی انڈسٹری سے خوفزدہ امریکا نے پاکستان سمیت مختلف ممالک کی 70 کمپنیوں پر پابندی لگادی

ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے خلاف کام کررہی ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، جن کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں 19 پاکستانی، 42 چینی، اور4 متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران، تائیوان، فرانس، سینیگال، اور برطانیہ کی کچھ کمپنیاں بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکا نے پاکستان کی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔ اس سے پہلے اپریل 2024 میں بھی امریکا نے کچھ چینی اور بیلاروسی کمپنیوں پر پاکستان کے میزائل پروگرام میں تعاون کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی پاکستانی کمپنیوں میں الائیڈ بزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ، گلوبل ٹریڈرز، انڈنٹیک انٹرنیشنل، لنکرز آٹومیشن پرائیویٹ لمیٹڈ، اوٹو مینوفیکچرنگ، پوٹھوہار انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ کنسرن، پراک ماسٹر، اور رسٹیک ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں یہ کمپنیاں امریکی کمپنیوں سے کاروبار نہیں کر سکیں گی اور ان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کی تفصیل سامنے نہیں آئی جن پر پابندی عائد کی گئی ۔ مزید پڑھیں: امریکا کے روس اور یوکرین کے ساتھ ‘الگ الگ’ معاہدے: کب اور کیسے نافذ ہوں گے؟ دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے برآمدی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے، اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کو عام کرنے سے باز رہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے سینئر لیکچرار اور مصنف ایلکس کیپری کا کہنا ہے کہ بلیک لسٹ تازہ ترین اضافہ تیسرے ممالک، ٹرانزٹ پوائنٹس اور ثالثوں کے لیے بڑھتا ہوا جال ہے۔ انہوں نے پابندیوں کے باوجود چینی کمپنیوں کو امریکی ٹیکنالوجیز تک رسائی کی اجازت دینے والی خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنیاں بعض تیسرے فریقوں کے ذریعے امریکی اسٹریٹجک دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ امریکی حکام این ویڈیا کے ذریعہ تیار کردہ جدید سیمی کنڈکٹر کی اسمگلنگ کے مقصد سے ٹریکنگ اور ٹریسنگ آپریشنز کو تیز کرنا جاری رکھیں گے۔ برآمدات پر عائد پابندیاں ایک ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین کے خلاف محصولات میں اضافے کی وجہ سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی اے آئی اسٹارٹ اپ ’ڈیپ سیک‘ کے تیزی سے عروج نے چین میں اوپن سورس کم لاگت والے اے آئی ماڈلز کو اپنانے میں اضافہ کیا ہے، جس سے اعلی لاگت، ملکیتی ماڈلز کے ساتھ معروف امریکی حریفوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے چین کے خلاف بڑے پیمانے پر برآمدی کنٹرول نافذ کیے تھے، جس میں سیمی کنڈکٹر سے لیکر سپر کمپیوٹرز تک ہر چیز کو نام نہاد ’اسمال یارڈ، ہائی فینس‘ پالیسی کے تحت شامل کیا گیا، اس نقطہ نظر کا مقصد دیگر علاقوں میں معمول کے معاشی تبادلے کو برقرار رکھتے ہوئے اہم فوجی صلاحیت کے ساتھ چھوٹی تعداد میں ٹیکنالوجیز پر پابندیاں عائد کرنا ہے۔ کامرس فار انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی کے انڈر سیکریٹری جیفری آئی کیسلر نے کہا کہ امریکی ایجنسی ایک واضح اور شاندار پیغام بھیج رہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی ٹیکنالوجی کو اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ، ہائپرسونک میزائلوں، فوجی طیاروں کی تربیت، اور یو اے وی (بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑی) کے لیے غلط استعمال سے روکے گی جو ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کی فہرست ہمارے پاس موجود بہت سے طاقتور ذرائع میں سے ایک ہے، جو غیر ملکی مخالفین کی نشاندہی کرنے اور انہیں کاٹنے کے لیے ہے، جو نقصان دہ مقاصد کے لیے امریکی ٹکنالوجی کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔