اپریل 5, 2025 1:01 صبح

English / Urdu

چینی کی بڑھتی قیمتیں: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے تجاویز دے دیں

پاکستان میں چینی کی قیمت رمضان کے دوران 175 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 200 روپے تک بڑھ سکتی ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ شوگر ملز کے مبینہ کارٹیل کو قرار دیا جا رہا ہے، جس پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے نظر رکھنی شروع کر دی ہے۔ حکومت نے پہلے شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر غور نہیں کیا گیا۔ برآمدات کے بعد جب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہونے لگی، تو حکومت نے خام چینی درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس فیصلے سے مقامی ڈیلرز کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ عوام کو مہنگی چینی خریدنا پڑ سکتی ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن نے چینی کی قیمتوں میں اضافے، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ 2020 میں کی گئی ایک انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن قیمتوں کے تعین اور چینی کی سپلائی پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ اسی بنیاد پر 2021 میں کمیشن نے شوگر ملوں پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا، تاہم ملرز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب تک جرمانہ وصول نہیں کیا جا سکا۔ کمپیٹیشن کمیشن نے چینی کے کاروبار میں شفافیت لانے اور زیادہ مسابقت پیدا کرنے کے لیے مختلف تجاویز دی ہیں۔ ان میں چینی کی قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق طے کرنے دینا، گنے کی امدادی قیمت ختم کرنا اور شوگر ملوں کے قیام پر عائد پابندیاں ہٹانا شامل ہیں۔ اس وقت چینی کے مصنوعی بحران اور شوگر کارٹیل کے خلاف 127 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 24 مقدمات سپریم کورٹ، 25 لاہور ہائی کورٹ، 6 سندھ ہائی کورٹ اور 72 مسابقتی اپیلٹ ٹریبونل میں ہیں۔ حکومت نے ان مقدمات کے جلد حل کے لیے اپیلٹ ٹریبونل میں نئے چیئرمین اور ممبران تعینات کر دیے ہیں۔ اگر چینی کی قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا اور کارٹیل کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی، تو عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت اور مسابقتی کمیشن اس مسئلے پر توجہ دے رہے ہیں، لیکن اس کا حل سخت پالیسیوں پر عمل درآمد سے ممکن ہوگا۔

خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا ‘کیش لیس’ صوبہ بننے کو تیار

خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا کیش لیس صوبہ بننے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام صوبے میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ “کیش لیس خیبر پختونخوا انیشیٹو” کے تحت صوبے میں تمام مالی لین دین کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے ممکن بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر، اس نظام کو تمام کاروباری اداروں کے لیے لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ نقد لین دین میں کمی آئے اور مالیاتی امور کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔ اس اقدام کے تحت، موبائل والیٹ فراہم کرنے والوں کے ساتھ شراکت داری قائم کی جائے گی، اور ضلعی سطح پر ایک مضبوط نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ تمام کاروبار، بشمول دکانیں، پبلک ٹرانسپورٹ، کھوکھے، اور اسٹریٹ وینڈرز، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو اپنائیں۔ اس کے لیے کاروباروں کو کیو آر کوڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ صارفین آسانی سے ادائیگی کر سکیں۔ یہ اقدام مالی بدعنوانی اور دھوکہ دہی کو کم کرنے، ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانے، اور کاروباری ماحول کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے گا۔ اس سے عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھے گی اور ڈیجیٹل کاروبار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ مزید برآں، ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے گا جو ہنگامی حالات میں مخصوص طبقات کو مالی امداد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ محکمہ خزانہ اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کرے گا: موبائل والیٹ فراہم کرنے والوں کا انتخاب خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی  کے قواعد کے مطابق کیا جائے گا یا مفاہمت کی یادداشت کے تحت معاہدے کیے جائیں گے۔ موبائل والیٹ سروس فراہم کرنے والے کاروباری اداروں کی رجسٹریشن کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم متعارف کروائیں گے، جس سے کاروباری افراد آسانی سے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کا حصہ بن سکیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ایک تعمیل مہم چلائی جائے گی، جس کے تحت تمام کاروباروں کو کیو آر کوڈ آویزاں کرنے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ لوگ نقد رقم کے بغیر ادائیگیاں کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مربوط کوششیں کریں، تاکہ خیبرپختونخوا پاکستان کا پہلا کیش لیس صوبہ بن کر ایک نئی مثال قائم کرے۔

کیا عید پر نئے نوٹ دستیاب ہوں گے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کی قلت ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ وہ عید الفطر کی تیاری کے لیے کمرشل بینکوں کو تازہ نوٹ فراہم کرنے کے معمول کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسٹیٹ بینک کے سرکاری بیان کے مطابق، ملک بھر میں 17,000 کمرشل بینکوں کی برانچوں کو 27 ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ عید سے پہلے اپنے قریبی بینکوں سے نئے نوٹ حاصل کر سکیں۔ مرکزی بینک نے واضح کیا کہ اس نظام کے تحت ہر شخص کو تازہ نوٹوں تک آسانی سے رسائی دی جا رہی ہے تاکہ وہ تہوار کی خوشیوں کو بہتر طریقے سے منا سکیں۔ اسٹیٹ بینک نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عید کے دوران اے ٹی ایمز میں اعلیٰ معیار کے کرنسی نوٹ موجود ہوں گے اور ان کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ کسی بھی وقت اے ٹی ایم سے رقم نکال کر نئے نوٹ حاصل کر سکیں گے، اور اس دوران کسی بھی رکاوٹ سے بچنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے نئے نوٹوں کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور آسان بنانے کے لیے کیش مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ یہ ٹیمیں مختلف بینکوں کی برانچوں کا دورہ کر کے اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ نئے کرنسی نوٹ مناسب طریقے سے عوام میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد کسی بھی قسم کی بدانتظامی یا مشکلات سے بچنا ہے تاکہ ہر فرد کو عید سے پہلے بآسانی نئے نوٹ مل سکیں۔ یہ اعلان ان افواہوں کے جواب میں دیا گیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ملک میں نئے نوٹوں کی قلت ہو گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ان افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عید کے موقع پر عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر یقین کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ خبر پر بھروسہ نہ کریں۔

ڈیجیٹل کیش: انڈیا کی ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ بڑھتا سائبر فراڈ، معیشت کو کتنا بڑا خطرہ؟

انڈیا کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس میں ایک بڑی وجہ عوام کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل لین دین کی سرگرمیاں ہیں۔ جہاں ایک طرف انڈین شہری پارکنگ کی فیس، سگریٹ یا یہاں تک کہ پھلوں اور سبزیوں کے پش کارٹ میں بھی ڈیجیٹل پیمنٹ کا استعمال کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ایک تاریک پہلو ‘ سائبر فراڈ’ بھی سامنے آ رہا ہے۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت انڈیا میں روزانہ سب سے زیادہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں جس سے نہ صرف معیشت کو تقویت مل رہی ہے بلکہ لوگوں کو مالی شمولیت کا بھی موقع مل رہا ہے۔ انڈین وزارت خزانہ نے اس ترقی کو سراہا ہے اور اسے “کل کے لیے ترقی کا انجن” قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک نے بھی اس ترقی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انڈیا کی معیشت کے لیے ایک نیا دور ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن، بدقسمتی سے اس خوشحال منظر کے ساتھ ایک افسوسناک حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے جو کہ ‘ڈیجیٹل فراڈ’ کی بڑھتی ہوئی تعداد کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ گزشتہ سال انڈیا میں ہونے والی سائبر فراڈ کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے بعض واقعات اتنے پیچیدہ اور خطرناک ہیں کہ یہ کسی فلم سے کم نہیں لگتے۔ یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے جنگ بندی معاہدہ توڑتے ہوئے غزہ پر حملے، مزید 400 معصوم افراد شہید ایسا ہی ایک واقعہ انڈین ٹیکسٹائل کے ایک بڑے تاجر کا تھا جس نے 8 لاکھ 30 ہزار ڈالر سے زیادہ کی رقم کا نقصان اٹھایا۔ ان سکیمرز نے اسے ایک جعلی سپریم کورٹ کی سماعت میں طلب کیا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے پیسہ نہ دیا تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا۔ یہ ایک نیا اور خطرناک طریقہ تھا جس میں جعلسازی اور ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق پچھلے مالی سال میں ہائی ویلیو سائبر فراڈ کی تعداد گزشتہ سال سے چار گنا زیادہ ہو گئی ہے جب کہ مرکزی بینک نے بتایا ہے کہ صرف ڈیجیٹل پیمنٹس سے ہونے والے فراڈ کی مالیت 175 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے جبکہ انڈیا میں گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں شہریوں کو جعلی ملازمت کے آفرز کے ذریعے میانمار اور دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں بھیجا گیا تھا جہاں انہیں سائبر کرائمز میں ملوث ہونے پر مجبور کیا گیا۔ انڈین حکومت نے ان میں سے تقریبا 550 افراد کو بازیاب کروا لیا تھا مگر ابھی بھی سینکڑوں افراد اس خطرناک دھوکے کا شکار ہو کر وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ لازمی پڑھیں: زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، مجموعی مالیت 15 ارب 92 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی دوسری جانب اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجیز نے سکیمرز کو ایسا طاقتور ہتھیار دیا ہے کہ وہ جعلی پولیس اسٹیشنز اور حتی کہ جعلی عدالتی سماعتیں تک قائم کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں انڈین سائبر کرائم کے ماہر ‘پون دگل’ نے ایک رپورٹ میں کہا کہ “ہم سائبر کرائمز کے ایک سنہری دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈارک ویب اور بے انتہا ڈیٹا لیک ہونے کی وجہ سے مالی فراڈ کی شرح غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔” لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سب کے باوجود بھارت میں سائبر سیکیورٹی کی سطح میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اگر بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں نے سائبر سیکیورٹی میں سرمایہ کاری نہ کی تو اس بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ مزید برآں، پولیس افسران کو جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایسے فراڈ کا بروقت پتہ لگا سکیں۔ مرکزی بینک کے گورنر ‘سنجے ملہوترا’ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ “ادائیگی کے نظام کی حفاظت اور سیکیورٹی کی سطح کو بہتر بنانا ابھی تک ایک جاری عمل ہے اور اس میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔” انڈیا میں ڈیجیٹل معیشت کا بڑھتا ہوا اثر اقتصادی ترقی کے لیے خوش آئند ہے، مگر یہ بے شمار چیلنجز اور خطرات بھی اپنے ساتھ لے کر آیا ہے۔ مزید پڑھیں: کیا روزہ داروں کا خرچ پاکستانی معیشت کو سہارا دیتا ہے؟

کیا روزہ داروں کا خرچ پاکستانی معیشت کو سہارا دیتا ہے؟

پاکستانی معیشت میں استحکام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے، کبھی ڈالر نے اس کو رسوا کیا تو کبھی مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ نے اس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، حکومت معیشت کو سہارا دینے اور ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے کبھی آئی ایم ایف کے در پر تو کبھی در بدر اور یہ تماشا آج تک جاری ہے۔ پاکستان میں کوئی مذہبی تہوار ہو یا پھر ثقافتی، لوگ اس سے خوب محظوظ ہوتے ہیں، ایسا ہی کچھ رمضان المبارک میں بھی ہوتا ہے، جہاں عوام ماہ مقدس کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کے لیے روزوں کا اہتمام کرتی ہے اور سحری و افطاری پر خصوصی انتظام کیا جاتا ہے جس کے لیے گراسری سٹورز پر خریداری ریکارڈ ہوتی ہے، اس کے بعد عید کی آمد پر نئے کپڑوں، جوتوں کی خریداری بھی عروج پر رہتی ہے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک میں معاشی سرگرمی تو بھرپور رہتی ہے۔ ریڑھی بان سے مزدور، بس ڈرائیور سے رکشہ ڈرائیور، دیہاڑی دار سے بھٹہ مزدور اور ملازمت پیشہ افراد گھروں کے بجٹ کو بڑھاتے ہوئے فیملی کو خریداری کا بھرپور موقع فراہم کرتے ہیں، ایک سے دو ماہ کی یہ خریداری، یا رقم خرچ بہت نچلی سطح پر معاشی سرگرمی کا سبب بنتا ہے، اس سے حکومتی سطح پر معیشت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ رمضان المبارک اور پھر عید کی خوشیاں صرف لوئر مڈل کلاس طبقہ تک محدود ہوتی ہیں، یا پھر بڑی چھلانک لگے تو مڈل کلاس تک اس سے اوپر کی کلاس کے لیے پورا سال ایک جیسا ہی ہوتا ہے، کیونکہ جو طبقہ ملکی سطح پر معاشی سرگرمی کا سبب بنتا ہے اس کے لیے رمضان یا عید معمول کا مہینہ ہی ہوتا ہے، اس لیے رمضان کے دوران معاشی سرگرمی نچلے طبقے تک محدود ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ اختتام پذیر ہے، دُنیا بھر کے بہت سے ممالک میں اُن کے خصوصی دنوں اور تہواروں کے مواقعے پر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کے برعکس وطن عزیز میں ہر شے کے دام بڑھ جاتے ہیں۔ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حسن رضا نے پاکستان میٹرز سے گفتگو کے دوران قیمتوں میں اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ رمضان میں قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر دو عوامل کا نتیجہ ہوتا ہے، ایک، طلب میں اضافہ اور دوسرا، مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لیے ذخیرہ اندوزی۔ اگرچہ طلب و رسد کی منطق کچھ حد تک لاگو ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں مہنگائی کا بڑا سبب منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ہے، جس پر حکومتی کنٹرول ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے رمضان بازار لگائے تو جاتے ہیں لیکن اس سے عام آدمی کی ضروریات پوری نہیں ہوتی اس حوالے سے ڈاکٹر حسن رضا کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے رمضان بازار اور سبسڈی پروگرامز متعارف کرائے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر ان کے فوائد عوام تک کم ہی پہنچتے ہیں۔ اگر پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال ہوں، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر حکومتی اداروں کے علاوہ تاجر حضرات عوام کے لیے خدمات سرانجام دیں تو قیمتیں اعتدال میں رہ سکتی ہیں، ڈاکٹر حسن رضا نے کہا کہ کاروباری طبقہ اگر نیک نیتی سے قیمتوں کو اعتدال پر رکھے، منافع کی شرح کم کرے، اور مستحق افراد کے لیے رعایتی نرخ متعارف کرائے تو رمضان میں عام آدمی کو ریلیف مل سکتا ہے۔ کئی تاجر تنظیمیں سستا بازار قائم کرتی ہیں، لیکن اگر یہ عمل پورے ملک میں منظم ہو تو مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر تاجر حضرات رمضان کے مہینے میں عوام کا احساس کرتے ہوئے کم قیمتوں میں اشیا فروخت کریں تو پھر بھی عوام کے مسائل حل ہوسکتے ہیں اس حوالے سے ڈاکٹر حسن رضا کا کہنا تھا کہ کم منافع پر اشیاء فروخت کرنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے حکومت کو بھی ریلیف فراہم کرنا ہوگا، جیسے ٹیکس میں نرمی یا لاجسٹک اخراجات میں کمی۔ اگر کاروباری حضرات رمضان کو محض منافع کا ذریعہ بنانے کے بجائے خدمت کا موقع سمجھیں، تو عوام کو سستی اشیاء فراہم کی جا سکتی ہیں۔ ملک بھر میں چھوٹے بڑے تاجران آمد رمضان المبارک سے دو تین ماہ قبل ہی ذخیرہ اندوزی شروع کر دیتے ہیں جس سے مارکیٹوں اور بازاروں سے کھانے پینے اور روزمرہ کی اجناس کی قیمتوں میں گراں قدر اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس کے آفٹر شاکس عیدالفطر کے کئی ہفتے بعد تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ علامہ راجہ احتشام علی چشتی نے ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے پاکستان میٹرز سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ اشیاء ضروریہ کی سیل روک لینا ذخیرہ کرنا اسلام اور قران پاک کی روح کے منافی ہے حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کے دور   میں ایک صحابی نے گندم کا ذخیرہ کیا اپ کو علم ہوا تو آپ نے انہیں بلایا انہوں نے کہا کہ یہ آپ نے ذخیرہ کر کے مہنگا بیچنے کے لیے روک لیا ہے اور اس کے بعد اب مہنگے دام بیچیں گے اس نے کہا کہ یہ میرے پیسے ہم اپنی مرضی سے فروخت کر سکتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول سنایا کہ جو ذخیرہ کرتے ہیں اس نظریے سے سوچ سے کہ اس کو  مہنگا جب ہو جائے گا بیچیں گے تو ان کو قران پاک کی روح سے مفلسی اور جذام کی بیماری کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اللہ کریم ہمیں مخلوق خدا کی خدمت کی توفیق دے رمضان کی بات کریں تو زکوٰۃ کا ذکر لازمی ہے، موجودہ بدترین معاشی حالات میں رمضان کے سماجی پہلو کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس مہینے میں غریبوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کو تلاش کر کے ان کی کفالت کا انتظام کریں، اس سلسلے میں اس رمضان میں خصوصی طور پر اپنے پاس پڑوس، رشتے داروں اور دوست احباب کی خبر لیں۔ اُن میں جو مستحق ہو، اسے باعزت طریقے سے زکوٰۃ دیں۔ علامہ راجہ احتشام

زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، مجموعی مالیت 15 ارب 92 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی

ملکی زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 15 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سرکاری ذخائر 11 ارب 9 کروڑ 79 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب 83 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک محدود ہو گئے، جب کہ مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 15 ارب 92 کروڑ 89 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو اختتام پذیر ہفتے میں زیرگردش کرنسی کا حجم 9,458 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.2 فیصد کم ہے۔ رواں مالی سال کے آغاز سے اب تک زیرگردش کرنسی میں مجموعی طور پر 3.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 28 فروری کو اختتام پذیر ہفتے میں بینکوں کے ڈیپازٹس کا مجموعی حجم 26,234 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 2 فیصد زائد ہے۔ مالی سال کے آغاز سے اب تک بینکوں کے ڈیپازٹس میں مجموعی طور پر 0.8 فیصد کمی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ جاری مالی سال کے آغاز سے لے کر اب تک زروسیع میں مجموعی طور پر 0.4 فیصدکا اضافہ ہوا ہے، اسی طرح 28 فروری کو ختم ہونے والے ہفتہ میں بینکوں کے ڈیپازٹس کا حجم 26234 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو پیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 2 فیصد زیادہ ہے، جاری مالی سال کے آغاز سے اب تک بینکوں کے ڈیپازٹس میں مجموعی طور پر 0.8 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

معاشی استحکام پہلا زینہ، ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے، وزیرِاعظم شہباز شریف

وزیرِاعظم شہباز شریف سے پاکستان کے مختلف چیمبرز آف کامرس کے صدور نے ملاقات کی، جس میں ملکی معیشت کی بہتری، کاروباری برادری کو درپیش مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کاروباری شخصیات نے معاشی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کا حصول پہلا زینہ ہے، ملکی ترقی کا سفر اب شروع ہوا ہے۔ معیشت کی ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ حکومت کاروباری برادری کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔ وزیرِاعظم نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائیزیشن اور دیگر اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری برادری کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ فیس لیس کلیئرنس سسٹم کی بدولت بندرگاہوں پر کنٹینرز کی کلیئرنس کے وقت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے، جو تجارت کے فروغ میں اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس ریونیو میں اضافے کے لیے سسٹم میں اصلاحات پر اپنی تجاویز دیں، تاکہ کاروباری برادری اور حکومت مل کر ملک کی معیشت کو مزید مستحکم بنا سکیں۔ اجلاس میں شریک کاروباری شخصیات نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پہلی مرتبہ حکومتی سطح پر کاروباری برادری کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، شرکاء کا کہنا تھا کہ انھیں حکومتی پالیسیوں میں شامل کرنا خوش آئند ہے، خاص طور پر بجٹ کے مشاورتی عمل میں شامل کرنے پر وزیرِاعظم کے مشکور ہیں۔ وزیرِاعظم نے متعلقہ وزارتوں اور سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کے بعد ان کی تجاویز کی روشنی میں پالیسی اقدامات کا لائحہ عمل تیار کریں، تاکہ ملک کی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، حنیف عباسی، سردار اویس خان لغاری، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِمملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ڈیجیٹل پاکستان: کیا ہم عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کو تیار ہیں؟

جدید دنیا میں ٹیکنالوجی نے ہر شعبۂ زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور پاکستان بھی اس تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت ایک ایسا اقتصادی نظام ہے جو بنیادی طور پر انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی، اور الیکٹرانک وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کا رجحان حالیہ برسوں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ ای کامرس، ڈیجیٹل بینکنگ، فری لانسنگ، اور موبائل پیمنٹ سسٹمز نے کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ نوجوان بڑی تعداد میں آن لائن پلیٹ فارمز سے وابستہ ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر اپنی مہارتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان بھی اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان ویژن، نیشنل ای کامرس پالیسی، اور سٹارٹ اپ سپورٹ پروگرامز جیسے اقدامات معیشت کو جدید راستے میں لے کر جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے کاروبار، آن لائن شاپنگ اور ڈیجیٹل سروسز کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومت پاکستان نے 18 اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کو فعال کیا ہے، جبکہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز ٹیکس چھوٹ، فارن ایکسچینج اکاؤنٹس سہولت فراہم کرتے ہیں. اس کے علاوہ اسپیشل ٹیکالوجی زونز ڈیوٹی فری درآمدات کے ذریعے سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں۔ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں براڈ بینڈ، فنٹیک اور اے آئی میں سرمایہ کاری کے ساتھ 75 بلین ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر ڈیجیٹل تبدیلی سے مکمل فائدہ اٹھایا جائے تو 2030 تک 9.7 ٹریلین روپے تک کی معاشی قدر پیدا ہو سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے اقدامات سے معاشی ترقی اور شمولیت کو مدد ملے گی۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پاکستان کی ڈیجیٹل برآمدات میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔ آئی ٹی سیکٹر میں سالانہ 30 فیصد اضافے کی توقع ہے، جس سے 2029 تک 3.6 بلین ڈالر تک کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ 2018 اور 2023 کے درمیان ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 143 فیصد اضافہ ہوا، جو 1 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ تاہم، کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ملک میں انٹرنیٹ کی سہولیات ہر جگہ دستیاب نہیں، جس سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے مسائل اور آن لائن دھوکہ دہی کے خدشات بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ڈیجیٹل خواندگی کی کمی کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے محروم ہے۔ پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہِ کاروبار سے وابستہ طالب علم بشریٰ امان ورک نے کہا کہ “ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے پاکستان میں سب سے بڑا چیلنج انٹرنیٹ کی محدود اور سست رفتار ہے اور  انٹرنیٹ کی سست رفتار اور وقتاً فوقتاً بندش ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ نہ صرف کاروبار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ روزگار کے مواقع کو بھی محدود کرتا ہے”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ “دوسرا بڑا مسئلہ ڈیٹا سیکیورٹی اور اس کا تحفظ ہے مزید یہ کہ ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے جامع قانون کی کمی ایک اہم چیلنج ہے۔اس مسئلہ کے حل کے لیے گیریژن یونیورسٹی لاہور اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے طلباء، امریکہ کی سپورٹ سے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ شہریوں کے حساس ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت  ہے۔ فاونڈر آف ڈیجیٹل پاکستان اور فارمر ڈی جی ایف آئی اے سید عمار جعفری اپنی ٹیم کے ساتھ پاکستان میں پچاس سے زائد سینٹر آف انفارمیشن اور ٹیکنالوجی بنا چکے ہیں جس کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے لوگ بھی اپنا ڈیٹا محفوظ کرنے کی سہولت پا سکتے ہیں”۔ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں  80 فیصد آئی ٹی گریجویٹس کے پاس متعلقہ انڈسٹری کی مہارت نہیں ہے۔ ڈیجیٹل ہنر کی تربیت کے ذریعے اس کمی کو دور کرنے سے 2030 تک پاکستان کی سالانہ جی ڈی پی میں 2.8 ٹریلین روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا مقصد 70 فیصد براڈ بینڈ کی رسائی حاصل کرنا اور جی ڈی پی میں آئی ٹی سیکٹر کے حصہ کو بڑھانا ہے۔ ڈیجیٹل خدمات میں خلل، بشمول انٹرنیٹ کی رفتار کم کرنا اور سوشل میڈیا پر پابندی، کاروبار کو متاثر کر رہی ہیں۔ 2023 میں، پاکستان کو انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے 65 بلین روپے (237.6 ملین ڈالر) کا نقصان ہوا۔ مصنوعی ذہانت (AI) 2030 تک پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں 10 سے 20 بلین ڈالر تک کا حصہ ڈال سکتی ہے۔ اے آئی 2030 تک پاکستان کی جی ڈی پی کا 10 فیصد تک ہو سکتا ہے۔ 2023 میں، گوگل کی مصنوعات اور حل نے پاکستانی کاروباروں کے لیے 2.6 ٹریلین روپے کی معاشی سرگرمی فراہم کرنے اور 864,600 ملازمتوں کو سپورٹ کرنے میں مدد کی۔ موبائل ایپس، آن لائن ویڈیو سروسز، کراس بارڈر ڈیجیٹل اشتہارات، کراس بارڈر ای کامرس اور دیگر ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات سے 2030 میں 6.6 بلین ڈالر (1.8 ٹریلین روپے) کی اضافی سالانہ برآمدی قیمت حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے امکانات وسیع ہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں، پالیسیوں میں استحکام لائیں، اور عوام میں ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دیں، تو یہ شعبہ ملکی معیشت کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔ مستقبل میں ڈیجیٹل معیشت کے ذریعے پاکستان ایک مضبوط اور خوشحال اقتصادی نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ای-کامرس پلیٹ فارمز جیسے دراز، ٹیلی مارٹ اور دیگر آن لائن مارکیٹ پلیسز کے ذریعے ہزاروں کاروباری افراد اپنی مصنوعات بیچ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی آن لائن کاروبار کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے، جہاں انسٹاگرام اور فیس بک بزنسز کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں شعبئہ آئی ٹی سے وابستہ ڈاکٹر کامران جہانزیب کا کہنا تھا کہ “ترقی یافتہ ممالک امریکہ، یورپ، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر رکھتے ہیں، جہاں فائیو جی نیٹ ورک، فائبر آپٹکس، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ عام ہیں۔ یہ ممالک مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، اور بلاک چین جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو

انڈیا میں مہنگائی کی شرح میں کمی، مرکزی بینک کی شرح سود میں کمی کا امکان

انڈیا میں فروری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 4 فیصد سے کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جو کہ گزشتہ چھ ماہ میں پہلی بار ہوگا۔ ایک سروے کے مطابق اس میں کمی کی سب سے بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں آہستہ آہستہ اضافہ ہے جو مرکزی طور پر ملکی اقتصادی صورتحال کے حوالے سے ایک خوش آئند اشارہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سروے کے مطابق فروری میں انڈیا کی سالانہ صارف قیمت انڈیکس (CPI) کی شرح 4.31 فیصد سے کم ہو کر 3.98 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ ایک اہم سنگ میل ہوگا کیونکہ مرکزی بینک، یعنی ریزرو بینک آف انڈیا (RBI)، کا درمیانی مدت کا ہدف 4 فیصد ہے۔ مزید پڑھیں: حکومت کا ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کروانے کا فیصلہ، لین دین موبائل ایپ سے ہوگا گزشتہ چند مہینوں میں سردیوں کی فصل کی آمد کے باعث غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص طور پر سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے جو کہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بن رہی تھیں۔ یہ کمی نہ صرف صارفین کے لیے خوشی کی خبر ہے بلکہ اس سے مرکزی بینک کو شرح سود میں کمی کرنے کا بھی موقع مل سکتا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کو مزید بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ غذائی اجناس کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ سال کی سپلائی چین کے بحران کے بعد آئی ہے جب غیر متوقع بارشوں اور شدید گرمی کی لہر نے کھانے کی قیمتوں میں دوہرے ہندسوں تک اضافے کو جنم دیا تھا۔ اس میں کمی سے نہ صرف صارفین کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مرکزی بینک کو شرح سود میں کمی کرنے کی مزید حمایت ملے گی۔ یہ بھی پڑھیں: چین نے پاکستانی قرض کی واپسی میں ایک سال کی توسیع کر دی عالمی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے سروے میں شامل 45 اقتصادی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ فروری میں مہنگائی کی شرح 3.98 فیصد تک کم ہو جائے گی جو کہ جنوری کی 4.31 فیصد سے کم ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریبا 70 فیصد ماہرین نے اس بات کی توقع ظاہر کی ہے کہ مہنگائی کی شرح ریزرو بینک کے ہدف 4 فیصد سے کم رہے گی۔ ان پیش گوئیوں کے مطابق، 12 مارچ کو جاری ہونے والے مہنگائی کے ڈیٹا میں مزید کمی کی توقع ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی کا ایک اور بڑا اثر مرکزی بینک کی شرح سود پر پڑے گا۔ فروری میں ایک چوتھائی فیصد کی کمی کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ اپریل میں ریزرو بینک اپنی شرح سود میں مزید کمی کرے گا تاکہ سست روی کا شکار معیشت کو تحریک دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر بھی یہ فیصلہ ایک اہم اثر ڈالے گا کیونکہ انڈیا کی معیشت ایک بڑی عالمی معیشت ہے۔ لازمی پڑھیں: قرض کا مرض لادوا، کیا پاکستانی معیشت سنبھل پائے گی؟ اگرچہ فی الحال انڈیا کے لیے خوشخبری ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں کمی آئی ہے لیکن انڈیا کے محکمہ موسمیات کی طرف سے آنے والی پیش گوئیاں کہ موسم گرما میں گرمی کی لہر جلد شروع ہو سکتی ہے خدشات کو جنم دیتی ہیں کہ مہنگائی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔ اس پیش گوئی کے مطابق مارچ کے مہینے میں سبزیوں کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا امکان ہے۔ رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2024 کے مالی سال کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 4.8 فیصد تک پہنچ جائے گی لیکن 2025 کے آغاز میں اس میں کمی آ کر یہ 4.1 فیصد تک آ سکتی ہے۔ ان پیش گوئیوں کے مطابق قیمتوں میں کمی اور کمزور روپے کے اثرات کے بیچ انڈیا کی معیشت ایک بار پھر اپنی پٹری پر واپس آ سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ انڈیا میں مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے ایک خوش آئند خبر ہے تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو موسمی حالات اور بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مالی اور اقتصادی فیصلوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ اس بات کا امکان ہے کہ آئندہ کچھ مہینوں میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار میں دوبارہ اضافہ ہو جائے گا، لیکن اس وقت بھارت کی معیشت ایک نئی سمت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ضرور پڑھیں: کرپٹو سمٹ: ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ڈیجیٹل کرنسی کے رہنماؤں کو اکٹھا کر لیا

حکومت کا ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کروانے کا فیصلہ، لین دین موبائل ایپ سے ہوگا

حکومت نے ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے لین دین موبائل ایپ سے ہوگا۔ یہ فیصلہ معاشرتی ڈیجیٹل ضروریات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس میں بانڈز کی خریداری کے وقت استعمال شدہ بینک اکاؤنٹ یا سی ڈی این ایس کے بجٹ اکاؤنٹ میں رقم جمع کی جائے گی۔ انعامی رقم قابل ٹیکس ہوگی، لیکن اس پر زکوٰۃ لاگو نہیں ہو گی۔ ڈیجیٹل پرائز بانڈز چوری، نقصان یا ضیاع کے خطرات کو کم کرے گا اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے، شفافیت بڑھانے اور احتساب کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ ایک نیا سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرے گا۔ یہ اقدام خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ اس میں کاغذ کی ضرورت نہیں ہے، جس سے پرنٹنگ اور لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی آتی ہے۔ مزید برآں، چونکہ یہ بانڈ خریدار کے نام پر رجسٹرڈ ہوتا ہے، اس لیے چوری، نقصان یا ضیاع کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، اور یہ معیشت کی دستاویز سازی، شفافیت اور احتساب کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ یہ اقدام خریداری اور فروخت کے عمل کو آسان بنا کر پورے عمل کو مؤثر طریقے سے منظم کرے گا۔ وزارت خزانہ کی سمری اور سرکاری دستاویزات کے مطابق، ابتدائی طور پر 500 روپے، 1000 روپے، 5000 روپے اور 10000 روپے کے ڈیجیٹل پرائز بانڈز جاری کیے جائیں گے، اور ان کی قیمت وزارت خزانہ وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کرے گی۔ ایک بالغ پاکستانی شہری نیشنل سیونگز موبائل ایپ یا سی ڈی این ایس کے منظور شدہ چینل کے ذریعے خریداری کر سکتا ہے۔ ادائیگی لنک شدہ بینک اکاؤنٹ یا سی ڈی این ایس بچت اکاؤنٹ کے ذریعے کی جائے گی۔ ڈیجیٹل پرائز بانڈز کے انعامات موبائل ایپ کے ذریعے ریڈیم کیے جائیں گے اور ان کی رقم خریداری کے وقت استعمال شدہ بینک اکاؤنٹ یا سی ڈی این ایس بچت اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔ سرکاری دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی سہ ماہی بنیاد پر کی جائے گی، یا وزارت خزانہ کی طرف سے نوٹیفائی کی جائے گی۔ قرعہ اندازی کا شیڈول ہر کیلنڈر سال کے آغاز میں سی ڈی این ایس کے ذریعے اعلان کیا جائے گا۔ انعامی رقم لنک شدہ بینک اکاؤنٹ یا سی ڈی این ایس بچت اکاؤنٹ نمبر میں منتقل کر دی جائے گی۔ انعامات کی مقدار وزارت خزانہ کے ذریعے طے کی جائے گی۔ انعامی رقم پر ٹیکس لاگو ہوگا، مگر اس پر زکوة لاگو نہیں ہوگی۔ ڈیجیٹل پرائز بانڈ کے خریدار خریداری کے وقت کسی نامزدگی کا تعین کر سکتے ہیں، جسے بعد میں تبدیل یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اگر سرمایہ کار کا انتقال ہو جائے، تو مرحوم کے بانڈ کی اصل رقم اور انعامی رقم ان کے قانونی ورثا کو جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے مطابق ادا کی جائے گی، اور اگر خالص رقم 500000 روپے سے کم ہو تو ادائیگی خریداری کے وقت نامزد شخص کو کی جائے گی۔