اپریل 3, 2025 12:39 شام

English / Urdu

کیا عمران خان کو جیل میں جعلی اخبار دیا جاتا ہے؟

گزشتہ کچھ دنوں سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبر گردش کرتی نظر آئی کہ جیل میں عمران خان کو حکومت اپنی مرضی سے جعلی اخبار بنوا کر دیتی ہے اور بہت سے سیاست دانوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا، مگر اب اس کی تصدیق کرلی گئی ہے۔ بی بی سی نیوز کے صحافی اطہر کاظمی کا ایک ویڈیو کلپ میں کہنا تھا کہ ‘ایک انتہائی معتبر شخصیت میرے خیال میں اس سے معتبر شخصیت شاید کوئی اور ہو نے بتایا ہے کہ ہمیں پتہ چلا ہے عمران خان کو جیل میں جو اخبار دیا جاتا ہے مبینہ طور پر وہ اخبار بھی جعلی ہے، باہر کوئی اور اخبار چھپتا ہے اور اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دے دیا جاتا ہے۔ ایک انتہائی معتبر شخصیت میرے خیال میں اس سے معتبر شخصیت شاید کوئی اور ہو نے بتایا کہ ہمیں پتہ چلا ہے عمران خان کو جیل میں جو اخبار دیا جاتا ہے مبینہ طور پر وہ اخبار بھی جعلی ہے، باہر کوئی اور اخبار چھپتا ہے اور اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دے دیا جاتا ہے۔@2Kazmi pic.twitter.com/j3dHulNh49 — Zeeshan (@zeeshanimranpti) March 22, 2025 اطہر کاظمی کی اس ویڈیو کو عام صارفین کے ساتھ ساتھ کئی اہم سیاسی و صحافی شخصیات نے بھی شیئرکیا۔ امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی رہنما وقار خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پہ یہ ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کو جو اخبار دیا جا رہا ہے، وہ جعلی ہے یعنی ڈان نیوز کے اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دی جاتیں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ فارم 45 والے اخبار کو فارم 47 میں بدل کر دیا جا رہا ہے۔ عمران خان کو جو اخبار دیا جا رہا ہے وہ بھی جعلی ہے، یعنی ڈان نیوز کے اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دی جاتیں ہے فارم 45 والے اخبار کو فارم 47 میں بدل کر دیا جا رہا ہے pic.twitter.com/hT49stAGFm — Waqar khan (@Waqarkhan123) March 22, 2025 صحافی عمران افضل راجہ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ عمران خان کو جیل میں جعلی اخبار دیا جاتا ہے؟ اس بات کی تصدیق اگر نہ بھی ہو تو عمران خان تک یہ بات پہنچانا ضروری ہے۔ “خان صاحب @ImranKhanPTI کو جیل میں اخبار بھی جعلی چھاپ کر دیا جاتا ہے” ؟؟ ۔۔ اس بات کی اگر تصدیق نا بھی ہو تو خان صاحب تک یہ بات پہنچنا ضروری ہے@Aleema_KhanPK pic.twitter.com/41gSmwq5Ao — Imran Afzal Raja (@ImranARaja1) March 22, 2025  سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا گیا، ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ سنا ہے کہ سنا ہے ایوب خان کو بھی جعلی اخبار دیا جاتا تھا، جس میں سب سکھ چین ہوتا تھا۔ سنا ایوب خان کو بھی جعلی اخبار دیا جاتا تھا جس میں سب سکھ چین ہوتا تھا 😅 — khan Je (@TanoliGKpk) March 22, 2025 ایک صارف نے مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ خان کو لوکل اخبار نہیں لینی چاہیے، واشنگٹن پوسٹ جیسی اخبارات لینی چاہیے، پاکستان کی ساری اخبارات صرف پکوڑے اور سموسے پیک کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ خان کو لوکل اخبار نہیں لینی چاہیے واشنگٹن پوسٹ اور ایسی اخبارات لینی چاہیں پاکستان کی ساری اخبارات صرف پکوڑے سموسے پیک کرنے کے لیے ہوتی ہیں — Shauket (@shaukethus) March 23, 2025 ایک اور صارف نے لکھا کہ اطہر کاظمی کو بھی اس انتہائی معتبر شخصیت نے یہ بتایا ہے کہ اسے بھی کسی سے پتہ چلا ہے اور اس معتبر شخص نے متعدد صحافیوں کے سامنے کاظمی صاحب سے یہ بات کی۔ بھائی جھوٹی خبریں اس طرح پھیلتی ہیں۔ ریچ کے چکرمیں ان صحافیوں نے اندھی مچائی ہوئی ہے۔ کاظمی کو اس انتہائی معتبر شخصیت نے یہ بتایا ہے کہ اسے بھی “کسی سے پتہ چلا ہے”۔ اور اس معتبر شخص نے متعدد صحافیوں کے سامنے کاظمی صاحب یہ بات کی۔ بھائی جھوٹی خبریں اس طرح پھیلتی ہیں۔ ریچ کے چکر میں ان صحافیوں نے اندھی مچائی ہوئی ہے۔ — Khalid Saifullah (@kshqazi) March 22, 2025 دوسری جانب 92 نیوز کے صحافی ثاقب بشیر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پہ لکھا ہے کہ کچھ دن پہلے کسی نے بات کی تھی کہ عمران خان کو جیل میں فیک اخبار دی جاتی ہے، یہ معلومات درست نہیں ۔ وہی اخبار جیل میں عمران خان کو دی جارہی ہے جو اصل میں ہوتی ہے اور آج جیل میں عمران خان سے اس بات کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ کچھ دن پہلے کسی نے بات کی تھی کہ عمران خان کو جیل میں فیک اخبار دی جاتی ہے یہ معلومات درست نہیں ۔۔۔ وہی اخبار جیل میں عمران خان کو دی جارہی ہے جو اصل میں ہوتی ہے ۔۔۔ آج جیل میں عمران خان سے تصدیق ہوئی ہے — Saqib Bashir (@saqibbashir156) March 25, 2025 صارفین کی جانب سے اس پر بھی ملے جلے تبصرے کیے گئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ خبر کافی دلچسپ ہےاور اگر عمران خان نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اصلی اخبار ہی فراہم کی جارہی ہے، تو اس سے وہ افواہیں غلط ثابت ہوتی ہیں جو یہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ انہیں جیل میں جعلی یا ایڈٹ شدہ اخبارات دیے جا رہے ہیں۔ ایک صارف نے اطہر کاظمی کو مینشن کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ نام لو فیک نیوز پھیلانے والوں کا، جب کہ کچھ صارفین نے کہا کہ جو اخبار باہر بکتی ہیں وہ کونسا سچی ہوتی ہیں۔ نام لو فیک نیوز پھیلانے والو کا۔۔۔@2Kazmi — Aasaf (@macasif1234) March 25, 2025 اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود عمران خان کو دی جانے والی جعلی اخبار کی خبر کوئی حیثیت نہیں اور انہیں وہی اخبار دی جارہی ہے جو روز مرہ میں پڑھی جارہی ہے۔

فیکٹ چیک: نیٹ میٹرنگ پالیسی سے متعلق شہباز شریف کا دعویٰ درست ہے یا غلط؟

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سولر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، پاور ڈویژن اعداد و شمار کے ساتھ حقائق بتائے، لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ حکومت نے نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ متعارف کرا دی ہے، جس سے سولر صارفین کو بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ شمسی توانائی کے ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف عام صارفین بلکہ شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقاص ایچ موسیٰ کا کہنا ہے کہ ” حکومت کوئی بھی پالیسی بنانے سے قبل اس شعبے سے وابستہ افراد کو اعتماد میں لے۔ اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری ہو چکی ہے اور ہم حکومت کے اس اقدام کو چیلنج کریں گے۔” نیٹ میٹرنگ میں سولر صارفین کو ان کی اضافی بجلی کے بدلے اتنی ہی قیمت دی جاتی تھی، جتنی عام صارفین سے وصول کی جاتی تھی، یہ نظام صارفین کے لیے فائدہ مند تھا اور لوگوں کو سولر انرجی کی طرف مائل کرتا تھا۔ اب نیٹ بلنگ میں صارفین سے ان کی اضافی بجلی کم قیمت پر خریدی جاتی ہے، جب کہ اگر انہیں بجلی واپس خریدنی ہو تو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، یہ نظام نیٹ بلنگ بجلی کمپنیوں کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن صارفین کے لیے نقصان دہ ہے۔ پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث لاکھوں صارفین نے سولر انرجی پر سرمایہ کاری کی، تاکہ اپنے بجلی کے بل کم کر سکیں۔ لیکن جیسے ہی نیٹ میٹرنگ سے بجلی کمپنیاں مالی نقصان میں جانے لگیں، حکومت نے نیٹ بلنگ متعارف کرا دی، جس میں بجلی کمپنیاں سستی بجلی خرید کر مہنگی بیچتی ہیں۔ توانائی کے ماہر عبید اللہ خان کا کہنا ہے کہ” پاکستان کے پاور سیکٹر نے قابل تجدید توانائی کو اپنانے میں ڈرامائی تبدیلی دیکھائی۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک بھر میں شمسی تنصیبات صرف 740 میگاواٹ تک پہنچی ہیں۔” یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں اب بھی سولر انرجی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، لیکن نیٹ بلنگ جیسے اقدامات سے اس کی ترقی رک سکتی ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث لاکھوں صارفین نے سولر پینلز پر سرمایہ کاری کی تھی، لیکن نیٹ بلنگ نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ لاہور کے رہائشی محمد علی کا کہنا ہے کہ ہم نے 8 لاکھ روپے لگا کر سولر پینلز لگائے، تاکہ بجلی کا بل کم ہو اور اضافی بجلی بیچ کر فائدہ ہو، لیکن اب جب نیٹ بلنگ آ گئی ہے، تو ہمیں کم قیمت پر بجلی بیچنی پڑ رہی ہے، جب کہ خریدنی مہنگی پڑتی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین گرڈ بجلی استعمال کرنے والوں پر اضافی 159 ارب کا بوجھ بن گئے وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ سولر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیٹ بلنگ متعارف کرا دی گئی ہے، نیٹ میٹرنگ کے ریٹس کم کر دیے گئے ہیں، صارفین کو کم قیمت پر بجلی بیچنی پڑ رہی ہے اور مہنگی خریدنی پڑ رہی ہے۔ حقیقت میں سولر صارفین کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے اور اس پالیسی کا اصل فائدہ بجلی کمپنیوں کو ہو رہا ہے، جو سستی بجلی خرید کر مہنگی بیچ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے فائدہ صرف بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہوگا، جو سستی بجلی خرید کر مہنگی بیچیں گی۔ سولر صارفین کو جو امید تھی کہ وہ سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھائیں گے، وہ دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ حکومت کی نئی پالیسی سولر صارفین کے حق میں نہیں ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے تحت جو لوگ سرمایہ کاری کر چکے تھے، وہ اب نیٹ بلنگ کے باعث نقصان میں جا رہے ہیں، اگر حکومت واقعی گرین انرجی کو فروغ دینا چاہتی ہے، تو پھر ایسی پالیسیاں کیوں بنا رہی ہے جو سولر صارفین کی حوصلہ شکنی کریں۔

برطانوی وزیر اعظم کا مریم نواز کے ساتھ ذکر کیوں ہورہا ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں 2011 کے برطانوی وزیر اعظم اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے رویے کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ویڈیو کے ایک حصے میں 2011 کا واقعہ دکھایا گیا ہے، جب برطانیہ کے ایک ہسپتال میں رش زیادہ ہونے کے باعث ایک ڈاکٹر نے اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم کو وارڈ سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دوسری جانب، ویڈیو میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو دکھایا گیا ہے، جہاں وہ میو ہسپتال، لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو سخت لہجے میں ڈانٹ رہی ہیں۔ ویڈیو میں مریم نواز ایم ایس سے کہتی ہیں، “آپ کو کس نے نوکری پر رکھا ہے؟ شکر کریں کہ آپ کو گرفتار نہیں کیا جا رہا!” اس کے بعد، وہ ایم ایس کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیتی ہیں۔ PM kicked out of the ward by a Doctor in the UK byu/hotmugglehealer inpakistan ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، سوشل میڈیا صارفین مریم نواز اور برطانوی وزیر اعظم کے رویے کا تقابلی جائزہ لے رہے ہیں اور پنجاب حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک صارف نے وزیر اعلی مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ستم ظریفی ہے کہ ایک ٹھگ ڈراپ آؤٹ، ایک سند یافتہ ڈاکٹر کو نکال رہی ہے۔ ایک صارف نے کہا یہ یو کے میں وارڈ مینیجر ہو سکتا ہے۔ پاکستان ابھی بھی 19ویں صدی کی حکمرانی میں ہے اور عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے ایک اور صارف نے لکھا کہ وہ شکایات پر ایم ڈی کو ڈانٹ رہی ہے اور بتا رہی ہے کہ تمہیں کس نے نوکری پر رکھا ہے؟ تم کون ہو؟ اس بندے کو نوکری سے نکال دینا چاہیے۔ خوش رہو کہ میں تمہیں گرفتار نہیں کر رہی ہوں۔ نوٹ کریں کہ ایم ایس نے استعفیٰ کی درخواست پہلے ہی دے دی تھی کیونکہ حکومت طویل عرصے سے ہسپتال کو فنڈز جاری نہیں کر رہی تھی۔ وہ صرف ایک سٹنٹ اسکور کرنے کے لیے وہاں گئی تھی۔

بیچ کی جگہ بِچ، اکیڈمی کو اشتہار میں غلطی مہنگی پڑ گئی

پاکستان میں گزشتہ ایک عرصے سے تعلیمی اداروں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کبھی اساتذہ کی عدم دلچسپی تو کبھی تعلیمی اداروں کی من مرضیاں اکثر ہی سرخیوں میں رہتی ہیں، مگر اس بار ایک ایسے واقعے نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے، جو نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ لاہور میں ایک اکیڈمی کا بازار میں آویزاں کیا گیا اشتہار سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گیا ہے، جس نے ہر شخص کی توپوں کا رخ اپنی جانب مبذول کردیا ہے۔ اکیڈمی کے بازار میں  آویزاں کیے گئے اشتہار میں انگریزی زبان کے ایک حرف کی غلطی نے معنی کو کیا سے کیا بنا دیا۔ اکیڈمی نے اپنے نئے “بیچ” (Batch) کے آغاز کا اعلان کیا، مگر اشتہار میں “بیچ” کی جگہ “بچ” (Bitch) لکھ دیا گیا، جو کہ انگریزی میں ایک غیر مہذب لفظ ہے جس کا معنی کتیا ہے۔ یہ غلطی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور صارفین نے دلچسپ تبصرے شروع کر دیے۔ ایک صارف نے سوشل میڈیا پر اس اشتہار کو پوسٹ کیا اور ساتھ کیپشن لکھا کہ’ لاہور میں کہیں دیکھا۔ کوئی بھی انگریزی زبان کے اسباق میں دلچسپی رکھتا ہے؟ ایک صارف نے لکھا کہ ‘پہلے میں نے سوچا کہ اکیڈمی چلانے والے نے اسے یہاں پوسٹ کیا ہوگا لیکن پھر میں نے بینر پڑھا۔ اب، مجھے لگتا ہے کہ اکیڈمی میں شامل ہونا میرے لیے اچھا خیال نہیں ہوگا۔’ Comment byu/KleinBottle5 from discussion inpakistan ایک صارف نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ اس کتیا میں پڑھنے جا رہے ہیں؟ Comment byu/KleinBottle5 from discussion inpakistan ایک اور صارف نے لکھا کہ’ اپنے دفاع میں، وہ  صرف بولی جانے والی  انگریزی میں اچھے ہیں، اس لیے براہ کرم ان سے بھی صحیح لکھنے کی امید نہ رکھیں۔ Comment byu/KleinBottle5 from discussion inpakistan

’ ایلون مسک، مارک زکر برگ اور جیف بیزوس ٹرمپ کی حمایت کیوں کررہے ہیں‘ 

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لے لیا، انہوں نے اپنے ایک پیغام میں بتایا ہے کہ ایلون مسک، مارک زکربرگ اور جیف بیزوز ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ” ایلون مسک، مارک زکربرگ اور جیف بیزوز ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کیوں کر رہے ہیں، اس کی ایک سادہ سی وجہ ہے”۔ انہوں نے کہا کہ”کیوں کہ یہ تینوں لوگ جانتے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیاں امیر لوگوں کو اور بھی امیر بنا دیتی ہیں”۔   Musk, Zuckerberg and Bezos are working with Trump for one very simple reason: They understand that Trump’s policies are designed to make the wealthiest Americans even richer. These three men have become $232 billion richer since November. Not bad in a couple of months’ time! pic.twitter.com/D0W5XcoVeh — Bernie Sanders (@SenSanders) February 5, 2025 برنی سینڈرز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ” جب سے ٹرمپ حکومت میں آئے ہیں یہ تینوں لوگ 232 بلین ڈالر امیر ہوئے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ”ایلو ن مسک ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد 154 بلین ڈالر مزید امیر ہوئے ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ”مسک نےچند ہفتوں کے دوران بہترین منافع کما لیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی الیکشن کمپین پر صرف کچھ سو ملین ڈالر خرچ کیے ہیں اور اب ان کی دولت میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے”۔ برنی سینڈرز کے مطابق”اسی طرح جیف بیزوز بھی ٹرمپ کے آنے کے بعد 35 بلین ڈالر مزید امیر ہوئے ہیں۔ جبکہ زکربرگ 43 بلین ڈالر مزید امیر ہوئے ہیں”۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ”صرف چند ہفتوں میں اس قدر منافع کوئی برا منافع نہیں ہے”۔  

ایلون مسک نے ‘یو ایس ایڈ کو مجرم ادارہ’ قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی غرض سے قائم ‘ڈوج’ کے سربراہ ایلن مسک نے امریکی ادارے ‘یو ایس ایڈ کو مجرم ادارہ’ قرار دے دیا۔ ایلن مسک نے امریکی حکومت کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے دنیا بھر میں گرانٹس دینے اور مختلف ایکسچینج پروگرامات کے منتظم ادارے کو ایک ایکس پوسٹ میں ‘مجرم ادارہ’ قرار دیا۔ دنیا کے امیر ترین آدمی نے اسی پر اکتفا نہیں بلکہ ‘اسے مر جانا چاہیے’ کہہ کر اپنے عزائم کا اظہار بھی کیا۔ ایلن مسک کی جانب سے یہ ردعمل اس اطلاع پر دیا گیا کہ ‘یو ایس ایڈ کے سینیئر عہدیداروں نے ڈوج کے نمائندوں کو ایجنسی کے سسٹم تک رسائی سے روکنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد انہیں جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔’ ‘ڈوج کے نمائندے ادارے کے سیکیورٹی اور پرسنل ڈیٹا تک رسائی چاہتے تھے تاہم یو ایس ایڈ کے عہدے دار جان وورجیز اور ان کے معاون نے ایسا کرنے سے منع کیا اور زبردستی کرنے پر پولیس بلانے کی تنبیہ کی تھی۔’ ایلن مسک کی پوسٹ پر ردعمل دینے والے متعدد امریکی صارفین نے بھی ان کی طرح ‘ یو ایس ایڈ کو ایک کرپٹ اور بددیانت ادارہ قرار دیا جو امریکیوں کی دولت سے دنیا میں حکومتیں بدلنے اور اپنی مرضی چلانے کا کام کرتا ہے۔’ امریکی اداروں کی خراب کارکردگی اور بیرونی دنیا میں مداخلت کا ذکر چھڑا تو گفتگو میں شامل افراد نے مزید امریکی اداروں کی چھان بین کا مطالبہ بھی کیا۔ ایسے ہی ایک صارف نے لکھا کہ ‘کلنٹن فاؤنڈیشن اور ملینڈا اینڈ گیٹس فاؤنڈیشن کی چھان بین بھی ہونی چاہیے۔’ یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (ڈوج) کے ذمہ دار کے طور پر ایلن مسک نے امریکا کے کسی سرکاری ادارے پر تنقید کی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی متعدد اداروں کی مشکوک یا متنازع کارکردگی کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے یو ایس ایڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے آپریشنز کو ‘امریکا فرسٹ’ پالیسی سے ہم آہنگ کرے۔ جس کے تحت بیرونی امداد کو روک کر اس کے استعمال کا جائزہ لیا جانا ہے۔ یو ایس ایڈ پر یہ تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کہ وہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم استعمال کر کے ایسی لابنگ کرتا رہا ہے جس سے مزید فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔ ایک الگ پوسٹ میں ایلن مسک نے ‘یو ایس ایڈ کو بائیں بازو کے ان مارکسسٹس کا ٹھکانا قرار دیا تھا جو امریکا سے نفرت کرتے ہیں۔’ ڈوج کی جانب سے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ ‘یو ایس ایڈ نے غیرملکی امداد کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے 40 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس میں سے 45 ملین ڈالر برما میں اسکالر شپس، 520 ملین افریقہ اور 1.2 ارب ڈالر نامعلوم افراد/اداروں کو دیے گئے ہیں۔’

نیوزی لینڈ نے پہاڑ کو ’انسان‘ کا درجہ دے دیا

نیوزی لینڈ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے نہ صرف قانونی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ایک پہاڑ، جو مقامی ماؤری قوم کے لیے ایک مقدس روحانی ورثہ تھا، کو انسان کے مساوی حقوق اور ذمہ داریوں کے ساتھ قانونی شخصیت کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس پہاڑ کا نام ‘تاراناکی ماونگا (Taranaki Maunga)’ ہے، جسے پہلے ‘ماؤنٹ ایگمنٹ’ (Mount Egmont) کہا جاتا تھا۔ تاراناکی ماونگا، جو نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے اب نہ صرف ایک قدرتی عجوبہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اسے قانونی طور پر ایک زندہ، آزاد اور خود مختار شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو نہ صرف مقامی ماؤری قوم کی ثقافتی ورثہ کا احترام کرتا ہے بلکہ اس پہاڑ کے ساتھ جڑے ہوئے تمام قدرتی عناصر کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کیسے ایک پہاڑ کو شخصیت کا درجہ دیا گیا؟ یقیناً یہ سوال ذہن میں آنا فطری ہے کہ آخر ایک پہاڑ کو ‘شخص’ قرار دینے کا مطلب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب نیوزی لینڈ کے حالیہ قانون میں چھپا ہے۔ یہ قانون تاراناکی ماونگا کو تمام انسانی حقوق، اختیارات، ذمہ داریوں اور قانونی معاملات کا حامل بناتا ہے۔ اس پہاڑ کا نیا قانونی نام ‘تِے کاہُویِی ٹُوپُوَا’ (Te Kāhui Tupua) رکھا گیا ہے جو اس پہاڑ کی جسمانی اور روحانی حقیقت کو یکجا کرتا ہے۔ یہ پہاڑ اور اس کے ارد گرد کی سرسبز وادی کو اب ایک واحد، ناقابلِ تقسیم اور زندہ وجود کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جو نہ صرف زمین کی مادی حقیقت بلکہ اس کی روحانی طاقت کو بھی اپنا حصہ مانتا ہے۔ قانون میں اس کے دفاع کے لیے ایک نئی قانونی شخصیت تشکیل دی گئی ہے جس کے پاس تاراناکی ماونگا کے مفادات کا تحفظ کرنے کا اختیار ہوگا۔ تاراناکی ماونگا کی اہمیت صرف اس کی بلندی یا قدرتی خوبصورتی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پہاڑ مقامی ماؤری قوم کے لیے ایک محترم آبا ہے جسے روحانی اور ثقافتی طور پر ان کی زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس پہاڑ کے ساتھ جڑی ہوئی کہانیاں اور روایات، ماؤری قوم کی تہذیب و تمدن کا حصہ ہیں۔ اس کے برعکس، جب نیوزی لینڈ کے ساحل پر برطانوی بحری جہاز ‘ایچ ایم ایس انویجلی’ کے کپتان جیمز کک نے اس پہاڑ کو 1770 میں دریافت کیا تھا تو اسے ‘ماؤنٹ ایگمنٹ’ کا نام دے دیا گیا جو ایک شدید ثقافتی حملہ تھا۔ یاد رہے کہ 1840 میں ماؤری قوم نے برطانوی حکام کے ساتھ ‘ٹریٹی آف ویٹانگی’ (Treaty of Waitangi) پر دستخط کیے تھے، جس میں ماؤری کو اپنی زمین اور وسائل پر حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس معاہدے کے بعد ہونے والے اقدامات نے ماؤری قوم کے حقوق کو پامال کیا، اور 1865 میں تاراناکی کے علاقے کی زمین کو جبراً ضبط کر لیا گیا۔ اس قبضے کے نتیجے میں نہ صرف ماؤری کی زمین چھین لی گئی بلکہ ان کے ثقافتی ورثہ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ پچھلی کئی دہائیوں میں ماؤری قوم نے اپنے حقوق کے حصول اور اپنے ورثے کی بحالی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ماؤری احتجاجی تحریک نے اس جدوجہد میں ایک اہم موڑ دیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی حکومت نے ماؤری زبان، ثقافت اور حقوق کے حوالے سے کئی قانونی اصلاحات کیں۔ یہ قانون جو 2023 میں تاراناکی کے آٹھ قبائل کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا حصہ ہے ماؤری قوم کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔ یہ قانون صرف زمین یا قدرتی وسائل کی بازیابی نہیں بلکہ ان کے ثقافتی اور روحانی ورثے کا اعتراف ہے۔ اب جب کہ تاراناکی ماونگا کو قانونی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اس کے حقوق کا استعمال اس کی صحت اور فلاح کے لیے کیا جائے گا۔اس کے حقوق کا تحفظ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس کے خلاف جبراً فروخت، غیر قانونی اقدامات یا اس کی قدیم استعمالات پر پابندیاں نہ لگیں۔ اس کے علاوہ قدرتی جنگلی حیات کے تحفظ اور اس کے قدرتی ماحول کی صفائی کے لیے کام کیے جائیں گے۔ نیوزی لینڈ پہلا ملک ہے جس نے قدرتی عناصر کو انسانی حیثیت دی۔ اس سے پہلے 2014 میں ‘ٹی یوریویرا’ نامی جنگل کو بھی قانونی شخصیت کا درجہ دیا گیا تھا جس کے بعد ‘واہنگانوئی دریا’ (Whanganui River) کو بھی 2017 میں یہی درجہ دیا گیا تھا۔ یہ قانون نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں مکمل طور پر متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے 123 ارکان نے اس بل کی حمایت کی اور اس موقع پر ماؤری زبان میں ایک نغمہ “وائیاتا” (waiata) گایا گیا جس نے اس تاریخی لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔ یہ قانون صرف ایک پہاڑ یا قدرتی خصوصیت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ زمین، انسان اور قدرت کے تعلقات کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاراناکی ماونگا کا قانونی شخص بننا نہ صرف ماؤری قوم کی فتح ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر بھی قدرتی ورثہ کے تحفظ کی ایک نئی مثال قائم کرتا ہے۔

انڈیا کا سب سے قدیم میلہ ’کمبھ‘ شرکا کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا، یہ کیوں اور کب منعقد ہوتا ہے؟

کمبھ میلہ، جو ہر 12 سال بعد ہندوستان کے مختلف مقامات پر منعقد ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی تہوار نہیں ہے بلکہ ایک ایسا ایونٹ ہے جس میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک ایسا روحانی سفر ہے جو دنیا بھر سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ کمبھ میلہ کی جڑیں ہندو اساطیر میں گہری پیوست ہیں۔ یہ تہوار “کمبھ” یعنی گھڑے کے نام سے موسوم ہے، جو ایک مقدس برتن کی علامت ہے جس میں ہندو اساطیر کے مطابق امرت (امروت) رکھا گیا تھا۔ امروت سے مراد سمندرکومنتھن کرنے کے دوران دیوتاؤں اور شیطانوں کے درمیان امرت کا حصول ایک ایسی کہانی ہے جس میں اس کا چند قطرے ان مقدس مقامات پر گرے، جہاں آج کمبھ میلہ منایا جاتا ہے۔ ان مقامات میں پریاگ راج (گنگا)، ہریدوار (گنگا)، ناسک (گوداوری)، اور اجین (شیپرا) شامل ہیں۔ یہ میلہ ہر کسی کے لیے ایک نیا تجربہ اور ایک نیا موقع ہوتا ہے۔ یہاں آ کر ہندو عقیدے کے پیروکار اپنی روحانی صفائی حاصل کرتے ہیں، اور یہ ان کے گناہوں سے چھٹکارے اور نجات کا وسیلہ بنتا ہے۔ کمبھ میلہ میں شامل ہونے والے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ مقدس ندیوں میں غسل کرنے سے نہ صرف ان کے گناہ دھل جاتے ہیں بلکہ یہ انہیں موکش (روحانی آزادی) کے قریب لے آتا ہے۔ یہ تہوار زندگی میں ایک بار ہونے والے تجربات میں سے ایک ہے جو کسی شخص کو اپنے ایمان کو مزید پختہ کرنے اور اپنے روحانی سفر کو دوبارہ دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ 2025 کا کمبھ میلہ ایک مہا کمبھ ہے، انڈین حکام کے مطابق، یہ 45 دنوں پر مشتمل ہوگا اور اس دوران تقریباً 400 ملین افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ کمبھ میلے کا احاطہ تقریباً 40 مربع کلومیٹر پرہے، جس میں 160,000 خیمے، 40,000 پولیس اہلکار، 15,000 صفائی ملازمین، اور 150,000 بیت الخلاء مختص کیے گئے ہیں۔ کمبھ میلے کی اصل کشش شاہی غسل ہے، جس میں سادھو (مقدس مرد) اور عام شہری حصہ لیتے ہیں۔ یہ غسل ایک روحانی صفائی کی علامت ہے اور اس میں شامل ہونا ایک مقدس رسم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔غسل کے دوران سادھو اپنے مخصوص لباس میں، اکثر ناگا سادھو (جو خود کو راکھ میں ڈھانپ کر جسمانی طور پر ترک کر دیتے ہیں) ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے عقیدت مند، جو اپنے گناہوں سے چھٹکارا پانے کے لیے اس موقع کا فائدہ اٹھانے آتے ہیں، ندی میں غوطہ لگاتے ہیں۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ کمبھ میلہ صرف ہندوستان کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک ثقافتی اور روحانی محفل ہے۔ یہ نہ صرف ایک مذہبی اجتماع ہے بلکہ ایک ایسا تہوار بھی ہے جو دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے افراد کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ ہندوستانی روحانیت کی طاقت اور اس کی گہرائی کا یہ بہترین مظہر ہے، جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے اور انہیں اپنے اندر کی روحانی تجدید کی طرف راغب کرتا ہے۔ کمبھ میلہ 2025 کی تیاریوں کے حوالے سے انڈیا انتظامیہ کی قلعی کھل گئی ہے، بھگدڑ مچنے سے 30افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اگر ایسے انتظامات رہے تو 45 دن میں تو کیا سے کیا ہوجائے گا ۔ روحانی سکون کے لیے آنے والے ’بے چین ‘ ہی رہیں گے۔

قائد اعظم کے متعلق ‘نامناسب’ الفاظ، اے این پی رہنما ایمل ولی مشکل میں

اے این پی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی نے جوش خطابت میں بانی پاکستان کے خلاف ’ہرزہ سرائی‘ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اپنے قائد محمد علی کو رہا کرو،ہتھکڑی میں وہ دنیا سے فرار ہوگیا،اور قبر میں گھس گیا‘۔ سوشل میڈیا پرسینیٹرایمل ولی خان کی ایک ویڈیووائرل ہے جس میں کہہ رہے ہیں کہ آج ہم کم سے کم اتنے  مطمئن  ہیں۔ یہ بات میں نے سینیٹ میں بھی کی اس پہ آگ لگ گئی۔ لیکن آج میں اس کے پیچھے بڑے قریب پہنچا ہوں۔۔ ایمل ولی نے کہا ’جو قیدی 70 سال سے قید ہے۔ آج میں فخر کرتا ہوں کہ باچا خان نے اپنی زندگی چالیس سال قید گزاری ہے۔ لیکن باچا خان تاریخ میں آزاد ہے، آج آزاد ہے، کل آزاد ہوگا‘۔ عبدالغفارخان المعروف باچا خان، جنہیں فرنٹیئر گاندھی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1929 میں خدائی خدمت گار تحریک کے نام سے ایک تحریک کا آغازکیا،جو اس وقت کے صوبہ سرحد میں اتنی مقبول ہوتی ہے کہ 1937 کے انتخابات میں شمال مغربی سرحدی صوبے میں مسلم لیگ اس کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہیں کر سکتی۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ’ہمارا لیڈر آزاد ہے۔ ہماری تاریخ کھلی کتاب ہے۔ جس پہ پی ایچ ڈیاں لکھی ہوتی ہیں۔ خدارا اپنے محمد علی کو آزاد کرو۔ پاکستان کا پہلا قیدی، ریاستی قیدی ۔ادھر ہمارے بڑے قریب سامنے پڑا ہوا ہے۔ ’ میں آج پاکستانی ہونے کے ناطے ایک دفعہ پھر مزارِ قائد سے یہ آواز اٹھاتا ہوں اس ریاست کو کہ اپنے قائد محمد علی کو آزاد کرو۔ اس کو تم لوگوں نے ہتھ کڑی زیارت میں ڈالی تھی۔اسی ہتھ کڑی میں دنیا سے فرار ہوگیا۔ اسی ہتھکڑی کو لے کے وہ قبر میں گھس گیا ہے‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ اورآج تک ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہتھکڑی اس قبر میں بھی موجود ہے۔ ہم فخر کرتے ہیں کہ ولی خان کی تاریخ آزاد ہے۔ اس پہ لوگ پی-ایچ-ڈیز کرتے ہیں‘۔ ایمل ولی خان کی ویڈیوکو’ایکس‘ پرشیئر کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے لکھا ہے کہ’ قائداعظم کے بارے میں آپ کے الفاظ کا چناؤ نہایت نامناسب، گستاخانہ اور ناقابل قبول ہے۔ آپ نے کروڑوں پاکستانیوں کی دل آزاری کی ہے۔ وہ کہیں(پڑے ہیں) نہ کبھی (فرار ہوئے)، نہ کہیں(گھسےہیں)،۔ قائد اعظم رح کے بارے میں آپکے الفاظ کا چناؤ نہایت نامناسب ،گستاخانہ اور ناقابل قبول ھے -آپ نے کروڑوں پاکستانیوں کی دلآزاری کی ھے۔وہ نہ کہیں (پڑے ھیں )نہ کبھی (فرار ھوۓ )نہ کہیں (گھُسے ھیں )۔ سیاسی اختلاف کا یہ طریقہ کسی طور درست نہیں ، آپ نے جو کہنا تھا اور جنھیں کہنا تھا وہ… pic.twitter.com/MWQSoaGfIk — Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) January 28, 2025 سعد رفیق نے مزید لکھا ہے کہ سیاسی اختلاف کا یہ طریقہ درست نہیں، آپ نے جو کہنا تھا اور جنہیں کہنا تھا وہ آپ سے کہا نہیں گیا، نا جانے آپ کیوں قائداعظم کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے ایمل ولی خان کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ یاد رہے کہ ولی خان نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور1986  میں بائیں بازوں کی چھوٹی جماعتوں بشمول نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور عوامی تحریک کو ضم کر کے عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1990 میں اس پارٹی کی قیادت تبدیل ہوئی اور ولی خان سے اسفندیار ولی خان کو منتقل کی گئی۔ اسفند یار ولی خان کے بعد اس پارٹی کی قیادت ایمل ولی خان کے ہاتھ لگی ہے۔ مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کی تنقید اور پوسٹ کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’عوام کے جذبات کی ترجمانی کا شکریہ‘۔

رات کی بجائے دن کے وقت شادیوں کی تقیربات کیوں مقبول رہی ہیں؟

wedding-couple-hands

ایک وقت تھا جب تمام سماجی و اقتصادی پس منظر کے لوگ اپنے بچوں کی شادیوں پر خرچ کرنے کے لئے سالوں تک پیسے بچاتے تھے اور رات کے وقت تقریبات کو ترجیح دی جاتی تھی۔ تاہم اب یہ رحجان بدل رہا ہے اور رات کی بجائے والدین دن میں تقریبات کرنے کو ترجیح دینے لگ پڑے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ملک میں معاشی تنزلی کی حالیہ لہر اور بدلتی ہوئی ذہنیت نے بہت سے والدین کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شادیوں کو رات کے وقت کی تقریبات کرنے کے بجائے دن کی تقریبات کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ دن کی تقریبات کے انتظامات پر رقم کم خرچ ہوتی، بچ جانے والی رقم شادی کے دیگر اخراجات کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔ کراچی کے علاقے پاپوش نگر سے تعلق رکھنے والی ایک والدہ علیمہ شہزاد نے اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب کا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب میری بیٹی کی شادی ہو رہی تھی تو ہم نے دولہے کے گھر والوں کے ساتھ باہمی رضامندی سے اتفاق کیا تھا کہ ہم دن کے وقت ایک ہی مناسب تقریبات کریں گے، جس پر ہمیں رات کے وقت کی تقریب سے بہت کم خرچ کرنا پڑے گا۔ اس دوستانہ معاہدے نے نہ صرف ہمیں عام مالی بوجھ سے نجات دلائی بلکہ اس نے دوسرے خاندانوں کے لئے بھی راہ ہموار کی جو اپنے بچوں کی شادی کے زیادہ عملی طریقوں پر غور کر رہے تھے”۔ اسی طرح کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے تعلق رکھنے والے ویلڈنگ کے شعبے سے منسلک وقاص انور نامی نوجوان نے بھی دن کے وقت ایک سادہ سے تقریب کے ذریعے شادی کی۔ اپنی شادی کی تقریب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وقاص نے بتایا کہ “اپنی شادی کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے میں نے ایسے آپشنز کی تلاش شروع کی جس سے مجھے اپنے خاندان پر کم سے کم مالی دباؤ کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت ملے۔ خوش قسمتی سے ایک دن کی شادی سے میں اس میں کامیاب ہوا”۔ وقاص نے خوشی کا اظہار کیا جنہوں نے اپنی شادی کے استقبالیہ پر اڑھائی لاکھ روپے خرچ کیے جس میں مجموعی طور پر 250 مہمانوں نے شرکت کی۔ میچ میکنگ ایجنسی کے مالک ضیا قریشی کے مطابق موجودہ دور میں شادیوں میں تحمل کا مظاہرہ انتہائی اہم تھا، جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام نے زیادہ تر خاندانوں کے لیے پرتعیش شادیوں کو ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔ “شام کو ہونے والی شادی کی تقریبات کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بہت سے والدین کو دن کے وقت آسان، کم خرچ شادیوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ ثقافتی باریکیاں پہلے شادی کی تقریب کے لئے منتخب کردہ دن کے وقت کا تعین کرتی تھیں، لیکن آج کل زیادہ تر لوگ دن کی تقریبات کے لئے جارہے ہیں کیونکہ وہ میزبانی کرنے کے لئے نسبتا سستے ہیں”۔ شادی ہال کے مالک اور فیڈرل بی ایریا سے تعلق رکھنے والے ایونٹ آرگنائزر عمران سلیم نے قریشی نے مشاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے شادی کے مقامات پر دن اور رات کی تقریبات کے درمیان قیمتوں کے فرق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ “اہم استقبالیہ تقریبات کے لئے دن کے چارجز عام طور پر ایک ہی دن کے لئے رات کے نرخوں کے مقابلے میں 40 سے 50 فیصد کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح شادی سے قبل کی تقریبات جیسے مایوں، مہندی اور بارات کی میزبانی رات کے وقت ہونے والی تقریبات کے مقابلے میں 50 سے 60 فیصد کم خرچ ہوگی، دن کی تقریبات نے خاندانوں کو سادہ مینو کا انتخاب کرکے اعتدال کا مظاہرہ کرنے کی اجازت دی جس میں صرف بنیادی پکوان شامل تھے”۔ اسلام واضح طور پر تمام مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ شادی کی تقریبات کے انعقاد سمیت تمام معاملات میں اعتدال کو برقرار رکھیں۔ لیاقت آباد کی ایک مقامی مسجد کے مبلغ مولانا محمد تنویر نے کہا کہ “غیر متعلقہ رسومات اور تقریبات پر بھاری رقوم خرچ کرنے سے خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ اسلام کے احکامات کے بالکل خلاف ہے”۔ اسی طرح نارتھ ناظم آباد سے تعلق رکھنے والی میچ میکر زہرہ سلیم نے اس بات پر زور دیا کہ “شادی کی رسومات پر زیادہ اخراجات نے خاندانوں پر اس حد تک بوجھ ڈال دیا ہے کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے خاندان کے اندر بعد کی شادیوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تمام سماجی طبقات کو شادیوں میں شائستگی کو اپنانا چاہئے اور فضول خرچی پر سادگی کو ترجیح دینی چاہئے”۔ زہرہ نے کا مزید کہنا ہے کہ “اگرچہ معاشرے کا صرف ایک چھوٹا سا طبقہ اس وقت سادہ شادیوں کی میزبانی کر رہا ہے، لیکن یہ اب بھی فضول خرچی سے دور ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے”۔ دن کے وقت شادیوں کی تقریبات کا رجحان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے پیش نظر ایک مثبت تبدیلی ہے۔ والدین اور نوجوان سادگی اور اعتدال کو اپناتے ہوئے شادیوں کے اخراجات کم کر رہے ہیں جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے بلکہ خاندانوں کو مالی پریشانیوں سے بھی بچاتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف وسائل کی بچت کو فروغ دیتا ہے بلکہ معاشرتی مسائل کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ سادگی سے کی جانے والی شادیوں کا یہ بڑھتا ہوا رجحان ہمارے معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔