اپریل 4, 2025 7:26 صبح

English / Urdu

ابھی مینیجر سے بات کرتا ہوں، ایلون مسک اپنے ہی پلیٹ فارم ایکس پر برہم کیوں؟

ایکس (سابقہ ٹویٹر)کے مالک ایلون مسک نے ایکس پر برہمی کا اظہار کرتےہوئےلکھا کہ “ایکس کا ریکمنڈیشن الگوریتھم غصہ دلاتا ہے۔ میں ابھی اس کے مینیجر سے بات کرنا چاہتا ہوں”۔ ایلون مسک آئے روز خبروں کی زینت بنتے دیکھائی دیتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے دوران یا چیٹ جی پی ٹی کی خریدوفروخت کے معاملے پر مسک اکثر خبروں میں نظر آتے ہیں۔ 24 جنوری کو انہوں نے ایکس کے ایلگوریتھم کے بارے میں برہمی کا اظہار ایکس پر ہی اپنے اکاونٹ کے ذریعے کیا۔ یاد رہے کہ سماجی رابطے کی ایپلیکیشن ایکس کےمالک خود ایلون مسک ہی ہیں۔ ان کے ٹویٹ کے ریپلائیز میں صارفین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں سےبہت سے لوگوں نے اس مسئلے کی نشاندہی کی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایکس پر ہمیں اپنے مزاج کی چیزیں دیکھنے کو نہیں ملتی ہیں۔ ہر وقت سیاست اور ملکی حالات ہی نظر آتے ہیں۔ ڈونیکا ٹیبیٹ نامی ایک صارف نے لکھا کہ میں ویسے اکاونٹس کو خوشی سے دیکھوں گی جو میرے شوق کے مطابق ہوں گے۔ ابھی تک تو مجھے یہاں سیاسی چیزیں ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مجھے کبھی بھی یہاں پیارے جانور ، باغ بانی یا ا س کےمتعلق چیزیں دیکھنے کو نہیں ملی ہیں۔ I would be interested to see more accounts that align with my interests in my feed. So far I only ever see politics stuff. I never see anything related to cute animals, or gardening or crafts or any of the other interests I put in when I signed up. — Donica Tibbetts (@DonicaTibbetts) January 24, 2025 ایک اور صارف نے لکھا کہ ایکس کے متعلق میں سب سے زیادہ جو ناپسند(چلیں نفرت کرنا کہہ لیں)کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس کی کسٹمر سروس  ٹیلی کام انڈسٹری سے بھی زیادہ خراب ہے ۔ میں نے ہیلپ لینے کے تمام طریقے آزما لیے ہیں لیکن یہ کبھی مدد نہیں کرتا۔ ایک اندین صارف چندن شرما نے لکھا کہ ایکس کا ایلگوریتھم صرف ہم لوگوں کی پوسٹس کوکم ریچ دے رہا ہے۔ یہ صرف دو لوگوں کی پوسٹس کو دیکھاتا ہے جن کے نام ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں؟   ریان میرل نامی ایک صارف نے لکھا کہ میرا خیال ہے کہ یہ ایک ٹیسٹ ہے جس سے یہ پتا لگایا جا رہا ہے کہ ایک منفی پوسٹ پہ لوگوں کا ردِعمل کیا آتا ہے۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کی ایلون کو آج کوئی خطرناک کھانے کی تجویز آئی ہے جس میں گروک نے کہا ہے کہ مرغی کے انڈوں کی بجائے شطر مرغ کے انڈے زیادہ بہتر رہیں گے۔ ایک اور صارف نے ریپلائی میں لکھا کہ مجھے اپنی ہی کی گئیں گزشتہ پوسٹس نظر نہیں آتی ہیں اور نہ ہی مجھے اپنے ریپلائیز نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ میں میڈیا میں کام کرتا ہوں اور مجھے بار بار اپنے پوسٹس کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کو اٹھانے کےلیے شکریہ۔   ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں میں مصنوعی ذہانت سے ایک تصویر بنوا کر پوسٹ کی جس میں ایلون مسک اپنے سامنے ایلون مسک کو ہی دیکھ رہے ہیں۔ Saw you talking to the manager earlier pic.twitter.com/7y9EevScFE — wassam (@badboydopes) January 24, 2025

“یہ یاجوج ماجوج ہیں” اسرائیلی آبادکاروں کے پانچویں منزل سے بلی نیچے پھینک کر اسے فلمانے کے مناظر وائرل

غزہ میں مہینوں سے جاری جنگ کے دوران صیہونی فوج کی سفاکیت تو سبھی پر عیاں ہو گئی لیکن اب مقبوضہ بیت المقدس میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے صیہونیت کی ظالمانہ سوچ کو ایک بار ظاہر کیا ہے۔ یروشیلم سے ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں اسرائیل آبادکاورں کے ایک گروپ کو پانچ منزلہ عمارت کی چھت سے ایک معصوم بلی کو بے دردی سے نیچے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو دیکھنے والوں کے دلوں کو چیر رہی ہے، اس ظالمانہ امر سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں کا ایک گروہ ایک معصوم بلی کو اٹھا کر 5 منزلہ بلند عمارت کی چھت پر لے جتا ہے۔ ان میں سے ایک نوجوان بلی کو اٹھا کر کے بے رحمی سے نیچے پھینک دیتا ہے جبکہ باقی اس ظالمانہ حرکت کو اپنے موبائل کے کیمرے سے فلما رہے ہوتے ہیں۔ A group of colonial Israeli settlers took a kitten to the roof of a five-story building, where one of them threw it from that height in occupied Jerusalem. pic.twitter.com/CHhP4RyhB3 — Quds News Network (@QudsNen) January 23, 2025 اس حیوانیت پر قانونی صورتحال تو تاحال واضح نہیں ہے البتہ اس ویڈیو کو متعدد بار دیکھا جا چکا ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل بھی دیا جا رہا ہے۔ اس افسوسناک واقع کی جاری کردہ ویڈیوز اور تصاویر سے بلی کے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم نے جانوروں کے حقوق (اینمل رائٹس) کے حامیوں کو بھڑکا دیا ہے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور نہ کسی شخص کی شناخت ظاہر کی ہے، تاہم مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حقائق کی تصدیق جاری ہے اور ویڈیو کے حقیقی ثابت ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صارفین اس پرتشدد واقع کی بھرپور الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں، بعض صارفین نے اس سفاکیت کو ظلم کی انتہا اور غیر انسانی فعل قرار دیا ہے جبکہ بعض نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا انسانوں کے بعد اب اسرائیلی جانوروں پر بھی ظلم ڈھائیں گے۔ این جی اوز اور جانوروں کے حقوق سے متعلق اداروں نے ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ” لوگ ہمیں ان آباد کاروں کے بارے میں ہماری ناقص رائے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جو اب تک روئے زمین کے بدترین لوگ ثابت ہوئے ہیں۔ ان چیزوں کی مقدار جس میں وہ ابھی تک بڑے پیمانے پر فوائد اور مواقع رکھتے ہیں، اس پر کوئی تبصرہ نہیں”۔ جبکہ دوسرے صارف نے لکھا کہ ” کیا ہم انہیں ’آبادکار‘ کہنا بند کر سکتے ہیں، کچھ طے کرنا ایک نرم عمل ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کی حرکت کو آہستہ آہستہ روکنا۔ لوگوں اور جانوروں کو بے گھر کرنے کے لیے تشدد کرنے والے چور ہیں۔ لارسینسٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یا بگڑے ہوئے لارسینسٹ؟” ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ” انہیں انسانی بچوں کی پرواہ نہیں تھی، آپ کو لگتا ہے کہ وہ جانوروں کی پرواہ کریں گے؟” ایک اور صارف نے لکھا کہ “یہ ویڈیو صبح سے میری ٹائم لائن پر آ رہی ہے، یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ میں بلی کے بچے کے لیے اور اپنی بلیوں کو گلے لگا کر اللہ سے دعا کرتی رہی کہ وہ سب کو سلامت رکھیں۔ اسرائیلی یاجوج ماجوج ہیں، وہ سب کو مارتے ہیں”۔ ایک صارف نے حیران کن تبصرہ کیا کہ “میں جانتا ہوں کہ بلی کا بچہ ابھی بھی زندہ ہے” جبکہ دوسرے صارف نے تنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ “آپ دیکھتے جائیں یہ اب مرغیوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں”۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر سے جانوروں کے تحفظ اور حقوق کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے، اس طرح کے واقعات نہ صرف ظلم و ستم کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ معاشرے کی بے حسی کے بڑھتے رجحان کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ یہ افسوسناک واقع ایک یاد دیہانی ہے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح کے واقعات صرف قانونی کارروائی سے ختم نہیں ہوں گے بلکہ عوامی شعور اور حساسیت پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

“اسلام آباد پر چڑھائی حلال اور اپنے حق کے لیے نکلنا حرام” خیرپختونخوا میں احتجاج کرتے سرکاری ملازمین پر پولیس کی شیلنگ

خیبر پختونخواں  حکومت  کی طرف  سےسرکاری ملازمین کی پنشن میں اصطلاحات کرنے کی وجہ سے پشاور میدان جنگ بن گیا،اصطلاحات کر نے کی وجہ سے ملازمین کا صوبائی اسمبلی کے باہر  دوسرے روز سے دھرنا جا رہی ہے۔ حکومت اور آل گورنمنٹ ایمپلائز کوارڈینیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی وجہ سے  پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ملازمین پر شیلنگ کر دی۔ نجی ٹی وی چینل مشرق نیوز پشاور کے مطابق آل گورنمنٹ ایمپلائز کوارڈینیشن کے رہنماؤں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری ، اس دوران سرکاری ملازمین سٹی نمبر 1 سکول سے نکل کر اسمبلی چوک پہنچنا شروع ہوئے، مظاہرین کا کہنا تھا کہ پینشن اصلاحات کے نام پر ہمارے بچوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے ، ہمارے ساتھیوں کو رات گئے گرفتار کیا گیا جوکہ سراسر ظلم ہے. احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین   نےخیبر روڈ کو یکطرفہ بند کر دیا اور دوسری جانب اس موقع پر اسمبلی چوک میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ اپنے مطالبات کے حق میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئ۔ پشاور میں ملازمین کی طرف سے جاری احتجاج  کے حوالے سے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس ( سابقہ ٹویٹر) پر لوگوں نے تصاویر اور ویڈیو شئیر کی اور سرکاری ملازمین کے احتجاج کے حوالے سے تبصرے کیے۔ ایک صارف نے کے پی کے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے   لکھا  کہ “کرپٹ گنڈاپور حکومت کا پرامن ملازمین پر شیلنگ ۔ آج پشاور میں پرامن سرکاری ملازمین جو کہ ریاست کا ایک حصہ ہے ان پر شیلنگ آنسو گیس ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ نااہل پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کے آمن و امان کا ستیاناس کر دیا”۔ ایک صارف نے مظاہرین کی ویڈیو کو اپلوڈ کی، جس میں مظاہرین کے پی کے حکومت کے کلاف نعرے لگا رہے تھے ” کہ ہم مر جائیں گے لیکن بھاگیں گے نہیں۔ مظاہرین کا لاؤڈ سپیکر پر اعلانات ۔۔ پختونخونخواہ حکومت کا ظلم جاری پشاور پنشن اصلاحات کیخلاف سرکاری ملازمین کا احتجاج شیر شاہ سوری پل کے قریب مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ پولیس کی بھاری نفری شیر شاہ سوری پل اورقلعہ بالا حصار کے سامنے مظاہرین پر بدترین شیلنگ کر رہی ہے”۔ ایک صارف نے  کے پی کے  حکومت پر “تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  نااہل اور نالائق ترین صوبائی حکومت کو شیلنگ، تشدد اور گولی چلانا تب یاد آتا ہے جب ایک مجرم کیلئے اسلام آباد پر چڑھائی کرتی ہے لیکن جب سرکاری ملازمین اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو ان سے مذاکرات کی بجائے ان پر شینلگ کی جاتی ہے، گرفتار کیا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین پر تشدد کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پنشن اصلاحات کے حوالے سے ملازمین کے خدشات دور کئے جائیں اور وزیراعلیٰ جرات کرکے ملازمین سے معافی مانگے۔” ۔  صارف نے لکھا کہ ” یہ کس کے حکم پر کیا گیا؟؟؟ پشاور،احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف خیبرپختونخوا پولیس کا کریک ڈاؤن، متعدد سرکاری ملازمین گرفتار”۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ” پی ٹی آئی ملک بھر خصوصاً وفاق اور پنجاب میں فتنہ فساد پھیلانا ریاست پر مسلح حملے اپنا حق سمجھتی ہے لیکن پشاور میں 1 لاکھ ٹیچرز جن میں مرد و خواتین ٹیچرز شامل ہیں کے پرامن احتجاج پر وزیراعلی علی امین گنڈا پور کے حکم پر تشدد شروع کر دیا گیا ہے۔” ایک اور  صارف نے پی ٹی آئی کے احتجاج کےحوالے سے کہا کہ “کے پی کے سرکاری ملازمین پر پینشن اور دیگر مراعات کے حق میں پرامن احتجاج کے دوران لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں کی مذمت کرتےہین۔ وزیراعلیٰ کا احتجاج جائز اور ملازمین کا ناجائز کیوں؟ وزیراعلیٰ واقعے کا نوٹس لیں، ذمہ داروں کو سزا دیں، اور ملازمین کے آئینی مطالبات پورے کریں”  ایک صارف نے وزیر اعلیٰ  کے پی کے علی امین گنڈا پور کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لکھا کہ علی امین گنڈاپور سرکار نے سرکاری ملازمین پر پشاور میں لاٹھی چارج شروع کر دیا ۔ خود اسلام آباد پر چھڑائی کیلئے نکل جاتے ہیں تو وہ حلال احتجاج اور جب صوبہ پختونخوا کے سرکاری ملازمین اپنے حق کے لئے نکلے تو ان کا احتجاج حرام ۔ سوشل میڈیا پر صارفین کی طرف سے خیبر پختونخواں حکومت پر تنقیدی تبصرے دیکھنے کو ملے، لوگوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت بانی کو رہا کرانے کے لیے  درالحکومت  اسلام آباد کو بند کر دیتی ہے اور اب اگر سرکاری ملازمین اپنے حق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں تو انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ کسی بھی صورت میں قبل قبول نہیں ہے۔

“یہ برطانویوں کو اسلام سے بچنے نہیں دیں گے” نماز پڑھتے مسلمانوں پر برطانوی انتہاپسندوں کا اعتراض

Prayer offering

مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف تشدد اور تعصب کا رویہ پایا جانا ایک عام بات ہے، لیکن اب سوشل میڈیا کے اس دور میں اسلام مخالف کمپینز بھی چلائی جارہی ہیں جن کا مقصد مذہبی عقائد اور تعلیمات کے بارے میں شکوک و شہبات پیدا کرنا اور غیر مسلم افراد کو اسلام سے دور رکھنا ہے۔ ایسا ہی واقع سکاٹ لینڈ کے سب سے بلند پہاڑ ‘بین نیوس’ پر پیش آیا ہے جہاں بڑی تعداد میں مسلمان نماز ادا کر رہے تھے اور انتہا پسند انہیں نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ‘برٹن فرسٹ’ نامی اکاؤنٹ سے ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ‘بین نیوس’ پہاڑ پر چند مسلمان نماز ادا کر رہے ہیں اور اردگرد بڑی تعداد میں لوگ کھڑے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے نمازیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ‘برٹن فرسٹ’ نامی اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والی اس ویڈیو کی کیپشن میں لکھا کہ ” یہ سب غلبے کی بات ہے، برطانیہ میں 3 ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں جن میں وہ (نماز کے لیے) جا سکتے ہیں، ہمارے شہروں کی عوامی گلیاں قابو میں کر لینا کافی نہیں، انہیں برطانوی دیہی علاقوں پر بھی قبضہ کرنا ہے، یہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک برطانوی عوام اسلام پسندی سے بچ نہ سکیں”۔ This is all about dominance. There are over 3000 mosques in Britain they can choose from. Taking over the public streets of our cities isn’t good enough, they have to take over the British countryside too. They won’t rest until British people can’t escape from Islamism. pic.twitter.com/TGqJb1mtHS — Britain First (@BFirstParty) January 21, 2025 اسی ٹوئٹ کو بشریٰ شیخ نامی پاکستانی صآرف نے دوبارہ شیئر کیا اور کیپشن میں لکھا کہ “یہ کامل ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، برطانوی مسلمان خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، پھر ایک لمحے کے لیے رک کر اللہ کا شکر ادا کررہے ہیں، پرامن نمازیوں سے تو شیطان ہی پریشان ہوتا ہے”۔ اس ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ” ہر کسی کو چاہیے کہ وہ اپنے مقامی فٹبال کلب سے رابطہ کرے اور پوچھے کہ اس سال ایسٹر کی تقریب اسٹیڈیم میں کب منعقد ہو رہی ہے، پھر جب وہ جواب دیں کہ ایسی کوئی تقریب نہیں ہو رہی، تو آپ اگلا سوال یہ کر سکتے ہیں کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو رمضان میں اسٹیدیم میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہے؟” اس پر ایک صارف نے جواب میں کہا کہ “بھائی اگر آپ چاہو تو ایسٹر کی تقریب کے لیے اسٹیڈیم بُک کر سکتے ہو”۔ اس جواب پر اسی صارف نے دوبارہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی مسجد والے اسٹیڈیم بک نہیں کرتے بلکہ فٹبال کلب انہیں مفت میں دعوت دیتے ہیں”۔ اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اور صارف نے لکھا کہ “میں ایک مرتبہ برطانیہ کے سب سے بلند پہاڑ، بین نیوس، پر چڑھنے گیا، جب میں آدھے راستے پر ایک آبشار تک پہنچا تو وہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی لوگوں کو دیکھا جو ہر جگہ عبادت کر رہے تھے، مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور اسے ایسی حالت میں دیکھنا ہمارے دلوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے، یہ دیوانگی روکنے اور دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا وقت ہے”۔ ایک صارف نے ناقدین پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ “اوہو یہ تو واقعی بہت خوفناک بات ہو گئی کہ لوگوں کو اپنی عبادت پرامن طریقے سے کرتے ہوئے آپ کو دیکھنا پڑا، اب آپ اس صدمے کا سامنا کیسے کریں گے؟” ایک صارف نے اس پر جواب میں لکھا کہ “تمام دہشت گرد تنظیمیں مسلمانوں کی ہیں” اسی صارف نے اس جوابی جملے پر لکھا کہ ” آپ بیوقوف ہیں”۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں، میں اس سے متفق ہوں، یہ غلبے کی بات ہے، آپ جانتے ہیں کہ یہ خوبصورت منظر کیوں ہے؟ کیونکہ یہ تیسری دنیا سے اچھوت ہے، افسوس کہ یہ بدل جائے گا، تیسری دنیا درآمد کریں اور تیسری دنیا بنیں”۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ” کیا ہمیں برطانیہ میں مسلمانوں کی عبادت کو برداشت کرنا چاہیے جبکہ کئی مسلم ممالک میں غیر مذہبی خیالات یا عقائد کا اظہار محفوظ نہیں؟ ایک غیر مذہبی شخص کے طور پر میں اس رویے اور مساوی آزادی پر سوال اٹھاتا ہوں”۔ ایکس پر جاری یہ بحث مختلف خیالات اور عقائد کے ٹکراؤ کو ظاہر کرتی ہے، کچھ افراد عوامی مقامات پر مذہبی رسومات کو برداشت کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ کچھ کھلے دل سے اس کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم برطانیہ جیسے آزاد اور متنوع معاشرے میں مذہبی آزادی اور رواداری بنیادی اصول ہیں جنہیں برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سب کے لیے برابری اور احترام ہی حقیقی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ اب قابلِ غور امر یہ ہے کہ برطانوی حکومت کس طرح سوشل میڈیا پر چلتے بحث و مباحثے کو کنٹرول کرتی ہے۔

‘ٹیریان ناجائز ہے’ لائیو ٹی وی پروگرام میں لیگی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی لڑائی وائرل

PTI and PMLN leaders Ikhtiar wali, Naeem haider panjutha fighting during TV show

ٹیلی ویژن کے کرنٹ افیئرز کے پروگرامز کو عموما پارٹی موقف کے فروغ کے ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان کے شرکا کبھی کبھی اس موقع کو میدان جنگ بنانے سے دریغ نہیں کرتے۔ پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل ‘بول نیوز’ کے ایک پروگرام میں شریک مہمان اپنے لیڈر کی تعریف اور دوسری کی تنقید میں اتنے جذباتی ہوئے کے لڑپڑے۔ خیبرپختونخوا کی حکمراں تحریک انصاف اور وفاق میں حکمراں ن لیگ کے رہنماؤں کے درمیان لڑائی کے یہ افسوسناک مناظر سوشل ٹائم لائنز پر آئے تو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئے۔ چند سیکنڈ کے کلپ میں دھکم پیل بڑھی تو ٹیلی ویژن پروگرام کے سیٹ کے ٹیبل جگہ سے لڑھک گئے۔ لڑائی کے درمیان خاموشی سے بیٹھی خاتون میزبان ڈاکٹر فضہ کو بھی اپنی کرسی چھوڑنا پڑی۔ لاتوں، گھونسوں کا استعمال ہوا تو کیمرہ کے پیچھے موجود اسٹاف اور دیگر عملے نے سامنے آ کر مہمانوں کو روکنے کی کوشش کی، جس میں کامیابی کے لیے انہیں خاصی تگ ودو کرنا پڑی۔ ویڈیو شیئر اور اس پر تبصرہ کرنے والوں نے ‘لڑائی میں پہل’ اور استعمال کیے گئے الفاظ کے ‘نامناسب’ ہونے کو خاص توجہ دی۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ان مناظر کو ‘برداشت ختم ہونے’ سے بھی تعبیر کیا۔ بول نیوز پر نعیم حیدر پنجوتھہ اور ن لیگ کے اختیار ولی کے درمیان ہاتھا پائی pic.twitter.com/KvoI0vjoQ0 — Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) January 22, 2025 ٹی وی پروگرام کے دوران لڑائی کا واقعہ مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی اور تحریک انصاف کے رہنما نعیم حیدر پنجوتھہ کے درمیان ہونے والی تکرار کے بعد پیش آیا۔

نئے امریکی صدر کے آتے ہی ٹک ٹاک بحال

چین کی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے ایک دن کی بندش کے بعد دوبارہ اپنی خدمات شروع کر دیں۔ اس کی وجہ وہ متنازعہ قانونی آرڈر  تھا جس کے تحت امریکا میں اس ایپ کو بند کر دیا جانا تھا لیکن نومنتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک غیر متوقع قدم نے اس پر لگائی گئی پابندی کو مؤخر کر دیا جس کے بعد ٹک ٹاک نے فوری طور پر اپنی خدمات بحال کر دیں۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی جب ٹک ٹاک نے اپنے صارفین کو ایک پاپ اپ پیغام کے ذریعے بتایا کہ ایپ دوبارہ فعال ہو چکی ہے اور اس میں ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔ اس پیغام میں کہا گیا کہ “ہم نومنتخب ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ضروری وضاحت فراہم کی اور اس بات کا یقین دلایا کہ ہم امریکا میں ٹک ٹاک کا مستقبل محفوظ رکھیں گے۔” صدر ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہاتھا کہ”میں تمام کمپنیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹک ٹاک کو بند نہ ہونے دیں! میں پیر کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے جا رہا ہوں تاکہ اس قانون کو مزید وقت مل سکے اور ہم قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک معاہدہ کر سکیں۔” اتوار کو واشنگٹن میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک کو بچانے کی ضرورت ہے۔ امریکا کوٹک ٹاک کی نصف ملکیت حاصل کرنی چاہیے۔ٹک ٹاک کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کھربوں ڈالرتک پہنچ سکتی ہے۔ بڑے AI پلانٹس کی اجازت کے ایمرجنسی اختیارات استعمال کریں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے خود ٹک ٹاک کے بند ہونے کی حمایت کی تھی مگر حالیہ دنوں میں انہوں نے اس ایپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ان کے انتخابی مہم کے دوران ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز نے اربوں ویوزحاصل کیے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام ایک غیر متوقع موڑ تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں۔ دوسری طرف امریکی سپریم کورٹ نے بھی اس قانون کو حمایت فراہم کی تھی جس کے بعد ٹک ٹاک کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ وہ کس طرح اس قانون کو نظر انداز کر کے اپنی خدمات جاری رکھ سکے گا۔ تاہم اس کے بعد ٹرمپ نے کمپنیوں کو اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ ٹک ٹاک کی خدمات کو دوبارہ فعال کرنے میں کوئی قانونی مشکلات کا سامنا نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود یہ سوالات بھی موجود ہیں کہ آیا ایگزیکٹو آرڈر اس قانون کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنا سکتا ہے یا نہیں۔ یونیورسٹی آف رچمنڈ میں قانون کے پروفیسر کارل ٹوبیاس نے’بی بی سی‘سے بات کرتے ہوئے کہا ہےکہ’اس بارے میں ابھی تک واضح صورتحال نہیں ہےاور یہ کہ یہ معاملہ عدالتوں میں بھی جا سکتا ہے،۔ ان کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے قانون کی رکاوٹوں کو مؤخر کرنا ممکن ہے مگر اس بات کا تعین ابھی باقی ہے کہ آیا اس کے قانونی نتائج کیا ہوں گے۔ ٹک ٹاک کے لیے ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کی کئی ریاستوں نے ایپ کے خلاف مقدمات دائر کر رکھے ہیں، اس کے علاوہ گوگل اور ایپل جیسے پلیٹ فارمز پر ٹک ٹاک کی موجودگی ابھی تک غیر یقینی ہے کیونکہ یہ دونوں کمپنیاں اس قانون کے تحت اپنی ایپ اسٹورز سے ٹک ٹاک کو ہٹانے کی تیاری کر چکی تھیں۔ امریکا میں ٹک ٹاک کے صارفین اورسیاسی حلقوں میں اس تبدیلی کے اثرات پر بحث جاری ہے۔ ٹک ٹاک کے ذریعے امریکی سیاست میں نوجوانوں تک پہنچنے کے نئے راستے کھلے ہیں اور ایپ کی بندش سے اس نئے سیاسی ذریعہ کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ لیکن ٹرمپ کے اقدامات نے فی الحال اس خطرے کو ٹال دیا ہے۔

لاس اینجلس کی آگ کے نام پر جھوٹی ویڈیوز وائرل، حقیقت کیا ہے؟

لاس اینجلس میں 7 جنوری 2025 سے جاری ہولناک آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، لیکن اس کے ساتھ  سوشل میڈیا پر جھوٹی ویڈیوز اور غلط معلومات کا سیلاب بھی برپا ہوگیا۔ عالمی فیکٹ چیک ایجنسی فرانس پریس  (اے ایف پی)   نے تحقیق کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو جسے لاس اینجلس کی آگ سے منسوب کیا جا رہا ہے، حقیقت میں ستمبر 2024 کی ہے اور اس کا موجودہ آگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں ایک ساحلی علاقے کو دکھایا گیا ہے جہاں آگ کے شعلے اور دور تک دھوئیں کے بادل نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ جذباتی موسیقی بھی شامل کی گئی ہے، جس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائٹ اے ایف پی کے مطابق لاس اینجلس کا ساتھ جوڑ کر جھوٹی ویڈیو اصل میں جنوری 2025ء کی نہیں ہے بلکہ یہ ویڈیو ستمبر 2024ء کی ہے، جسے ابھی لاس اینجلس کے ساتھ جوڑ کرپروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔  اس ویڈیو کو 12 ستمبر 2024 ء کو  آگ کے  پرتشدد واقعہ کے دوران  کیلفورنیا کے نیوز چینل اے بی سی  7 نے نشر کیا تھا۔ اس وقت یہ ویڈیو کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں لگی آگ کے دوران منظر عام پر آئی تھی۔ ویڈیو میں دکھائی دینے والے مقامات کی تحقیقات ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر سے کی گئیں، جس نے آگ کے شعلوں اور متاثرہ  علاقوں کی واضح نشاندہی کی۔ 13 ستمبر 2024ء کو ناسا نے سیٹلائٹ کے ذریعے بنائی گئی تصاویر کو اپنی ویب سائیٹ پر پبلش کیا تھا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ کے شعلے کہاں سے اٹھ رہے ہیں۔  ناسا نے متاثر ہونے والی جگہ کو سرخ  نشانوں سے واضح کیا ہے جس میں متاثر ہونے والی جگہوں  پل، لائن اور  ائیرپورٹ کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اس ویڈیو میں دکھائے جانے والے متاثرہ علاقےشہر کے  شمال اور مشرق میں 3 جگہوں یعنی  لائن ، ائیر پورٹ اور پل میں لگی آگ کودکھایا گیا ہے۔ آگ  ان 3 جگہوں پر مختلف اوقات میں باترتیب 5 ستمبر کو شام 6 بج کر 33 منٹ پر لائن میں، 8 ستمبر کو دوپہر 2 بج کر 22 منٹ پر پل میں اور 9 ستمبر 2024 کودوپہر ایک بج کر 21 منٹ پر ائیر پورٹ میں  لگی تھی۔  ان 3 مقامات کو لاس اینجلس کی آگ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے جو کہ حقیقت میں لاس اینجلس میں اس کا کوئی تعلق نہیں ہے جس کی اصلیت ابھی تک تحقیقات کے ذریعے قائم نہیں ہو سکی ۔ یاد رہے کہ 7 جنوری کو کیلی فورنیا کے تین مقامات پر زبردست آگ لگی تھی جس نے ہزاروں ایکڑ زمین کو اپنی لپیٹ میں لےلیا تھا، یہ آگ ہالی ووڈ ہلز میں بھی لگی تھی جہاں ہالی ووڈ فلم انڈسٹری کے کئی بڑے ستاروں کے گھر جل کر خاک ہوگئے۔ کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن کے مطابق 7 جنوری 2025ء کو لگنے والی  آگ نےتین مقامات پلیسیڈز، ایٹن اور ہرسٹس پر لگی تھی   جو کہ باترتیب صبح ساڑھے 10 بجے، شام 6 بج کر 18 منٹ پر اور رات 10 بج کر 29 منٹ پر لگی تھی۔ کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن کے مطابق تیز ہواؤں اور خشک موسم نے آگ کو مزید پھیلنے کا موقع فراہم کیا۔ 2011 کے بعد پہلی بار ہوا کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی اور جس نے آگ کے شعلوں کو مزید بھڑکا دیا۔  ماہرین موسمیات کے مطابق کیلیفورنیا میں بارش نہ ہونے کے باعث درخت اور جنگلات انتہائی خشک ہو چکے تھے، جو آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ بنے۔ 8 ماہ کی خشک سالی کے دوران درختوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ معمولی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر آگ لگا سکتی تھی۔ عالمی فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائیٹ اے ایف پی نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کو جھوٹی قرار دیا اور کہا کہ یہ پراپیگنڈا کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان ویڈیوز کا موجودہ لاس اینجلس کی آگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیوز دراصل پچھلے سال ستمبر میں کیلیفورنیا کے مختلف علاقوں میں لگنے والی آگ کی ہیں، جو غلط بیانی کے ذریعے حالیہ واقعے سے جوڑی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرین نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ آگ سے متعلق مستند ذرائع پر انحصار کریں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر ویڈیو کو حقیقت نہ مانیں۔ غلط معلومات کی روک تھام کے لیے رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط بنانا اور سچائی کی تصدیق کے لیے عالمی اداروں کی مدد لینا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ لاس اینجلس کی حالیہ آگ کے ساتھ جھوٹی ویڈیوز کا پھیلاؤ نہ صرف غلط معلومات کو عام کر رہا ہے بلکہ متاثرین کی اصل صورتحال کو بھی دھندلا رہا ہے۔ فیکٹ چیکنگ اداروں کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وائرل ویڈیوز کا لاس اینجلس کی موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ان جھوٹی معلومات پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے حقائق معلوم کریں۔

چین میں ایمرجنسی کی افواہیں: حقیقت یا پروپیگنڈا؟

حالیہ دنوں میں چین میں وائرسز کے تیز پھیلاؤ سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر دعوے کیے جا رہے ہیں کہ چین نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے، ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں، ادویات کی قلت ہو گئی ہے اور صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ تاہم چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی ) اور دیگر عالمی اداروں نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 2 جنوری 2025 کو ایسی تصاویر شیئر کی گئیں جن میں ہسپتالوں میں رش اور مریضوں کی حالت زار دکھائی گئی۔ پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ چار اقسام کے وائرسزچین میں بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں، جن میں انفلوئنزا اے، ہیومن میٹا نیومو وائرس  (ایچ ایم پی وی) ، مائیکوپلاسما نیومونیا اور کووڈ-19 شامل ہیں۔ ان وائرسسز نے  چین کے بڑے شہروں بیجنگ، شنگھائی اور گوانگژو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان وائرسز کے باعث چین میں ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور مردہ خانوں میں بھیڑ لگ چکی ہے۔ مزید کہا گیا کہ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے بھی وائرس کے تیز پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کی ہے اور تمام ممالک کو اس نئی وبا کے خلاف تیاری کا مشورہ دیا ہے۔ چین کے سی ڈی سی نے 9 جنوری 2025 کو اپنی ہفتہ وار رپورٹ جاری کی، جس میں واضح کیا گیا کہ ملک میں وائرسز کی موجودگی معمول کی بات ہے اور یہ کسی نئی وبا کا اشارہ نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ موسمی فلو، ایچ ایم پی وی اور مائیکوپلاسما نیومونیا کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جبکہ کورونا وائرس کی شدت کم وبائی سطح پر موجود ہے۔ رپورٹ میں کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کے اعلان یا خطرناک وبا کی موجودگی کی تردید کی گئی۔ چین کے حکام نے واضح کیا کہ سانس کے وائرسز کے پھیلاؤ پر مکمل کنٹرول ہے اور صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ اگر وائرل تصاویر کی بات کی جائے تو فیس بک پر شیئر کی گئی تصاویر حقیقت میں 2022 اور 2023 کے دوران کووڈ-19 کی وبا کے عروج کی ہیں۔پہلی تصویر جس میں مریض آکسیجن سلنڈر کے ساتھ ہسپتال کی راہداری میں نظر آ رہے ہیں، وہ  4 جنوری 2023 کو روئٹرز کے ذریعے شائع کی گئی تھی۔ یہ تصویر شنگھائی کے ژونگشان ہسپتال کی ہے، جہاں کووڈ-19 کے کیسز میں اضافے کے دوران رش دیکھنے میں آیا تھا۔ دوسری تصویر جس میں ایک مریض اسٹریچر پر لیٹا ہوا ہے، اے ایف پی کے فوٹوگرافر نوئل سیلس نے دسمبر 2022 میں کھینچی تھی۔ یہ تصویر چانگ چن شہر کے ایک ہسپتال کی ہے، جہاں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث مشکلات پیدا ہو رہی تھیں۔ یہ تصاویر خاص طور پر فلپائن کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن دعوؤں کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ ایک فیس بک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ چین میں وائرسز کے خطرناک پھیلاؤ کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کی بھرمار ہے اور ایک نئی وبا دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس پوسٹ کے بعد کئی صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ہمیں چین کے شہریوں کو فلپائن آنے سے روک دینا چاہیے جب کہ دوسرے نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا ایک نیا سیزن شروع ہونے والا ہے۔ فلپائن کے محکمہ صحت نے فوری طور پر ان افواہوں کی تردید کی۔ 3 جنوری کو فیس بک پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ نہ چین اور نہ ہی عالمی ادارہ صحت نے کسی قسم کی ایمرجنسی کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ تصاویر اور دعوے بے بنیاد ہیں اور عوام کو چاہیے کہ وہ مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسی گمراہ کن معلومات سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ہوں۔ دسمبر 2022 اور جنوری 2023 میں جب چین نے اپنی زیرو کووڈ پالیسی ختم کی تھی تو کووڈ-19 کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت ہسپتالوں میں رش اور مردہ خانوں کی صورتحال سنگین ہو گئی تھی۔ لیکن حالیہ دنوں میں پھیلائی جانے والی تصاویر اسی دور کی ہیں، جنہیں اب گمراہ کن دعوؤں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے حالیہ رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ چین میں وائرسز کا پھیلاؤ معمول کے مطابق ہے اور اس سے کسی نئی وبا کے خطرے کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ موسمی فلو اور دیگر سانس کی بیماریاں موسم کی تبدیلی کے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں میں عام ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمراہ کن معلومات پر فوری یقین نہ کریں۔ ایسی خبریں اکثر بغیر تحقیق کے شیئر کی جاتی ہیں اور عوام میں بلاوجہ خوف پیدا کرتی ہیں۔ مستند معلومات کے لیے حکومتی اداروں اور عالمی صحت کے اداروں پر اعتماد کریں۔ چین میں ایمرجنسی کے دعوے سراسر بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد صرف سنسنی پھیلانا ہے۔ پرانی تصاویر کا گمراہ کن استعمال اور غیر مصدقہ دعوے نہ صرف عوام میں الجھن پیدا کرتے ہیں بلکہ صحت کے شعبے میں غلط فہمیوں کو بھی جنم دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر تبت زلزلے کی وائرل ویڈیوز کی حقیقت سامنے آگئی

تبت کے علاقے میں آنے والے حالیہ زلزلے میں  تقریباً  126 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس زلزلے کے جھٹکے ہمسایہ ممالک نیپال اور بھارت کے بعض حصوں تک بھی پہنچے ہیں۔ سوشل میڈیا پر زلزلے کو لے کر کئی ویڈیوز زیرِگردش ہیں جن میں دیکھایا گیا ہے کہ کس طرح زلزلے نے تباہ کاریاں مچائی ہیں۔ 7 جنوری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ڈرامائی ویڈیو وائرل ہوئی جو ایک مصروف چوک کو نقصان پہنچانے والے زلزلے کے حوالے سے آن لائن پھیلی اور تھائی ٹیلی ویژن رپورٹ میں بھی دکھائی گئی، اس ویڈیو کو تبت زلزلے کی قرار دیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ ویڈیو حالیہ سانحے کی نہیں ہے بلکہ یہ ویڈیو اپریل 2015 میں نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں آنے والے زلزلے کی ہے۔ 7 جنوری کو سوشل میڈیا  سائٹ فیس بک پر تھائی زبان میں ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس پر کیپشن لکھا ہوا تھا کہ تبت  زلزلے سے متاثرین کی تعداد 32 تک پہنچ چکی ہےجب کے 38 افراد زخمی ہیں۔ اس ایک منٹ کی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک مصروف چوک کے درمیان واقع عمارت زلزلے کے دوران گر رہی ہے۔ جیولوجیکل سروےکی رپورٹ کے مطابق  زلزلے کا مرکز 163 کلو میٹر  دور شہر شگاتسے تھا، جس کی آبادی تقریباً 80,000 ہے۔ مسلسل جھٹکوں کے امکان کے پیشِ نظرآبادی کی انخلا کی کارروائی جاری ہے۔ یہ پوسٹ 7 جنوری کو صبح کے وقت آنے والے ایک زلزلے کے بعد منظر عام پر آئی، جس میں کم از کم 126 افراد ہلاک اور 188 زخمی ہو گئے تھے۔ زلزلہ چین میں نیپال کی سرحد کے قریب ایورسٹ پہاڑ سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) شمال میں واقع ٹنگری ضلع کے دیہی اور بلند مقام پر آیا تھا۔ چائنہ زلزلہ  نیٹ ورکس سینٹرسی ای این سی نے اس زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی، جب کےامریکی جیولوجیکل سروے نے اس کی شدت 7.1 بتائی۔ جھٹکے ہمسایہ ممالک نیپال اور بھارت میں بھی محسوس ہوئے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تھائی نیوز چینل ون نیوز نے اس ویڈیو کو اپنے رپورٹ میں شامل کیا ہے۔ اسی طرح کی پوسٹس جس میں ویڈیو کا جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا وہ بھی حالیہ زلزلے کے نام پر انگریزی، ہندی، تامل اور ہسپانوی  زبانوں میں شیئر کی گئی ہیں۔ فیکٹ چیک ایجنسی فرانس پریس  اے ایف پی نے جب ویڈیو کے اہم فریموں کی سرچ کے لیے ریورس امیج کا استعمال کیا تو اسے برطانوی اخبار دی گارڈین میں 30 اپریل 2015 کو شائع پایا۔اس ویڈیو کا عنوان تھا کہ نیپال کے زلزلے نے ایک عمارت کو مصروف چوک پر گرا دیا۔ ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہوا تھا کہ یہ ویڈیو دارالحکومت کھٹمنڈو کے تریپورشور ضلع میں بنائی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی نیچے جھوٹی پوسٹ (بائیں) اور دی گارڈین کی شیئر کردہ ویڈیو (دائیں) کا اسکرین شاٹ موازنہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے اوپر دائیں کونے میں 25-04-2015  کا ٹائم اسٹیمپ بھی موجودہے۔ یاد رہے کہ 2015میں نیپال زلزلے کی شدت  7.8 تھی، اس زلزلے  میں تقریباً 9,000 افراد ہلاک اور 22,000 سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ آٹھ لاکھ سے زائد گھر تباہ ہو گئے۔اگر اسکولوں کی بات کی جائے تو اس زلزلے نے قریباً 8,000 اسکولوں کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث تقریباً ایک ملین بچے کلاس رومز سے محروم ہو گئے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں یادگاریں اور شاہی محل  جن میں کٹھمنڈو وادی کی یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹس بھی شامل ہے تباہ ہوکررہ گئے۔ یہ قابلِ دید مقامات دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے،  جس کی وجہ سے سیاحت کو  شدید نقصان پہنچا۔ فیکٹ چیک ایجنسی فرانس پریس اے ایف پی نے ویڈیو کی لوکیشن کی تصدیق گوگل میپس پر جیو ٹیگ کی گئی کاٹھمنڈو کے چوک کی تصویر کے ساتھ ایک اہم فریم کا موازنہ کر کے دیکھائی۔نیچے جھوٹ کی بنا پر شیئر کی گئی ویڈیو (بائیں) اور گوگل میپس پر جیو ٹیگ کی گئی تصویر (دائیں) کا اسکرین شاٹ موازنہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ غیر ملکی چینل  یورونیو ز نے بھی یہی ویڈیو 30 اپریل 2015 کو اپنے یوٹیوب چینل پر شیئر کی تھی۔ تبت  زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر غلط طریقے سے پیش کی گئی تصاویر کا سیلاب دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سے یقین تک کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ اصل میں ہوا کیا ہے، مگر اے ایف پی فیکٹ چیک ایجنسی فرانس پریس نے تمام تر جھوٹی خبروں اور ویڈیوز کو بے نقاب کیا۔

نائیجیریا میں پولیس کے بھوک سے تڑپتے افراد کو مارنے کا دعویٰ جھوٹ نکلا

نائیجیریا میں خیرات کی تقسیم کے دوران ہونے والے مہلک حادثات کے بعد ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں پولیس کی جانب سے ‘بھوک سے تڑپتے’ افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا،لیکن یہ ویڈیو دراصل آئیوری کوسٹ کے شہر آبوجا کی ہے۔ دسمبر 2024 میں نائیجیریا میں تین مختلف حادثات میں 60 سے زائد افراد کی موت ہو گئی،یہ تمام واقعات سال کے آخر میں ہونے والی خیرات کی تقسیم سے متعلق تھے جہاں لوگوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا تھا۔ان تمام حادثات کے بعد ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان بھوک سے تڑپتے نائیجیریوں کو پولیس ٹرک سے پیسٹریاں نکالنے پر مار رہی ہے۔تاہم یہ ویڈیو نائیجیریا کی نہیں بلکہ آئیوری کوسٹ کے شہر آبوجا میں بنائی گئی تھی۔ اس پوسٹ کو 116,000 سے زیادہ مرتبہ لائیک کیا گیا ہے اور اس میں ایک 16 سیکنڈ کی ویڈیو شامل ہے جس میں ایک شخص وردی میں ملبوس ہے اور وہ اپنے بیلٹ سے لوگوں کو مار رہا ہے جب وہ پولیس ٹرک کے پچھلے حصے سے کھانے کی اشیاء اٹھا رہے ہیں۔ نائیجیریا میں آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں اور 34.6 فیصد کی بلند ترین مہنگائی کی وجہ سے لاکھوں افراد کو خوراک حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں گھنٹوں گزارنے پڑتے ہیں جس کے نتیجے میں دسمبر 2024 میں کئی مہلک ہجوم کے حادثات پیش آئے جن میں کل 67 افراد کی جان چلی گئی۔ اس کے علاوہ 18 دسمبر 2024 کو لوگوں کا ایک اور ہجوم صبح پانچ بجے سے خوراک اور نقد رقم حاصل کرنے کے لیے ایک اسکول کے باہر کھڑا تھا،اچانک سے ایک بھیانک بھگدڑ مچی جس میں 35 بچوں کی موت اور 6 شدید زخمی ہو گئے۔ اسکے علاوہ21 دسمبر کو ایک اور جگہ پر 22 افراد ہجوم کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ اسی دن ابوجا میں ایک چرچ کے باہر بھی بھگدڑ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ویڈیو کو جھوٹ ثابت کرنے کی سب سے پہلی علامت اس میں بولی جانےوالی زبان ہے جیسا کہ ویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہے کہ ایک شخص فرانسیسی میں کہہ رہا ہے”پاپولیشن ڈا’جامیے،پاپولیشن ڈا’جامیے،پاپولیشن ڈا’جامیے،پاپولیشن ڈا’جامیے… لی میچ ہے شو!” اس کا مطلب ہے “عاجامیے کے لوگ،عاجامیے کے لوگ،عاجامیے کے لوگ،عاجامیے کے لوگ… میچ شدت اختیار کر گیا ہے۔” عاجامیے آئیوری کوسٹ کے شہر آبوجا کا ایک مشہور علاقہ ہے۔اس ویڈیو میں نظر آنے والی پولیس ٹرک پر بھی فرانسیسی زبان میں تحریر ہے “ڈون ڈی لا مئیر ڈا’جامیے”جس کا مطلب ہے “عاجامیے کی میونسپلٹی کی طرف سے تحفہ”۔ ایک آئیوری کوسٹ کے ٹیم کے رکن نے تصدیق کی کہ ویڈیو آبوجا کی ایک مارکیٹ کی ہے۔اس نے ویڈیو کے شروع میں گرے ہوئے اسٹالز،درمیان میں نظر آنے والے سفید پیکٹوں،اور پولیس کے یونیفارم کو دیکھا اور یہ بھی بتایا کہ یہ یونیفارم مقامی پولیس کے ہیں۔ ویڈیو میں دو قسم کے پولیس اہلکار دکھائی دیتے ہیں جن میں ایک شخص لوگوں کو مار رہا ہے وہ نیلے رنگ کی قمیض اور سیاہ پتلون پہنے ہوئے ہےجبکہ دوسرے پولیس افسران سیاہ لباس میں ہیں۔